Share
 
Comments
‘‘اپنی تقریر سے پہلے، میں لتا د یدی کو خراج عقیدت پیش کرنا چاہوں گا، جنہوں نے اپنی موسیقی کے ذریعے ہمارے ملک کو متحد کیا‘‘
’’آزادی کا امرت مہوتسو ’ یہ سوچنے کا صحیح وقت ہے کہ آنے والے برسوں میں ہندوستان عالمی قیادت کا کردار کیسے ادا کرسکتا ہے‘‘
’’ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ تنقید جمہوریت کا ایک لازمی حصہ ہے، لیکن ہر چیز کی اندھی مخالفت کبھی بھی آگے کا راستہ نہیں ہوتی‘‘
’’اگر ہم لوکل کے لئے ووکل ہونے کی بات کررہے ہیں، تو کیا ہم مہاتماگاندھی کے خوابوں کو پورا نہیں کررہے؟پھر حزب اختلاف کے ذریعے اس کا مذاق کیوں بنایا جارہا ہے؟’’
’’دنیا نے ہندوستان کی اقتصادی توجہ پر توجہ دی ہے اور وہ بھی زندگی میں ایک بار آنے والی عالمی وباء کے درمیان میں‘‘
’’ حکومت ہند نےیہ یقینی بنایا کہ وباء کے درمیان 80کروڑ سے زیادہ ساتھی ہندوستانیوں کو مفت راشن ملے؛ یہ ہمارا عہد ہے کہ کوئی بھی ہندوستانی فاقے سے نہ رہے‘‘
’’ہندوستان کی ترقی کے لئے چھوٹے کسانوں کو بااختیار بنانا اہم ہے؛چھوٹا کسان ہندوستان کی ترقی کو مضبوطی فراہم کرے گا۔‘‘
’’پی ایم گتی شکتی ہمارےبنیادی ڈھانچہ چیلنجز کو حل کرنے کے لئے
’’ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ تنقید جمہوریت کا ایک لازمی حصہ ہے، لیکن ہر چیز کی اندھی مخالفت کبھی بھی آگے کا راستہ نہیں ہوتی‘‘
’’آزادی کا امرت مہوتسو ’ یہ سوچنے کا صحیح وقت ہے کہ آنے والے برسوں میں ہندوستان عالمی قیادت کا کردار کیسے ادا کرسکتا ہے‘‘
’’اگر ہم لوکل کے لئے ووکل ہونے کی بات کررہے ہیں، تو کیا ہم مہاتماگاندھی کے خوابوں کو پورا نہیں کررہے؟پھر حزب اختلاف کے ذریعے اس کا مذاق کیوں بنایا جارہا ہے؟’’
’’ہندوستان کی ترقی کے لئے چھوٹے کسانوں کو بااختیار بنانا اہم ہے؛چھوٹا کسان ہندوستان کی ترقی کو مضبوطی فراہم کرے گا۔‘‘

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج لوک سبھا میں صدر جمہوریہ کے خطاب پر شکریے کی تجویز کا جواب دیا۔ وزیر اعظم نے اپنا خطاب شروع کرنے سے پہلے لتا منگیشکر کو خراج عقیدت پیش کی۔ انہوں نے کہا ’’اپنی تقریر سے پہلے میں لتا دیدی کو خراج عقیدت پیش کرنا چاہوں گا ۔ اپنی موسیقی کے ذریعے انہوں نے ہمارے ملک کو متحد کیا ہے۔‘‘

وزیر اعظم نے نیا عہد لینے اور قومی تعمیر کے کام کو پھر سے وقف کرنے میں موجودہ عہد کی اہمیت کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا ’’آزادی کا امرت مہوتسو یہ سوچنے کا صحیح وقت ہے کہ آنے والے سالوں میں ہندوستان عالمی قیادت کا کردار کس طرح نبھا سکتا ہے۔یہ بھی یکساں طورپر سچ ہے کہ ہندوستان نے پچھلے کچھ برسوں میں کئی ترقیاتی اقدامات کئے ہیں۔‘‘اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ کورونا کے بعد کی مدت میں ایک نیا عالمی نظام  تیزی سے شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا’’یہ ایک اہم موڑ ہے کہ  جہاں ہمیں ہندوستان کی حیثیت سے اس موقع کو نہیں کھونا چاہئے۔‘‘

وزیر اعظم نے سہولتوں کی فراہمی سے نئی شناخت پانے والے محروم طبقات اور غریبوں کی بدحال صورتحال کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا’’پہلے گیس کنکشن ایک اسٹیٹس سمبل تھا، اب غریب سے غریب شخص تک اس کی رسائی ہے اور اسی لئے یہ بہت مسرت انگیز بات ہے۔غریبوں کے پاس بینک کھاتوں تک رسائی ہے، ڈی بی ٹی خدمات  تقسیم میں مدد کررہا ہے، یہ اہم تبدیلیاں ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ جب کوئی غریب شخص اپنے گھر میں بجلی کی وجہ سے خوشی محسوس کرتاہے، تو اس کی خوشی ملک کی خوشی کو توانائی فراہم کرتی ہے۔انہوں نے مفت گیس کنکشن کی وجہ سے غریب گھروں میں دھوئیں سے آزاد رسوئی کی خوشی پر بھی گفتگو کی۔

وزیر اعظم نے جمہوریت کی مناسب کام کی اہمیت کو اُجاگر کیا اور ہندوستان کی صدیوں پرانی جمہوری روایت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے زور دے کر کہا’’ہم جمہوریت میں پختہ یقین رکھتے ہیں اور یہ بھی مانتے ہیں کہ تنقید جمہوریت کا ایک لازمی حصہ ہے، لیکن ہر چیز کی اندھی مخالفت کبھی بھی آگے کا راستہ نہیں ہے۔‘‘ وزیر اعظم نے سیاسی مقصد کے لئے وبا ء کا استعمال کرنے کی حقیقت پر افسوس کا اظہار کیا ۔ انہوں نے اُن لوگوں کو دھکا دینے کی تنقید کی جو لاک ڈاؤن پر عمل کررہے تھے۔جب گائیڈ لائنس میں یہ مشورہ دیا گیا کہ جو جہاں ہے، وہیں رہے، تب اترپردیش اور بہار  میں اپنے آبائی شہروں کو لئے اُن سے ممبئی اور دہلی کو چھوڑنے کے لئے کہا گیا اور وہ ڈر گئے۔

جناب مودی نے اُن کوششوں کی اندھی مخالفت پر بھی افسوس کا اظہار کیا ، جن کی اجتماعی طورپر حمایت کی جانی چاہئے۔ اس تناظر میں انہوں نے کہا’’اگر ہم ووکل فار لوکل کی بات کررہے ہیں تو کیا ہم مہاتماگاندھی کے خوابوں کو پورا نہیں کررہے؟ پھر حزب اختلاف کے ذریعے اس کا مذاق کیوں اڑایا جارہا تھا؟ ہم نے یوگا اور فٹ انڈیا کے بارے میں بات کی، لیکن حزب اختلاف نے اس کا مذاق اڑایا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ دنیا نے ہندوستانی اقتصادی ترقی پر توجہ دیا ہے اور وہ بھی زندگی میں ایک بار آنے والی عالمی وباء کے درمیان۔

وزیر اعظم نے 100سال سال پہلے کی فلو وباء کو یاد کیا اور کہا   کہ زیادہ تر موقعے بھوک کی وجہ سے ہوئی تھی۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ کسی بھی ہندوستانی کو بھوک سے مرنے کی اجازت نہیں ہے اور اس کے لئے سب سے بڑے سماجی تحفظاتی اقدامات کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا’’ حکومت نے یقینی بنایا کہ وباء کے درمیان 80 کروڑ سے زیادہ ساتھی ہندوستانیوں کو مفت راشن ملے۔یہ ہمارا عہد ہے کہ کوئی بھی ہندوستانی فاقے سے نہ رہے۔‘‘

وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ غربت سے نمٹنے کا واحد مؤثر طریقہ چھوٹے کسانوں کی تشویش کا خیال رکھنا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ طویل عرصے سے چھوٹے کسانوں کو نظرا نداز کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا’’جن لوگوں نے اتنے سالوں تک ملک پر حکمرانی کی ہے اور محل نما گھروں میں رہنے  کے عادی ہیں، وہ چھوٹے کسانوں کی فلاح و بہبود کے بارے میں بولنا بھول گئے ہیں۔ہندوستان کی ترقی کے لئے یہ بہت اہم ہے کہ چھوٹے کسانوں کو بااختیار بنایا جائے۔یہ چھوٹے کسان ہندوستان کی ترقی کو مضبوطی فراہم کریں گے۔‘‘

وزیر اعظم نے حکمرانی اور منصوبے کی فراہمی کے نئے نظریے پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ اترپردیش میں سریونہر قومی پروجیکٹ جیسے طویل مدت سے زیر التوا پروجیکٹوں کا حوالہ دیا، جنہیں موجودہ حکومت کے ذریعے مکمل کیا گیا ہے۔انہوں نے پی ایم گتی شکتی کی مثال بھی دی ، جو بنیادی ڈھانچے کی چنوتیوں کو حل کرنے کےلئے ایک جامع نظریہ پیش کرتا ہے اور صنعتوں کے لئے رسد کے انتخاب کی ضرورت کو کم کرتاہے۔وزیر اعظم نے مناسب کنکٹی وٹی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا ’’ہماری حکومت نے ایم ایس ایم ای کی تعریف بد ل دی ہے اور اس سے اس سیکٹر کو بڑی مدد ملی ہے۔‘‘

وزیر اعظم نے آتم نربھر بھارت کی نئی ذہنیت کے بارے میں بھی بات کی ، جسے اختراعاتی پالیسیوں کے ذریعے آگے بڑھایا گیا ہے۔ انہوں نے نئے سیکٹر کھول کر ملک کی صلاحیت اور نوجوانوں کے استحصال پر بھی روشنی ڈالی اور کہا  کہ ہم  اس بات پر قطعی یقین نہیں رکھتے کہ صرف سرکاریں ہی تمام مسائل کو حل کرسکتی ہے۔ ہم ملک کے عوام ، ملک کے نوجوانوں میں اعتماد رکھتے ہیں۔اسٹارٹ-اپ سیکٹر کی ہی مثال لیں، اسٹارٹ-اپ کی تعداد بڑھی ہے اور یہ ہمارے عوام کی طاقت کو دکھاتاہے۔انہوں نے حالیہ دنوں میں معیاری یونیکار کے اضافے پر روشنی ڈالی۔وزیر اعظم نے کہا ’’ہم اپنے نوجوانوں ، دولت پیدا کرنے والوں اور صنعت کاروں کو خوفزدہ کرنے کے نظریے سے متفق نہیں ہیں۔‘‘انہوں نے کہا 2014ء سے پہلے صرف 500 اسٹارٹ-اپ تھے۔ پچھلے 7سالوں میں 60ہزار اسٹارٹ-اپ  سامنے آئے ہیں اور یونیکارن کی صدی کی طرف بڑھ رہاہے۔اسٹارٹ –اپ کے معاملے میں ہندوستان تیسرے مقام پر پہنچ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’میک اِن انڈیا‘کا مذاق بنانا ہندوستان کے کاروبار، ہندوستان کے نوجوان اور میڈیا کی صنعت کا مذاق بنانا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دفاعی شعبے میں خود کفیل ہونا سب سے بڑی قومی خدمت ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ماضی میں عالمی مسائل کا بہانہ بناکر افراط زر کی بات کی جاتی تھی، جبکہ ہندوستان آج مشکل عالمی تناظر کے باوجود کوئی بہانہ بنائے بغیر افراط زر سے نمٹ رہا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا ’’ملک ہمارے لیے صرف اقتدار یا حکومتی نظم نہ ہوکر ایک زندہ روح ہے۔‘‘ انہوں نے پُران اور سبرامنیم بھارتی کا حوالہ دیتے ہوئے ہندوستان کے ایک وسیع تصور پر تفصیل سے بتایا ، جہاں پورے ہندوستان کو زندہ روح کی شکل میں مانا جاتا ہے۔ انہوں نے تمل ناڈو کے لوگوں کے ذریعے سی ڈی اے جنرل وپن راوت کو دیئے گئے اعزاز کو بین ہندوستانی قومی جذبے کی مثال قرار دیا۔

وزیر اعظم نے امرت کال کے مقدس عہد میں سیاسی پارٹیوں ، شہریوں اور نوجوانوں سے مثبت جذبے سے تعاون کرنے پر اصرار کرتے ہوئے اپنی بات ختم کی۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Click here to read PM's speech

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن
Why Amit Shah believes this is Amrit Kaal for co-ops

Media Coverage

Why Amit Shah believes this is Amrit Kaal for co-ops
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to visit Karnataka on 6th February
February 04, 2023
Share
 
Comments
PM to inaugurate India Energy Week 2023 in Bengaluru
Moving ahead on the ethanol blending roadmap, PM to launch E20 fuel
PM to flag off Green Mobility Rally to create public awareness for green fuels
PM to launch the uniforms under ‘Unbottled’ initiative of Indian Oil - each uniform to support recycling of around 28 used PET bottles
PM to dedicate the twin-cooktop model of the IndianOil’s Indoor Solar Cooking System - a revolutionary indoor solar cooking solution that works on both solar and auxiliary energy sources simultaneously
In yet another step towards Aatmanirbharta in defence sector, PM to dedicate to the nation the HAL Helicopter Factory in Tumakuru
PM to lay foundation stones of Tumakuru Industrial Township and of two Jal Jeevan Mission projects in Tumakuru

Prime Minister Shri Narendra Modi will visit Karnataka on 6th February, 2023. At around 11:30 AM, Prime Minister will inaugurate India Energy Week 2023 at Bengaluru. Thereafter, at around 3:30 PM, he will dedicate to the nation the HAL helicopter factory at Tumakuru and also lay the foundation stone of various development initiatives.

India Energy Week 2023

Prime Minister will inaugurate the India Energy Week (IEW) 2023 in Bengaluru. Being held from 6th to 8th February, IEW is aimed to showcase India's rising prowess as an energy transition powerhouse. The event will bring together leaders from the traditional and non-traditional energy industry, governments, and academia to discuss the challenges and opportunities that a responsible energy transition presents. It will see the presence of more than 30 Ministers from across the world. Over 30,000 delegates, 1,000 exhibitors and 500 speakers will gather to discuss the challenges and opportunities of India's energy future. During the programme, Prime Minister will participate in a roundtable interaction with global oil & gas CEOs. He will also launch multiple initiatives in the field of green energy.

The ethanol blending programme has been a key focus areas of the government to achieve Aatmanirbharta in the field of energy. Due to the sustained efforts of the government, ethanol production capacity has seen a six times increase since 2013-14. The achievements in the course of last eight years under under Ethanol Blending Programe & Biofuels Programe have not only augmented India’s energy security but have also resulted in a host of other benefits including reduction of 318 Lakh Metric Tonnes of CO2 emissions and foreign exchange savings of around Rs 54,000 crore. As a result, there has been payment of around Rs 81,800 crore towards ethanol supplies during 2014 to 2022 and transfer of more than Rs 49,000 crore to farmers.

In line with the ethanol blending roadmap, Prime Minister will launch E20 fuel at 84 retail outlets of Oil Marketing Companies in 11 States/UTs. E20 is a blend of 20% ethanol with petrol. The government aims to achieve a complete 20% blending of ethanol by 2025, and oil marketing companies are setting up 2G-3G ethanol plants that will facilitate the progress.

Prime Minister will also flag off the Green Mobility Rally. The rally will witness participation of vehicles running on green energy sources and will help create public awareness for the green fuels.

Prime Minister will launch the uniforms under ‘Unbottled’ initiative of Indian Oil. Guided by the vision of the Prime Minister to phase out single-use plastic, IndianOil has adopted uniforms for retail customer attendants and LPG delivery personnel made from recycled polyester (rPET) & cotton. Each set of uniform of IndianOil’s customer attendant shall support recycling of around 28 used PET bottles. IndianOil is taking this initiative further through ‘Unbottled’ - a brand for sustainable garments, launched for merchandise made from recycled polyester. Under this brand, IndianOil targets to meet the requirement of uniforms for the customer attendants of other Oil Marketing Companies, non-combat uniforms for Army, uniforms/ dresses for Institutions & sales to retail customers.

Prime Minister will also dedicate the twin-cooktop model of the IndianOil’s Indoor Solar Cooking System and flag-off its commercial roll-out. IndianOil had earlier developed an innovative and patented Indoor Solar Cooking System with single cooktop. On the basis of feedback received, twin-cooktop Indoor Solar Cooking system has been designed offering more flexibility and ease to the users. It is a revolutionary indoor solar cooking solution that works on both solar and auxiliary energy sources simultaneously, making it a reliable cooking solution for India.

PM in Tumakuru

In yet another step towards Aatmanirbharta in the defence sector, Prime Minister will dedicate to the nation the HAL Helicopter Factory in Tumakuru. Its foundation stone was also laid by the Prime Minister in 2016. It is a dedicated new greenfield helicopter factory which will enhance capacity and ecosystem to build helicopters.

This helicopter factory is Asia’s largest helicopter manufacturing facility and will initially produce the Light Utility Helicopters (LUH). LUH is an indigenously designed and developed 3-ton class, single engine multipurpose utility helicopter with unique feature of high manoeuvrability.

The factory will be expanded to manufacture other helicopters such as Light Combat Helicopter (LCH) and Indian Multirole Helicopter (IMRH) as well as for repair and overhaul of LCH, LUH, Civil ALH and IMRH in the future. The factory also has the potential for exporting the Civil LUHs in future.

This facility will enable India to meet its entire requirement of helicopters indigenously and will attain the distinction of enabling self-reliance in helicopter design, development and manufacture in India.

The factory will have a manufacturing set up of Industry 4.0 standards. Over the next 20 years, HAL is planning to produce more than 1000 helicopters in the class of 3-15 tonnes from Tumakuru. This will result in providing employment for around 6000 people in the region.

Prime Minister will lay the foundation stone of Tumakuru Industrial Township. Under the National Industrial Corridor Development Programme, development of the Industrial Township spread across 8484 acre in three phases in Tumakuru has been taken up as part of Chennai Bengaluru Industrial Corridor.

Prime Minister will lay the foundation stones of two Jal Jeevan Mission projects at Tiptur and Chikkanayakanahalli in Tumakuru. The Tiptur Multi-Village Drinking Water Supply Project will be built at a cost of over Rs 430 crores. The Multi-village water supply scheme to 147 habitations of Chikkanayakanahlli taluk will be built at a cost of around Rs 115 crores. The projects will facilitate provision of clean drinking water for the people of the region.