Share
 
Comments
ہوائی اڈہ کنکٹویٹی بڑھانے اور مستقبل کے لئے ہوابازی کاسیکٹر تیار کرنے کے لئے وزیراعظم کے ویژن کے مطابق ہے
اترپردیش بھارت میں ایسی پہلی ریاست بن جائے گی جہاں پانچ بین الاقوامی ہوائی اڈے ہوں گے
2024 تک ہوائی اڈے کے پہلے مرحلے کا کام مکمل کرلیا جائے گا
بھارت میں پہلی مرتبہ ،کسی ہوائی اڈے کا مربوط کثیر ماڈل کارگو ہب کے ساتھ تصور پیش کیا گیا ہے
ہوائی اڈہ شمالی بھارت کا ایک لوجسٹک گیٹ وے ثابت ہوگا اور عالمی لوجسٹک نقشے پر اترپردیش کی حیثیت قا ئم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا
صنعتی مصنوعات کی بے روک ٹوک نقل و حمل کو آسان بناکر ہوائی اڈہ خطے کی صنعتی ترقی میں اضافے میں ایک اہم رول ادا کرے گا
ہوائی اڈے کا کلیدی مستقبل َ:کثیر ماڈل بلارکاوٹ کنکٹویٹی کا پروویژن
یہ بھارت کا پہلا ایسا ہوائی اڈہ ہوگا جہاں کاربن کااخراج بالکل نہیں ہوگا

اترپردیش بھارت کی ایسی پہلی ریاست بننے جارہا ہے جہاں پانچ بین الاقوامی ہوائی اڈے ہوں گے  جبکہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی 25 نومبر 2021 کو دوپہر ایک بجے اترپردیش کے گوتم بدھ نگر میں جیور کے مقام پر نوئیڈا بین الاقوامی ہوائے اڈے (این آئی اے) کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔

ہوائی اڈے کی تعمیر و ترقی وزیراعظم کے ویژن کے مطابق ہے جہاں کنکٹویٹی کو تقویت دی جائے گی اور مستقبل کے لئے ہوابازی کا سیکٹر تیار کیا جائے گا۔ اس عظیم ویژن کی خصوصی توجہ اترپردیش کی ریاست رہی ہے، جہاں حال ہی میں کئے گئے کشی نگر ہوائی اڈہ او ر ایودھیا میں زیرتعمیر بین الاقوامی ہوائی  اڈہ سمیت نئے کثیر مقصدی بین الاقوامی اڈوں کے ترقی دیکھنے کو مل رہی ہے۔

یہ ہوائی اڈہ دہلی ۔ این سی آر میں بننے والا دوسرا بین الاقوامی ہوائی اڈہ ہوگا ، اس کے بننے سے آئی جی آئی ہوائی اڈے پر بھیڑ بھاڑ کو کم کرنے میں مدد ملے گی  اور یہ دہلی، نوئیڈا، غازی آباد، علی گڑھ، آگرہ، فرید آباد اور پڑوس کے آس پاس کے علاقوں سمیت کئی شہروں کے لوگوں کی خدمت کرے گا۔

یہ ہوائی اڈہ شمالی بھارت کالوجسٹک گیٹ وے ثابت ہوگا۔ اس کے پیمانے اور گنجائش کی وجہ سے ہوائی اڈہ یوپی کے لئے بساط بدلنے والا ثابت ہوگا۔ یہ دنیا کے لئے اترپردیش کی صلاحیت کو ا ٓگے بڑھائے گا اور عالمی لوجسٹک نقشے پر ریاست کی حیثیت منوانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ پہلی مرتبہ  بھارت میں ،کسی ہوائی اڈے کا مربوط کثیر ماڈل کارگو ہب کے ساتھ تصور پیش کیا گیا ہے۔جس میں کل لاگت اورلوجسٹک کے لئے وقت میں کمی پر توجہ دی گئی ہے۔ ڈیڈیکیٹڈ کارگو ٹرمنل میں 20 لاکھ میٹرک ٹن کی گنجائش ہوگی جسے  بڑھاکر 80 لاکھ میٹرک ٹن کردیا جائے گا۔ صنعتی مصنوعات کی بے روک ٹوک نقل وحمل کو آسان بناکر ہوائی اڈہ خطے میں زبردست سرمایہ کاری میں مدد کرنے میں اہم رول ادا کرے گا ا ور تیز صنعتی ترقی کو فروغ دیگا، اس کے علاوہ اس ہوائی اڈے کے بننے سے قومی و بین ا لاقوامی  منڈیوں کے لئے مقامی مصنوعات پہنچائی جاسکیں گی۔ یہ بہت سی صنعتوں کےلئے نئے مواقع لائے گا اور زبردست روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے گا۔

اس ہوائی اڈے پر ایک گراؤنڈ ٹرانسپورٹیشن سینٹر تیار کیاجائے گاجس میں کثیر ماڈل راہداری ہب، ہاؤسنگ میٹرو ا ور تیز رفتار ریلوے اسٹیشن، ٹیکسی،بس خدمات اور پرائیویٹ پارکنگ جیسی سہولتیں ہوں گی۔اس سے سڑک، ریل او رمیٹرو کے ساتھ ہوائی اڈے کی آزادانہ کنکٹویٹی قائم ہوسکے گی، نوئیڈا اور دہلی کو پریشانی سے آزاد، میٹرو خدمات کے ذریعہ ہوائی ا ڈے سے جوڑ دیا جائے گا۔یمنا ایکسپریس وے، ویسٹرن پیریفیرل ایکسپریس وے، ایسٹرن پیریفیرل ایکسپریس وے، دہلی- ممبئی ایکسپریس وے جیسی سبھی بڑی قریب کی سڑکوں اور شاہراہوں کو ہوائے اڈے سے جوڑا جائے گا۔  اس ہوائی اڈے کو  مجوزہ دہلی، وارانسی ہائی اسپیڈ ریل سے بھی جوڑ دیا جائے گا جس سے صرف 21 منٹ میں دہلی اورہوائی اڈے کے درمیان سفر ممکن ہوسکے گا۔

اس ہوائی اڈے میں جدید رکھ رکھاؤ، مرمت اور اوورہالنگ خدمات کے لئے بھی جگہ  ہوگی، اس ہوائی اڈے کا ڈیزائن  بناتے وقت اس بات پر توجہ دی گئی ہے کہ اس میں کم آپریٹنگ لاگت آئے اور مسافروں کے لئے بے روک ٹوک اور تیز منتقلی کا عمل ممکن ہو۔ یہ ہوائی اڈہ ا یک سوئنگ ایئر کرافٹ اسٹینڈ کا تصور متعارف کررہا ہے اور ایئر لائنس کے لئے لچک فراہم کررہاہے، تاکہ  اسی کونٹیکٹ اسٹینڈ سے گھریلو اوربین الاقوامی پروازوں کے لئے ایک طیارہ ا ٓپریٹ کیا جاسکے اور طیارے کی ری پوزیشننگ بھی نہ ہو ۔اس طرح یہ ہوائی اڈے پر تیز اور فعال طیارے کے ٹرن اراؤنڈ کو یقینی بنائے گا اور ساتھ ہی ساتھ بے روک ٹوک اور بلاوکاوٹ مسافروں کے منتقلی کے عمل کو بھی یقینی بنائے گا۔

یہ بھارت کا پہلا ایسا ہوائی اڈہ ہوگا جہاں کاربن کااخراج بالکل نہیں ہوگا۔اس ہوائی اڈے کے لئے ا یسی زمین مختص کی گئی ہے جہاں پروجیکٹ کے مقام سے پیڑوں  کااستعمال کرتے ہوئے فاریسٹ پارک تیار کئے جائیں گے۔نوئیڈا بین ا لاقوامی ہوائی اڈہ تمام مقامی پرجاتیوں کو تحفظ فراہم کرے گا اورہوائی اڈے کی تعمیر و ترقی کےدوران فطرت اور ماحولیات کا تحفظ بھی کیا جائے گا۔

اس ہوائی اڈے کی تعمیر کے پہلے مرحلےمیں 10050 کروڑ سے زیادہ روپے خرچ ہوں گے۔ 1300 یکٹئر سےزیادہ کی زمین حاصل کرلی گئی ہے،مکمل کئے گئے  ہوائی اڈے کے پہلے مرحلے میں  ایک سال میں 1.2 کروڑ مسافروں کی خدمت کرنے کی گنجائش ہوگی اور 2024 تک اس پر کام مکمل کرلیا جائے گا۔ یہ کام بین الاقوامی بولی لگانےوالے زیورچ ہوائی انٹرنیشنل اے جی کے ذریعہ ا نجام دیا جائے گا۔ زمین کی حصولی اور متاثرہ کنبوں کی باز آبادکاری سے متعلق پہلے مرحلہ کے لئے بنیادی کام مکمل کرلیا گیا ہے۔

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن
Phone exports more than double YoY in April-October

Media Coverage

Phone exports more than double YoY in April-October
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM applauds those who are displaying their products on GeM platform
November 29, 2022
Share
 
Comments
GeM platform crosses Rs. 1 Lakh crore Gross Merchandise value

The Prime Minister, Shri Narendra Modi has applauded the vendors for displaying their products on GeM platform.

The GeM platform crosses Rs. 1 Lakh crore Gross Merchandise value till 29th November 2022 for the financial year 2022-2023.

In a reply to a tweet by Union Minister, Shri Piyush Goyal, the Prime Minister tweeted;

"Excellent news! @GeM_India is a game changer when it comes to showcasing India’s entrepreneurial zeal and furthering transparency. I laud all those who are displaying their products on this platform and urge others to do the same."