یور ایکسی لینسی، چانسلر کارل نیہمر،

دونوں ممالک کے مندوبین

میڈیا  کے ساتھیو،

نمسکار!

سب سے پہلے، میں چانسلر نیہمر کے گرمجوشی سے استقبال اور مہمان نوازی کے لیے ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ مجھے خوشی ہے کہ مجھے اپنی تیسری مدت  کارکے آغاز میں آسٹریا کا دورہ کرنے کا موقع ملا۔ میرا یہ دورہ  تاریخی بھی ہے اور خاص بھی۔ اکتالیس سال بعد کسی بھارتی وزیر اعظم نے آسٹریا کا دورہ کیا ہے۔ یہ بھی ایک حسن  اتفاق ہے کہ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ہم اپنے باہمی تعلقات کے 75 سال مکمل کر چکے ہیں۔

 

دوستو،

جمہوریت اور قانون کی حکمرانی جیسی اقدار پر مشترکہ یقین ہمارے تعلقات کی مضبوط بنیادیں ہیں۔ ہمارے تعلقات باہمی اعتماد اور مشترکہ مفادات سے مضبوط ہوتے ہیں۔ آج میں نے  اور چانسلر نیہمر نے بہت ہی  نتیجہ خیز گفتگو کی۔ ہم نے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نئے امکانات کی نشاندہی کی ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ تعلقات کو اسٹریٹجک سمت دی جائے گی۔ آنے والی دہائی کے لیے تعاون کا خاکہ تیار کیا گیا ہے۔ یہ صرف اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری تک محدود نہیں ہے۔ انفرا اسٹرکچر کی ترقی، اختراع، قابل تجدید توانائی، ہائیڈروجن، پانی اور کچرے  کے  بندوبست، مصنوعی ذہانت، کوانٹم جیسے شعبوں میں ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو جوڑنے کے لیے کام کیا جائے گا۔ دونوں ممالک کے نوجوانوں کی طاقت اور نظریات کو آپس میں جوڑنے کے لیے اسٹارٹ اپ برج کو رفتار  دی جائے گی۔ موبلٹی اور مائیگریشن پارٹنرشپ پر پہلے ہی ایک معاہدہ موجود ہے۔ اس سے قانونی نقل مکانی اور ہنر مند افرادی قوت کی نقل و حرکت میں مدد ملے گی۔ ثقافتی اور تعلیمی اداروں کے درمیان تبادلوں کو فروغ دیا جائے گا۔

دوستو،

یہ ہال، جہاں ہم کھڑے ہیں، بہت تاریخی ہے۔ انیسویں صدی میں یہاں تاریخی ویانا کانگریس کی میزبانی کی گئی تھی۔ اس کانفرنس نے یورپ میں امن اور استحکام کو سمت دی۔ چانسلر نیہمر اور میں نے دنیا میں جاری تمام تنازعات کے بارے میں طویل بات چیت کی ہے، چاہے یوکرین کا تنازعہ ہو یا مغربی ایشیا کی صورت حال۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ یہ جنگ کا وقت نہیں ہے۔ میدان جنگ میں مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ معصوم جانوں کا نقصان جہاں بھی ہو، قابل قبول نہیں۔ بھارت اور آسٹریا امن اور استحکام کی جلد بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری پر زور دیتے ہیں۔ اس کے لیے ہم دونوں ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں۔

 

دوستو،

ہم نے آج انسانیت کو درپیش چیلنجوں جیسے ماحولیاتی تبدیلی اور دہشت گردی پر بھی خیالات کا اشتراک کیا۔ آب و ہوا  کے سلسلے میں - بین الاقوامی سولر الائنس، کولیشن فار ڈیزاسٹر ریسی لینٹ انفراسٹرکچر، بائیو فیول الائنس جیسے  ہمارے اقدامات جڑنے کے لئے ہم  آسٹریا کو دعوت دیتے ہیں۔ ہم دونوں، دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ہم متفق ہیں کہ یہ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔ اس کو کسی بھی طرح جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ہم اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کو زمانے کے تقاضوں کے مطابق اور موثر بنانے کے لیے اصلاحات پر متفق ہیں۔

دوستو،

آسٹریا میں آئندہ مہینوں میں انتخابات ہوں گے۔ جمہوریت کی ماں اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت کے لوگوں کی طرف سے میں چانسلر نیہمر اور آسٹریا کے لوگوں کو ڈھیروں  نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ کچھ دیر بعد ہم دونوں ممالک کے سی ای اوز سے ملاقات کریں گے۔ مجھے آسٹریا کے صدر  محترم سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوگا۔ ایک بار پھر میں چانسلر نیہمر کی دوستی کے لیے ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور میں آپ کو بھارت آنے کی دعوت دیتا ہوں۔ بہت بہت شکریہ۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26

Media Coverage

India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister expresses grief over mishap in Coimbatore
April 17, 2026

The Prime Minister, Shri Narendra Modi, has expressed deep anguish over the mishap in Coimbatore, Tamil Nadu.

Shri Modi said that he is distressed to hear about the incident and extended his heartfelt condolences to those who have lost their loved ones. He also prayed for the speedy recovery of those injured in the mishap.

The Prime Minister’s Office posted on X;

“Distressed to hear about the mishap in Coimbatore, Tamil Nadu. I extend my heartfelt condolences to those who have lost their loved ones in the mishap. Prayers for the speedy recovery of those injured: PM @narendramodi”