سمندر دنیا کی مشترکہ وراثت ہیں اور سمندری راستے بین الاقوامی تجارت کی لائف لائن ہیں: وزیر اعظم مودی
بحری تنازعات کا حل پرامن طریقے سے اور بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر نکالا جانا چاہئے: وزیر اعظم مودی
عالمی برادری کو مل جل کر قدرتی آفات اور غیر متعلقہ گروہوں کے خطرات سے نمٹنا چاہئے: وزیر اعظم

عزت مآب،

سمندری تحفظ پر اس اہم بحث میں جڑنے کےلئے آپ تمام حضرات کا شکریہ۔ میں سیکریٹری جنرل کے مثبت پیغام اور یو این او ڈی سی(U.N.O.D.C)کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کے ذریعے بریفنگ کے لئے بھی ممنونیت کا اظہار کرتا ہوں۔ ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو کے صدر نے افریقی یونین کے صدر کی حیثیت سے اپنا پیغام دیا۔میں خاص طورسے ان کا شکر گزار ہوں۔میں روس کے صدر ، کینیا کے صدر اور ویتنام کے وزیر اعظم کی موجودگی کے لئے بھی دل سے ممنونیت کا اظہار کرتاہوں۔

عزت مآب،

سمندر ہمارا مشترکہ ورثہ ہیں۔ ہمارے سمندری راستے بین الاقوامی تجارت کی لائف لائن ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ سمندر ہمارے سیارے کے مستقبل کے لئے بہت اہم ہیں، لیکن ہماری اس مشترکہ سمندری وراثت کو آج کئی طرح کے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔پائریسی اور انتہا پسندی کے لئے سمندری راستوں کا غلط استعمال ہورہا ہے۔متعدد ممالک کے درمیان سمندری تنازعات ہیں اور موسمیاتی تبدیلی و قدرتی آفات بھی سمندروں کے دائرہ کار سے جڑے موضوعات ہیں۔ اس وسیع پس منظر میں اپنی مشترکہ اجتماعی وراثت کے تحفظ اور استعمال کے لئے ہمیں آپسی سمجھ اور تعاون کا ایک فریم ورک بنانا چاہئے۔ایسا فریم ورک کوئی بھی ملک تنہا نہیں بناسکتا۔ یہ ایک مشترکہ کوشش سے ہی تعبیر آشنا ہوسکتا ہے۔ اسی سوچ کے ساتھ ہم اس اہم موضوع کو سلامتی کونسل کے حضور لے کر آئے ہیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ آج کی اعلیٰ سطحی بحث میں دنیا کو سمندری تحفظ کے ایشو پر رہنمائی حاصل ہوگی۔



عزت مآب،

اس غورو خوض کو بنیاد دینے کےلئے میں آپ کے سامنے پانچ بنیادی اصول رکھنا چاہوں گا۔ پہلا اصول:ہمیں قانونی سمندری کاروبار سے رُکاوٹیں ہٹانی چاہئے۔ ہم سب کی خوشحالی سمندری کاروبار کی سرگرم رفتار پر منحصر ہے۔ اس میں آئی اڑچنیں پوری عالمی معیشت کے لئے چیلنج ہوسکتی ہے۔آزاد سمندری تجارت بھارت کی تہذیب کے ساتھ دور قدیم سے جڑا ہواہے۔ہزاروں سال پہلے سنگھ گھاٹی تہذیب کا لوتھل بندرگاہ سمندری کاروبار سے جڑا ہوا تھا۔دور قدیم کے آزاد سمندری ماحول میں ہی بھگوان بودھ کا امن پیغام دنیا میں پھیل سکا۔ آج کے پس منظر میں بھارت نے اسی کھلے اور تکسیری نظریے کی بنیاد پر ساگر (SAGAR)-خطے میں تحفظ اور  ترقی سب کے لئے، کے وژن کو رکھا گیا ہے۔ اس وژن کے ذریعے ہم اپنے خطے میں سمندری تحفظ کا ایک خصوصہ ڈھانچہ بنانا چاہتے ہیں۔ یہ وژن ایک محفوظ اور مستحکم سمندری دائرہ کار سے مختص ہے۔ آزاد سمندری تجارت کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کے کشتی بانوں کے حقوق کا مکمل طورپر احترام کریں۔

دوسرا اُصول:سمندری تنازعات کا حل پُر امن طریقے سے اور بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر ہی نکالا جانا چاہئے۔باہمی اعتماد کے لئے یہ انتہائی ضروری ہے۔ اس کے ذریعے سے ہم عالمی اَمن اور استحکام کو یقینی بنا سکتے ہیں۔بھارت نے اسی سمجھ اور اہلیت کے ساتھ اپنے پڑوسی ملک بنگلہ دیش کے ساتھ اپنی سمندری سرحد کا حل نکالا ہے۔

تیسرا اُصول: ہمیں قدرتی آفات اور نان اسٹیٹ ایکٹرز (غیر ریاستی عناصر)کے ذریعے پیدا کئے گئے سمندری خطرات کا مل کر سامنا کرنا چاہئے۔ اس موضوع پر علاقائی تعاون بڑھانے کےلئے بھارت نے متعدد اقدامات کئے ہیں۔سائیکلون، سونامی اور آلودگی سے متعلق سمندر آفات میں ہم فرسٹ رسپاؤنڈررہے ہیں۔ پائریسی کو روکنے کےلئے ہندوستانی بحریہ 2008ء سے بحر ہند میں پیٹرولنگ کررہی ہے۔بھارت کا وہائٹ شپنگ انفارمیشن  فیوزن  مرکز ہمارے خطے میں ساجھا سمندری دائرہ کار کے تعلق سے بیداری بڑھا رہا ہے۔ ہم نے کئی ملکوں کو ہائیڈرو گرافک سروے سپورٹ اور سمندری تحفظ میں تربیت دی ہے۔بحر ہند میں بھارت کا کردار ایک نیٹ سیکوریٹی پرووائڈر کی شکل میں رہی ہے۔

چوتھا اُصول: ہمیں سمندری ماحولیات اور سمندری وسائل کو بچا کررکھنا ہوگا ۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ سمندر کا موسم پر سیدھااثر ہوتا ہے اور اسی لئے ہمیں اپنے سمندری ماحولیات کو پلاسٹک اور تیل کے پھیلاؤ جیسی آلودگی سے محفوظ رکھنا ہوگا اور ضرورت سے زیادہ ماہی گیری و میرنگ پوچنگ کے خلاف مشترکہ قدم اٹھانے ہوں گے۔ ساتھ ہی ہمیں بحری سائنس میں تعاون بڑھانا چاہئے۔ بھارت نے ایک اہم سلامتی (ڈیپ اوشین  مشن)لانچ کیا ہے۔ہم نے پائیدار ماہی گیری کی حوصلہ افزائی کےلئے کئی پہلیں کی ہیں۔

پانچواں اُصول: ہمیں ذمہ دار سمندری روابط کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔ یہ تو بالکل  واضح ہے کہ سمندری کاروبار کو بڑھاوا دینے کےلئے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر ضروری ہے، لیکن ایسے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی ترقی میں ممالک کی جسمانی پائیداری اور جذب کرنے کی صلاحیت کو ذہن میں رکھنا ہوگا، جس کے لئے ہمیں مناسب طور پر عالمی اُصول و ضوابط اور معیارات قائم کرنے ہوں گے۔

عزت مآب،

مجھے یقین ہے کہ اِن پانچ اُصولوں کی بنیاد پر سمندری تحفظ کے تناظر میں تعاون کا ایک عالمی روڈ میپ بن سکتا ہے۔ آج کی کھلی بحث کی اعلیٰ اور سرگرم شراکت داری یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ موضوع سلامتی کونسل کے تمام ممبروں کے لئے اہم ہے۔ اس کے ساتھ میں ایک بار پھر آپ کی موجودگی کےلئے آپ سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

شکریہ!

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
First multilingual Indian speech recognition model trained on 65 languages and dialects released

Media Coverage

First multilingual Indian speech recognition model trained on 65 languages and dialects released
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
وزیر اعظم نے تقسیم کے ہولناک واقعات کی یاد کے دن تقسیم سے متاثرہ افراد کی بہادری کو خراج تحسین پیش کیا
August 14, 2026
وزیر اعظم نے محنت اور انسانی جدوجہد کی طاقت کو اجاگر کرتے ہوئے سنسکرت سبھاشتم شیئر کیا 

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج کہا کہ تقسیم ہند کی ہولناکیوں کی یاد کے دن کے موقع پر ہم ان تمام لوگوں کی ہمت اور حوصلے کو یاد کرتے ہیں جو تقسیم سے متاثر ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاریخ کا وہ المناک باب تھا جس نے بے شمار زندگیاں اجاڑ دیں، خاندانوں کو اپنے گھر بار سے محروم ہونا پڑا، متعددلوگوں کو اپنوں کو کھونا پڑا اور لوگوں کو بے پناہ مصائب برداشت کرنے پڑے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس کے باوجود لوگوں نے تمام تر مشکلات پر قابو پاتے ہوئے ازسرنو اپنی زندگیاں سنواریں، نامساعد حالات کو کامیابی میں بدلا اور ملک کی ترقی میں گراں قدر تعاون دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کی زندگی کےمشکلوں بھرا سفر ہمیں انسانی عزم و حوصلے کی قوت کا احساس دلاتے ہیں۔ جناب مودی نے امید ظاہر کی کہ یہ دن ہمارے ملک میں ہم آہنگی اور بھائی چارے کے تحفظ کے عزم کو مزید مضبوط کرے گا اور ہمیں ایک ساتھ مل کر ایک وکست بھارت کی تعمیر کی سمت کام کرنے کی ترغیب دے گا۔

وزیر اعظم نے ان تمام ہم وطنوں کو دلی خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے اس ہولناک دور سے نکل کر ملک کی ترقی میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنی ہمت اور صلاحیت کے ذریعے ان لوگوں نے ثابت کیا کہ نامساعد حالات میں بھی عزم و ارادوں کو حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔ جناب نریندر مودی نے سبھی لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ملک میں خیرسگالی اور باہمی یکجہتی کے جذبے کو مزید مضبوط کریں۔

وزیر اعظم نے ایک سنسکرت سبھاشتم شیئر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ محنت، جدوجہد اور لگن کے ذریعے مختلف فنون، علوم، سائنسی و تکنیکی مہارتیں، ہنرمندی اور اختراعات فروغ پاتی ہیں اور کامیابی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس لیے انسان کو قسمت کے سہارے بیٹھے نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ہمت، محنت اور مسلسل کوشش کے ساتھ اپنے مقاصد کی جانب ثابت قدمی سے آگے بڑھنا چاہیے، کیونکہ انسانی جدوجہد ہی تقدیر کی تشکیل کرتی ہے۔

وزیر اعظم نے ایکس پر سلسلہ وار پوسٹس میں لکھا:

آج ہم تقسیم ہند# کی ہولناکیوں کی یادکادن منا رہے ہیں۔ ہم ان تمام لوگوں کی ہمت و حوصلے کو یاد کرتے ہیں جو تقسیم سے متاثر ہوئے تھے۔ یہ تاریخ کا ایک ایسا لمحہ تھا جس نے بے شمار زندگیاں تہس نہس کر دیں… خاندان اجڑ گئے، اپنوں سے بچھڑنا پڑا اور لوگوں کو بے پناہ مصائب اور مشکلات برداشت کرنا پڑے۔

اس کے باوجود لوگوں نے ان حالات پر قابو پاتے ہوئے صفرسطح سے اپنی زندگیاں دوبارہ سنواریں، مشکلات کو کامیابی میں بدلا اور ملک کی ترقی میں بے حد اہم کردار ادا کیا۔ ان کی زندگی کے سفر ہمیں انسانی عزم و حوصلے کی قوت کا احساس دلاتے ہیں۔’’یہ دن ہمارے ملک میں باہمی ہم آہنگی اور بھائی چارے کے تحفظ کے عزم کو مزید مضبوط کرے اور ہم سب کو مل کر ایک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے کام کرنے کی ترغیب دے۔‘‘

’تقسیم ہند کی ہولناکیوں کی یاد کے دن کے موقع پر ان تمام ہم وطنوں کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں، جنہوں نے اس ہولناک دور سے نکل کر ملک کی ترقی میں گراں قدر کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنی ہمت اور صلاحیت سے یہ ثابت کیا کہ نامساعد حالات میں بھی اپنے عزم و ارادوں کو کس طرح پایۂ تکمیل تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ آئیے، خیرسگالی اور قومی یکجہتی کے جذبے کو مزید مضبوط کریں۔‘

उद्यमस्य प्रसादेन दृश्यन्ते विविधाः कलाः।

कातरा एव जल्पन्ति यद् भाव्यं तद् भविष्यति॥”

محنت، جدوجہد اور لگن کے ذریعے ہی مختلف فنون، علوم، سائنسی و تکنیکی مہارتیں، ہنرمندی اور اختراعات فروغ پاتی ہیں اور کامیابی کی راہ ہموار کرتی ہیں۔ اس لیے انسان کو قسمت کے سہارے بیٹھے نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ہمت، محنت اور مسلسل کوشش کے ساتھ اپنے مقاصد کی جانب ثابت قدمی سے آگے بڑھنا چاہیے، کیونکہ انسان کی جدوجہد ہی تقدیر کو تشکیل دیتی ہے۔