وزیر اعظم جناب نریندر مودی 18فروری 2021ء کو دوپہر 12بجے آسام میں ‘مہاباہو-برہمپترا’کا آغاز کریں گے،دھوبری پھول باڑی پُل کا سنگ بنیاد رکھیں گے اور مجولی پُل کی تعمیر کے لئے بھومی پوجن کریں گے۔ وزیر اعظم یہ ذمہ داریاں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے انجام دیں گے۔ مرکزی وزیر برائے نقل و حمل اور قومی شاہراہ، مرکزی وزیر مملکت (آزدانہ چارج)  برائے بندرگاہ، جہاز رانی اورآبی گزرگاہ اور وزیر اعلیٰ آسام اس موقع پر موجود ہوں گے۔

مہاباہو-برہمپترا

مہاباہو-برہمپترا کا آغاز نیماٹی مجولی جزیرہ، شمالی گواہاٹی-جنوبی گواہاٹی اور دھوبری –ہاٹ سنگی ماری کے درمیان ر و-پیکس جہازوں کی آمدو رفت کی افتتاح سے ہوگا۔اس موقع پر دریائے برہمپترا پر جوگی گھوپا اور مختلف سیاحتی جیٹیوں پر درون ملک آبی نقل و حمل کا شلانیاس کیا جائے گا۔اسی کے ساتھ کاروبار کو آسان بنانے کےلئے ڈجیٹل حل کا بھی آغاز کیا جائے گا۔اس پروگرام کا مقصد ہندوستان کے مشرقی حصے کو بے روک طریقے سے مربوط کرنا ہے،جس میں دریائے برہمپترا اور بارک ندی کے آس پاس رہنے والوں کے لئے مختلف ترقیاتی سرگرمیوں کو فروغ دینا شامل ہے۔

ر و- پیکس خدمات سے مختلف ندیوں کے کناروں کو ایک دوسرے سے جوڑنے میں مدد ملے گی اور  سفر کے وقت میں کمی آئے گی اور اس طرح سڑکوں کے ذریعے سفر کی مسافت کم ہوگی۔نیماٹی اور مجولی کے درمیان ر و-پیکس آپریشن سے گاڑیوں کے ذریعے موجودہ 420 کلو میٹر کی دوری گھٹ کر 12 کلو میٹر ہوجائے گی۔ اس کا خطے میں چھوٹے پیمانے کے صنعتوں پر خاصا اثر پڑے گا۔درون ملک تیار کردہ دو رو –پیکس جہاز، جن کے نام ایم وی رانی گائیڈن لیو اور ایم وی سچن دیو برمن ہیں، سرگرم عمل ہوجائیں گے۔شمالی اور جنوبی گواہاٹی کے درمیان رو –پیکس جہاز ایم وی جے ایف آر جیکب کو چلانے سے سفری مسافت جو 40 کلومیٹر کی ہے، وہ گھٹ کر 3 کلو میٹر ہوجائے گی۔ایم وی بوب کو کھاتنگ کو دھوبری اور ہاٹسنگی ماری کے درمیان چلانے سے سفری مسافت 220کلو میٹر سے گھٹ کر 28 کلومیٹر رہ جائے گی۔ اس طرح کافی وقت بچے گا۔

اس پروگرام میں چار مقامات پر ٹورسٹ جیٹیوں کی تعمیر کا شلانیاس بھی شامل ہے۔ان مقامات کے نام نیماٹی، بسواناتھ گھاٹ، پانڈو اور جوگی گھوپا ہیں۔ وزارت سیاحت نے اس کے لئے 9.41 کروڑ روپے کی مالی امداد دی ہے۔ان جیٹیوں سے دریائی سیاحت کو فروغ ملے گا، مقامی طورپر لوگوں کو روزگار ملے گا اور مقامی کاروبار کو فروغ حاصل ہوگا۔

اس پروگرام کے تحت جوگی گھوپا میں مستقبل نوعیت کا ایک اِن لینڈ آبی نقل و حمل کا ٹرمنل بھی بنایا جائے گا، جو جوگی گھوپا میں ہی قائم ہونے والے کثیر نوعیت کے لاجسٹکس پارک سے مربوط ہوگا۔اس ٹرمنل کے بن جانے کے بعد کلکتہ اور ہلدیہ کے رخ پر سلی گوڑی آبی راہ داری پر ٹریفک میں کمی آئے گی۔اس سے مختلف شمال مشرقی ریاستوں، مثلاً میگھالیہ، تریپورہ کے علاوہ بھوٹان اور بنگلہ دیش کے رخ پر سیلاب کے دنوں میں بھی جہازوں کے نقل و حمل کو بے خلل رکھنے میں مدد ملے گی ۔

وزیر اعظم کاروبار کو مزید آسان بنانے کے لئے دو ای-پورٹل بھی لانچ کریں گے۔ کار-ڈی(کارگو ڈاٹا) پورٹل حقیقی وقت کی بنیاد پر جہازوں کے اعدادو شمار کو مربوط کرے گا۔ پی اے این آئی(املاک اور نیوی گیشن کی اطلاعات فراہم کرنے والا پورٹل)دریا سے متعلق تمام معلومات ایک جگہ سے  فراہم کرنے والا پورٹل ہوگا۔

دھوبری پھول باڑی پل

وزیر اعظم دریائے برہمپترا پر دھوبری (شمالی کنارہ)اور پھول باڑی (جنوبی کنارہ)کے درمیان چار لین والے پل کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔مجوزہ پل قومی شاہراہ نمبر 127بی، پر واقع ہوگا، جو قومی شاہراہ نمبر -27پر شری رام پور سے شروع ہوکر میگھالیہ میں قومی شاہراہ نمبر -106 پر نانگسٹوئن کے مقام پر ختم ہوگا۔یہ پل آسام میں دھوبری کو میگھالیہ میں پھول باڑی، تورا، رونگرام  اور رونگ جینگ سے جوڑے گا۔

اس پل کی تعمیر پر مجموعی لاگت تقریباً 4997 کروڑ روپے آئے گی۔ اس پل کی تعمیر سے آسام اور میگھالیہ کے عوام کا ایک دیرینہ مطالبہ پورا ہوگا۔یہ لوگ اب تک دو دریائی کنارے کے درمیان کشتیوں کے ذریعے سفر کرتے رہے ہیں۔یہ پل 205 کلومیٹر کی مسافت کو 19 کلو میٹر میں تبدیل کردے گا۔پل کی لمبائی 19 کلو میٹر کی ہے۔

مجولی پل

وزیر اعظم دریائے برہمپترا پر مجولی (شمالی کنارے)اور جورہاٹ جنوبی کنارے کے درمیان دو لین والے پل کے لئے بھومی پوجن کریں گے۔

یہ پل قومی شاہراہ نمبر-715کے پر واقع ہوگا، جو جورہاٹ کی طرف نیماٹی گھاٹ کو مجولی کی طرف کملا باڑی سے جوڑے گا۔ مجولی کے لوگوں کی طرف سے اس پل کی تعمیر کا مطالبہ کافی دنوں سے کیا جارہا تھا۔ یہاں کے لوگ آسام کے وسطی علاقے سے اپنے آپ کو جوڑنے کےلئے کئی نسلوں سے کشتیوں پر انحصار کئے ہوئے تھے۔

 

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Over 52,000 Indians return safely from Gulf amid Iran war: MEA

Media Coverage

Over 52,000 Indians return safely from Gulf amid Iran war: MEA
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves revised cost estimate for the construction of Greenfield Connectivity in Uttar Pradesh and Haryana
March 10, 2026

The Cabinet Committee on Economic Affairs, chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi, today has approved the Revised Total Capital Cost of Rs.3630.77 crore for the Construction of Greenfield Connectivity to Jewar International Airport from Delhi-Faridabad-Ballabhgarh-Sohna Spur of the Delhi-Mumbai Expressway on Hybrid Annuity Mode in the States of Uttar Pradesh and Haryana.

This 31.42 km long project corridor will provide direct and high-speed connectivity from South Delhi, Faridabad and Gurugram to Jewar International Airport, thereby promoting economic growth and logistics efficiency across National Capital Region (NCR).

The corridor intersects Eastern Peripheral Expressway, Yamuna Expressway, and Dedicated Freight Corridor (DFC), enabling multimodal transport convergence. The elevated corridor is not merely a structural enhancement but a strategic enabler for urban transformation, regional connectivity, and national logistics efficiency. Its construction is imperative to unlock the full potential of the Jewar Airport–Delhi–Mumbai Expressway corridor and to ensure sustainable urban development in Faridabad.

About 11 km length of this project is to be developed as elevated highway which forms a critical segment of the Greenfield connectivity between DND-Ballabhgarh Bypass and Jewar International Airport, linking it to the Delhi-Mumbai Expressway. This corridor traverses the area earmarked for high-density urban development and future infrastructure expansion under the Faridabad Master Plan, 2031. The additional cost of the proposed elevated corridor is Rs.689.24 crore and the Government of Haryana has agreed to bear Rs.450 crore for elevated corridor.

Project Alignment Map for Greenfield Connectivity to Jewar International Airport from Delhi-Faridabad-Ballabhgarh-Sohna Spur of the Delhi-Mumbai