“The time for action is here and now”
“India was among the first G20 nations to fulfill its Paris commitments on green energy”
“Green Hydrogen is emerging as a promising addition to the world’s energy landscape”
“National Green Hydrogen Mission is giving an impetus to innovation, infrastructure, industry and investment”
“ New Delhi G-20 Leaders’ Declaration adopted five high-level voluntary principles on Hydrogen that are helping in the creation of a unified roadmap”
“Important for domain experts to lead the way and work together in such a crucial sector”
“Let us work together to accelerate the development and deployment of Green Hydrogen,”

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو پیغام کے ذریعہ ‘سبز ہائیڈروجن ’ کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کیا۔

وزیر اعظم نے سبز ہائیڈروجن پر دوسری بین الاقوامی کانفرنس میں تمام معززین کا پرتپاک استقبال کرتے ہوئے اپنے خطاب کا آغاز کیا اور کہا کہ دنیا ایک اہم تبدیلی سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے اس بڑھتے ہوئے احساس پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی صرف مستقبل کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس کے اثرات ابھی  محسوس کیے جارہے  ہیں۔’’جناب  مودی نے کہاکہ‘‘اس پرکارروائی کی فوری ضرورت ہے’’۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کی منتقلی اور پائیداری عالمی پالیسی گفتگو میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔

ایک صاف ستھرا اور سرسبز سیارہ بنانے کے تئیں قوم کے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ ہندوستان سبز توانائی پر پیرس کے وعدوں کو پورا کرنے والے پہلے جی 20 ممالک میں شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وعدے 2030 کے ہدف سے 9 سال پہلے پورے ہو گئے تھے۔ گزشتہ 10 برسوں میں ہونے والی پیشرفت پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کی نصب شدہ غیرفوسل ایندھن کی صلاحیت میں تقریباً 300 فیصد اضافہ ہوا ہے اور شمسی توانائی کی صلاحیت 3,000 فیصدسے زیادہ ہو گئی ہے۔ جناب مودی نے اس بات پر زور دیا کہ ان کامیابیوں پرہم آرام  سے بیٹھے نہیں ہیں اور ملک کی توجہ نئے اور اختراعی شعبوں کو دیکھتے ہوئے موجودہ حل کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے، یہ کہتے ہوئے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں سبز ہائیڈروجن کی اہمیت  سامنے آچکی ہے۔

‘‘سبز ہائیڈروجن دنیا کے توانائی کے منظر نامے میں ایک امید افزا اضافے کے طور پر ابھر رہی ہے’’۔ وزیر اعظم نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان صنعتوں کو ڈیکاربونائز کرنے میں مدد دے سکتا ہے جن کی برقی کاری مشکل ہے۔ انہوں نے ریفائنریز، کھاد، اسٹیل، ہیوی ڈیوٹی ٹرانسپورٹیشن اور کئی دوسرے شعبوں کی مثالیں دیں جو اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔ وزیراعظم جناب نریندر مودی نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ سبز ہائیڈروجن کو اضافی قابل تجدید توانائی کے ذخیرہ کے حل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ 2023 میں شروع کیے گئے نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن  کے بارے میں بات کرتے ہوئے،وزیر اعظم نے  ہندوستان کوسبز ہائیڈروجن کی پیداوار،استعمال اور برآمد کا عالمی مرکزبنانےکے ہدف کا خاکہ پیش کیا۔وزیراعظم جناب نریندر مودی نے کہا‘‘نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن اختراع، بنیادی ڈھانچہ، صنعت اور سرمایہ کاری کو ترغیب دے رہا ہے’’۔ انہوں نے جدید تحقیق اور ترقی میں سرمایہ کاری، صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان شراکت داری اور ڈومین کے اسٹارٹ اپس اور کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے گرین جابس ایکو سسٹم کی ترقی کے لیے بڑی صلاحیتوں کو بھی اجاگرکیا اور اس شعبے میں ملک کے نوجوانوں کے لیے ہنر مندی کی ترقی کے لیے حکومت کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔

 

موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کی منتقلی کے عالمی خدشات کاذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایسے خدشات کے جوابات بھی عالمی ہونے چاہئیں۔ انہوں نے ڈی کاربنائزیشن پر سبز ہائیڈروجن کے اثرات کو فروغ دینے کے لیے بین الاقوامی شراکت داری کی اہم ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پیداوار میں اضافہ، لاگت کو کم کرنا اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیرباہمی تعاون کے ذریعہ تیزی سے ہو سکتی ہے۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کو مزید آگے بڑھانے کے لیے تحقیق اور اختراع میں مشترکہ سرمایہ کاری کی ضرورت کا بھی ذکر کیا۔ ستمبر 2023 میں ہندوستان میں منعقدہ جی20 سربراہی اجلاس کاذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے سبز ہائیڈروجن پر خصوصی توجہ کو اجاگر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ نئی دہلی جی-20 رہنماؤں کے اعلامیہ میں ہائیڈروجن کے بارے میں پانچ اعلیٰ سطحی رضاکارانہ اصولوں کو اپنایا گیا ہے جو کہ ہائیڈروجن کے متحدروڈ میپ کی تخلیق میں مدد کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا،‘‘ہم سب کو یاد رکھنا چاہیے، جو فیصلے ہم اس وقت کررہے ہیں وہ ہماری آنے والی نسلوں کی زندگیوں کا فیصلہ کریں گے’’۔

 

وزیر اعظم مودی نے آج سبز ہائیڈروجن شعبے کو آگے بڑھانے کے لیے وسیع تر عالمی تعاون پر زور دیا اور ڈومین ماہرین اور سائنسی برادری پر رہنمائی کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے سبز ہائیڈروجن انڈسٹری کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اجتماعی مہارت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا، ‘‘اس طرح کے ایک اہم شعبے میں، ڈومین کے ماہرین کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ رہنمائی کریں اور مل کر کام کریں۔’’ وزیر اعظم نے سائنس دانوں اور اختراع کاروں کو عوامی پالیسی میں تبدیلیوں کو تجویز کرنے کی بھی ترغیب دی،جس سے کہ اس شعبے کو مزید مدد ملے گی۔ جناب مودی نے عالمی سائنسی برادری کے سامنے اہم سوالات اٹھاتے ہوئے پوچھا،‘‘کیا ہم سبز ہائیڈروجن کی پیداوار میں الیکٹرولائزرز اور دیگر اجزاء کی کارکردگی کو بہتر بنا سکتے ہیں؟ کیا ہم پیداوار کے لیے سمندرکے پانی اور میونسپل کے فضلہ کے پانی کے استعمال  کے طریقے کو تلاش کر سکتے ہیں؟’’ انہوں نے ان چیلنجوں سے نمٹنے کی ضرورت، خاص طور پر پبلک ٹرانسپورٹ، شپنگ اور اندرون ملک آبی گزرگاہوں کے لیےسبز ہائیڈروجن کے استعمال پر روشنی ڈالی۔ وزیر اعظم نے اس اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ‘‘گرین ہائیڈروجن پر دوسری بین الاقوامی کانفرنس جیسے فورمز ان مسائل پرپوری دنیا میں بامعنی تبادلے کو آگے بڑھائیں گے’’۔

 

چیلنجوں پر قابو پانے کی انسانی تاریخ کا تذکرہ کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا، ‘‘ہر بار، ہم نے اجتماعی اور اختراعی حل کے ذریعہ مشکلات پر قابو پایا’’۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اجتماعی عمل اور اختراع کا وہی جذبہ دنیا کو ایک پائیدار مستقبل کی طرف رہنمائی کرے گا۔ گرین ہائیڈروجن کی ترقی اور تعیناتی کو تیز کرنے کے لیے عالمی کوششوں پر زور دیتے ہوئے جناب مودی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا، ‘‘ہم جب ایک ساتھ ہوں تو ہم کچھ بھی حاصل کر سکتے ہیں’’۔ خطاب کے اختتام پر، وزیر اعظم نے گرین ہائیڈروجن پر دوسری بین الاقوامی کانفرنس کے تمام شرکاء کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایک سرسبز اور زیادہ پائیدار دنیا کی تعمیر میں تعاون کی ضرورت کو تقویت دیتے ہوئے کہا‘‘آئیے ہم گرین ہائیڈروجن کی ترقی اور تعیناتی کو تیز کرنے کے لیے مل کر کام کریں’’۔

 

Click here to read full text speech

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India's strong growth outlook intact despite global volatility: Govt

Media Coverage

India's strong growth outlook intact despite global volatility: Govt
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister urges MPs to vote in favour of Nari Shakti Vandan Adhiniyam Amendment, Calls it Historic Opportunity
April 17, 2026

The Prime Minister, Shri Narendra Modi, has highlighted that a discussion is currently underway in Parliament on the amendment to the Nari Shakti Vandan Adhiniyam, noting that deliberations continued till 1 AM last night.

He stated that all misconceptions surrounding the amendment have been addressed with logical responses, and every concern raised by members has been resolved. The Prime Minister added that necessary information, wherever lacking, has also been provided to all members, ensuring that issues of opposition have been clarified.

Emphasising that the issue of women’s reservation has witnessed political debates for nearly four decades, the Prime Minister said that the time has now come to ensure that women, who constitute half of the country’s population, receive their rightful representation.

He observed that even after decades of independence, the low representation of women in the decision-making process is not appropriate and needs to be corrected.

The Prime Minister informed that voting in the Lok Sabha is expected shortly and urged all political parties to take a thoughtful and sensitive decision by voting in favour of the women’s reservation amendment.

Appealing on behalf of the women of the country, he urged all Members of Parliament to ensure that no action hurts the sentiments of Nari Shakti. He noted that crores of women are looking towards the Parliament, its intent, and its decisions.

The Prime Minister called upon MPs to reflect upon their families-mothers, sisters, daughters, and wives—and listen to their inner conscience while making the decision.

He described the amendment as a significant opportunity to serve and honour the women of the nation and urged members not to deprive them of new opportunities.

Expressing confidence, the Prime Minister said that if the amendment is passed unanimously, it will further strengthen Nari Shakti as well as the country’s democracy.

Calling it a historic moment, he urged all members to come together to create history by granting rightful representation to women, who form half of India’s population.

The Prime Minister wrote on X;

“संसद में इस समय नारीशक्ति वंदन अधिनियम में संशोधन पर चर्चा चल रही है। कल रात भी एक बजे तक चर्चा चली है।

जो भ्रम फैलाए गए, उनको दूर करने के लिए तर्कबद्ध जवाब दिया गया है। हर आशंका का समाधान किया गया है। जिन जानकारियों का अभाव था, वो जानकारियां भी हर सदस्य को दी गई हैं। किसी के मन में विरोध का जो कोई भी विषय था, उसका भी समाधान हुआ है।

महिला आरक्षण के इस विषय पर देश में चार दशक तक बहुत राजनीति कर ली गई है। अब समय है कि देश की आधी आबादी को उसके अधिकार अवश्य मिलें।

आजादी के इतने दशकों बाद भी भारत की महिलाओं का निर्णय प्रक्रिया में इतना कम प्रतिनिधित्व रहे, ये ठीक नहीं।

अब कुछ ही देर लोकसभा में मतदान होने वाला है। मैं सभी राजनीतिक दलों से आग्रह करता हूं… अपील करता हूं...

कृपया करके सोच-विचार करके पूरी संवेदनशीलता से निर्णय लें, महिला आरक्षण के पक्ष में मतदान करें।

मैं देश की नारी शक्ति की तरफ से भी सभी सदस्यों से प्रार्थना करूंगा… कुछ भी ऐसा ना करें, जिनसे नारीशक्ति की भावनाएं आहत हों।

देश की करोड़ों महिलाओं की दृष्टि हम सभी पर है, हमारी नीयत पर है, हमारे निर्णय पर है। कृपया करके नारीशक्ति वंदन अधिनियम में संशोधन का साथ दें।”

“मैं सभी सांसदों से कहूंगा...

आप अपने घर में मां-बहन-बेटी-पत्नी सबका स्मरण करते हुए अपनी अंतरात्मा को सुनिए ...

देश की नारीशक्ति की सेवा का, उनके वंदन का ये बहुत बड़ा अवसर है।

उन्हें नए अवसरों से वंचित नहीं करिए।

ये संशोधन सर्वसम्मति से पारित होगा, तो देश की नारीशक्ति और सशक्त होगी… देश का लोकतंत्र और सशक्त होगा।

आइए… हम मिलकर आज इतिहास रचें। भारत की नारी को… देश की आधी आबादी को उसका हक दें।”

"Parliament is discussing a historic legislation that paves the way for women’s reservation in legislative bodies. The discussions, which began yesterday, lasted till around 1 AM and have continued since the House proceedings began this morning.

The Government has addressed all apprehensions and misconceptions relating to the legislation with facts and logic. All concerns have been addressed and any gaps in information have also been filled.

For nearly four decades, this issue of women’s reservation in legislative bodies has been inordinately delayed. Now is the time to ensure that half of the nation’s population receives its rightful due in decision making. Even after so many decades of Independence, it is not right that women in India have such limited representation in this area.

In a short while from now, voting will take place in the Lok Sabha. I urge and appeal to all political parties to reflect carefully and take a sensitive decision by voting in favour of women’s reservation.

On behalf of our Nari Shakti, I also request all members not to do anything that may hurt the sentiments of women across India. Crores of women are watching us…our intent and our decisions. I once again request that everyone support the amendments to the Nari Shakti Vandan Adhiniyam.”

"I would like to appeal to all Members of Parliament…

Please reflect upon your conscience, remembering the women in your own families.

The legislation to ensure women’s reservation in legislative bodies is a significant opportunity to do justice to women of our nation.

Please do not deprive our Nari Shakti of new opportunities.

If this amendment is passed unanimously, it will further empower the women of our country and strengthen our democracy.

Let us come together today to create history.

Let us ensure that the women of India, who are half of the nation’s population, receive their rightful due.”