وزیر اعظم 20-19 اکتوبر کو گجرات کا دورہ کریں گے

Published By : Admin | October 18, 2022 | 11:25 IST
وزیر اعظم گجرات میں تقریباً 15,670 کروڑ روپے کی لاگت کے پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے
ہندوستان کی دفاعی مینوفیکچرنگ کی صلاحیت کو ظاہر کرنے کی سمت ایک اہم قدم کے طور پر، وزیر اعظم دفاعی ایکسپو-2022 کا افتتاح کریں گے
پہلی بار، ایکسپو ایک دفاعی نمائش کا مشاہدہ کرے گا ، جو خصوصی طور پر ہندوستانی کمپنیوں کے لیے منعقد کی جائے گئی
وزیر اعظم دفاعی اسپیس اقدام کا آغاز کریں گے، ڈیسا ایئر فیلڈ کا سنگ بنیاد رکھیں گے اور دیسی ٹرینر ہوائی جہاز ایچ ٹی ٹی- 40 کی نقاب کشائی کریں گے
وزیراعظم کے ذریعہ کیواڈیا میں مشن لائف کا آغاز کیا جائے گا
وزیر اعظم کیواڈیا میں 10 ویں ہیڈ آف مشنز کانفرنس میں بھی شرکت کریں گے
وزیر اعظم راجکوٹ میں انڈیا اربن ہاؤسنگ کنکلیو- 2022 کا افتتاح کریں گے اور تقریباً 5860 کروڑ روپے کے منصوبوں کا سنگ بنیاد بھی رکھیں گے اور قوم کے نام وقف کریں گے
وزیر اعظم گجرات میں تقریباً 4260 کروڑ روپے کی لاگت سے مشن اسکول آف ایکسی لینس کا آغاز کریں گے
وزیر اعظم جوناگڑھ میں تقریباً 3580 کروڑ روپے اور ویارا میں 1970 کروڑ روپے کے ترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے

وزیر اعظم جناب نریندر مودی 19-20  اکتوبر کو گجرات کا دورہ کریں گے اور تقریباً 15,670 کروڑ روپے کے پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے اور قوم کے نام وقف کریں گے۔

19 اکتوبر کو صبح تقریباً 9:45 بجے، وزیر اعظم مہاتما مندر کنونشن اینڈ ایگزی بیشن سنٹر، گاندھی نگر میں  دفاعی ایکسپو 22 کا افتتاح کریں گے۔ دوپہر 12 بجے کے قریب وزیر اعظم اَدلج میں مشن اسکولس آف ایکسی لینس کا آغاز کریں گے۔ تقریباً 3:15 بجے وہ جوناگڑھ میں مختلف ترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ اس کے بعد، شام 6 بجے کے قریب، وہ انڈیا اربن ہاؤسنگ کنکلیو 2022 کا افتتاح کریں گے اور راجکوٹ میں متعدد اہم پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے اور قوم کے نام وقف کریں گے۔ وہ راجکوٹ میں تقریباً شام 7:20 بجے جدید تعمیراتی طریقوں کی نمائش کا بھی افتتاح کریں گے۔

20 اکتوبر کو، صبح تقریباً 9:45 بجے، کیواڑیا میں وزیر اعظم کے ذریعہ مشن لائف کا  آغاز کیا جائے گا۔ دوپہر تقریباً 12 بجے، وزیر اعظم کیواڈیا میں 10 ویں ہیڈز آف مشنز کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ اس کے بعد، تقریباً 3:45 بجے، وہ ویارا میں مختلف ترقیاتی اقدامات کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔

وزیراعظم گاندھی نگر میں

وزیراعظم دفاعی ایکسپو- 2022 کا افتتاح کریں گے۔ 'فخر کا راستہ' کے عنوان کے تحت منعقد ہونے والی اس ایکسپو میں اب تک منعقد ہونے والی انڈین ڈیفنس ایکسپو میں سب سے بڑی شرکت دیکھنے کو ملے گی۔ پہلی بار، یہ ایک دفاعی نمائش کا مشاہدہ کرے گا، جو خصوصی طور پر ہندوستانی کمپنیوں کے لیے منعقد ہوگا، جس میں غیر ملکی او ای امیز کی ہندوستانی ذیلی کمپنیاں، ہندوستان میں رجسٹرڈ کمپنی کا ڈویژن، ہندوستانی کمپنی کے ساتھ جوائنٹ وینچر رکھنے والے نمائش کنندہ شامل ہیں۔ یہ تقریب ہندوستانی دفاعی مینوفیکچرنگ کی صلاحیت کے وسیع دائرہ کار اور پیمانے کو ظاہر کرے گی۔ ایکسپو میں ایک انڈیا پویلین اور 10 ریاستی پویلین ہوں گے۔ انڈیا پویلین میں، وزیر اعظم ایچ ٹی ٹی- 40 کی نقاب کشائی کریں گے جوکہ ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) کے ذریعہ ڈیزائن کردہ دیسی ٹرینر ہوائی جہاز ہے۔ طیارے میں جدید ترین عصری نظام موجود ہے اور اسے پائلٹ دوستانہ خصوصیات کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا ہے۔

پروگرام کے دوران،  صنعت اور اسٹارٹ اپس کے ذریعے خلائی ڈومین میں دفاعی افواج کے لیے اختراعی حل تیار کرنے کے لیے وزیر اعظم مشن  دفاعی اسپیس کا آغاز کریں گے۔ وزیر اعظم گجرات میں ڈیسا ایئر فیلڈ کا سنگ بنیاد بھی رکھیں گے۔ فارورڈ ایئرفورس بیس ملک کے سکیورٹی  آرکیٹیکچر میں اضافہ کرے گا۔

یہ ایکسپو دوسرے ہندوستان-افریقہ دفاعی مکالمے کا بھی مشاہدہ کرے گا، جس کا موضوع 'ہندوستان-افریقہ: دفاع اور سیکورٹی تعاون کو ہم آہنگ کرنے کے لئے حکمت عملی اپنانا' ہے۔ ایکسپو کے دوران دوسرا بحر ہند علاقہ پلس (آئی او آر پلس) کنکلیو بھی منعقد کیا جائے گا، جو وزیر اعظم کے علاقے میں ہر ایک کے لئے سلامتی اور ترقی (ساگر)ویژن کے مطابق امن، ترقی، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے آئی او آر پلس ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک جامع مکالمے کا ایک اسٹیج فراہم کرے گا۔  ایکسپو کے دوران دفاع کے لیے سرمایہ کاروں کا پہلا اجلاس بھی منعقد کیا جائے گا۔ اس میں 100  سے زیادہ اسٹارٹ اپس کو منتھن 2022 ، آئی ڈیکس (انوویشن فار ڈیفنس ایکسی لینس) کے دفاعی اختراعاتی پروگرام  میں اپنی اختراعات کو ظاہر کرنے کا موقع ملے گا۔اس ایونٹ میں 'بندھن' کے ذریعے 451 پارٹنرشپس / لانچوں کا قیام بھی دیکھا جائے گا۔

وزیر اعظم ادلج کے تری مندر میں مشن اسکول آف ایکسی لینس کا بھی آغاز کریں گے۔ اس مشن کا تصور 10,000 کروڑ کے کل خرچ کے ساتھ کیا گیا ہے۔ تری مندر میں تقریب کے دوران وزیر اعظم تقریباً 4260 کروڑ روپے کے پروجیکٹوں کا آغاز کریں گے۔ یہ مشن ریاست میں نئے کلاس روم، اسمارٹ کلاس روم، کمپیوٹر لیب اور اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کی مجموعی اپ گریڈیشن کے ذریعے گجرات میں تعلیمی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں مدد کرے گا۔

وزیراعظم جوناگڑھ میں

وزیر اعظم تقریباً 3580 کروڑ روپے کے مختلف ترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔

وزیراعظم مسنگ لنکس کی تعمیر کے ساتھ کوسٹل ہائی ویز کی بہتری کے لئے سنگ بنیاد رکھیں گے۔ اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں 13 اضلاع میں 270 کلومیٹر سے زیادہ کی شاہراہ کی لمبائی کا احاطہ کیا جائے گا۔

وزیر اعظم جوناگڑھ میں دو واٹر سپلائی پروجیکٹوں اور زرعی مصنوعات کو ذخیرہ کرنے کے لیے ایک گودام کمپلیکس کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ پوربندر میں، وزیر اعظم مادھو پور کے شری کرشن رخشمنی مندرکی ہمہ گیر ترقی کے لیے سنگ بنیاد رکھیں گے اور پوربندر فشری ہاربر میں ڈریجنگ کی دیکھ بھال کے لیے بھی وہ سیوریج اور واٹر سپلائی کے منصوبوں کا سنگ بنیاد بھی رکھیں گے ۔ گیر سومناتھ میں وہ دو پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے، جن میں مدھواڑ میں ایک ماہی گیری کی بندرگاہ کی ترقی بھی شامل ہے۔

وزیراعظم راجکوٹ میں

وزیر اعظم راجکوٹ میں تقریباً 5860 کروڑ روپے کی لاگت کے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے اور قوم کے نام وقف کریں گے۔  وہ انڈیا اربن ہاؤسنگ کنکلیو 2022 کا بھی افتتاح کریں گے، جس میں ہندوستان میں مکانات سے متعلق مختلف پہلوؤں بشمول منصوبہ بندی، ڈیزائن، پالیسی، قواعد و ضوابط، عمل درآمد، زیادہ پائیداری اور شمولیت کو فروغ دینے پر غور و خوض کیا جائے گا۔ عوامی تقریب کے بعد وزیراعظم اختراعی تعمیراتی طریقوں سے متعلق ایک نمائش کا بھی افتتاح کریں گے۔

عوامی تقریب کے دوران وزیراعظم لائٹ ہاؤس پروجیکٹ کے تحت بنائے گئے 1100 سے زائد مکانات کو وقف کریں گے۔ ان مکانات کی چابیاں بھی مستفدین کے حوالے کی جائیں گی۔ وہ پانی کی فراہمی کے ایک پروجیکٹ: برہمنی-2 ڈیم سے نرمدا کینال پمپنگ اسٹیشن تک موربی-بلک پائپ لائن پروجیکٹ کو وقف کریں گے ۔ ان کے ذریعہ وقف کیے جانے والے دیگر پروجیکٹوں میں علاقائی سائنس سینٹر، فلائی اوور پل اور سڑک کے شعبے سے متعلق دیگر منصوبے شامل ہیں۔

وزیر اعظم گجرات میں این ایچ 27 کے راجکوٹ-گونڈل-جیٹ پور سیکشن کے موجودہ چار لین کی چھ لین کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ وہ موربی، راجکوٹ، بوٹاڈ، جام نگر اور کَچھ کے مختلف مقامات پر تقریباً 2950 کروڑ روپے کی جی آئی ڈی سی انڈسٹریل اسٹیٹس کا سنگ بنیاد بھی رکھیں گے۔ دیگر پروجیکٹ، جن کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا، ان میں گڑھکا میں اے ایم یو ایل سے فیڈ ڈیری پلانٹ، راجکوٹ میں انڈور اسپورٹس کمپلیکس کی تعمیر، پانی کی فراہمی کے دو پروجیکٹ اور سڑکوں اور ریلوے سیکٹر کے دیگر پروجیکٹ شامل ہیں۔

وزیراعظم کیواڈیا میں

وزیراعظم اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل عزت مآب جناب انتونیو گٹیرس سے دوطرفہ ملاقات کریں گے۔  اس کے بعد، اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی موجودگی میں وزیر اعظم اسٹیچو آف یونٹی، ایکتا نگر، کیواڈیا میں مشن لائف کا آغاز کریں گے۔ وزیر اعظم کے ویژن کے مطابق اس کے ہندوستان کی قیادت میں ایک عالمی عوامی تحریک ہونے کی توقع ہے،  جو ماحول کے تحفظ اور حفاظت کے لیے انفرادی اور اجتماعی اقدام پر زور دے گی۔

مشن لائف کا مقصد، پائیداری کی طرف ہمارے اجتماعی نقطہ نظر کو تبدیل کرنے کے لیے تین جہتی حکمت عملی پر عمل کرنا ہے۔ سب سے پہلے افراد کو ،ان کی روزمرہ کی زندگی (مانگ) میں آسان لیکن مؤثر ماحول دوست اعمال پر عمل کرنے کے لیے زور دینا ؛ دوسرا صنعتوں اور منڈیوں کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ بدلتی ہوئی طلب (رسد) کا تیزی سے جواب دے سکیں اور؛ تیسرا یہ ہے کہ حکومت اور صنعتی پالیسی پر اثر انداز ہو، تاکہ پائیدار کھپت اور پیداوار (پالیسی) دونوں کی حمایت کی جا سکے۔

وزیر اعظم 10 ویں ہیڈ آف مشنز کانفرنس میں بھی شرکت کریں گے، جس کا انعقاد 20 سے 22 اکتوبر 2022 کو کیواڈیا میں وزارت خارجہ کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ اس کانفرنس میں دنیا بھر سے ہندوستانی مشنوں کے 118 سربراہان (سفراء  اور ہائی کمشنرز) جمع  ہوں گے۔ تین دنوں پر محیط اپنے 23 سیشنوں کے ذریعے، کانفرنس عصری جیو پولیٹیکل اور جیو اکنامک ماحول، رابطے، ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات وغیرہ جیسے مسائل پر تفصیلی اندرونی بات چیت کے موقع فراہم کرے گی۔مشنوں کے سربراہان فی الحال اپنی  متعلقہ ریاستوں کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ ہندوستان کے فلیگ شپ مشنوں جیسے کہ خواہش مند اضلاع، ایک ضلع ایک پروڈکٹ، امرت سروور مشن، اور دیگر باتوں سے اپنے آپ کو مانوس کرسکیں۔

وزیراعظم ویارا میں

وزیر اعظم  تاپی کے ویارا میں 1970 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے متعدد ترقیاتی پہل قدمیوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ وہ لاپتہ لنکس کی تعمیر کے ساتھ سپوترا سے مجسمہ اتحاد تک سڑک کی بہتری کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ جن دیگر پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا ،ان میں تاپی اور نرمدا اضلاع میں 300 کروڑ روپے سے زیادہ کے پانی کی فراہمی کے منصوبے شامل ہیں۔

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
GST collection rises 12.5% YoY to ₹1.68 lakh crore in February, gross FY24 sum at ₹18.4 lakh crore

Media Coverage

GST collection rises 12.5% YoY to ₹1.68 lakh crore in February, gross FY24 sum at ₹18.4 lakh crore
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
If Bihar becomes Viksit, India will also become Viksit: PM Modi
March 02, 2024
Dedicates to nation and lays foundation stone for multiple oil and gas projects worth about Rs 1.48 lakh crore
Dedicates to nation and lays foundation stone for several development projects in Bihar worth more than Rs 13,400 crores
Inaugurates Hindustan Urvarak & Rasayan Ltd (HURL) fertilizer plant in Barauni
Inaugurates and lays foundation stone for several railway projects worth about Rs 3917 crores
Dedicates to nation ‘Bharat Pashudhan’ - a digital database for livestock animals in the country
Launches ‘1962 Farmers App’
“Bihar is full of enthusiasm and confidence due to power of double engine government”
“If Bihar becomes Viksit, India will also become Viksit”
“History is proof that India has remained empowered when Bihar and Eastern India have been prosperous”
“True social justice is achieved by ‘santushtikaran’, not ‘tushtikaran’. True social justice is achieved by saturation”
“Bihar is bound to be Viksit with the double efforts of the double-engine government”

बिहार के राज्यपाल श्रीमान राजेंद्र अर्लेकर जी, मुख्यमंत्री श्रीमान नीतीश कुमार जी, मंत्रिमंडल के मेरे सहयोगी गिरिराज सिंह जी, हरदीप सिंह पुरी जी, उपमुख्यमंत्री विजय सिन्हा जी, सम्राट चौधरी जी, मंच पर विराजमान अन्य सभी महानुभाव और बेगुसराय से पधारे हुए उत्साही मेरे प्यारे भाइयों और बहनों।

जयमंगला गढ़ मंदिर और नौलखा मंदिर में विराजमान देवी-देवताओं को मैं प्रणाम करता हूं। मैं आज विकसित भारत के लिए विकसित बिहार के निर्माण के संकल्प के साथ बेगुसराय आया हूं। ये मेरा सौभाग्य है कि इतनी विशाल संख्या में आप जनता-जनार्दन, आपके दर्शन करने का मुझे सौभाग्य मिला है।

साथियों,

बेगूसराय की ये धरती प्रतिभावान युवाओं की धरती है। इस धरती ने हमेशा देश के किसान और देश के मज़दूर, दोनों को मजबूत किया है। आज इस धरती का पुराना गौरव फिर लौट रहा है। आज यहां से बिहार सहित, पूरे देश के लिए 1 लाख 60 हज़ार करोड़ रुपए उससे भी अधिक के प्रोजेक्ट्स का शिलान्यास और लोकार्पण हुआ है, डेढ़ लाख करोड़ से भी ज्यादा। पहले ऐसे कार्यक्रम दिल्ली के विज्ञान भवन में होते थे, लेकिन आज मोदी दिल्ली को बेगुसराय ले आया है। और इन योजनाओं में करीब-करीब 30 हज़ार करोड़ रुपए के प्रोजेक्ट्स सिर्फ और सिर्फ ये मेरे बिहार के हैं। एक ही कार्यक्रम में सरकार का इतना बड़ा निवेश ये दिखाता है कि भारत का सामर्थ्य कितना बढ़ रहा है। इससे बिहार के नौजवानों को यहीं पर नौकरी के, रोजगार के अनेकों नए अवसर बनेंगे। आज के ये प्रोजेक्ट, भारत को दुनिया की तीसरी बड़ी आर्थिक महाशक्ति बनाने का माध्यम बनेंगे। आप रूकिए भैया बहुत हो गया आपका प्यार मुझे मंजूर है, आप रूकिए, आप बैठिए, आप चेयर पर से नीचे आ जाइए, प्लीज, मेरी आपसे प्रार्थना है, आप बैठिए...हां। आप बैठ जाइए, वो कुर्सी पर बैठ जाइए आराम से, थक जाएंगे। आज की ये परियोजनाएं, बिहार में सुविधा और समृद्धि का रास्ता बनाएंगी। आज बिहार को नई ट्रेन सेवाएं मिली हैं। ऐसे ही काम है, जिसके कारण आज देश पूरे विश्वास से कह रहा है, बच्चा-बच्चा कह रहा है, गांव भी कह रहा है, शहर भी कह रहा है- अबकी बार...400 पार!, अबकी बार...400 पार!, अबकी बार...400 पार! NDA सरकार...400 पार!

साथियों,

2014 में जब आपने NDA को सेवा का अवसर दिया, तब मैं कहता था कि पूर्वी भारत का तेज़ विकास ये हमारी प्राथमिकता है। इतिहास गवाह रहा है, जब-जब बिहार और ये पूर्वी भारत, समृद्ध रहा है, तब-तब भारत भी सशक्त रहा है। जब बिहार में स्थितियां खराब हुईं, तो देश पर भी इसका बहुत बुरा असर बड़ा। इसलिए मैं बेगुसराय से पूरे बिहार की जनता को कहता हूं- बिहार विकसित होगा, तो देश भी विकसित होगा। बिहार के मेरे भाई-बहन, आप मुझे बहुत अच्छी तरह जानते हैं, और जब आपके बीच आया हूं तो मैं दोहराना चाहता हूं- ये वादा नहीं है- ये संकल्प है, ये मिशन है। आज जो ये प्रोजेक्ट बिहार को मिले हैं, देश को मिले हैं, वो इसी दिशा में बहुत बड़ा कदम हैं। इनमें से अधिकतर पेट्रोलियम से जुड़े हैं, फर्टिलाइज़र से जुड़े हैं, रेलवे से जुड़े हैं। ऊर्जा, उर्वरक और कनेक्टिविटी, यही तो विकास का आधार हैं। खेती हो या फिर उद्योग, सब कुछ इन्हीं पर निर्भर करता है। और जब इन पर तेजी से काम चलता है, तब स्वाभाविक है रोजगार के अवसर भी बढ़ते हैं, रोजगार भी मिलता है। आप याद कीजिए, बरौनी का जो खाद कारखाना बंद पड़ चुका था, मैंने उसे फिर से चालू करने की गारंटी दी थी। आपके आशीर्वाद से मोदी ने वो गारंटी पूरी कर दी। ये बिहार सहित पूरे देश के किसानों के लिए बहुत बड़ा काम हुआ है। पुरानी सरकारों की बेरुखी के कारण, बरौनी, सिंदरी, गोरखपुर, रामागुंडम, वहां जो कारखाने थे, वो बंद पड़े थे, मशीन सड़ रहे थे। आज ये सारे कारखाने, यूरिया में भारत की आत्मनिर्भरता की शान बन रहे हैं। इसलिए तो देश कहता है- मोदी की गारंटी यानि गारंटी पूरा होने की गारंटी। मोदी की गारंटी यानि गारंटी जे पूरा होय छय !

साथियों,

आज बरौनी रिफाइनरी की क्षमता के विस्तार का काम शुरु हो रहा है। इसके निर्माण के दौरान ही, हजारों श्रमिकों को महीनों तक लगातार रोजगार मिला। ये रिफाइनरी, बिहार में औद्योगिक विकास को नई ऊर्जा देगी और भारत को आत्मनिर्भर बनाने में मदद करेगी। मुझे आपको ये बताते हुए खुशी है कि बीते 10 साल में पेट्रोलियम और प्राकृतिक गैस से जुड़े 65 हज़ार करोड़ रुपए से अधिक के प्रोजेक्ट्स बिहार को मिले हैं, जिनमें से अनेक पूरे भी हो चुके हैं। बिहार के कोने-कोने में जो गैस पाइपलाइन का नेटवर्क पहुंच रहा है, इससे बहनों को सस्ती गैस देने में मदद मिल रही है। इससे यहां उद्योग लगाना आसान हो रहा है।

साथियों,

आज हम यहां आत्मनिर्भर भारत से जुड़े एक और ऐतिहासिक पल के साक्षी बने हैं। कर्नाटक में केजी बेसिन के तेल कुओं से तेल का उत्पादन शुरु हो चुका है। इससे विदेशों से कच्चे तेल के आयात पर हमारी निर्भरता कम होगी।

साथियों,

राष्ट्रहित और जनहित के लिए समर्पित मजबूत सरकार ऐसे ही फैसले लेती है। जब परिवारहित और वोटबैंक से बंधी सरकारें होती हैं, तो वो क्या करती हैं, ये बिहार ने बहुत भुगता है। अगर 2005 से पहले के हालात होते तो बिहार में हज़ारों करोड़ की ऐसी परियोजनाओं के बारे में घोषणा करने से पहले सौ बार सोचना पड़ता। सड़क, बिजली, पानी, रेलवे की क्या स्थिति थी, ये मुझसे ज्यादा आप जानते हैं। 2014 से पहले के 10 वर्षों में रेलवे के नाम पर, रेल के संसाधनों को कैसे लूटा गया, ये पूरा बिहार जानता है। लेकिन आज देखिए, पूरी दुनिया में भारतीय रेल के आधुनिकीकरण की चर्चा हो रही है। भारतीय रेल का तेज़ी से बिजलीकरण हो रहा है। हमारे रेलवे स्टेशन भी एयरपोर्ट की तरह सुविधाओँ वाले बन रहे हैं।

साथियों,

बिहार ने दशकों तक परिवारवाद का नुकसान देखा है, परिवारवाद का दंश सहा है। परिवारवाद और सामाजिक न्याय, ये एक दूसरे के घोर विरोधी हैं। परिवारवाद, विशेष रूप से नौजवानों का, प्रतिभा का, सबसे बड़ा दुश्मन है। यही बिहार है, जिसके पास भारत रत्न कर्पूरी ठाकुर जी की एक समृद्ध विरासत है। नीतीश जी के नेतृत्व में NDA सरकार, यहां इसी विरासत को आगे बढ़ा रही है। वहीं दूसरी तरफ RJD-कांग्रेस की घोर परिवारवादी कुरीति है। RJD-कांग्रेस के लोग, अपने परिवारवाद और भ्रष्टाचार को उचित ठहराने के लिए, दलित, वंचित, पिछड़ों को ढाल बनाते हैं। ये सामाजिक न्याय नहीं, बल्कि समाज के साथ विश्वासघात है। ये सामाजिक न्याय नय, समाज क साथ विश्वासघात छय। वरना क्या कारण है कि सिर्फ एक ही परिवार का सशक्तिकरण हुआ। और समाज के बाकी परिवार पीछे रह गए? किस तरह यहां एक परिवार के लिए, युवाओं को नौकरी के नाम पर उनकी जमीनों पर कब्जा किया गया, ये भी देश ने देखा है।

साथियों,

सच्चा सामाजिक न्याय सैचुरेशन से आता है। सच्चा सामाजिक न्याय, तुष्टिकरण से नहीं संतुष्टिकरण से आता है। मोदी ऐसे ही सामाजिक न्याय, ऐसे ही सेकुलरिज्म को मानता है। जब मुफ्त राशन हर लाभार्थी तक पहुंचता है, जब हर गरीब लाभार्थी को पक्का घर मिलता है, जब हर बहन को गैस, पानी का नल, घर में टॉयलेट मिलता है, जब गरीब से गरीब को भी अच्छा और मुफ्त इलाज मिलता है, जब हर किसान लाभार्थी के बैंक खाते में सम्मान निधि आती है, तब सैचुरेशन होता है। और यही सच्चा, सामाजिक न्याय है। बीते 10 वर्षों में मोदी की ये गारंटी, जिन-जिन परिवारों तक पहुंची हैं, उनमें से सबसे अधिक दलित, पिछड़े, अतिपिछड़े वही मेरे परिवार ही हैं।

साथियों,

हमारे लिए सामाजिक न्याय, नारीशक्ति को ताकत देने का है। बीते 10 सालों में 1 करोड़ बहनों को, मेरी माताएं-बहनें इतनी बड़ी तादाद में आशीर्वाद देने आई हैं, उसका कारण है। 1 करोड़ बहनों को हम लखपति दीदी बना चुके हैं। मुझे खुशी है इसमें बिहार की भी लाखों बहनें हैं, जो अब लखपति दीदी बन चुकी हैं। और अब मोदी ने 3 करोड़ बहनों को, आंकड़ा सुनिए जरा याद रखना 3 करोड़ बहनों को लखपति दीदी बनाने की गारंटी दी है। हाल में हमने बिजली का बिल जीरो करने और बिजली से कमाई करने की भी योजना शुरु की है। पीएम सूर्यघर- मुफ्त बिजली योजना। इससे बिहार के भी अनेक परिवारों को फायदा होने वाला है। बिहार की NDA सरकार भी बिहार के युवा, किसान, कामगार, महिला, सबके लिए निरंतर काम कर रही है। डबल इंजन के डबल प्रयासों से बिहार, विकसित होकर रहेगा। आज इतना बड़ा विकास का उत्सव हम मना रहे हैं, और आप इतनी बड़ी तादाद में विकास के रास्ते को मजबूत कर रहे हैं, मैं आपका आभारी हूं। एक बार फिर आप सभी को विकास की, हजारों करोड़ की इन परियोजनाओं के लिए मैं बहुत-बहुत बधाई देता हूं। इतनी बड़ी तादाद में माताएं-बहनें आई हैं, उनको विशेष रूप से प्रणाम करता हूं। मेरे साथ बोलिए-

भारत माता की जय !

दोनों हाथ ऊपर करके पूरी ताकत से बोलिए-

भारत माता की जय !

भारत माता की जय !

भारत माता की जय !

बहुत-बहुत धन्यवाद।