معزز صدر رامافوسا،

معزز صدر لولا،

دوستو،

نمسکار!

"جوہانسبرگ" جیسے پُررونق اور خوبصورت شہر میں آئی بی ایس اے  لیڈروں کی میٹنگ میں شرکت کرنا میرے لیے بے حد مسرت کا باعث ہے۔ اس پہل کے لیے میں آئی بی ایس اے کے چیئر، صدر لولا کا دل کی گہرائی سے شکریہ ادا کرتا ہوں، اور صدر رامافوسا کا پرتپاک میزبانی کے لیے تہہ دل سے ممنون ہوں۔

آئی بی ایس اے صرف تین ممالک کا گروپ نہیں ہے، بلکہ یہ تین براعظموں کو جوڑنے والا، تین بڑی جمہوری قوتوں اور تین بڑی معیشتوں کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ یہ ایک گہرا اور والہانہ رشتہ بھی ہے جس میں تنوع بھی موجود ہے، اور مشترکہ اقدار اور مشترکہ امنگیں بھی شامل ہیں۔

دوستو،

آج کی یہ آئی بی ایس اے لیڈروں کی میٹنگ تاریخی بھی ہے اور وقت کی ضرورت بھی۔ افریقہ کی سرزمین پر ہونے والا پہلا جی20 اجلاس، عالمَ جنوب کے  ممالک کی مسلسل چار جی20 صدارتوں کا آخری اجلاس ہے۔ آئی بی ایس اے کے تینوں ممالک گزشتہ تین برسوں میں یکے بعد دیگرے جی20 کی صدارت کر چکے ہیں۔ ان تینوں سربراہی اجلاسوں میں ہم نے "انسان مرکز ترقی"، "کثیرالجہتی اصلاحات"، اور "پائیدار ترقی" جیسی مشترکہ ترجیحات کے تحت کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ اب ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم ان اقدامات کو مزید طاقتور اور مؤثر بنائیں۔ اس مقصد کے لیے ہمارے تعاون کے بارے میں میں چند تجاویز پیش کرنا چاہوں گا۔

دوستو،

سب سے پہلے، ہم تینوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ عالمی ادارے اکیسویں صدی کی حقیقتوں سے بہت دور ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہم میں سے کوئی بھی مستقل رکن نہیں ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عالمی ادارے آج کی دنیا کی نمائندگی نہیں کرتے۔ اس لیے آئی بی ایس اے کو ایک آواز میں دنیا کو یہ پیغام دینا چاہیے کہ ادارہ جاتی اصلاحات اب کوئی اختیار نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت ہیں۔

اسی طرح دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں بھی ہمیں قریبی ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ ایسے سنگین موضوع پر کسی بھی قسم کے دوہرے معیار کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ عالمی امن اور ترقی کے لیے اس مسئلے پر متحد ہو کر قدم اٹھانا ناگزیر ہے۔

2021 میں بھارت کی آئی بی ایس اے صدارت کے دوران تینوں ممالک کے قومی سلامتی مشیروں کی پہلی ملاقات منعقد ہوئی۔ سکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ہم اس عمل کو ادارہ جاتی شکل دے سکتے ہیں۔

دوستو،

انسان مرکوز ترقی کو یقینی بنانے میں ٹیکنالوجی کا اہم کردار ہے۔ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں، خاص طور پر ڈی پی آئی اور مصنوعی ذہانت کے حوالے سے آئی بی ایس اے ایک نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔ ہم ایک " آئی بی ایس اے ڈیجیٹل انوویشن الائنس " قائم کر سکتے ہیں، جس کے تحت یوپی آئی جیسے ڈیجیٹل پبلک بنیادی ڈھانچے، کوون جیسے صحت پلیٹ فارم، سائبر سکیورٹی طریقِ کار، اور خواتین کی قیادت میں چلنے والی ٹیکنالوجی کی پہل کو تینوں ممالک کے درمیان شیئر کیا جائے۔ اس سے ہماری ڈیجیٹل معیشتیں تیزی سے ترقی کریں گی اور عالمِ جنوب کے لیے قابل توسیع حل تیار ہو سکیں گے۔ ہم مل کر محفوظ، قابل اعتماد اور انسان مرکوز اے آئی کے عالمی اصولوں کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ آئندہ سال بھارت میں ہونے والی اے آئی امپیکٹ سمٹ میں اس کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔

دوستو،

پائیدار ترقی کے لیے آئی بی ایس اے نہ صرف تینوں ممالک کی ترقی میں ایک دوسرے کے معاون ثابت ہو سکتا ہے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک مثال بھی بن سکتا ہے۔ چاہے موضوع باجرہ ہو یا قدرتی کاشتکاری، آفات سے نمٹنے کی صلاحیت ہو یا سبز توانائی، روایتی ادویات ہوں یا صحت کا تحفظ، ہم اپنی قوتوں کو یکجا کرکے عالمی فلاح کو یقینی بنا سکتے ہیں۔

اسی جذبے کے تحت ہم نے آئی بی ایس اے فنڈ قائم کیا تھا۔ اس کی مدد سے ہم اب تک تقریباً چالیس ممالک میں پچاس کے قریب منصوبے مکمل کر چکے ہیں۔ تعلیم، صحت، خواتین کو بااختیار بنانے، اور شمسی توانائی جیسے شعبوں میں کیے گئے منصوبے مقامی ضروریات کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہیں۔ اس جذبے کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ہم "ہر موسم میں کاشت کیلئے آئی بی ایس اے فنڈ " قائم کر سکتے ہیں۔

دوستو،

آج کی دنیا مختلف سمتوں میں بٹی اور منقسم نظر آتی ہے۔ ایسے وقت میں آئی بی ایس اے اتحاد، تعاون اور انسانیت کا پیغام دے سکتا ہے۔ یہ ہم تینوں جمہوری ممالک کی ذمہ داری بھی ہے اور ہماری طاقت بھی۔

بہت بہت شکریہ۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
PMAY-U Nears 1.25 Crore Homes: Top 10 States With The Highest PMAY-U Completion Rates

Media Coverage

PMAY-U Nears 1.25 Crore Homes: Top 10 States With The Highest PMAY-U Completion Rates
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs 52nd PRAGATI Meeting
June 24, 2026
PM reviews four key infrastructure projects worth around ₹30,000 crore spanning four states across Road, Power, Industrial Corridor and Metro Rail sectors
PM emphasises use of PM GatiShakti National Master Plan and timely updation of project, utility and infrastructure data on the portal for efficient planning
PM asks Ministries and State Governments to resolve pending issues in a mission-mode manner and ensure close monitoring
PM reviews TB Mukt Bharat Abhiyan and emphasizes need to leverage latest digital technologies including AI
PM reviews grievances related to Cyber Crime and Digital Arrest and stresses timely action, coordinated response and e-Zero FIR registration mechanism

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 52nd meeting of PRAGATI, the ICT-enabled, multi-modal platform aimed at fostering Pro-Active Governance and Timely Implementation, by seamlessly integrating efforts of the Central and State Governments, earlier today at Seva Teerth.

During the meeting, the Prime Minister reviewed four critical infrastructure projects across the Road, Power, Industrial Corridor and Metro Rail sectors, covering four States and costing around ₹30,000 crore. These projects, important for economic growth, regional connectivity, industrial development and public welfare, were reviewed with focus on timelines, inter-agency coordination, issue resolution and timely completion.

Prime Minister underlined that delays in infrastructure projects not only lead to cost escalation, but also deprive people and industries of timely benefits. He asked the concerned Ministries and State Governments to resolve pending issues in a mission-mode manner and ensure close monitoring at the highest level.

Prime Minister emphasised the use of PM GatiShakti National Master Plan for efficient planning and timely implementation of infrastructure projects. He also underlined the need for regular and timely updation of project details, utilities, infrastructure layers, clearances and other field-level information on the portal. He further emphasised that the platform must reflect the latest ground situation so that bottlenecks can be identified in advance, inter-agency coordination can be improved and decisions can be taken on the basis of reliable, real-time data.

Prime Minister reviewed TB Mukt Bharat Abhiyan and emphasised the need to leverage latest digital technologies including Artificial Intelligence. He suggested a team of NCC cadets and MY Bharat volunteers, for awareness, patient follow-up and community mobilisation.

Prime Minister also reviewed grievances related to Cyber Crime and Digital Arrest. He expressed concern over the rising misuse of digital platforms to defraud citizens and stressed that such matters require coordinated, sensitive and time-bound handling by all concerned agencies. He noted that citizens should not be made to run from one department or agency to another. He also emphasized the need for clear ownership, faster response, better coordination among law enforcement agencies, banks and digital platforms, and stronger public awareness campaigns.

Prime Minister observed that in cases involving cyber fraud, timely action is crucial to prevent financial loss and restore public confidence. He asked all stakeholders to work in close coordination to strengthen prevention, reporting, investigation and grievance redressal mechanisms. He also emphasised that States should work towards enabling e-Zero FIR mechanisms for faster registration and response in cyber fraud cases.