An active Opposition is important in a Parliamentary democracy: PM Modi
I am happy that this new house has a high number of women MPs: PM Modi
When we come to Parliament, we should forget Paksh and Vipaksh. We should think about issues with a ‘Nishpaksh spirit’ and work in the larger interest of the nation: PM

                نمسکار ساتھیو!

                انتخابات کے بعد، نئی لوک سبھا کے قیام کے بعد آج  اولین اجلاس شروع ہو رہا ہے۔ یہ متعدد نئے ساتھیوں کے تعارف کا ایک موقع ہے اور جب نئے ساتھی جڑتے ہیں، تو ان کے ساتھ نئی امنگ، نیا جذبہ، نئے خواب بھی جڑتے ہیں۔ بھارت کی جمہوریت کی خصوصیت کیا ہے؟ طاقت کیا ہے؟ ہر الیکشن میں ہم اس کا تجربہ کرتے ہیں۔ آزادی کے بعد پارلیمانی انتخابات سب سے زیادہ ووٹنگ، سب سے زیادہ خاتون نمائندوں کا انتخاب، پہلے کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں خاتون ووٹروں کا ووٹنگ کرنا، یہ انتخابات متعدد خصوصیات سے بھر پور رہے ہیں۔ کئی دہائیوں کے بعد ایک حکومت کو دو بارہ مکمل اکثریت کے ساتھ پہلے سے زیادہ نشستوں کے ساتھ عوام نے خدمت کرنے کا موقع دیا ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں کا ہمارا تجربہ ہے کہ جب پارلیمنٹ چلی ہے، صحت مند ماحول میں چلی ہے، تب ملک کے مفاد کے فیصلے بھی بہت اچھے ہوئے ہیں۔ ان تجربات کی بنیاد پر میں امید کرتا ہوں کہ سبھی پارٹیاں بہت ہی اعلیٰ قسم کی بحث، مفاد عامہ کے فیصلے اور عوامی امیدوں کی تکمیل کی سمت میں ہم آگے بڑھ رہے ہیں، مجھے اس کا یقین ہے۔ ہم نے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا، سب کا ساتھ سب کا وکاس کے ساتھ، لیکن ملک کے عوام نے سب کا ساتھ سب کا وکاس کے اندر ایک حیرت انگیز وشواس یعنی یقین و اعتماد بھر دیا اور اس وشواس کو لے کر عام آدمی کی امیدوں کو، خوابوں کو پورا کرنے کے لئے عہد لے کر ضرور آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے۔

                جمہوریت میں حزب اختلاف کا ہونا، حزب اختلاف کا سرگرم ہونا، حزب اختلاف کا با صلاحیت ہونا، یہ جمہوریت کی لازمی شرط ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ حزب اختلاف کے لوگ تعداد کی فکر چھوڑ دیں۔ ملک کے عوام نے   انہیں جو نمبر دیا ہے، وہ دیا ہے، لیکن ہمارے لئے ان کا ہر لفظ قیمتی ہے، ان کا ہر جذبہ قیمتی ہے۔ اور ایوان میں جب ہم اس نشست پر بیٹھتے ہیں، ممبر پارلیمنٹ کے طور پر بیٹھتے ہیں، تب حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے زیادہ غیر جانب دارا نہ جذبہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اور مجھے یقین ہے کہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے دائرے میں تقسیم ہونے کے بجائے غیر جانب دارانہ جذبے سے مفاد عامہ کو ترجیح دیتے ہوئے ہم آنے والے پانچ سال کے لئے اس ایوان کے وقار کو اوپر اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ مجھے یقین ہے کہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ نتیجہ خیز ہمارے ایوان رہیں گے اور مفاد عامہ کے کاموں میں زیادہ توانائی، زیادہ رفتار اور زیادہ اجتماعی فکر مندی کے جذبات اسے موقع فراہم کریں گے۔

                میری آپ سب سے بھی گزارش ہے کہ ایوان میں کئی ممبر بہت ہی اعلیٰ خیالات کے حامل ہیں، بحث کو بہت جاندار بناتے ہیں، لیکن چونکہ زیادہ تر وہ تخلیقی ہوتے ہیں اور اس کا اور ٹی آر پی کا میل نہیں ہوتا ہے۔ لیکن کبھی کبھی  ٹی آر پی سے اوپر بھی ایسے ممبران کو مواقع ملیں گے۔ اگر حکومت کی نکتی چینی بھی ایوان میں کوئی ممبر دلائل کے ساتھ کرتا ہے، اور وہ بات پہنچتی ہے، تو اس میں جمہوریت کو طاقت ملتی ہے۔ اس جمہوریت کو طاقت دینے میں میری آپ سب سے امیدیں ہیں۔ شروع میں تو ضرور ان میدوں کو پورا کریں گے، لیکن پانچ سال اس جذبے کو توانا بنانے میں آپ بھی مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اور اگر مثبت کردار ہو گا، مثبت خیالات کو توانائی بخشیں گے تو ایوان میں بھی مثبت اور موافقا نہ سمت میں جانے کا سب کا ارادہ بنے گا۔ تو میں آپ سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ 17 ویں لوک سبھا میں ہم اسی نئی توانائی، نئے یقین، نئے عہد، نئے خوابوں کے ساتھ، ساتھ مل کر کے آگے چلیں۔ ملک کے عام عوام کی امیدوں کو پورا کرنے میں ہم کہیں کمی  نہ رکھیں۔ اس یقین کے ساتھ آ پ سب کا بہت بہت شکریہ۔ 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s digital economy enters mature phase as video dominates: Nielsen

Media Coverage

India’s digital economy enters mature phase as video dominates: Nielsen
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves increase in the Judge strength of the Supreme Court of India by Four to 37 from 33
May 05, 2026

The Union Cabinet chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi today has approved the proposal for introducing The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Bill, 2026 in Parliament to amend The Supreme Court (Number of Judges) Act, 1956 for increasing the number of Judges of the Supreme Court of India by 4 from the present 33 to 37 (excluding the Chief Justice of India).

Point-wise details:

Supreme Court (Number of Judges) Amendment Bill, 2026 provides for increasing the number of Judges of the Supreme Court by 04 i.e. from 33 to 37 (excluding the Chief Justice of India).

Major Impact:

The increase in the number of Judges will allow Supreme Court to function more efficiently and effectively ensuring speedy justice.

Expenditure:

The expenditure on salary of Judges and supporting staff and other facilities will be met from the Consolidated Fund of India.

Background:

Article 124 (1) in Constitution of India inter-alia provided “There shall be a Supreme Court of India consisting of a Chief Justice of India and, until Parliament by law prescribes a larger number, of not more than seven other Judges…”.

An act to increase the Judge strength of the Supreme Court of India was enacted in 1956 vide The Supreme Court (Number of Judges) Act 1956. Section 2 of the Act provided for the maximum number of Judges (excluding the Chief Justice of India) to be 10.

The Judge strength of the Supreme Court of India was increased to 13 by The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1960, and to 17 by The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1977. The working strength of the Supreme Court of India was, however, restricted to 15 Judges by the Cabinet, excluding the Chief Justice of India, till the end of 1979, when the restriction was withdrawn at the request of the Chief Justice of India.

The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1986 further augmented the Judge strength of the Supreme Court of India, excluding the Chief Justice of India, from 17 to 25. Subsequently, The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 2008 further augmented the Judge strength of the Supreme Court of India from 25 to 30.

The Judge strength of the Supreme Court of India was last increased from 30 to 33 (excluding the Chief Justice of India) by further amending the original act vide The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 2019.