وزیر اعظم تقریباً 16,000 کروڑ روپے کے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے اور اُنہیں وقف بھی کریں گے
وزیر اعظم بنگلورو-میسور ایکسپریس وے کو قوم کے نام وقف کریں گے۔ اس منصوبے سے سفر کا وقت 3 گھنٹے سے کم ہو کر 75 منٹ رہ جائے گا
وزیر اعظم میسور۔خوشال نگر 4 لین ہائی وے کا سنگ بنیاد رکھیں گے
وزیر اعظم آئی آئی ٹی دھارواڑ کو وقف کریں گے۔ اس منصوبے کا سنگ بنیاد بھی وزیر اعظم نے فروری 2019 میں رکھا تھا
وزیر اعظم سری سدھارودھا سوامی جی ہبلی اسٹیشن پر دنیا کے سب سے طویل ریلوے پلیٹ فارم کو وقف کریں گے
وزیر اعظم از سر نو تعمیر شدہ ہوساپیٹ اسٹیشن کو وقف کریں گے جسے ہمپی کی یادگاروں سے مشابہت کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے
وزیر اعظم دھارواڑ ملٹی ولیج واٹر سپلائی اسکیم کا سنگ بنیاد رکھیں گے
وزیر اعظم ہبلی۔ دھارواڑ اسمارٹ سٹی کے مختلف پروجیکٹوں کا افتتاح کریں گے اور سنگ بنیاد بھی رکھیں گے

وزیر اعظم جناب نریندر مودی 12 مارچ کو کرناٹک کا دورہ کریں گے جہاں وہ تقریباً 16,000 کروڑ  روپے کے پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔  تقریباً 12 بجے دوپہر، وزیر اعظم مانڈیا میں اہم سڑکوں کے پروجیکٹوں کوقوم کے نام وقف  کریں گے اور ان کا   سنگ بنیاد رکھیں گے۔ اس کے بعد، تقریباً 3:15 بجے، وہ ہبلی-دھارواڑ میں مختلف ترقیاتی پروگراموں کا افتتاح کریں گے اور سنگ بنیاد رکھیں گے۔

مانڈیا میں پی ایم

بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی ترقی کی تیز رفتار، ملک بھر میں عالمی معیار کے رابطوں کو یقینی بنانے کے وزیر اعظم کے وژن کا ثبوت ہے۔ اس  سمت میں  پیشرفت کرتے ہوئے، وزیر اعظم بنگلورو-میسور ایکسپریس وے کو قوم کے نام وقف کریں گے۔ اس پروجیکٹ میں این ایچ۔275  کے بنگلورو-نداگھٹا-میسور سیکشن کو 6 لین والا بنانا شامل ہے۔ 118 کلومیٹر طویل یہ پروجیکٹ تقریباً 8480 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کیا گیا ہے۔ اس سے بنگلورو اور میسور کے درمیان سفر کا وقت تقریباً 3 گھنٹے سے کم ہو کر 75 منٹ رہ جائے گا۔ یہ خطے میں سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے ایک  محرک کے طور پر کام کرے گا۔

وزیر اعظم میسور-خوشال نگر 4 لین ہائی وے کا بھی سنگ بنیاد رکھیں گے۔ 92 کلومیٹر کا احاطہ کرنے والے اس پروجیکٹ پر تقریباً 4130 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔ یہ پروجیکٹ بنگلورو کے ساتھ کشال نگر کے رابطے کو بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا اور سفر کے وقت کو تقریباً 5 گھنٹے سے کم کرکے صرف ڈھائی گھنٹے تک کرنے میں مدد کرے گا۔

ہبلی-دھارواڑ میں پی ایم

وزیر اعظم آئی آئی ٹی دھارواڑ کو قوم کے نام وقف کریں گے۔ انسٹی ٹیوٹ کا سنگ بنیاد بھی وزیر اعظم نے فروری 2019 میں رکھا تھا۔ 850 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ہونے والا یہ انسٹی ٹیوٹ فی الحال 4 سالہ بی ٹیک پروگرام، بین شعبہ جاتی 5 سالہ بی ایس -ایم ایس پروگرام، ایم ٹیک اور پی ایچ ڈی پروگرام کی پیش کش کرتا ہے۔

وزیر اعظم سری سدھارودھا سوامی جی ہبلی اسٹیشن پر دنیا کے سب سے طویل ریلوے پلیٹ فارم کو قوم کے نام وقف کریں گے۔ اس ریکارڈ کو حال ہی میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے تسلیم کیا ہے۔ 1507 میٹر لمبا پلیٹ فارم تقریباً 20 کروڑ روپے کی لاگت سے بنایا گیا ہے۔

وزیر اعظم ہوساپیٹ – ہبلی – تینائی گھاٹ سیکشن کی برقی کاری اور ہوساپیٹ اسٹیشن کی اپ گریڈیشن کو خطے میں کنیکٹیوٹی کو بڑھانے کے لیے وقف کریں گے۔ 530 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے تیار کیا گیا، برقی کاری پروجیکٹ برق کاری سے آراستہ لائن  پر بغیر کسی رکاوٹ کے ٹرینوں کی آمد و رفت کو قائم کرتا ہے۔ از سر نو  تعمیر شدہ ہوساپیٹ اسٹیشن مسافروں کو آسان اور جدید سہولیات فراہم کرے گا۔ اسے ہمپی کی یادگاروں سے مشابہت کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم ہبلی - دھارواڑ اسمارٹ سٹی کے مختلف پروجیکٹوں کا افتتاح کریں گے اور سنگ بنیاد رکھیں گے۔ ان پراجیکٹس کی کل تخمینی  لاگت تقریباً  520 کروڑ روپے ہے۔  ان اقدامات کے ذریعہ یہ کوششیں صحت مند، محفوظ اور سرگرمیوں والی  عوامی جگہیں بنا کر معیار زندگی کو بہتر بنائیں گی اور شہر کو مستقبل کے شہری مرکز میں تبدیل کر دیں گی۔

وزیر اعظم جے دیوا ہسپتال اور ریسرچ سنٹر کا سنگ بنیاد بھی  رکھیں گے۔ ہسپتال تقریباً 250 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کیا جائے گا۔ اور خطے کے لوگوں کو  دل کے امراض  کی  تیسرے زمرے کی  نگہداشت فراہم کرے گا۔ خطے میں پانی کی سپلائی کو مزید بڑھانے کے لیے، وزیر اعظم دھارواڑ ملٹی ولیج واٹر سپلائی اسکیم کا سنگ بنیاد رکھیں گے، جو 1040 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے تیار کی جائے گی۔ وہ توپری ہلہ میں   سیلابوں سے ہونے والے نقصانات  کی بھرپائی  کے لئے  پروجیکٹ کا بھی سنگ بنیاد رکھیں گے، جو تقریباً  150 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کیا جائے گا۔ اس منصوبے کا مقصد سیلاب سے ہونے والے نقصانات  کو کم سے کم کرنا ہے اور اس منصوبے  میں حفاظتی دیواروں اور پشتوں کی تعمیر شامل ہے۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s AI moment: Sarvam turns unicorn at $1.5 billion valuation

Media Coverage

India’s AI moment: Sarvam turns unicorn at $1.5 billion valuation
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Today, the world does not suffer from a shortage of resources; it suffers from a shortage of trust: PM Modi at G7 Summit in Evian, France
June 16, 2026

राष्ट्रपति मैक्रों,
Your Excellencies,

नमस्कार!

G-7 समिट में हमारे गर्मजोशी भरे स्वागत के लिए मैं राष्ट्रपति मैक्रों का हार्दिक आभार व्यक्त करता हूँ।

Friends,

आज का विश्व पहले से कहीं अधिक inter-connected और inter-dependent है। किसी भी देश की ऊर्जा सुरक्षा, खाद्य सुरक्षा, स्वास्थ्य सुरक्षा, साइबर सुरक्षा और आर्थिक समृद्धि केवल उसकी सीमाओं के भीतर तय नहीं होती। Mobility, data, capital, technology, ये सभी हमें आपस में जोड़ते हैं।

ऐसे समय में Partnerships का महत्व स्वाभाविक रूप से बढ़ जाता है। लेकिन साझेदारियाँ तभी सफल होती हैं जब उनके केंद्र में विश्वास हो। आज सबसे महत्वपूर्ण Strategic Asset कोई mineral, technology या market नहीं, बल्कि आपसी विश्वास है।

विश्वास कि टेक्नॉलजी और supply chains को हथियार के रूप में नहीं, global good के लिए इस्तेमाल किया जाएगा। विश्वास कि विकास के अवसर कुछ देशों तक सीमित नहीं रहेंगे। विश्वास कि वैश्विक संस्थान सभी देशों की आकांक्षाओं को पूरा करने में सक्षम होंगे।

Friends,

पिछली सदी में मानवता को दो विश्व युद्धों से गुज़रना पड़ा। अनेक बलिदानों के बाद विश्व समुदाय ने शांति, स्थिरता और समृद्धि की ओर बढ़ने के लिए व्यवस्थाएं विकसित की। इन व्यवस्थाओं का आधार भी trust ही था।

किन्तु अनेक दशकों से, अनेक पीढ़ियों के योगदान से बनाए गए विश्वास को आज चोट पहुँच रही है। कोविड ने हमें आईना दिखाया कि trust और solidarity के दावे कितने खोखले थे।

Today the world does not suffer from a shortage of resources; it suffers from a shortage of trust. And the future of our partnerships depends on building this trust.

अमेरिका के राष्ट्रपति रोनल्ड रेगन ने कहा था: Trust but Verify. यह आज के समय में भी प्रासंगिक है। भावी पीढ़ियों के प्रति हमारा दायित्व है कि हम नए युग के अनुरूप trusted rules based order का निर्माण करें।

Friends,

भारत ने सदैव विश्व को एक परिवार के रूप में देखा है। हमारे सभी प्रयास “सर्वजन हिताय, सर्वजन सुखाय” यानि, welfare and happiness for all के मूल सिद्धांत पर आधारित रहे हैं।

भारत का अनुभव दिखाता है कि विकास सबसे अधिक प्रभावी तब होता है जब वह लोगों की आकांक्षाओं से जुड़ा हो। यही सिद्धांत हमारी अंतरराष्ट्रीय साझेदारियों का भी आधार है। इसी सोच के साथ भारत ने International Solar Alliance, Coalition for Disaster Resilient Infrastructure, ग्लोबल बायोफ्यूल्स एलायंस, Mission LiFE, और “एक पेड़ माँ के नाम” जैसी वैश्विक पहलों को आगे बढ़ाया है।

संकट के समय भारत ने First Responder के रूप में सभी देशों की सहायता करना अपना दायित्व समझा है। कोविड महामारी के दौरान भारत ने डेढ़ सौ से अधिक देशों को दवाइयाँ और vaccines उपलब्ध कराईं।

श्रीलंका में cyclone हो, अफगानिस्तान में भूकंप हो, मोज़ाम्बिक में floods हों, या क्यूबा और जमैका में hurricane, भारत ने सदैव "Humanity First" के सिद्धांत पर कार्य किया है। हमारी विकास साझेदारियाँ भी इसी भावना को प्रतिबिंबित करती हैं। हमारे प्रयास पार्टनर देशों में capacity building और कौशल विकास पर केन्द्रित रहे हैं।

भारत का मानना है: The true test of partnership is not what we build for others, but what we enable others to build for themselves.

Friends,

आज ग्लोबल साउथ की विश्व समुदाय से बहुत उम्मीदें हैं। किन्तु उनकी अपेक्षा सहारे की नहीं, साथ की है। वे वैश्विक विकास के लाभार्थी नहीं, उसके भागीदार बनना चाहते हैं।

हमें donor–recipient की सोच से आगे बढ़कर, equal पार्टनर्स के रूप में काम करना होगा। उनके पास-पास नहीं, साथ-साथ चलना होगा। साझेदारी को dependency के बजाय, dignity से जोड़ना होगा। इन प्रयासों से हम भावी पीढ़ियों के सतत विकास की मजबूत नींव रख सकेंगे।

Friends,

अंतरराष्ट्रीय साझेदारियाँ और वैश्विक एकजुटता तभी सार्थक बन सकती हैं, जब हम साझा चुनौतियों का मिलकर समाधान करें। भारत का दृढ विश्वास है कि विश्व के विभिन्न हिस्सों में चल रहे तनावों और युद्धों का स्थायी समाधान dialogue, diplomacy और अंतरराष्ट्रीय सहयोग के मार्ग से ही संभव है।

हम west asia में शांति प्रयासों में हुई प्रगति का स्वागत करते हैं। इस संघर्ष से west asia में हमारे मित्र देशों को जान-माल का नुकसान झेलना पड़ा है। होर्मुज़ स्ट्रेट में maritime ट्रेड में आई बाधा के कारण पूरे विश्व की अर्थव्यवस्था को नुकसान पहुंचा। भारत के कई civilians को जान गंवानी पड़ी। Global maritime ट्रेड के माध्यम से सभी देशों को आपस में जोड़ने वाले नाविकों की सुरक्षा हमारा दायित्व है। हमें यह सुनिश्चित करना होगा कि समुद्री मार्ग सुरक्षित रहें, और Seafarers बिना भय के अपना कार्य कर सकें।

Friends,

भारत इन विषयों पर सभी पार्टनर्स के साथ मिलकर काम करने के लिए पूरी तरह से तैयार है।

बहुत-बहुत धन्यवाद।