اسٹیل نے دنیا کی جدید معیشتوں میں اہم ترین کردار ادا کیا ہے، ہر کامیابی کی کہانی کے پیچھے اسٹیل کی طاقت موجودہے: وزیراعظم
ہمیں فخر ہے کہ آج ہندوستان دنیا کا اسٹیل پیدا کرنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے: وزیر اعظم
ہم نے نیشنل اسٹیل پالیسی کے تحت 2030 تک 300 ملین ٹن اسٹیل کی پیداوار کانشانہ مقرر کیا ہے: وزیراعظم
اسٹیل کی صنعت کے لیے سرکاری پالیسیاں کئی دیگر ہندوستانی صنعتوں کو عالمی سطح پر مسابقتی بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں: وزیر اعظم
ہمارے تمام انفراسٹرکچر پروجیکٹس کا مقصد ‘ درآمدات کو بالکل ختم کرنا’ اور‘ خالص برآمدات ’ ہونا چاہیے: وزیراعظم
ہمارے اسٹیل شعبے کو نئے عمل، نئے درجات اور نئے پیمانے کے لیے تیار رہنا ہوگا: وزیراعظم
ہمیں مستقبل کو ذہن میں رکھتے ہوئے توسیع اورتجدید کرنا ہے، ہمیں ابھی سے مستقبل کے لیے تیار ہونا ہے: وزیراعظم
گزشتہ 10 سال میں کان کنی میں بہت سی اصلاحات نافذ کی گئی ہیں، خام لوہے کی دستیابی آسان ہو گئی ہے: وزیراعظم
اب وقت آگیا ہے کہ الاٹ کی گئی کانوں اور ملکی وسائل کا صحیح استعمال کیا جائے، گرین فیلڈ مائننگ میں تیزی لانے کی ضرورت ہے: وزیراعظم
آئیے مل کر ایک لچکدار، انقلابی اور فولادی انداز کا مضبوط ہندوستان بنائیں: پی ایم

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو پیغام کے ذریعہ ممبئی میں انڈیا اسٹیل 2025 پروگرام کے دوران اپنی رائے کااظہار کیا۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ اگلے دو دن کی بات چیت میں ہندوستان کے، عروج پر ا ٓنے والے شعبے اسٹیل کی صنعت کے امکانات اور موقعوں پر توجہ مرکوزکی جائےگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ شعبہ ہندوستان کی ترقی کی بنیادہے، ترقی یافتہ ہندوستان کی بنیاد کو مضبوطی دیتا ہے اور ملک میں تبدیلی کا ایک نیا باب رقم کر رہا ہے۔ وزیر اعظم نے انڈیا اسٹیل 2025 میں سبھی کا خیرمقدم کیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ تقریب نئے نظریات سے واقف کرانے ، نئی شراکت داری قائم کرنے اور اختراع کو فروغ دینے کے لیے ایک لانچ پیڈ کے طور پر کام کرے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس تقریب سےاسٹیل کے شعبے میں ایک نئے باب کا آغاز ہوگا۔

‘‘اسٹیل نے جدید معیشتوں میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے، ایک مضبوط ڈھانچے کی طرح’’، جناب مودی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ چاہے وہ فلک بوس عمارتیں ہوں، جہاز رانی، شاہراہیں، تیز رفتار ریل،ا سمارٹ سٹیز، یا صنعتی راہداری، ہر کامیابی کی کہانی کے پیچھے اسٹیل کی طاقت کار فرماہے۔’’ہندوستان 5 ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے، اس مشن میں اسٹیل کا شعبہ نمایاں کردار ادا کر رہا ہے"، انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں  فی ا لحال اسٹیل کی فی کس کھپت تقریبا 98 کلو گرام ہے اوراندازہ ہے کہ یہ بڑھ کر 2030 تک 160 کلو گرام ہو جائے گی۔جناب مودی نے زور دے کر کہاکہ اسٹیل کی کھپت میں یہ اضافہ ملک  کے بنیادی ڈھانچے اورمعیشت کےلئےایک سنہری معیار ہے ۔ انہوں نےمزید کہاکہ یہ ملک کی سمت اور سرکاری استعداد نیز موثر ہونے کی صلاحیت کے تئیں بھی ایک معیار ہے ۔

 

اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ اسٹیل کی صنعت پی ایم-گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کی وجہ سے اپنے مستقبل کے بارے میں  تازہ اعتماد سے پرہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ اقدام مختلف یوٹیلیٹی سروسز اور لاجسٹک طریقوں کو مربوط کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کانکنی کے علاقوں اور اسٹیل یونٹس کو بہتر ملٹی ماڈل کنیکٹیویٹی کے لیے نقش راہ  بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرقی ہندوستان میں اہم بنیادی ڈھانچے کی تجدید کے لیے نئے منصوبے متعارف کروائے جا رہے ہیں، جو زیادہ ترا سٹیل شعبے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 1.3 ٹریلین ڈالر نیشنل انفراسٹرکچر پائپ لائن کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہروں کو سمارٹ شہروں میں تبدیل کرنے کی بڑے پیمانے پر کوششوں سے، سڑکوں، ریلوے، ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور پائپ لائنوں کی ترقی میں بے مثال رفتار کے ساتھ، اسٹیل کے شعبے کے لیے نئے موقعے پیدا ہو رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے نشاندہی کی کہ پی ایم آواس یوجنا کے تحت کروڑوں گھر تعمیرکئے جا رہے ہیں، اور جل جیون مشن کے ذریعے گاؤں میں اہم بنیادی ڈھانچہ تعمیر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے فلاحی اقدامات بھی اسٹیل کی صنعت کو نئی طاقت فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے سرکاری پروجیکٹوں میں صرف 'میڈ ان انڈیا' اسٹیل کے استعمال کے حکومت کے فیصلے پر روشنی ڈالی اورکہا کہ عمارتوں کی تعمیر اور بنیادی ڈھانچے میں اسٹیل کی سب سے زیادہ کھپت، حکومت کے اہم اقدامات ہیں۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اسٹیل متعدد شعبوں کی ترقی کا ایک بنیادی جزو ہے، جناب مودی نے کہا کہ اسٹیل کی صنعت کے لیے سرکاری پالیسیاں ہندوستان میں بہت سی دوسری صنعتوں کو عالمی سطح پر مسابقتی بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مینوفیکچرنگ، کنسٹرکشن، مشینری اور آٹوموٹیو جیسے شعبے ہندوستانی اسٹیل صنعت کی وجہ سے مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے 'میک ان انڈیا' پہل  میں کو تیزی لانے کے لیے اس سال کے بجٹ میں نیشنل مینوفیکچرنگ مشن متعارف کرایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ مشن چھوٹی، درمیانی اور بڑی صنعتوں کی تکمیل کرتا ہے اوراس سے  اسٹیل کے شعبے کے لیے نئے موقعے پیدا ہوں گے۔

اس کا ذکر کرتے ہوئے کہ ہندوستان طویل عرصے سے اعلیٰ درجے کے اسٹیل کی درآمدات پر منحصر تھا، جو دفاعی اور اسٹریٹجک شعبوں کے لیے اہم ہے، وزیر اعظم نے اس حقیقت پر فخر کا اظہار کیا کہ ہندوستان کے پہلے مقامی طیارہ بردار بحری جہاز میں استعمال ہونے والا اسٹیل مقامی سطح پر تیار کیا گیا  ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستانی اسٹیل نے تاریخی چندریان مشن کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا، جو ہندوستان کی صلاحیت اور اعتماد کی علامت ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ تبدیلی PLI اسکیم جیسے اقدامات کے ذریعے ممکن ہوئی ہے، جس کے تحت اعلیٰ درجے کے اسٹیل کی پیداوار میں مدد کے لیے ہزاروں کروڑ روپے مختص کیے  گئےہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ محض آغاز ہے اور آگے ایک طویل راستہ ہے۔ انہوں نے ملک بھر میں شروع کیے جانے والے میگا پراجیکٹس کی وجہ سے اعلی درجے کےاسٹیل کی بڑھتی ہوئی مانگ کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ اس سال کے بجٹ میں جہاز سازی کو بنیادی ڈھانچے کے زمرے میں رکھا گیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ "ہندوستان کا مقصد مقامی طور پر جدید اور بڑے جہازوں کو تیار کرنا اور انہیں دوسرے ممالک کو برآمد کرنا ہے"۔ وزیر اعظم نے ہندوستان میں پائپ لائن درجے کے اسٹیل اور کوریزن مزاحم مرکب دھاتوں کی بڑھتی ہوئی مانگ کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا ریل انفراسٹرکچر غیر معمولی رفتار سےوسعت پا رہا ہے۔ انہوں نے "درآمدات پر انحصار بالکل ختم کرنے " کے مقصد اور خالص برآمدات پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ "ہندوستان اس وقت 25 ملین ٹن اسٹیل برآمد کرنے کے مقصد کی سمت کام کر رہا ہے اور اس کا مقصد 2047 تک پیداواری صلاحیت کو 500 ملین ٹن تک بڑھانا ہے"، انہوں نے اسٹیل کے شعبے کو نئے عمل، درجات اور پیمانے کے لیے تیار کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے صنعت پر زور دیا کہ وہ مستقبل کے لیے تیار ذہنیت کے ساتھ توسیع اور اپ گریڈ کریں۔ وزیر اعظم نے اسٹیل کی صنعت کی ترقی میں روزگار پیدا کرنے کے وسیع امکانات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے نجی اور سرکاری شعبے دونوں پر زور دیا کہ وہ نئے آئیڈیاز کے فروغ، پرورش اور اشتراک پرتوجہ مرکوز کریں۔ انہوں نے ملک کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مزید موقعے پیدا کرنے کے لیے مینوفیکچرنگ، تحقیق و ترقی اور ٹیکنالوجی کوجدید بنانے میں تعاون پر زور دیا۔

 

جناب مودی نے اعتراف کیا کہ اسٹیل کی صنعت کو کچھ چیلنجوں کا سامنا ہے جن کو مزید ترقی کی خاطر دور کرنے کی ضرورت ہے۔ خام مال کی حفاظت ایک اہم  معاملہ ہے، ہندوستان اب بھی نکل، کوکنگ کول اور میگنیز کی درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔ انہوں نے عالمی شراکت داری کو مضبوط بنانے، سپلائی چین کو محفوظ بنانے اور ٹیکنالوجی کے اپ گریڈکرنے پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے توانائی کی بچت، کم اخراج، اور ڈیجیٹل طور پر جدید ٹیکنالوجیز کی طرف تیزی سے آگے بڑھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ "اسٹیل کی صنعت کا مستقبل ،مصنوعی ذہانت، آٹومیشن، ری سائیکلنگ اور ضمنی مصنوعات کے استعمال سے تشکیل پائے گا"، انہوں نے جدت کے ذریعے ان شعبوں میں کوششوں میں اضافہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عالمی شراکت داروں اور ہندوستانی کمپنیوں کے درمیان تعاون سے ان چیلنجوں کو زیادہ مؤثر طریقے سے اور تیز رفتاری سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔

وزیر اعظم نے کوئلے کی درآمدات بالخصوص کوکنگ کول کے، لاگت اور معیشت دونوں پر نمایاں اثرات پر اظہار رائےکیا۔ انہوں نے اس انحصار کو کم کرنے کے لیے متبادل تلاش کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ڈی آر آئی روٹ جیسی ٹیکنالوجیز کی دستیابی پر روشنی ڈالی اور انہیں مزید فروغ دینے کی کوششوں پر زور دیا۔ اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ ملک کے کوئلے کے وسائل کا بہتر استعمال کرنے اور درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے کول گیسی فکیشن کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے، انہوں نے اسٹیل انڈسٹری کے تمام متعلقہ فریقوں سے زور دے کر کہا کہ وہ اس کوشش میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اس سمت میں آگے بڑھنے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔

 

غیر استعمال شدہ گرین فیلڈ کانوں کے مسئلے کو حل کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے، جناب مودی نے کہا کہ پچھلی دہائی میں کان کنی میں اہم اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، جس سے لوہے کی دستیابی آسان ہو گئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ملک کے وسائل کے زیادہ سے زیادہ استعمال کو یقینی بنانے کے لیے الاٹ کی گئی بارودی سرنگوں کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس عمل میں تاخیر سے صنعت پر منفی اثر پڑے گا، جناب مودی نے اس چیلنج پر قابو پانے کے لیے گرین فیلڈ کان کنی کی کوششوں کو تیز کرنے پر زور دیا۔

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان اب صرف ملکی ترقی پر توجہ مرکوز نہیں کر رہا ہے بلکہ عالمی قیادت کے لیے تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا اب ہندوستان کو اعلیٰ معیار کے اسٹیل کے قابل اعتبارسپلائر کے طور پر دیکھتی ہے۔ انہوں نے اسٹیل کی پیداوار میں عالمی معیار کو برقرار رکھنے اور صلاحیتوں کو مسلسل اپ گریڈ کرنے کی اہمیت کواجاگر کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لاجسٹکس کو بہتر بنانے، ملٹی ماڈل ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس کی ترقی اور لاگت کو کم کرنے سے ہندوستان کو اسٹیل کا عالمی مرکز بننے میں مدد ملے گی۔ وزیر اعظم نے اس بات کو ا جاگر کیاکہ انڈیا اسٹیل  سےصلاحیتوں کو بڑھانے اور خیالات کو قابل عمل حل میں تبدیل کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم ہوا ہے۔ انہوں نے تمام شرکاء کو نیک خواہشات پیش کرتے ہوئے اختتامی کلمات ادا کئےاور ایک لچکدار، انقلابی، اور فولادی  نوعیت کےمضبوط ہندوستان کی تعمیر کے لیے اجتماعی کوششوں پر زور دیا۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
How PLI schemes, design in India and manufacturing excellence are transforming the architectural lighting industry

Media Coverage

How PLI schemes, design in India and manufacturing excellence are transforming the architectural lighting industry
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister Narendra Modi Chairs Second High-Level Meeting with Secretaries of Government of India
July 28, 2026
Sectors discussed: Finance and Economy, Commerce and Industry, and Technology
PM emphasises the need to break both horizontal and vertical silos within the Government
PM emphasises the importance of technological self-reliance and building domestic capabilities in critical sectors
PM encourages greater participation of young innovators and entrepreneurs in cybersecurity ecosystem
PM Stresses Proactive Outreach on Strategic Sectors to Counter Misinformation
PM says Govt must always remain youthful, dynamic and forward-looking, continuously adapting to new challenges and opportunities with agility and innovation
Secretaries share experiences and perspectives on key initiatives, emerging opportunities and implementation challenges

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the second high-level meeting with Secretaries to the Government of India at his residence at 7, Lok Kalyan Marg earlier today. He reviewed the future action agenda of Ministries and Departments dealing with Finance and Economy, Commerce and Industry, and Technology sectors. The meeting focused on accelerating progress towards the goals of Viksit Bharat.

Prime Minister called for a strong focus on team building across Ministries and Departments, urging officers to work with a shared sense of purpose. He emphasised the need to break both horizontal and vertical silos within the Government so that departments function in close coordination and deliver integrated outcomes.

Highlighting the importance of citizen-centric governance, Prime Minister said that the people of India must remain at the centre of governance. He reminded that every decision and policy should be guided by the interests and aspirations of the common citizen.

Prime Minister stressed that while India is making significant investments in infrastructure, equal priority must be given to developing indigenous technologies. He underscored the importance of technological self-reliance and building domestic capabilities in critical sectors.

Prime Minister underlined that energy security is closely linked with national security, economic stability and citizens’ welfare. Prime Minister said India must achieve self-reliance in the energy sector through innovation, diversification and accelerated capacity creation.

Emphasising that reforms are not merely a fashionable term but a continuous necessity for effective governance, Prime Minister stressed the need to reform processes, improve work culture and strengthen institutional efficiency.

Prime Minister said that growing use of technology must be accompanied by a strong focus on cybersecurity to safeguard digital systems and infrastructure. He stressed the need for constant vigilance against emerging cyber threats. He called for encouraging greater participation of young innovators and entrepreneurs in the cybersecurity ecosystem and emphasised that it should evolve into a nationwide movement.

Prime Minister also emphasised the importance of proactive communication on strategic sectors where the country is undertaking major initiatives, to counter misinformation and unfounded fears surrounding such efforts.

Prime Minister says that new academic courses should be planned in partnership with industry to equip the workforce with skills required by emerging and future industries. He also observed that a government must always remain youthful, dynamic and forward-looking, continuously adapting to new challenges and opportunities with agility and innovation.

The meeting featured detailed discussions by Secretaries on the progress, priorities and implementation issues across their respective domains. The meeting was attended by the Cabinet Secretary, Secretaries of key Ministries and Departments, and senior officials from the Prime Minister’s Office.