وزیر اعظم 13 نومبر کو بہار کا دورہ کریں گے

Published By : Admin | November 12, 2024 | 20:26 IST
وزیر اعظم بہار میں تقریباً 12,100 کروڑ روپے کے بقدر کے متعدد ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کریں گے، سنگ بنیاد رکھیں گے اور قوم کے نام وقف کریں گے
خطے میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کو زبردست تقویت بہم پہنچاتے ہوئے، وزیر اعظم دربھنگہ میں ایمس کا سنگ بنیاد رکھیں گے
خصوصی توجہ کے حامل پروجیکٹس: سڑک اور ریل کنکٹیویٹی
وزیراعظم پائپ کے ذریعہ نیچرل گیس کی فراہمی کے توسط سے صاف ستھری توانائی کے نظام کو مضبوط بنانے کے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے
ایک منفرد پہل قدمی کے تحت، وزیر اعظم ملک بھر میں ریلوے اسٹیشنوں پر 18 جن اوشدھی کیندروں کو وقف کریں گے

وزیر اعظم جناب نریندر مودی 13 نومبر کو بہار کا دورہ کریں گے۔ وہ دربھنگہ جائیں گے اور صبح تقریباً 10:45 بجے بہار میں تقریباً 12,100 کروڑ روپے کے متعدد ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کریں گے، سنگ بنیاد رکھیں گے اور قوم کو وقف کریں گے۔

خطہ میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کو زبردست تقویت بہم پہنچاتے ہوئے، وزیر اعظم 1260 کروڑ روپے سے زیادہ کی مالیت کے ایمس، دربھنگہ کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ اس میں ایک سپر اسپیشلٹی ہسپتال/آیوش بلاک، میڈیکل کالج، نرسنگ کالج، رات کی پناہ گاہ اور دیگر رہائشی سہولیات ہوں گی۔ یہ بہار اور آس پاس کے علاقوں کے لوگوں کو حفظانِ صحت کی تیسری سطح کی سہولیات فراہم کرے گا۔

پروجیکٹوں کی خاص توجہ سڑک اور ریل دونوں شعبوں میں نئے منصوبوں کے ذریعے خطے میں رابطے کو بڑھانا ہے۔ وزیر اعظم بہار میں تقریباً 5,070 کروڑ روپے کے متعدد قومی شاہراہ پروجیکٹوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھیں گے۔

وہ قومی شاہراہ 327ای کے چار لین والے گالگالیا -ارریہ سیکشن کا افتتاح کریں گے۔ یہ گلیارہ مشرقی-مغربی راہداری (قومی شاہراہ-27)پر ارریہ سے ہمسایہ ریاست مغربی بنگال کو گالگالیا میں ایک متبادل راستہ فراہم کرے گا۔ وزیر اعظم قومی شاہراہ 322 اور اور قومی شاہراہ – 31 پر دو ریل اوور برجز (آر او بی) کا بھی افتتاح کریں گے۔ علاوہ ازیں، وزیر اعظم بندھو گنج میں قومی شاہراہ 110 پر ایک بڑے پل کا افتتاح کریں گے جو جہان آباد کو بہار شریف سے جوڑے گا۔

وزیر اعظم آٹھ نیشنل ہائی وے پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے جن میں رام نگر سے روزیرا تک پکی کندھوں والی سڑک کے ساتھ دو لین سڑک کی تعمیر، بہار-مغربی بنگال سرحد سے قومی شاہراہ 131اے کے منیہری سیکشن تک، حاجی پور سے بچھواڑہ براستہ مہنار اور محی الدین نگر، سرون -چکائی سیکشن، وغیرہ شامل ہیں۔ وزیر اعظم قومی شاہراہ 327 ای پر رانی گنج بائی پاس، کٹوریا، لکھ پورہ، بنکا اور پنجواڑہ قومی شاہراہ 333اے پر بائی پاس؛ اور قومی شاہراہ 82 سے قومی شاہراہ 33 تک چار لین لنک روڈ کا سنگ بنیاد بھی رکھیں گے

وزیر اعظم 1740 کروڑ روپے سے زیادہ کے ریلوے پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ وہ بہار کے اورنگ آباد ضلع میں چرالاپوتھو سے باگھا بشن پور تک 220 کروڑ روپے سے زیادہ کی سونی نگر بائی پاس ریلوے لائن کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔

وہ 1520 کروڑ روپے سے زیادہ کے ریلوے پروجیکٹوں کو بھی قوم کے نام وقف کریں گے۔ ان میں جھانجھار پور-لوکاہا بازار ریل سیکشن، دربھنگہ بائی پاس ریلوے لائن کی گیج کی تبدیلی شامل ہے جو دربھنگہ جنکشن پر ریلوے ٹریفک کی بھیڑ کو کم کرے گی، ریلوے لائن کے پروجیکٹوں کو دوگنا کرنے کے ساتھ ساتھ بہتر علاقائی رابطوں میں سہولت فراہم کرے گا۔

وزیر اعظم جھانجھر پور-لوکاہا بازار سیکشن میں ٹرین خدمات کو بھی جھنڈی دکھائیں گے۔ سیکشن میں ایم ای ایم یو ٹرین خدمات کا تعارف قریبی قصبوں اور شہروں میں ملازمتوں، تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات تک آسان رسائی فراہم کرے گا۔

وزیر اعظم ہندوستان بھر کے مختلف ریلوے اسٹیشنوں پر 18 پردھان منتری بھارتیہ جن اوشدھی کیندروں کو قوم کے نام وقف کریں گے۔ یہ مسافروں کے لیے ریلوے اسٹیشنوں پر سستی ادویات کی دستیابی کو یقینی بنائیں گے۔ یہ عام ادویات کے بارے میں بیداری اور قبولیت کو بھی فروغ دے گا جس سے صحت کی دیکھ بھال پر ہونے والے مجموعی اخراجات میں کمی آئے گی۔

وزیر اعظم پٹرولیم اور قدرتی گیس کے شعبے میں 4,020 کروڑ روپے سے زیادہ کے متعدد اقدامات کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ پائپ کے ذریعہ نیچرل گیس (پی این جی) کو گھرانوں تک پہنچانے اور تجارتی اور صنعتی شعبوں کو صاف توانائی کے اختیارات فراہم کرنے کے وژن کے مطابق وزیر اعظم بہار کے پانچ بڑے اضلاع میں سٹی گیس ڈسٹری بیوشن (سی جی ڈی) نیٹ ورک کی ترقی کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ دربھنگہ، مدھوبنی، سپول، سیتامڑھی اور شیوہر بذریعہ بھارت پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ۔ وہ انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ کی بارونی ریفائنری کے تارکول مینوفیکچرنگ اکائی کا بھی سنگ بنیاد رکھیں گے جو مقامی طور پر تارکول پیدا کرے گی اور درآمد شدہ تارکول پر انحصار کم کرنے میں مدد کرے گی ۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets

Media Coverage

PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister hold talks with Myanmar President U Min Aung Hlaing
June 01, 2026

The Prime Minister, Shri Narendra Modi, today held productive talks with the President of Myanmar, U Min Aung Hlaing.

The Prime Minister noted that India is honoured that President U Min Aung Hlaing chose India for his first foreign visit as President. He also expressed happiness that the President began his programme in India from Bodh Gaya with the blessings of Lord Buddha.

During the talks, the two leaders reviewed the full range of India-Myanmar relations and discussed ways to further strengthen bilateral cooperation.

The discussions covered avenues to deepen cooperation in trade, rare earths, healthcare, connectivity, heritage restoration and capacity building. The two sides also agreed to work closely in areas such as maritime security, cyber security and other sectors of mutual interest.

The Prime Minister underlined that Myanmar is vital to India’s ‘Neighbourhood First’, ‘Act East’ and Indo-Pacific policies, reaffirming the importance India attaches to its relations with Myanmar.

The Prime Minister wrote on X;

“Had a productive meeting with President U Min Aung Hlaing of Myanmar. We in India are honoured that he has chosen India for his first foreign visit as President. Equally gladdening is the fact that he began the visit from Bodh Gaya, with the blessings of Lord Buddha. We reviewed the full range of India-Myanmar relations. Myanmar is vital to India’s policies of ‘Neighbourhood First’, ‘Act East’ and Indo-Pacific.”

“Our talks covered ways to deepen cooperation in trade, rare earths, healthcare, connectivity, heritage restoration and capacity building. We also agreed to work closely in areas such as maritime security, cyber security and more.”