وزیراعلی کے طور پر میرے 13 برسوں کے دوران، گجرات ‘سب کا ساتھ، سب کا وکاس’ کی ایک روشن مثال کے طور پر اُبھرا: وزیراعظم
پچیس(25 ) کروڑ سے زیادہ لوگوں کو غربت کے چنگل سے آزاد کیا گیا ہے۔ بھارت پانچویں سب سے بڑی معیشت بن گیا ہے: وزیر اعظم
بھارت کی ترقی کی رفتار نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ہمارے ملک کو عالمی سطح پر انتہائی توقعات کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے: وزیر اعظم
میں اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھوں گا جب تک کہ وکست بھارت کے ہمارے اجتماعی مقصد کو پورا نہیں کیا جاتا: وزیر اعظم

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے حکومت کے سربراہ کے طور پر 23 سال مکمل ہونے پر تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ہے۔ جناب مودی نے گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر اپنے وقت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ گجرات سماج کے تمام طبقوں کی خوشحالی کو یقینی بنانے والے ‘سب کا ساتھ، سب کا وکاس’ کی ایک روشن مثال کے طور پر اُبھرا۔ گزشتہ دہائی کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کی ترقی کی پیش رفت نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ہمارے ملک کو عالمی سطح پر انتہائی امید کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے ملک کے عوام  کو یقین دلایا کہ وہ  اس وقت انتھک محنت کرتے رہیں گے اور  چین   سے نہیں بیٹھیں گے جب تک کہ وکست بھارت کا اجتماعی مقصد حاصل نہیں ہو جاتا۔

وزیر اعظم نے ایکس پر ایک تھریڈ پوسٹ کیا۔

’’# خدمت کے23 سال ۔’’

ہر ایک کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے 23 سال مکمل کرنے پر اپنی دعائیں اور نیک خواہشات بھیجیں۔ 7 اکتوبر 2001 کومیں نے گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دینے کی ذمہ داری قبول کی۔ یہ میری پارٹی @BJP4India کی عظمت تھی کہ مجھ جیسے ایک معمولی  کاریہ کرتا کو ریاستی انتظامیہ کی سربراہی کی ذمہ داری سونپی گئی۔

’’جب میں نے بطور وزیر اعلیٰ عہدہ سنبھالا، تو گجرات کو متعدد چیلنجوں کا سامنا تھا - 2001 کا کچھ کا زلزلہ، اس سے پہلے ایک سپر سائیکلون، ایک زبردست خشک سالی، اور لوٹ، فرقہ پرستی اور ذات پرستی جیسی کانگریس کی کئی دہائیوں کی بدانتظامی کی میراث چیلنجز شامل تھے۔ جن شکتی کی طاقت سے، ہم نے گجرات کو دوبارہ تعمیر کیا اور اسے ترقی کی نئی بلندیوں تک پہنچایا، یہاں تک کہ زراعت جیسے شعبے میں، جس کے لیے ریاست روایتی طور پر مشہور نہیں تھی’’۔

’’میرے 13 برسوں کے وزیر اعلی کے طور پر، گجرات ‘سب کا ساتھ، سب کا وکاس’ کی ایک روشن مثال کے طور پر ابھرا، جس سے معاشرے کے تمام طبقات کی خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکا۔ 2014 میں، بھارت  کے لوگوں نے میری پارٹی کو ریکارڈ حمایت  سے نوازا، اس طرح میں وزیر اعظم کے طور پر کام کرنے کے قابل ہوا۔ یہ ایک تاریخی لمحہ تھا، کیونکہ  30بر سوں میں پہلی بار  کسی پارٹی نے مکمل اکثریت حاصل کی تھی’’۔

’’گزشتہ دہائی کے دوران، ہم اپنے ملک کو درپیش کئی چیلنجوں سے نمٹنے میں کامیاب رہے ہیں۔ 25 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو غربت کے چنگل سے آزاد کیا گیا ہے۔ بھارت  پانچویں سب سے بڑی معیشت بن گیا ہے اور اس نے خاص طور پر ہمارے اسمارٹ اپس، ایم ایس ایم ایز  سیکٹر اورمتعددشعبوں میں  مدد گار ثابت ہوا ہے۔ ہمارے محنتی کسانوں، ناری شکتی، یووا شکتی اور غریبوں کے ساتھ ساتھ معاشرے کے پسماندہ طبقات کے لیے خوشحالی کی نئی راہیں کھل گئی ہیں‘‘۔

’’ بھارت  کی ترقیاتی پیشرفت نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ہمارے ملک کو عالمی سطح پر انتہائی امید کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ دنیا ہمارے ساتھ  کام کرنے ،  ہمارے  لوگوں کے ساتھ  سرمایہ کاری کرنے اور ہماری کامیابی کا حصہ بننے کی خواہشمند ہے۔ اس کے ساتھ ہی، بھارت  عالمی چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے بڑے پیمانے پر کام کر رہا ہے خواں   وہ موسمیاتی تبدیلی، صحت کی دیکھ بھال میں بہتری، ایس ڈی جیز کا ادراک  ہو یا   کچھ اور ہو‘‘۔

’’گزشتہ بر سوں میں بہت کچھ حاصل کیا گیا ہے لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ان 23 برسوں میں  ہم نے جو کچھ سیکھا ہے  اس نے  ہمیں اہم اقدامات کرنے کے قابل بنایا  ہےجو قومی اور عالمی سطح پر مثبت طور پر اثر انداز ہوا  ہے۔ میں اپنے ساتھی بھارتیوں  کو یقین دلاتا ہوں ، کہ میں  لوگوں کی خدمت کے لئے  اس وقت تک اور زیادہ جوش کے ساتھ   انتھک محنت کرتا رہوں گا ،اور چین سے نہیں بیٹھوں گا جب تک کہ وکست بھارت کا ہمارا اجتماعی مقصد حاصل نہیں ہو جاتا’’۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s digital economy enters mature phase as video dominates: Nielsen

Media Coverage

India’s digital economy enters mature phase as video dominates: Nielsen
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves increase in the Judge strength of the Supreme Court of India by Four to 37 from 33
May 05, 2026

The Union Cabinet chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi today has approved the proposal for introducing The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Bill, 2026 in Parliament to amend The Supreme Court (Number of Judges) Act, 1956 for increasing the number of Judges of the Supreme Court of India by 4 from the present 33 to 37 (excluding the Chief Justice of India).

Point-wise details:

Supreme Court (Number of Judges) Amendment Bill, 2026 provides for increasing the number of Judges of the Supreme Court by 04 i.e. from 33 to 37 (excluding the Chief Justice of India).

Major Impact:

The increase in the number of Judges will allow Supreme Court to function more efficiently and effectively ensuring speedy justice.

Expenditure:

The expenditure on salary of Judges and supporting staff and other facilities will be met from the Consolidated Fund of India.

Background:

Article 124 (1) in Constitution of India inter-alia provided “There shall be a Supreme Court of India consisting of a Chief Justice of India and, until Parliament by law prescribes a larger number, of not more than seven other Judges…”.

An act to increase the Judge strength of the Supreme Court of India was enacted in 1956 vide The Supreme Court (Number of Judges) Act 1956. Section 2 of the Act provided for the maximum number of Judges (excluding the Chief Justice of India) to be 10.

The Judge strength of the Supreme Court of India was increased to 13 by The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1960, and to 17 by The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1977. The working strength of the Supreme Court of India was, however, restricted to 15 Judges by the Cabinet, excluding the Chief Justice of India, till the end of 1979, when the restriction was withdrawn at the request of the Chief Justice of India.

The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1986 further augmented the Judge strength of the Supreme Court of India, excluding the Chief Justice of India, from 17 to 25. Subsequently, The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 2008 further augmented the Judge strength of the Supreme Court of India from 25 to 30.

The Judge strength of the Supreme Court of India was last increased from 30 to 33 (excluding the Chief Justice of India) by further amending the original act vide The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 2019.