وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج کہا کہ تقسیم ہند کی ہولناکیوں کی یاد کے دن کے موقع پر ہم ان تمام لوگوں کی ہمت اور حوصلے کو یاد کرتے ہیں جو تقسیم سے متاثر ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاریخ کا وہ المناک باب تھا جس نے بے شمار زندگیاں اجاڑ دیں، خاندانوں کو اپنے گھر بار سے محروم ہونا پڑا، متعددلوگوں کو اپنوں کو کھونا پڑا اور لوگوں کو بے پناہ مصائب برداشت کرنے پڑے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اس کے باوجود لوگوں نے تمام تر مشکلات پر قابو پاتے ہوئے ازسرنو اپنی زندگیاں سنواریں، نامساعد حالات کو کامیابی میں بدلا اور ملک کی ترقی میں گراں قدر تعاون دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کی زندگی کےمشکلوں بھرا سفر ہمیں انسانی عزم و حوصلے کی قوت کا احساس دلاتے ہیں۔ جناب مودی نے امید ظاہر کی کہ یہ دن ہمارے ملک میں ہم آہنگی اور بھائی چارے کے تحفظ کے عزم کو مزید مضبوط کرے گا اور ہمیں ایک ساتھ مل کر ایک وکست بھارت کی تعمیر کی سمت کام کرنے کی ترغیب دے گا۔
وزیر اعظم نے ان تمام ہم وطنوں کو دلی خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے اس ہولناک دور سے نکل کر ملک کی ترقی میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنی ہمت اور صلاحیت کے ذریعے ان لوگوں نے ثابت کیا کہ نامساعد حالات میں بھی عزم و ارادوں کو حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔ جناب نریندر مودی نے سبھی لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ملک میں خیرسگالی اور باہمی یکجہتی کے جذبے کو مزید مضبوط کریں۔
وزیر اعظم نے ایک سنسکرت سبھاشتم شیئر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ محنت، جدوجہد اور لگن کے ذریعے مختلف فنون، علوم، سائنسی و تکنیکی مہارتیں، ہنرمندی اور اختراعات فروغ پاتی ہیں اور کامیابی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس لیے انسان کو قسمت کے سہارے بیٹھے نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ہمت، محنت اور مسلسل کوشش کے ساتھ اپنے مقاصد کی جانب ثابت قدمی سے آگے بڑھنا چاہیے، کیونکہ انسانی جدوجہد ہی تقدیر کی تشکیل کرتی ہے۔
وزیر اعظم نے ایکس پر سلسلہ وار پوسٹس میں لکھا:
آج ہم تقسیم ہند# کی ہولناکیوں کی یادکادن منا رہے ہیں۔ ہم ان تمام لوگوں کی ہمت و حوصلے کو یاد کرتے ہیں جو تقسیم سے متاثر ہوئے تھے۔ یہ تاریخ کا ایک ایسا لمحہ تھا جس نے بے شمار زندگیاں تہس نہس کر دیں… خاندان اجڑ گئے، اپنوں سے بچھڑنا پڑا اور لوگوں کو بے پناہ مصائب اور مشکلات برداشت کرنا پڑے۔
اس کے باوجود لوگوں نے ان حالات پر قابو پاتے ہوئے صفرسطح سے اپنی زندگیاں دوبارہ سنواریں، مشکلات کو کامیابی میں بدلا اور ملک کی ترقی میں بے حد اہم کردار ادا کیا۔ ان کی زندگی کے سفر ہمیں انسانی عزم و حوصلے کی قوت کا احساس دلاتے ہیں۔’’یہ دن ہمارے ملک میں باہمی ہم آہنگی اور بھائی چارے کے تحفظ کے عزم کو مزید مضبوط کرے اور ہم سب کو مل کر ایک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے کام کرنے کی ترغیب دے۔‘‘
’تقسیم ہند کی ہولناکیوں کی یاد کے دن کے موقع پر ان تمام ہم وطنوں کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں، جنہوں نے اس ہولناک دور سے نکل کر ملک کی ترقی میں گراں قدر کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنی ہمت اور صلاحیت سے یہ ثابت کیا کہ نامساعد حالات میں بھی اپنے عزم و ارادوں کو کس طرح پایۂ تکمیل تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ آئیے، خیرسگالی اور قومی یکجہتی کے جذبے کو مزید مضبوط کریں۔‘
उद्यमस्य प्रसादेन दृश्यन्ते विविधाः कलाः।
कातरा एव जल्पन्ति यद् भाव्यं तद् भविष्यति॥”
محنت، جدوجہد اور لگن کے ذریعے ہی مختلف فنون، علوم، سائنسی و تکنیکی مہارتیں، ہنرمندی اور اختراعات فروغ پاتی ہیں اور کامیابی کی راہ ہموار کرتی ہیں۔ اس لیے انسان کو قسمت کے سہارے بیٹھے نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ہمت، محنت اور مسلسل کوشش کے ساتھ اپنے مقاصد کی جانب ثابت قدمی سے آگے بڑھنا چاہیے، کیونکہ انسان کی جدوجہد ہی تقدیر کو تشکیل دیتی ہے۔