Share
 
Comments
وزیر اعظم مودی نے دہرادون میں اولین اتراکھنڈ سرمایہ کار سربراہ ملاقات کا افتتاح کیا
مضمرات، پالیسی اور کارکردگی ہماری ترقی کے کلیدی وسائل ہیں : وزیر اعظم مودی
بھارت میں دیوالیہ ہونے اور دیوالیہ قرار دیے جانے سے متعلق کوڈ کے طفیل کاروبار کرنا آسان ہو گیا ہے۔ بینکنگ نظام کو بھی مستحکم بنایا گیا ہے : وزیر اعظم مودی
وزیر اعظم مودی کا کہناہے کہ سب کے لئے مکان، سب کے لئے بجلی، سب کے لئے صاف ستھرا ایندھن ، سب کے لئے صحت، سب کے لئے بینکنگ اور حکومت کی دیگر اسکیمیں ہدف تک پہنچنے میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔
وزیر اعظم مودی کا کہنا ہے کہ # آیوشمان بھارت درجہ دوئم اور درجہ سوئم کے شہروں میں ہسپتالوں کی تعمیر میں معاون ہوگا اور طبی بنیادی ڈھانچے کی اصلاح میں بھی تعاون دے گا۔
وزیر اعظم مودی نے سرمایہ کاروں سے کہا ہے کہ وہ میک ان انڈیا صرف بھارت کے لئے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے بنائیں۔

نئی دہلی ،8اکتوبر : 7اکتوبر،2018کواتراکھنڈ ایک منزل :سرمایہ کاروں کی باہم ملاقات 2018میں وزیراعظم کی تقریرکے متن کی خاص خاص باتین درج ذریل ہیں :

اتراکھنڈکی گورنر ، محترمہ بیبی رانی موریہ جی ، مرکزی کابینہ کے میرے تمام معاونین ، ریاست کے وزیراعلیٰ،جناب ترویندرسنگھ جی راوت ، اتراکھنڈ کابینہ کے سبھی اراکین ، سنگاپورکے وزیراطلاعات ونشریات ،جناب ایس ایشورن جی ، جاپان اورچیک جمہوریہ کے سفیر، ، اندرون او ربیرونی ممالک سے تشریف لائے تمام صنعت کارساتھیو، دیویو اورسجّنو!

باباکیدارکی چھترچھایامیں چاردھام کی پاکیزگی کے لئے دیودھاراتراکھنڈ میں تشریف لائے ملک وبیرون ملک کے سبھی ساتھیوں کا بہت بہت خیرمقدم اور استقبال ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ آپ یہاں بھارت کے اقتصادی ماحولیات کے ساتھ ساتھ ہزاروں برسوں سے چلی آرہی ہماری ثقافتی تنوع کو اورخوشحالی سے اس کا احساس کریں گے ، اس کا تعارف کریں گے اورایک نئی چیتنا حاصل کرکے یہاں سے لوٹیں گے ۔

ساتھیوں ، اتراکھنڈ کی اس سرزمین پرہم سبھی ایسے وقت میں اکھٹے ہوئے ہیں جب ہندوستا ن میں تیز رفتارسے اقتصادی اور سماجی تبدیلی رونماہورہی ہے ۔ ملک بہت بڑی تبدیلی کے دورسے گذررہاہے ۔ ہم نئے ہندوستان کی جانب آگے بڑھ رہے ہیں ۔ دنیا کی ہربڑی تنظیم کہہ رہی ہے کہ ہندوستان آنے والی دہائیوں میں عالمی ترقی کا اہم انجن بننے والا ہے ۔ آج بھارت کی اقتصادی حالت مزید مستحکم ہوئی ہے ۔ مالی خسارہ کم ہواہے ، مہنگائی کی شرح قابو میں ہے۔ ہمارے یہاں دنیا میں سب سے تیز رفتارسے متوسط طبقے کا بڑے پیمانے پر، متوسط طبقے کانشرہورہاہے ۔ 80کروڑسے زائد نوجوان ، یہ طاقت ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ ، آرزوؤں اور سامتھریہ سے بھرپورہے ۔

ساتھیو، آج ہندوستان میں جس رفتار اور ہنرمندی پراقتصادی ترقی ہورہی ہے ، وہ ابھوت پورو ہیں ۔ پچھلے دوبرسوں میں ہی مرکز اور ریاستی سرکاروں کے ذریعہ دس ہزار سے زیادہ قدم اٹھائے گئے ہیں ۔ ان اقدام کی وجہ سے بھارت نے تجارت میں آسانیاں لانے ، اس میں 42اعداد کی اصلاح کی ہے ۔ اس سدھارمیں کے عمل میں ہم نے 1400سے زیادہ قوانین ختم کئے ہیں ۔ اس کے علاوہ بھارت میں ٹیکس نظام میں بھی بہت سے اصلاحات کئے ہیں ۔ ٹیکس سے جڑے معاملات کے حل کو اورشفاف اورتیز کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

دیوالیہ ہونے اوردیوالیہ قراردیئے جانے سے متعلق ضابطے سے آج کاروبارآسان ہواہے ، بینکنگ نظام کو بھی طاقت ملی ہے ۔ جی ایس ٹی کے طورپربھارت نے آزادی کے بعد سب سے بڑا ٹیکس اصلاحات کیاہے ۔ جی ایس ٹی نے ملک کو سنگل مارکیٹ میں تبدیل کردیاہے اور ٹیکس بیس بڑھانے میں بھی بہت بڑی مدد کی ہے ۔

ہمارا بنیادی ڈھانچہ شعبہ بھی ریکارڈ تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہاہے ۔ گذشتہ برس ہی بھارت میں قریب قریب 10000کلومیٹرقومی شاہراہوں کی تعمیرکی گئی ہے ۔ یعنی قریب قریب 27کلومیٹرروزانہ کی رفتارسے تعمیر ی کام چل رہاہے ۔ یہ پہلے کی سرکاروں کے مقابلے میں دوگناہے ۔

ریلوے لائن کی تعمیرمیں دوگنی تیز رفتارسے کام کیاجارہاہے ۔ اس کے علاوہ متعدد شہروں میں نئی میٹرو، ہائی اسپیڈ ریل پروجیکٹ ، ڈیڈی کیٹڈ کوریڈور ، اس کے لئے بھی کام چل رہاہے ۔ حکومت 400ریلوے اسٹیشنوں کی جدیدکاری کرنے کی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے ۔

اگرمیں سیاحت شعبے کی بات کروں ، بھارت میں یہ شعبہ بھی ریکارڈ تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہاہے ۔ اسکی رفتاراور تیز کرنے لئے ملک میں قریب قریب 100نئے ایئرپورٹ اور ہیلی پیڈ بنانے پرکام کیاجارہاہے ۔ اڑان یوجنا کے مادھیم سے ملک میں ٹائر2، ٹائر3شہروں میں فضائی رابطہ فراہم کرانے کی کوشش کی جاری ہے ۔ بھارت میں 100سے زیادہ نیشنل واٹرویز بنانے پربھی کام کیاجارہاہے ۔

ساتھیو، ان کے علاوہ آج بھارت میں سبھی کے لئے مکانات، سبھی کے لئے بجلی ، سبھی کے لئے صاف ستھراایندھن ، سبھی کے لئے صحت ، سبھی کے لئے بینکنگ ، جیسے الگ الگ متعدد منصوبے اپنے نشانے کو پوراکرنے کی جانب سے تیزری فتارسے آگے بڑھ رہے ہیں ۔ یعنی کل ملاکردیکھیں تو آج یہ کہاجاسکتاہے کہ چوطرفہ تبدیلی کے اس دورسے آپ کے لئے ، ملک ۔ بیرون ملک سرمایہ کاروں کے لئے ، بھارت میں اعلیٰ ترین ماحول بناہواہے ۔

  ابھی حال ہی میں شروع کی گئی ‘آیوش مان بھارت یوجنا ’ کی وجہ سے بھی ہندوستان میں طبی شعبے میں سرمایہ کاری کاامکان پیداہے ۔ اس کی وجہ سے آنے والے دنوں میں ٹائر2، ٹائر3شہروں میں نئے اسپتال بنیں گے ، میڈیکل کالج بنیں گے ، پارامیڈیکل ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوشنز بنیں گے ، پارامیڈیکل انفراسٹریکچر مضبوط ہوگا۔ آپ تصورکرسکتے ہیں کہ آیوش مان بھارت منصوبے کے تحت ملک کے 50کروڑسے زائد شہریوں کو، اس کے کنبے کو 5لاکھ روپے تک صحت انشورنس کی یقین دہانی حاصل ہورہی ہے ، مطلب امریکہ ، کینڈااورمیکسکو ، اس کی کل آبادی سے زیادہ لوگوں کو فائدہ ملے گا۔ پورے یورپ کی جو تعداد ہے ، اس سے زیادہ لوگوں کو فائدہ ملے گا ۔ اب یہ فائدہ دینے لئے کتنے اسپتالوں کی ضرورت پڑے گی ، کتنے ڈاکٹروں کی ضرورت پڑیگی ۔ کتنے سرمائے کا امکان ہے اور مریض کے لئے اور ادائیگی ابھی سے ریڈی ہے اور اس لئے سرمایہ کاری کرنے والے کے لئے بھی ریٹرن کا اشورنس ہے ۔ یہ اپنے آپ میں طبی شعبے میں بھارت میں مالی سرمایہ کاری کاایک بڑا موقع نصیب ہواہے ، جو ٹائر2، ٹائر3شہروں میں اعلیٰ سطح کے اسپتال بنانے کے امکانات پیداکرتاہے ۔

ساتھیو، آج بھارت میں بنیادی ڈھانچے پرجتنا خرچ کیاجارہاہے ، پہلے کبھی نہیں کیاگیا۔ اس وجہ سے سرمایہ کاری کے زبردست امکانات کے ساتھ ہی روزگارکے لاکھوں نئے مواقع پیداہورہے ہیں ۔ پوٹینشیل ، پالیسی اور پرفارمینس یہی ترقی کی بنیادہے ۔

نیوانڈیا سرمایہ کاری کی بہترین منزل ہے اور اتراکھنڈ کی منزل اس صفحے کا منورحصہ ہے ۔ اتراکھنڈ ملک کی ان ریاستوں میں ہے ، جونیو انڈیاہمارے ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ کوری پریزنٹ کرتے ہیں ۔ آج کا اتراکھنڈ نوجوان ہے ، آرزوؤں سے بھرپورہے ، توانائی سے لبالب ہے ۔ یہاں دستیاب بے پناہ امکانات کو مواقع میں تبدیل کرنے کے لئے ، ترویندرراوت کی حکومت میں سمجھتاہوں ، بھرپور کوششیں کررہی ہے ۔ اتراکھنڈ منزل یہ اسٹیج ان ہی کوششوں کا اظہارہے ۔ اب اہم یہ ہے کہ اس اسٹیج پرجوباتیں ہوئی ہیں ، جس یقین کو ظاہرکیاگیاہے ، جوجوش ظاہرکیاگیاہے ، وہ جلد ہی زمین پراترے۔ جس سے اتراکھنڈ کے نوجوان ساتھیوںکو زیادہ سے زیادہ روزگارملے ۔

ساتھیوآنجہانی اٹل بہاری واجپئی جی نے جب اتراکھنڈ بنانے کا فیصلہ لیاتھا ، تب حالات بہت پریشان کن تھے ۔ سیاسی غیریقینی صورت حال کے ساتھ ساتھ بہترمستقبل کے لئے پہاڑجیسے چیلنج ہمارے سامنے تھے ۔ لیکن آج اتراکھنڈ ترقی کے راستے پرتیز رفتارسے دوڑرہاہے ۔

گذشتہ چاربرسوں میں مائیکرو اسمال اور اور میڈیم انٹرپرائزز یعنی ایم ایس ایم ای ، اس کو بڑھاوادینے کے لئے ، ان کو مستحکم کرنے کے لئے متعدد قدم اٹھائے گئے ہیں ۔ زیادہ سے زیادہ چھوٹی صنعتوں کو ہائرکریڈٹ ، سپورٹ کیپٹل ، انٹریسٹ سبسیڈی ، لوورٹیکس اور اننوویشنز پر دھیان دیاجارہاہے ۔حال میں سرکار نے فیصلہ لیاہے کہ ۔ اب ایم ایس ایم ای کے لئے ایک کروڑروپے تک کا قرض بہت کم وقت میں منظورہوجائیگا۔

اتراکھنڈ میں کسی پروجیکٹ کی کلیئرنس کو لے کرکے سرمایہ کارکو سرکاری دفتروں کے چکرنہ کاٹنے پڑیں ، اس کے لئے مختلف النوع نظام کو آن لائن کیاگیاہے ۔ پری ویش ، اس پری ویش کے نام سے آن لائن فوریسٹ کلیئرنس کے لئے ایک پورٹل کام کررہاہے ، جس سے یہ عمل آسان ہونے کے ساتھ ساتھ تیز بھی ہواہے ۔

گذشتہ چاربرسوں کے دوران اتراکھنڈ میں کنکٹی وٹی بڑھانے کے لئے متعدد کوششیں کی گئی ہیں ۔ ہائی وے ، ریلوے ، فضائی راستے ، ہرطرح سے اتراکھنڈ کو مربوط کیاجارہاہے ۔ گاوں ۔گاوں میں پکی سڑکیں پہنچ رہی ہیں ۔ اتنا ہی نہیں ، چاردھام بارہ ماسی استعمال کے لائق سڑکیں اور رشی کیش ۔ کرن پریاگ ریل لائن کا کام تیز رفتاری سے چل رہاہے ۔

ساتھیو، بہتررابطے کا سب سے بڑا فائدہ یہاں کے سیاحت کے شعبے کو حاصل ہونے جارہاہے ۔ فطرت نے تو اس ریاست کومالامال کیا ہی ہے ،ساتھ میں عقیدت اورثقافت کا بھی وردان دیاہے ۔فطرت ہو ، ایڈوینچر(مخاطری) ہو ، ثقافت ہویاپھریوگ ، میڈیسن ہو، اتراکھنڈ سیاحت کا ایک مکمل پیکیج ہے ، ایک مثالی منزل ہے ۔ اب تو اتراکھنڈ سرکار نے الگ سیاحت پالیسی بناکر سیاحت کو ایک صنعت کی حیثیت دے دی ہے ،صنعت کا درجہ دے دیاہے ۔ 18سالوں میں پہلی بار13اضلاع میں نئی 13منزلیں ، سیاحت منزلوں کو شناخت کرکے ترقی دینے کی پہل کی گئی ہے ۔ اس سے یقینی طورپر ریاست کے نوجوانوں کو روزگارکے متعدد مواقع نصیب ہوں گے ۔

 

  ساتھیو، اتراکھنڈ میں آرگینک ریاست بنانے کے مکمل امکانات ہیں ۔ مجھے خوشی ہے کہ کلسٹربیسڈ آرگینک فارمنگ کے تحت ریاست کو آرگینک ریاست بنانے کی سمت میں کام شروع کردیاگیاہے ۔ آرگینک فارمنگ کو مارکیٹ فراہم کرانے کے لئے مرکزی حکومت بھی متعدد کوششیں کررہی ہے۔

ساتھ ہی ملک میں فوڈ پروسیسنگ کو اہمیت دی جارہی ہے ۔ فوڈ پروسیسنگ شعبے کو مضبوط کرنے کے لئے حکومت نے فوڈ پروسیسنگ میں 100فیصد براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کو ، ایف ڈی آئی کو بھی منظوری دے دی ہے ۔فوڈ پروسیسنگ کے معاملے میں بھی آج بھارت دنیاکے ترقی یافتہ ممالک میں سے ہے ۔ چاہے اناج کی پیداوارہو، پھل اورسبزیوں کی پیداوارہو، دودھ کی پیداوارہو، متعدد شعبوں میں بھارت دنیا میں پہلے تین مقامات میں سے ہے ۔ ہمارے کاشتکاروں کی پیداوار ضائع نہ ہو، ان کو اس کا زیادہ سے زیادہ فائدہ ملے ، اس کے لئے فوڈ پروسیسنگ پرہماری توجہ مرکوز ہے ۔اس میں بھی اتراکھنڈ کا سنہرامستقبل ہے۔

میں آپ سبھی سے زراعت میں زرعی تجارت میں سرمایہ کاری اور بنانے کا خاص اصرار کروں گا ۔ زراعت میں ہونے والا ویلیوایڈیشن کاشتکاروں کی آمدنی بڑھانے میں اہم کردار اداکرتاہے اورمیں مانتاہوں کہ ہم جتنا زیادہ سرمایہ ، نجی سرمایہ ، زرعی شعبے میں کریں گے ، ہم پروسیسنگ ہو ، ویلیوایڈیشن ہو ، کولڈ اسٹوریج ہو ، وئرہاوسنگ ہو ، نقل وحمل کے لئے مخصوص ٹائپ کے اسپیشل ٹائپ کے کیریجس ہوں ، یہ سارے امکانات ہندوستان کی دیہی اقتصادیات کی طاقت ، اور جو بھارت کی اقتصادی صلاحیت کو ایک نیا زاویہ دینے کے امکانات سے مالامال ہے ۔

ساتھیو، آج قابل احیأ توانائی کے معاملے میں عالمی رہنما بننے کی جانب گامزن ہے ۔ دنیا کی رہنمائی کرنے کی طاقت آج ہندوستان میں ہے ۔ ہم نے طے کیاہے کہ ، 2030تک ہماری 40فیصد بجلی کی صلاحیت نان فوسل فیول بیسڈ یعنی غیرنامیاتی فضلے پرمبنی ذرائع سے پیداہوگی ۔اتناہی نہیں ، 2022،جب بھارت کی آزادی کے 75سال ہوں گے ، 2022تک 175جی ڈبلیوقابل احیأ توانائی کا نشانہ لے کرکے ہم آگے بڑھ رہے ہیں ۔ اس میں بھی شمسی بجلی کا ایک بڑا حصہ ہونے والاہے ۔ بین الاقوامی سولر الائنس یعنی آئی ایس اے کے پیچھے بھی یہی نظریہ کارفرما ہے ۔ دنیا کی توانائی کی ضرورتیں پوری ہوں اورماحولیات سے بھی محفوظ رہے ، اس کے لئے ہمارا تو ایک ہی اصول ہے۔ ایک عالم ، ایک شمس ، ایک گرڈ ، اتراکھنڈ میں بھی قابل احیأ توانائی کی ترویج کے لئے ریاستی سرکارلگاتارکام کررہی ہے ۔ ہائیڈل پاورتو اس ریاست کی طاقت ہے ہی ، اب سولرتوانائی جیسے نئے وسیلے کی قوت جڑجانے سے اتراکھنڈ توانائی سرپلس ریاست بننے کی پوری صلاحیت رکھتاہے ۔ اتراکھنڈ ہندوستان کو توانائی کاحامل بناسکتاہے ، اتنے مضمرات اتراکھنڈ میں موجود ہیں ۔

ساتھیو، گذشتہ چاربرسوں میں میک ان انڈیا ایک بہت بڑ ا برانڈ بناہے ۔ ہمارااصرارہے میک ان انڈیا ، نہ صرف ہندوستان کے لئے بلکہ پوری دنیاکے لئے ۔ دنیا نے ہمارے اس بلاوے کوتسلیم کیاہے ، جس کے چلتے اطلاعاتی تکنالوجی کے ساتھ ساتھ اب الیکٹرانک مینوفیکچرنگ کا بھی بھارت محوربنتاجارہاہے ۔ آج دنیا کی سب سے بڑی موبائیل فون مینوفیچکرنگ یونٹ ، اس کے ساتھ ساتھ 120سے زیادہ فیکٹریاں بھارت میں کام کررہی ہیں ۔ دنیا کے متعدد بڑے برانڈ آج میک ان انڈیا کاحصہ ہیں ۔

وہیں آٹوموبائیل شعبے میں بھی بھارت بہت تیزی سے ترقی کررہاہے ۔ اس کام میں جاپان اتراکھنڈ کا شراکت دارہے ۔ دوستوں آپ کوجان کرکے خوشی ہوگی ، جاپان کی کمپنی ،جاپان کے پروڈکٹ ، وہ کارآج ہندوستان میں بنتی ہے اوراس کا رکو جاپان درآمدکرتاہے ۔

ساتھیو، آج اس پروگرام کے توسط سے آپ سبھی کو ان تمام شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے ، اتراکھنڈ اور نیو انڈیا کی گروتھ اسٹوری کا حصہ بننے کے لئے میں آپ کومدعوکرتاہوں ۔

مجھے پورایقین ہے کہ آنے والے دو دنوں میں جو مفاہمتی عرضداشت پردستخط ہوں گے ، وہ بہت ہی جلدفائدہ مند بھی ہوں گے اور مجھے یقین ہے کہ بھارت کی ترقی ہماری ریاستوں کے مضمرات کو زیادہ سے زیادہ اس کو اگربروئے کارلائیں تو اس ملک کے ترقی کے سفرکو دنیا کوئی طاقت نہیں روک سکتی ۔ اوریہ خوشی کی بات ہے کہ آج ریاستوں کے درمیان ایک صحت مند نظریہ شروع ہواہے ۔ ہرریاست دوسرے صوبے سے آگے بڑھناچاہتی ہے ، انوویٹوکرنا چاہتی ہے ۔ اپنے صوبے کی صلاحیت کی بنیاد پرکرناچاہتی ہے ۔ اورجب ریاست اپنی صلاحیت کولے کرکے چلتی ہے تو میں مانتاہوں وہ ریاست پیچھے ہوتی ہے ۔ دنیا کے کئئ ممالک سے ہماری ریاستوں کی طاقت زیادہ ہے ، ہمارے صوبوں میں اہلیت زیادہ ہے ۔ دنیا کے کئی چھوٹے ملکوں کے مقابلے میں ہمارے صوبوں میں مضمرات بہت پڑے ہوئے ہیں۔

مجھے یقین ہے کہ راوت جی کی قیادت میں یہ 18سال کی سرکار، 18سال کی ایسی توانائی سے بھرپور عمرمیں یہ ریاست نئی اونچائیوں کو حاصل کریگی اور 2025میں جب آپ 25سال مناتے ہوں گے ، تب آپ کے سارے خواب شرمندہ ٔ تعبیر ہوچکے ہوں گے ۔ ایک مبارک شروعات اس ازحد مبنی بر کوشش کے ساتھ ہوئی ہے ۔ میری بہت بہت نیک خواہشات ہیں اور بھارت سرکارکی طرف سے آپ کو پوراتعاون ملے گا ، اس کا یقین دلاتاہوں ۔بہت بہت شکریہ ۔

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن
Why Amit Shah believes this is Amrit Kaal for co-ops

Media Coverage

Why Amit Shah believes this is Amrit Kaal for co-ops
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to visit Karnataka on 6th February
February 04, 2023
Share
 
Comments
PM to inaugurate India Energy Week 2023 in Bengaluru
Moving ahead on the ethanol blending roadmap, PM to launch E20 fuel
PM to flag off Green Mobility Rally to create public awareness for green fuels
PM to launch the uniforms under ‘Unbottled’ initiative of Indian Oil - each uniform to support recycling of around 28 used PET bottles
PM to dedicate the twin-cooktop model of the IndianOil’s Indoor Solar Cooking System - a revolutionary indoor solar cooking solution that works on both solar and auxiliary energy sources simultaneously
In yet another step towards Aatmanirbharta in defence sector, PM to dedicate to the nation the HAL Helicopter Factory in Tumakuru
PM to lay foundation stones of Tumakuru Industrial Township and of two Jal Jeevan Mission projects in Tumakuru

Prime Minister Shri Narendra Modi will visit Karnataka on 6th February, 2023. At around 11:30 AM, Prime Minister will inaugurate India Energy Week 2023 at Bengaluru. Thereafter, at around 3:30 PM, he will dedicate to the nation the HAL helicopter factory at Tumakuru and also lay the foundation stone of various development initiatives.

India Energy Week 2023

Prime Minister will inaugurate the India Energy Week (IEW) 2023 in Bengaluru. Being held from 6th to 8th February, IEW is aimed to showcase India's rising prowess as an energy transition powerhouse. The event will bring together leaders from the traditional and non-traditional energy industry, governments, and academia to discuss the challenges and opportunities that a responsible energy transition presents. It will see the presence of more than 30 Ministers from across the world. Over 30,000 delegates, 1,000 exhibitors and 500 speakers will gather to discuss the challenges and opportunities of India's energy future. During the programme, Prime Minister will participate in a roundtable interaction with global oil & gas CEOs. He will also launch multiple initiatives in the field of green energy.

The ethanol blending programme has been a key focus areas of the government to achieve Aatmanirbharta in the field of energy. Due to the sustained efforts of the government, ethanol production capacity has seen a six times increase since 2013-14. The achievements in the course of last eight years under under Ethanol Blending Programe & Biofuels Programe have not only augmented India’s energy security but have also resulted in a host of other benefits including reduction of 318 Lakh Metric Tonnes of CO2 emissions and foreign exchange savings of around Rs 54,000 crore. As a result, there has been payment of around Rs 81,800 crore towards ethanol supplies during 2014 to 2022 and transfer of more than Rs 49,000 crore to farmers.

In line with the ethanol blending roadmap, Prime Minister will launch E20 fuel at 84 retail outlets of Oil Marketing Companies in 11 States/UTs. E20 is a blend of 20% ethanol with petrol. The government aims to achieve a complete 20% blending of ethanol by 2025, and oil marketing companies are setting up 2G-3G ethanol plants that will facilitate the progress.

Prime Minister will also flag off the Green Mobility Rally. The rally will witness participation of vehicles running on green energy sources and will help create public awareness for the green fuels.

Prime Minister will launch the uniforms under ‘Unbottled’ initiative of Indian Oil. Guided by the vision of the Prime Minister to phase out single-use plastic, IndianOil has adopted uniforms for retail customer attendants and LPG delivery personnel made from recycled polyester (rPET) & cotton. Each set of uniform of IndianOil’s customer attendant shall support recycling of around 28 used PET bottles. IndianOil is taking this initiative further through ‘Unbottled’ - a brand for sustainable garments, launched for merchandise made from recycled polyester. Under this brand, IndianOil targets to meet the requirement of uniforms for the customer attendants of other Oil Marketing Companies, non-combat uniforms for Army, uniforms/ dresses for Institutions & sales to retail customers.

Prime Minister will also dedicate the twin-cooktop model of the IndianOil’s Indoor Solar Cooking System and flag-off its commercial roll-out. IndianOil had earlier developed an innovative and patented Indoor Solar Cooking System with single cooktop. On the basis of feedback received, twin-cooktop Indoor Solar Cooking system has been designed offering more flexibility and ease to the users. It is a revolutionary indoor solar cooking solution that works on both solar and auxiliary energy sources simultaneously, making it a reliable cooking solution for India.

PM in Tumakuru

In yet another step towards Aatmanirbharta in the defence sector, Prime Minister will dedicate to the nation the HAL Helicopter Factory in Tumakuru. Its foundation stone was also laid by the Prime Minister in 2016. It is a dedicated new greenfield helicopter factory which will enhance capacity and ecosystem to build helicopters.

This helicopter factory is Asia’s largest helicopter manufacturing facility and will initially produce the Light Utility Helicopters (LUH). LUH is an indigenously designed and developed 3-ton class, single engine multipurpose utility helicopter with unique feature of high manoeuvrability.

The factory will be expanded to manufacture other helicopters such as Light Combat Helicopter (LCH) and Indian Multirole Helicopter (IMRH) as well as for repair and overhaul of LCH, LUH, Civil ALH and IMRH in the future. The factory also has the potential for exporting the Civil LUHs in future.

This facility will enable India to meet its entire requirement of helicopters indigenously and will attain the distinction of enabling self-reliance in helicopter design, development and manufacture in India.

The factory will have a manufacturing set up of Industry 4.0 standards. Over the next 20 years, HAL is planning to produce more than 1000 helicopters in the class of 3-15 tonnes from Tumakuru. This will result in providing employment for around 6000 people in the region.

Prime Minister will lay the foundation stone of Tumakuru Industrial Township. Under the National Industrial Corridor Development Programme, development of the Industrial Township spread across 8484 acre in three phases in Tumakuru has been taken up as part of Chennai Bengaluru Industrial Corridor.

Prime Minister will lay the foundation stones of two Jal Jeevan Mission projects at Tiptur and Chikkanayakanahalli in Tumakuru. The Tiptur Multi-Village Drinking Water Supply Project will be built at a cost of over Rs 430 crores. The Multi-village water supply scheme to 147 habitations of Chikkanayakanahlli taluk will be built at a cost of around Rs 115 crores. The projects will facilitate provision of clean drinking water for the people of the region.