وزیر اعظم چھتیس گڑھ میں 34,400 کروڑ سے زیادہ مالیت کے متعدد ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کریں گے ، قوم کے نام وقف کریں گے اورسنگ بنیاد رکھیں گے
پروجیکٹ سڑکوں، ریلوے، کوئلہ، بجلی اور شمسی توانائی جیسے اہم شعبوں کی ضرورتوں کو پورا کریں گے
وزیر اعظم این ٹی پی سی کے لارا سُپر تھرمل پاور پروجیکٹ اسٹیج-I کو قوم کے نام وقف کریں گے اور این ٹی پی سی کے لارا سُپر تھرمل پاور پروجیکٹ اسٹیج-II کا سنگ بنیاد رکھیں گے

وزیر اعظم جناب نریندر مودی24 فروری2024 کو دوپہر 12:30 بجے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے’’وکست بھارت وکست چھتیس گڑھ‘‘ پروگرام سے خطاب کریں گے۔ پروگرام کے دوران وزیر اعظم34,400 کروڑ روپے سے زیادہ  مالیت کے متعدد ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کریں گے،قوم کے نام وقف کریں گے اور سنگ بنیاد رکھیں گے۔ یہ پروجیکٹ سڑکوں، ریلوے، کوئلہ، بجلی، شمسی توانائی سمیت کئی اہم شعبوں کی ضرروتوں کو پورا کریں گے۔

وزیر اعظم جناب نریندر مودی این ٹی پی سی کے لارا سُپر تھرمل پاور پروجیکٹ، اسٹیج-1(2x800 میگاواٹ)کو قوم کے نام وقف کریں گے اور چھتیس گڑھ کے ضلع رائے گڑھ میں این ٹی پی سی کے لارا سُپر تھرمل پاور پروجیکٹ، اسٹیج-II(2x800 میگاواٹ) کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ اسٹیشن کا اسٹیج-1 تقریباً 15,800 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے بنایا گیا ہے،جبکہ پروجیکٹ کا اسٹیج-II اسٹیج-1 کے احاطے کی دستیاب زمین پر تعمیر کیا جائے گا۔ اس طرح توسیع کے لیے کسی اضافی زمین کی ضرورت نہیں ہوگی اور 15,530 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ انتہائی مؤثر سپر کریٹیکل ٹیکنالوجی(اسٹیج-I کے لیے)اور الٹرا سُپر کریٹیکل ٹیکنالوجی(اسٹیج-II کے لیے)سے لیس یہ پروجیکٹ کوئلے کے کم استعمال اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو یقینی بنائے گا، جبکہ اسٹیج-I اور II دونوں سے 50فیصد بجلی ریاست چھتیس گڑھ کو مختص کی گئی ہے، یہ پروجیکٹ کئی دیگر ریاستوں اورمرکز کے زیر انتظام خطوں جیسے گجرات، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، گوا، دمن اور دیو، دادر اور نگر حویلی میں بجلی کے منظر نامے کو بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

وزیر اعظم ساؤتھ ایسٹرن کول فیلڈز لمیٹڈ کے تین اہم فرسٹ مائل کنکٹی وٹی(ایف ایم سی)پروجیکٹوں کا افتتاح کریں گے، جن کی کل لاگت 600 کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ وہ کوئلے کے تیز تر، ماحول دوست اور مؤثر میکانائزڈ انخلاء میں مدد کریں گے۔ ان پروجیکٹوں میں ایس ای سی ایل کے ڈِپکا ایریا میں ڈِپکا او سی پی کول ہینڈلنگ پلانٹ، ایس ای سی ایل کے رائے گڑھ ایریا میں چھل اور بارود او سی پی کول ہینڈلنگ پلانٹ شامل ہیں۔ ایف ایم سی پروجیکٹس کوئلے کی مشینی نقل و حرکت کو پِٹ ہیڈ سے کول ہینڈلنگ پلانٹس تک یقینی بنائیں گے، جو سائلوز، بنکرز اور کنویئر بیلٹ کےذریعے تیز رفتار لوڈنگ سسٹم سے لیس ہوں گے۔ سڑک کے ذریعے کوئلے کی نقل و حمل کو کم کرکے، یہ پروجیکٹس کوئلے کی کانوں کے آس پاس رہنے والے لوگوں کے حالات زندگی کو سہل بنانے میں مدد کریں گے، جس سے ٹریفک کی بھیڑ، سڑک حادثات اور کوئلے کی کانوں کے ارد گرد ماحول اور صحت پر منفی اثرات کم ہوں گے۔ یہ پٹ ہیڈ سے ریلوے سائڈنگز تک کوئلہ لے جانے والے ٹرکوں کے ذریعے ڈیزل کی کھپت کو کم کرکے نقل و حمل کے اخراجات میں بھی بچت کا باعث بنیں گے۔

خطے میں قابل تجدید توانائی کی پیداوار کو فروغ دینے کے ایک قدم کے طور پر وزیر اعظم راجناندگاؤں میں تقریباً900کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کردہ سولر پی وی پروجیکٹ کا افتتاح کریں گے۔یہ پروجیکٹ سالانہ اندازے کے مطابق 243.53 ملین یونٹ توانائی پیدا کرے گا اور 25 سالوں کے دوران تقریباً 4.87 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو کم کرے گا، جو اسی مدت کے دوران تقریباً 8.86 ملین درختوں کے ذریعے الگ کیے گئے کاربن کے برابر ہے۔

خطے میں ریل کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے وزیر اعظم تقریباً300کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیے جانے والے بلاس پور – اسلا پور فلائی اوور کو قوم کے نام وقف کریں گے۔ اس سے ٹریفک کی بھاری بھیڑ کم ہو جائے گی اور بلاس پور میں کٹنی کی طرف  جانے والے کوئلے کی ٹریفک کو روک دیا جائے گا۔ وزیر اعظم بھلائی میں50 میگاواٹ کے سولر پاور پلانٹ کو بھی قوم کے نام وقف کریں گے۔ اس سے چلنے والی ٹرینوں میں شمسی توانائی کے استعمال میں مدد ملے گی۔

وزیر اعظم  این ایچ-49 کے 55.65 کلومیٹر طویل سیکشن کی بحالی اورپیوڈ سولڈرز کے ساتھ دو لین میں اَپ گریڈیشن کوقوم کے نام وقف کریں گے۔ اس پروجیکٹ سے دو اہم شہروں بلاس پور اور رائے گڑھ کے درمیان رابطے کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ وزیر اعظم این ایچ-130کے 52.40 کلومیٹر طویل حصے کی بحالی اور پیوڈ سولڈرز کے ساتھ  دو لین میں  اپ گریڈیشن کو بھی قوم کے نام وقف کریں گے۔ اس پروجیکٹ سے امبیکاپور شہر کے رائے پور اور کوربا شہر کے ساتھ رابطے کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور اس علاقے کی اقتصادی ترقی کو فروغ ملے گا۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets

Media Coverage

PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister hold talks with Myanmar President U Min Aung Hlaing
June 01, 2026

The Prime Minister, Shri Narendra Modi, today held productive talks with the President of Myanmar, U Min Aung Hlaing.

The Prime Minister noted that India is honoured that President U Min Aung Hlaing chose India for his first foreign visit as President. He also expressed happiness that the President began his programme in India from Bodh Gaya with the blessings of Lord Buddha.

During the talks, the two leaders reviewed the full range of India-Myanmar relations and discussed ways to further strengthen bilateral cooperation.

The discussions covered avenues to deepen cooperation in trade, rare earths, healthcare, connectivity, heritage restoration and capacity building. The two sides also agreed to work closely in areas such as maritime security, cyber security and other sectors of mutual interest.

The Prime Minister underlined that Myanmar is vital to India’s ‘Neighbourhood First’, ‘Act East’ and Indo-Pacific policies, reaffirming the importance India attaches to its relations with Myanmar.

The Prime Minister wrote on X;

“Had a productive meeting with President U Min Aung Hlaing of Myanmar. We in India are honoured that he has chosen India for his first foreign visit as President. Equally gladdening is the fact that he began the visit from Bodh Gaya, with the blessings of Lord Buddha. We reviewed the full range of India-Myanmar relations. Myanmar is vital to India’s policies of ‘Neighbourhood First’, ‘Act East’ and Indo-Pacific.”

“Our talks covered ways to deepen cooperation in trade, rare earths, healthcare, connectivity, heritage restoration and capacity building. We also agreed to work closely in areas such as maritime security, cyber security and more.”