مانسون سیشن کا آغاز ملک کے لیےقابل فخر لمحہ اور ہماری اجتماعی کامیابیوں کا حقیقی جشن ہے:وزیراعظم
دنیا نے ہندوستان کی فوجی طاقت کا مشاہدہ کیا ہے۔ آپریشن سندور میں، ہندوستانی فوج نے 100 فیصد کامیابی سے اپنا مقصد حاصل کیا، دہشت گردی کے ماسٹر مائنڈز کو اپنے ٹھکانوں میں تباہ کردیا:وزیر اعظم
ہندوستان نے بہت سے تشدد کے چیلنجوں کا سامنا کیا ہے، خواہ وہ دہشت گردی ہو یا نکسل ازم، لیکن آج نکسل ازم اور ماؤ ازم کا اثر تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ ہندوستان کا دستور بم اور بندوق پر حاوی ہے۔ ماضی کی سرخ راہداری اب ترقی اور پیش رفت کے گرین زون میں تبدیل ہو رہی ہے:وزیراعظم
عالمی سطح پر ڈیجیٹل انڈیا کی لہر چل رہی ہے۔ یو پی آئی کو بہت سے ممالک میں مقبولیت حاصل ہو رہی ہے، جس سے یہ فن ٹیک کی دنیا میں ایک معروف نام بن گیا ہے: وزیر اعظم
پہلگام میں وحشیانہ قتل عام سے پوری دنیا سہم گئی تھی اور اس سے عالمی توجہ دہشت گردی اور اس کے مرکز کی طرف مبذول ہوگئی۔ پارٹی کی حدود سے بالاتر ہو کر، ملک بھر کے نمائندے پاکستان کے کردار کو بے نقاب کرنے کے لیے متحد ہوئے ہیں: وزیراعظم
جناب نریندر مودی نے کہا کہ دستیاب معلومات کے مطابق اس سال پانی کے ذخائر کی سطح پچھلے دس برسوں کے مقابلے میں تین گنا بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ اضافہ آنے والے دنوں میں ہندوستان کی معیشت کے لیے کافی فائدہ مند ثابت ہوگا

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج پارلیمنٹ کے احاطے میں مانسون سیشن 2025 کے آغاز سے قبل  میڈیا سے خطاب کیا۔ وزیر اعظم نے مانسون سیشن میں سب لوگوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ مانسون جدت  پسند ی اور نئی شروعات  کی علامت ہے۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ ملک بھر میں موجودہ موسمی حالات مثبت  انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، جس سے زراعت کے لیے فائدہ مند پیش گوئیاں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برسات  نہ صرف دیہی معیشت اور ملک کے مجموعی معاشی ڈھانچے میں بلکہ ہر گھر کی مالیاتی بہبود میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جناب نریندر مودی نے کہا کہ دستیاب معلومات کے مطابق اس سال پانی کے ذخائر کی سطح پچھلے دس برسوں کے مقابلے میں تین گنا بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ اضافہ آنے والے دنوں میں ہندوستان کی معیشت کے لیے  کافی فائدہ مند ثابت ہوگا۔

‘‘موجودہ مانسون سیشن ملک  کے لیے بڑے فخر کا لمحہ ہے، اس سے  ہندوستان کی فتح کے جشن کی عکاسی ہوتی ہے’’، وزیر اعظم نے یہ بات اس تاریخی لمحے کو یاد کرتے ہوئے کہی جب بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر ہندوستانی ترنگا جھنڈا پہلی بارلہرایا گیا اور اسے ہر ہندوستانی شہری کے لیے بے پناہ فخر کا باعث قرار دیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس کامیابی سے ملک بھر میں سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراعات کے تئیں  نیا جوش اور ولولہ  پیداہوا ہے۔ جناب نریندرمودی نے مزید کہا کہ پوری پارلیمنٹ — لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں — ساتھ ہی ہندوستان کے عوام اس حصولیابی پر اپنے فخر کا اظہار کرنے کے لیے متحد ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اجتماعی جشن ہندوستان کے مستقبل کے خلائی تحقیقی مشنوں کے لیے تحریک اور حوصلہ افزائی کا کام کرے گا۔

 

جناب نریندرمودی نے موجودہ مانسون اجلاس کو ہندوستان کی فتوحات کا جشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا نے ہندوستان کی مسلح افواج کی طاقت اور صلاحیت کا مشاہدہ کیا ہے۔ آپریشن سندور کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستانی فوج نے اپنے نشانہ بند اہداف کو 100 فیصد کامیابی سے حاصل کیاہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آپریشن سندور کے تحت صرف 22 منٹوں میں ہندوستانی افواج نے قیمتی اہداف کو اپنے ہی ٹھکانوں میں  تباہ کر دیا۔ انہوں نے یہ ذکر کیا کہ انہوں نے اس آپریشن کا اعلان بہار میں ایک عوامی تقریب میں کیا تھا اور اس میں مسلح افواج نے تیزی سے اپنی صلاحیت کا ثبوت دیا۔ جناب نریندر مودی نے ہندوستان کی ابھرتی ہوئی اسکیم‘‘میڈ اِن انڈیا’’ کے تحت دفاعی صلاحیتوں میں بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حالیہ بین الاقوامی بات چیت کے دوران، عالمی رہنماؤں نے ہندوستان کے مقامی طور پر تیار کردہ فوجی ساز و سامان کی ستائش کی ہے۔ انہوں نے یہ یقین ظاہر کیا کہ  پارلیمنٹ سیشن کے دوران ایک آواز میں اس فتح کا جشن منانے کے لیے متحد ہو نے سے ہندوستان کی فوجی طاقت کو مزید تقویت ملے گی اور حوصلہ بڑھے گا۔ وزیر اعظم نے  کہا کہ اس اجتماعی جذبے سے شہریوں کو بھی ترغیب ملے گی اور دفاعی شعبے کی تحقیق، اختراعات اور مینوفیکچرنگ کو رفتار حاصل ہوگی، جس سے ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ یہ دہائی امن اور ترقی کی عکاسی کرتی ہے جس میں دنیا ہر قدم پر ترقی کے مسلسل احساس کے ساتھ ہاتھ سے ہاتھ ملاکر آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا  کہ ملک طویل عرصے سے مختلف پرتشدد واقعات سے دوچار ہے، خواہ وہ دہشت گردی ہو یا نکسل ازم، جس کا سلسلہ  آزادی کے بعد سے جاری ہے۔ جناب نریندرمودی نے نکسل ازم اور ماؤ ازم کے جغرافیائی پھیلاؤ کے تیزی سے سمٹنے کا ذکر کرتے ہوئےکہا کہ ہندوستان کے سلامتی دستے ، نئے اعتماد اور تیز رفتار اقدامات کے ساتھ، نکسل ازم اور ماؤ ازم کو مکمل طور پر ختم کرنے کے ہدف کی سمت میں بدستور آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے فخر کے ساتھ اس بات کی نشاندہی کی کہ ملک بھر کے سینکڑوں اضلاع اب نکسل تشدد کی گرفت سے نکل کر آزادفضا میں  سانس لے رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان کے دستور  کوہتھیاروں اور تشدد پر برتری  حاصل ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا  کہ سابق ‘ریڈ کوریڈور’ کے علاقے اب نمایاں طور پر ‘گرین گروتھ زون’ میں تبدیل ہو رہے ہیں، جو ملک کے لیے ایک امید افزا مستقبل کا اشارہ دے رہے ہیں۔

یہ تاکید کرتے ہوئے کہ ان میں سے ہر ایک واقعہ وطن سے محبت اور ملک کی فلاح و بہبود کے جذبے سے سرشار  ہر معزز رکن  پارلیمنٹ کے لیے فخر کے لمحات کی نمائندگی کرتی ہے، جناب مودی نے زور دے کر کہا کہ پارلیمنٹ کے اس مانسون اجلاس کے دوران، پورا ملک قومی فخر کے اس جشن کی بازگشت کو  سنے گا، جس  میں  ہر رکن پارلیمنٹ اور ہر سیاسی پارٹی کی آواز  شامل ہوگی۔

 

اس بات کو اجاگر کرتے ہوئے کہ جب 2014 میں ان کی حکومت اقتدار  میں آئی ، تو  ہندوستان پانچ کمزورمعیشتوں  میں شمار ہوتاتھا، وزیر اعظم نے کہا کہ اس وقت ہندوستان عالمی اقتصادی درجہ بندی میں 10ویں نمبر پر تھا، لیکن آج ہندوستان دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کی طرف تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور اس سنگ میل کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ 25 کروڑ لوگ  خط افلاس سے نکل چکےہیں، یہ ایک ایسی تبدیلی ہے جسے عالمی اداروں نے بڑے پیمانے پر تسلیم کیا اور ستائش کی ہے۔ جناب نریندر مودی نے کہا کہ 2014 سے پہلے ہندوستان دوہرے ہندسے کی افراط زر سے دوچار تھا۔ جناب مودی نے کہا‘‘آج مہنگائی کی شرح 2 فیصد کے آس پاس ہے، شہریوں کو راحت اور بہتر زندگی گزارنے  کی آسانی  میسر ہے۔ افراط زرکم ہونےکے ساتھ ساتھ اعلی ترقی  سے مضبوط اور پائیدار  ترقی کے سفر کی عکاسی ہوتی ہے’’۔

وزیر اعظم نے کہا ‘‘ڈیجیٹل انڈیا اور یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس(یو پی آئی) جیسے اقدامات کو عالمی سطح پر پہچان ملنے کے ساتھ ہندوستان کی ابھرتی ہوئی صلاحیتوں کامظاہرہ ہورہاہے اور ہندوستان کے ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام میں عالمی دلچسپی تیزی سے بڑھ رہی ہے’’۔ انہوں نے کہا کہ یو پی آئی  کے ذریعے فن ٹیک ڈومین میں مضبوط موجودگی قائم ہوئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان حقیقی وقت کے لحاظ سے  ڈیجیٹل لین دین میں دنیا کی قیادت کررہا ہے، جس نے عالمی سطح پر کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ ریکارڈدرج کیا ہے۔

جناب نریندرمودی نےبین الاقوامی تنظیموں کے حالیہ عالمی سربراہی اجلاس میں ہندوستان کی اہم کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے، انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کا  تذکرہ کیا، جس کی رپورٹ  میں کہا گیا ہےکہ ہندوستان میں 90 کروڑ سے زیادہ افراد اب سماجی تحفظ کے تحت آتے ہیں، جو سماجی بہبود میں ایک اہم حصولیابی ہے۔ وزیر اعظم نے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کا بھی تذکرہ کیاجس نے ہندوستان کو ٹراکوما سے پاک قرار دیا ہے، جو کہ مانسون کے موسم میں عام طور پر پھیلنے والی  آنکھوں کی بیماری ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ پہچان ہندوستان کی صحت عامہ کی کوششوں میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

 

پہلگام میں وحشیانہ قتل عام کا ذکر کرتے ہوئے جس سے دنیا  سہم گئی تھی اور دہشت گردی اور اس کے اسپانسرز کی طرف عالمی توجہ مبذول ہوئی، وزیراعظم نے کہا کہ اس کے جواب میں، زیادہ تر سیاسی جماعتوں اور ریاستوں کے نمائندوں نے اپنےمفادات سے بالاتر ہو کر ملک کی خدمت میں بین الاقوامی سطح پر کام شروع کیا۔ انہوں نے اس متحدہ سفارتی مہم کی کامیابی پر روشنی ڈالی، جس کے ذریعے  پاکستان کو عالمی سطح پر دہشت گردی کے اسپانسر کے طور پر بے نقاب کیاگیا۔ جناب نریندرمودی نے اس اہم قومی پہل کو انجام دینے والے ممبران پارلیمنٹ اور سیاسی پارٹیوں کی بھرپور تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کوششوں سے ملک میں ایک مثبت ماحول پیدا ہوا اور بین الاقوامی برادری کے ذہنوں کو دہشت گردی کے بارے میں ہندوستان کے نقطہ نظر سے واقف کرایا گیا۔انہوں نے کہا کہ قومی مفاد میں اس اہم شراکت کے لئے تمام  افراد کی تعریف کرنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔

ملک کو تحریک اور توانائی بخشنے والے اتحاد کی طاقت اور ایک آواز کے جذبے پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ مانسون سیشن اس جذبے کو فتح کے جشن کے طور پر اجاگر کرے گا، ہندوستان کی فوجی طاقت اور قومی صلاحیت کو اعزاز فراہم  کرے گا اور 140 کروڑ شہریوں کے لیے تحریک کا ذریعہ بنے گا۔ جناب نریندر مودی نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اجتماعی کوششوں سے دفاعی شعبے میں ہندوستان کی خود انحصاری کے حصول کو تقویت ملے گی۔ انہوں نے ملک کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ مسلح افواج کی طاقت کو پہچانیں اور ان کی تعریف کریں۔ عوام اور سیاسی جماعتوں کو مخاطب کرتے ہوئے وزیراعظم نے اتحاد سے ملنے والی طاقت اور ایک آواز میں بولنے کے اثرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے تمام ممبران پارلیمنٹ سے التماس  کیا کہ وہ پارلیمنٹ میں اس جذبے کو آگے بڑھائیں۔ سیاسی پارٹیوں اور ان کے متعلقہ ایجنڈوں کے تنوع کو تسلیم کرتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ اگرچہ پارٹی مفادات پر رائے مختلف ہو سکتی ہے، لیکن قومی مفاد کے معاملوں میں نیت  کی ہم آہنگی ہونی چاہیے۔ انہوں نے آخر میں اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس سیشن میں متعدد مجوزہ بل شامل ہوں گے جن کا مقصد ملک کی ترقی کو بہتر کرنا، شہریوں کو بااختیار بنانا اور ہندوستان کی ترقی کو تقویت دینا ہے۔ انہوں نے نتیجہ خیز اور اعلیٰ معیار کی بحث کے لیے تمام اراکین پارلیمنٹ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Emerging cities see 42% growth in GCC jobs, outpacing metros: Report

Media Coverage

Emerging cities see 42% growth in GCC jobs, outpacing metros: Report
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi chairs 51st PRAGATI Meeting
May 27, 2026
PM reviews seven critical infrastructure projects across the Railways, Power and Road sectors
Projects reviewed span across 9 States with cumulative investment of around ₹30,000 crore
PM also reviews Ken Betwa Link Project and Swachh Bharat Mission-Urban 2.0
PM says Ken-Betwa River Inter-linking Project should serve as a model for other States to resolve inter-State water issues amicably
PM asks States to expedite the completion of solid waste management-related infrastructure, including waste processing plants and GOBARdhan plants
PM calls for mission-mode rooftop solar coverage in urban areas
Acting upon the advice of PM, system of monthly review of social sector schemes at State level operationalised, starting with review of Swachh Bharat Mission

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 51st meeting of PRAGATI, the ICT-enabled, multi-modal platform aimed at fostering Pro-Active Governance and Timely Implementation, by seamlessly integrating efforts of the Central and State governments, at Seva Teerth, earlier today.

During the meeting, the Prime Minister reviewed seven critical infrastructure projects across the Railways, Power and Road sectors covering nine States worth around ₹30,000 crore. These projects, pivotal to economic growth and public welfare, were reviewed with a focus on timelines, inter-agency coordination, and timely issue resolution. Prime Minister also reviewed Ken Betwa Link Project and Swachh Bharat Mission-Urban 2.0.

While reviewing power sector projects, Prime Minister emphasized the need to accelerate rooftop solar adoption across urban areas, with a special focus on cities, residential clusters and public institutions. He underlined that rooftop solar should be taken up in mission mode to reduce electricity costs, improve energy security and promote clean energy at the household and community level.

While reviewing road and port connectivity projects, it was emphasised that Vadhavan Port should be developed as a model of port-led, multi-modal development, where every major mode of transport is seamlessly integrated to create a future-ready logistics ecosystem. The project should not be seen merely as a port, but as a national gateway connected through coastal shipping, inland waterways, dedicated freight corridors, high-speed rail connectivity, highways and airport linkages.

Prime Minister emphasised the need for effective implementation of Swachh Bharat Mission 2.0 and underlined that the mission should move beyond infrastructure creation and ensure measurable outcomes through regular monitoring, citizen participation and convergence between various stakeholders. He asked States to expedite the completion of solid waste management-related infrastructure, including waste processing plants and GOBARdhan plants.

While reviewing Ken-Betwa River Inter-linking Project, Prime Minister observed that Ken-Betwa project should serve as a model for other States to resolve inter-State water issues through cooperation, timely clearances, technology-based monitoring and mission-mode execution. States were encouraged to identify similar opportunities where river-linking, water conservation, groundwater recharge and efficient irrigation can be taken up in an integrated manner to ensure long-term water security.

Prime Minister also underlined that the delay in the implementation of public projects leads not only to cost escalation but also deprives citizens of timely access to essential facilities and development benefits. He observed that every delay has a direct impact on people’s lives, regional growth and public resources. He stressed that Ministries, Departments and States must adopt a more proactive and time-bound approach to resolve pending issues, remove bottlenecks and ensure faster execution.

Prime Minister also emphasized that innovative use of canal networks should be explored, including installation of solar panels along canals and over canals for clean electricity generation. This would help optimize land use, reduce evaporation losses, generate renewable energy and create additional economic value from water infrastructure.

At the beginning of the meeting, the Cabinet Secretary informed that, in pursuance of the directions of the Prime Minister, a system of monthly review of social sector schemes at the State level has also been operationalised. This mechanism aims to ensure regular monitoring, faster resolution of implementation issues and greater accountability at the State and district levels. As part of this initiative, Swachh Bharat Mission has been taken up for review at the State level in the first instance.