نئی دہلی ،10 فروری ،2021، وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے پارلیمنٹ سے صدر جمہوریہ کے خطاب پر شکریے کی تحریک کا آج لوک سبھا میں جواب دیا۔ انھوں نے کہا کہ راشٹرپتی جی کی تقریر سے بھارت کی ’سنکلپ شکتی‘ کا اظہار ہوتا ہے۔ ان کے الفاظ نے بھارت کے عوام میں اعتماد کے جذبے کو بڑھاوا دیا ہے۔ جناب مودی نے ایوان کے ممبروں کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ بڑی تعداد میں خواتین ممبران پارلیمنٹ نے بحث میں حصہ لیا اور انھوں نے ایوان کی کارروائیوں کے دوران اپنے خیالات ظاہر کرنے پر خاتون ممبران پارلیمنٹ کو مبارکباد دی۔

عالمی جنگوں کے بعد عالمی نظام کےتاریخی واقعات دہراتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کووڈ-19 کے بعد کی دنیا ایک مختلف دنیا ہوگی۔ ایسے وقت میں عالمی رجحانات سے الگ تھلگ رہنے سے جوابی رد عمل سامنے آئے گا۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت ایک آتم نربھر بھارت کی تعمیر کے لیے کام کر رہا ہے جس کا مقصدپوری دنیا کی خوبی کو آگے بڑھانا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت کا مضبوط اور آتم نربھر ہونا دنیا کے لیے اچھا ہے۔ ووکل فار لوکل کسی ایک خاص لیڈر کا نظریہ نہیں ہے بلکہ اس کی گونج ملک کے کونے کونے میں لوگوں میں سنائی دے رہی ہے۔کورونا سے نمٹنے کا سہرا 130 کروڑ بھارتیوں کے سر ہے۔ وزیر اعظم نے کہا ’’ہمارے ڈاکٹر، نرسیں، کووڈ کے جانباز،صفائی کرمچاری اور جو لوگ ایمبولینس چلاتے ہیں اس طرح کے لوگ اور دیگر بہت سے لوگ غیبی طاقت کی علامت بن گئے جنھوں نے عالمی وبائی بیماری کے خلاف بھارت کی جدوجہد کو مضبوط بنایا‘‘۔

وزیر اعظم نے کہا کہ وبائی بیماری کے دوران حکومت نے دو لاکھ کروڑ روپئے متاثرہ لوگوں کے کھاتوں میں براہ راست منتقل کرکے ان کی مدد کی۔ ہماری جن دھن آدھار موبائل (جے اے ایم) اسکیم نے لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی پیدا کی۔ اس کے ذریعے غریب ترین حاشیے پر رہنے والے اور پسماندہ لوگوں کی مدد کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ اصلاحات کا سلسلہ وبائی بیماری کے دوران بھی جاری رہا اور یہ عمل ہماری معیشت میں ایک نئی رفتار پیدا کر رہا ہے اور دوہرےہندسے کی ترقی کی امید پیدا ہو رہی ہے۔

کسانوں کے احتجاج کے بارے میں وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ایوان حکومت اور ہم سب کسانوں کا احترام کرتے ہیں جو زرعی بلوں کے بارے میں اپنے خیالات ظاہر کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کے اعلیٰ ترین وزراء ان سے مسلسل بات کر رہے ہیں۔ کسانوں کے لیے بڑا احترام پایا جاتا ہے۔ پارلیمنٹ کے ذریعے زرعی قوانین پاس کیے جانے کے بعد کوئی بھی منڈی بند نہیں کی گئی۔ اسی طرح ایم ایس پی کا سلسلہ جاری رہا۔ ایم ایس پی پر خریداری بھی برابر جاری ہے۔ بجٹ میں منڈیوں کو مستحکم بنانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ ان حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا کہ جو لوگ ایوان کی کارروائی میں خلل ڈال رہے ہیں وہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت ایسا کر رہے ہیں۔ وہ یہ بات ہضم نہیں کرپا رہے ہیں کہ لوگوں نے سچ سمجھنا شروع کردیا ہے۔ان کی چالوں سے لوگوں کا اعتماد کبھی بھی نہیں جیتا جاسکتا۔ انھوں نے اس دلیل کا جواب دیا کہ حکومت ایک ایسی اصلاح کیوں کر رہی ہے جس کا مطالبہ ہی نہیں کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ سب اختیاری ہے لیکن ہم یہ انتظار نہیں کرسکتے کہ کسی کام کے لیے پوچھا جائے۔ بہت سے ترقی پسندانہ قوانین وقت کے تقاضے کی وجہ سے بنائے گئے۔ یہ نظریہ کہ لوگوں کو پوچھنے یا بھیک مانگنے پر مجبور کیا جائے کوئی جمہوری طریقہ نہیں ہوسکتا۔ ہمیں ذمے داری اٹھانی چاہئے اور ملک کی ضرورتوں کے مطابق لوگوں کی فلاح وبہبود کے لیے کام کرتے رہنا چاہیے۔ ہم نے ملک میں تبدیلی کے لیے کام کیا ہے اور اگر نیت صحیح ہے تو یقینی طور پر اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔

زراعت، سماج اور کلچر کا ایک حصہ ہے اور ہمارے تہوار اور تمام تقریبات فصل کی بوائی اور کٹائی سے وابستہ ہیں۔ ہماری 80 فیصد سے زیادہ آبادی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور کسانوں سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔ زمینوں کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے ایک پریشان کن صورتحال پیدا ہو رہی ہے جہاں کسان اپنے کھیتوں سے اچھا منافع حاصل نہیں کر رہے ہیں اور زراعت میں سرمایہ کاری کو نقصان پہنچ رہا ہے۔چھوٹے کسانوں کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے کسانوں کو آتم نربھر بنانے اور انھیں اپنی فصلوں کو فروخت کرنے کی آزادی دینے اور فصلوں میں تنوع پیدا کرنے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ زراعت میں سرمایہ کاری سے روزگار کے زیادہ مواقع پیدا ہوں گے۔ اگر ہم کسانوں کو آزادی دے سکے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ان کے اندر اعتماد پیدا کرسکے تو اس سے یقینی طور پر مثبت فکر پیدا ہوگی کیونکہ پرانے طریقے کام نہیں کریں گے۔

جناب مودی نے زور دے کر کہا کہ پبلک سیکٹر ضروری ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ پرائیویٹ سیکٹر کا رول بھی بہت اہم ہے۔ کسی بھی سیکٹر کی مثال لیجیے وہ ٹیلی کام ہو یا فارما سیکٹر ہو ہمیں ان کے اندر پرائیویٹ سیکٹر کا رول نظر آتا ہے۔ اگر بھارت انسانیت کی خدمت کرنے کے قابل ہوا ہے تو یہ پرائیویٹ سیکٹر کے رول کی وجہ سے ہے۔ وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ ’’پرائیویٹ سیکٹر کے خلاف غیر مناسب الفاظ کے استعمال سے ماضی میں کچھ لوگوں کو ووٹ مل سکتے تھے لیکن اب وہ وقت چلاگیا ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر کو برا بھلا کہنے کا کلچر اب قابل قبول نہیں رہا ہے۔ ہم اس طرح سے اپنے نوجوانوں کی توہین نہیں کرسکتے‘‘۔

وزیر اعظم نے کسان آندولن میں تشدد پر تنقید کی۔ انھوں نے کہا’’ میں کسان آندولن کو پوتر سمجھتا ہوں، لیکن جب آندولن جیوی پوتر آندولنوں کو اغوا کرلیں گے، سنگین جرائم میں جیل بھیجے گئے لوگوں کی تصویریں اجاگر کریں گے تو کیا اس سے کوئی مقصد حاصل ہوسکتا ہے؟ ٹول پلازاؤوں کو کام نہ کرنے دینے، ٹیلی کام ٹاوروں کو تباہ کرنے— کیا اس سے پوتر آندولن کی خدمت ہوسکتی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ’ ا ٓندولن کاری‘ اور ’آندولن جیوی‘ میں فرق کرنا ضروری ہے۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو صحیح بات کرتے ہیں۔ لیکن انھیں لوگوں کے سامنے جب صحیح کام کرنے کا وقت آتا ہے تو یہ اپنے قول کو عمل میں بدلنے میں ناکام رہتے ہیں۔ جو لوگ انتخابی اصلاحات کے بارے میں بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں وہ ایک قوم ایک انتخاب کی مخالفت کرتے ہیں۔ یہ لوگ صنفی انصاف کی بات کرتے ہیں لیکن طلاق ثلاثہ کی مخالفت کرتے ہیں۔ اس طرح کے لوگ قوم کو گمراہ کرتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت غریبوں اور متوسط طبقے کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کی غرض سے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ حکومت ملک کو متوازن ترقی کی طرف لے جانے پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت مشرقی بھارت کے لیے مشن موڈ میں کام کر رہی ہے۔ انھوں نے علاقے میں پیٹرولیم پروجیکٹوں،سڑکوں، ہوائی اڈوں، آبی راستوں، سی این جی، ایل پی جی کے پھیلاؤ اور نیٹ کنیکٹی ویٹی کے پروجیکٹوں کا ذکر کیا۔

وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ حکومت سرحدی ڈھانچے کو تاریخی طور پر نظر انداز کئے جانے کے عمل کو بدلنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ دفاعی افواج ہماری سرحدوں کی حفاظت کی ذمے داری پورا کر رہی ہیں۔ وزیر اعظم نے فوجیوں کی ان کی جرأتمندی،طاقت اور قربانی کی تعریف کی۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Odisha’s Dhenkanal farmers export 3 tonne of mango to London

Media Coverage

Odisha’s Dhenkanal farmers export 3 tonne of mango to London
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister’s Departure Statement ahead of his visit to the UAE, Netherlands, Sweden, Norway, and Italy
May 15, 2026

Today, I embark on a five-nation visit to the United Arab Emirates, the Netherlands, Sweden, Norway, and Italy from 15-20 May 2026.

My first stop is the UAE. This will be my eighth visit to the UAE in the past 12 years, a reflection of a Comprehensive Strategic Partnership built on deep mutual trust, personal friendships, and strong people-to-people ties. I look forward to meeting my brother, His Highness Sheikh Mohamed bin Zayed Al Nahyan, President of the UAE. Under his leadership, the UAE has stood out for its resilience amid the profound geopolitical churn in West Asia. In these turbulent times, our energy partnership has emerged as a pillar of stability, and a strategic anchor for India’s energy security. We will exchange views on the regional situation, deepen our cooperation on energy security and resilient supply chains, and explore new avenues to further strengthen our investment partnership. The welfare of the 4.5 million-strong Indian community in the UAE, a cornerstone of our friendship, will also be on our agenda.

From the UAE, at the invitation of Prime Minister H.E. Mr. Rob Jetten, I will pay an Official Visit to the Netherlands. I will call on Their Majesties King Willem-Alexander and Queen Máxima, and hold talks with Prime Minister Jetten. Coming on the heels of the India-EU Free Trade Agreement, the visit will give a fresh impetus to our trade and investment ties, and to our cooperation across semiconductors, water, clean energy, green hydrogen, defence and innovation. I also look forward to engaging with the vibrant Indian community, our living bridge with the Netherlands.

From the Netherlands, at the invitation of Prime Minister H.E. Mr. Ulf Kristersson, I will travel to Gothenburg, Sweden on 17 May. My consultations with Prime Minister Kristersson will aim to add greater depth and breadth to our cooperation, particularly in trade and investment, innovation, green transition, joint R&D and defence. Together with PM Kristersson and the President of the European Commission, H.E. Ms. Ursula von der Leyen, I look forward to a constructive engagement with European business leaders at the European Round Table for Industry, a timely conversation that will boost investment inflows from European businesses.

From Sweden, at the invitation of Prime Minister H.E. Mr. Jonas Gahr Støre, I will pay a two-day visit to Norway. This will be my first visit to Norway, and the first by an Indian Prime Minister in 43 years. I will call on Their Majesties King Harald V and Queen Sonja, hold delegation-level talks with Prime Minister Støre, and jointly inaugurate the India-Norway Business and Research Summit. Building on the India-EFTA Trade and Economic Partnership Agreement that entered into force on 1 October 2025, we will chart the next chapter of our bilateral cooperation in trade and investment, sustainability, offshore industry, research and higher education, Arctic and polar research, space, and talent mobility.

On 19 May, I will engage with my Nordic counterparts at the 3rd India-Nordic Summit in Oslo, building on our previous Summits in Stockholm (2018) and Copenhagen (2022). Our exchanges will give new strength to the vibrant India-Nordic ties, and strengthen joint collaborations in technology and innovation, trade and investment, green transition, blue economy, defence, digitalisation and Artificial Intelligence, and reform of global governance institutions. I will also have the opportunity to meet Nordic leaders bilaterally.

The final leg of my visit takes me to Italy on 19-20 May, at the invitation of Prime Minister H.E. Ms. Giorgia Meloni. I will call on the President of the Italian Republic, H.E. Mr. Sergio Mattarella, and hold talks with Prime Minister Meloni. A central focus of our discussions will be the India-Middle East-Europe Economic Corridor (IMEC), a transformative initiative linking India to Europe through the Gulf, in which Italy is a key European partner. As IMEC moves from vision to implementation, India and Italy share a special responsibility in shaping a connectivity architecture that delivers prosperity and resilient supply chains. We will also review the implementation of our Joint Strategic Action Plan 2025-2029, and advance cooperation across trade and investment, defence and security, clean energy, and science and technology. In Rome, I will also visit the Headquarters of the Food and Agriculture Organisation (FAO), an occasion to reiterate India’s firm commitment to multilateralism and our resolve to work with FAO towards global food security and nutrition.

I am confident that these visits, from the Gulf to the Nordics to the Mediterranean, will reinforce India’s strategic partnerships across regions critical to our future, deepen our trade, investment and people-to-people ties, bolster India's energy security, and advance our shared vision of connectivity, prosperity, and a stable global order.