'Jal-Shakti Abhiyan' is becoming a huge success with public participation: PM Modi
during Mann Ki Baat Khelo India is encouraging young sporting talent across the country: PM Modi
Nearly 34,000 Bru-Reang refugees will be settled in Tripura: Prime Minister Modi
Violence does not solve any problem: PM Modi
'Gaganyaan Mission' will prove to be a milestone for New India: PM Modi
Padma Awards have become 'People's Awards': PM Modi

میرے پیارے ہم وطنو، نمسکار۔

آج 26؍ جنوری ہے۔ جشن جمہوریہ کی بہت بہت نیک خواہشات۔2020 کا یہ  پہلا ‘ من کی بات’ کی ملاقات ہے۔ اس سال کا بھی یہ پہلا پروگرام ہے، اس دہائی کا بھی یہ پہلا پروگرام ہے۔ ساتھیو، اس بار ‘ یوم جمہوریہ’ تقریب کی وجہ سے آپ سے ‘ من کی بات’،  اس کے وقت میں تبدیلی کرنا، مناسب لگا اور اِسی لئے، ایک الگ وقت مقرر کرکے آج آپ سے ‘من کی بات’ کر رہا ہوں۔ ساتھیو، دن بدلتے ہیں، ہفتے بدل جاتے ہیں، مہینے بھی بدلتے ہیں، سال بدل جاتے ہیں، لیکن، بھارت کے لوگوں کا جوش اور ہم بھی کچھ کم نہیں ہیں، ہم بھی کچھ کر کے رہیں گے۔ ‘کین ڈو’، یہ ‘ کین ڈو’ کا جذبہ، عزم کی شکل ابھر رہا ہے۔ ملک اور سماج کیلئے کچھ کر گزرنے کا جذبہ، ہر دن، پہلے سے زیادہ مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ ساتھیو، ‘ من کی بات’ کے اسٹیج پر ، ہم سب، ایک بار پھر اکٹھا ہوئےہیں۔ نئے نئے موضوعات پر بات چیت کرنے کیلئے اور اہل وطن کی نئی نئی حصولیابیوں کو جشن منانے کیلئے ،  بھارت کا جشن منانے کیلئے  ‘من کی بات’ شیئرنگ، لرننگ اور گرووِنگ ٹوگیدر،  کا ایک اچھا اور آسان پلیٹ فارم بن گیا ہے۔ ہر مہینے ہزاروں کی تعداد میں لوگ، اپنے مشورے، اپنی کوششیں، اپنے تجربات شیئر کرتے ہیں۔ ان میں سے، سماج کو ترغیب ملے، ایسی کچھ باتوں، لوگوں کی غیر معمولی کوششوں پر ہمیں بات کرنے کا موقع ملتا ہے۔

‘ کسی   نے کر کے دکھایا ہے’، تو کیا ہم بھی کر سکتے ہیں؟ کیا اُس تجربے کو پورے ملک میں استعمال کر کےایک بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں؟ کیا اس کو، سماج کی ایک عام عادت کی شکل میں فروغ دے  کر، اس تبدیلی کو ، مستقل بنا سکتے ہیں؟۔ ایسے ہی کچھ سوالوں کے جواب تلاش کرتے-کرتے ، ہر مہینے ‘من کی بات’ میں ، کچھ اپیل، کچھ درخواست، کچھ کر دکھانے کے عزائم کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں میں ہم نے بہت سے چھوٹے چھوٹے عہد لئے ہوں گے، جیسےایک ہی بار استعمال میں آ سکنے والی پلاسٹک کومسترد کرنا، کھادی اور مقامی اشیاء خریدنے کی بات، سووچھتا کی بات ہو، بیٹیوں کے احترام  اور وقار کی بات ہو، لیس کیش اکنامی کا یہ نیا پہلو، اس پر زوردیناہو، ایسے ڈھیرسارے عزائم کا جنم ہماری ان ہلکی پھلکی من کی باتوں سے ہوا ہے اور اسے طاقت بھی آپ ہی لوگوں نے دی ہے ۔

مجھے ایک بہت ہی پیارا خط ملا ہے۔ بہار کے جناب شیلیش کا۔ ویسے تو ابھی وہ بہار میں نہیں رہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا ہے کہ وہ دلی میں رہ کر کسی این جی او میں کام کرتے ہیں۔ جناب شیلیش جی لکھتے ہیں ‘‘ مودی جی آپ ہر من کی بات میں کچھ اپیل کرتے ہیں۔ میں نے ان میں سے کئی چیزوں کو کیا ہے۔ ان سردیوں میں، میں نے لوگوں کے گھروں میں سے کپڑے جمع کر کے ضرورت مندوں کے درمیان تقسیم کئے ہیں۔ میں نے من کی بات سے لے کر کئی چیزوں کو کرنا شروع کیا ہے، لیکن پھر دھیرے دھیرے کچھ میں بھول گیااور کچھ چیزیں چھوٹ گئیں۔ میں نے اس نئے سال پر ایک من کی بات پر چارٹر بنایا ہے، جس میں ان سبھی چیزوں کی ایک فہرست بنا ڈالی ہے۔ جیسے لوگ نئے سال  پرنئے سال کے لئے عہد و پیماں تیار کرتے ہیں۔ مودی جی یہ میرے نئے سال کا سماجی پیمان ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ سب چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں، لیکن بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ کیا آپ چارٹرپر اپنا آٹوگراف دے کر مجھے واپس بھیج سکتے ہیں۔ شیلیش جی آپ کا بہت بہت شکریہ اور مبارکباد۔ آپ کے نئے سال کے عہد کے لئے من کی بات چارٹر ، یہ بہت ہی اختراعاتی ہے۔ میں اپنی طرف سے مبارکباد لکھ کر اسے ضرورآپ کو واپس بھیجوں گا۔ ساتھیوں اس من کی بات چارٹر کو جب میں پڑھ رہا تھا، جب مجھے بھی حیرت ہوئی کہ اتنی ساری باتیں ہیں! اتنے سارے ہیش ٹیگس ہیں ! اور ہم سب نے مل کر ڈھیر ساری کوششیں بھی کی ہیں۔ کبھی ہم نے سندیش ٹوسولجرس کے ساتھ اپنے جوانوں سے جذباتی طورپر اور مضبوطی سے جڑنے کی مہم چلائی۔ ‘کھادی فار نیشن- کھادی فار فیشن’ کے ساتھ کھادی کی فروخت کونئے مقام پر پہنچایا۔ ‘ بائی لوکل’ کا اصول اپنایا۔ ‘ ہم فٹ تو انڈیا فِٹ’ سے فٹنس کے تئیں بیداری پیدا کی۔ ‘مائی کلین انڈیا’ یا ‘ اسٹیچو کلیننگ’ کی کوششوں سے سووچھتا کو عوامی تحریک بنایا۔ ہیش ٹیگ نوٹو ڈرگس، ہیش ٹیگ بھارت کی لکشمی ، ہیش ٹیگ سیلف فار سوسائٹی، ہیش ٹیگ اسٹریس فِری ایگزام، ہیش ٹیگ سرکشا بندھن، ہیش ٹیگ ڈیجیٹل اکنامی، ہیش ٹیگ روڈ سیفٹی، او ہو ہو! بے شمار ہیں۔

شیلیش جی آپ کے اس من کی بات کے چارٹر کو دیکھ کر احساس ہوا کہ واقعی یہ لسٹ بہت لمبی ہے۔ آئیے اس سفر کو مسلسل جاری رکھیں۔ اس من کی بات چارٹر میں سے اپنی دلچسپی کے کسی بھی کاز سے جڑیں۔ ہیش ٹیگ یوز کرکے سب کے ساتھ فخر سے اپنے تعاون کو  مشترک کریں۔ دوستوں کو ، اہل خانہ کو اور سبھی کو رغبت دلائیں۔ جب ہر بھارت واسی ایک قدم چلتا ہے، تو ہمارا بھارت وَرش 130کروڑقدم آگے بڑھتا ہے۔ اسی لئے چریویتی-چریویتی-چریویتی، چلتے رہو، چلتے رہو، چلتے رہو، کا منتر لئے اپنی کوشش کرتے رہیں۔

میرے پیارے ہم وطنو! ہم نے من کی بات چارٹر کے بارے میں بات کی۔ سووچھتا کے بعد جن بھاگیداری کا جذبہ پارٹیسپیٹیو اِسپرٹ آج ایک اور شعبے میں تیزی سے بڑھ رہی ہےاور وہ ہےجَل سنرکشن یعنی آبی تحفظ۔ آبی تحفظ کے لئے کئی وسیع اور اختراعاتی کوششیں ملک کے ہر کونے میں ہو رہی ہیں۔ مجھے یہ کہتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ گزشتہ مانسون کے وقت شروع کی گئی یہ جَل شکتی مہم جن بھاگیداری سے انتہائی کامیابی کی طرف آگے بڑھ رہی ہے۔ بڑی تعداد میں تالابوں، پوکھروں آدی کی تعمیر کی گئی ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس مہم میں سماج کے ہر طبقے کے لوگوں نے اپنا تعاون دیا۔ اب راجستھان کے جھارلو ضلعے کو ہی دیکھ لیجئے۔ یہاں کی دو تاریخی باؤڑیاں کوڑے اور گندے پانی کا ذخیرہ بن گئی تھیں۔ پھر کیا تھا! بھدرایوں اور تھان والا پنچایت کے سیکڑوں لوگوں نے جل شکتی ابھیان کے تحت اس کی بازیابی کا بیڑا اٹھایا۔ بارش سے پہلے ہی وہ لوگ ان باؤڑیوں میں جمعے ہوئے گندے پانی، کوڑے اور کیچڑ کو صاف کرنے میں جُٹ گئے۔ اس مہم کے لئے کسی نے شرم دان کیا، تو کسی نے دھن کا دان کیا اور اسی کا نتیجہ ہے کہ یہ باؤڑیاں آج وہاں کی لائف لائن بن گئی ہیں۔ کچھ  ایسی ہی کہانی ہے، اترپردیش کے بارہ بنکی کی۔ یہاں 43 ہیکٹیئرعلاقے میں پھیلی سَراہی جھیل اپنی آخری سانسیں گن رہی تھی، لیکن گاؤں والوں نے اپنی قوت ارادی سے اس میں نئی جان ڈال دی۔ اتنے بڑے مشن کے راستے میں انہوں نے کسی بھی کمی کو     آڑے نہیں آنے دیا۔ ایک کے بعد ایک کئی گاؤں آپس میں جڑتے چلے گئے۔ انہوں نے جھیل کے چاروں طرف ایک میٹر اونچا پُشتہ بنا ڈالا۔ اب جھیل پانی سے لبالب ہے اورآس پاس کا ماحول پرندوں کی چہچہاہٹ سے گونج رہا ہے۔

اتراکھنڈ کے الموڑہ-ہلدوانی ہائی وے سے متصل سُنیا کوٹ گاؤں سے بھی عوامی شراکت داری کی ایک ایسی ہی مثال سامنے آئی ہے۔ گاؤں والوں نے پانی کے بحران سے نمٹنے کیلئے خود ہی گاؤں تک پانی لانے کا عہد کیا۔پھر کیا تھا لوگوں نے آپس میں پیسے جمع کئے، منصوبہ بنایا، شرم دان ہوا اور تقریباً ایک کلومیٹر دور سے گاؤں تک پائپ بچھائی گئی، پمپنگ اسٹیشن لگایا گیااور پھر دیکھتے ہی دیکھتے دو دہائی پُرانا مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا۔ دوسری طرف تمل ناڈو میں بورویل کو رین واٹر ہارویسٹنگ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کا ذریعہ بنانے کا بہت ہی اختراعاتی تصور سامنے آیا ہے۔ ملک بھر میں پانی کے تحفظ سے متعلق ایسی بے شمار کہانیاں ہیں، جو نیو انڈیا کے عزائم کو تقویت دے رہی ہیں۔ آج ہمارے جَل شکتی چمپئنس کی کہانیاں سننے کا پورا  ملک شائق ہے۔ میری آپ سے درخواست ہے کہ پانی جمع کرنے اور پانی کے تحفظ کے لئے کئے گئے اپنی یا اپنے قرب و جوار میں ہورہی کوششوں کی کہانیاں، تصاویر اور ویڈیو ہیش جل شکتی فار انڈیا(#jalshakti4India) پر ضرورشیئر کریں۔

میرے پیارے ہم وطنو! اور خاص طور پر میرےنوجوان ساتھیو!آج من کی بات  کے ذریعے میں آسام کی حکومت اور آسام کے لوگوں کو ‘ کھیلو انڈیا’ کی شاندار میزبانی کے لئے بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔ ساتھیو! 22؍ جنوری کو ہی گوہاٹی میں تیسرے کھیلو انڈیا گیمز کا اختتام ہوا ہے۔ اس میں مختلف ریاستوں کے تقریباً 6000کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ کھیلوں کی اس تقریب کے اندر 80 ریکارڈ ٹوٹے اور مجھے فخر ہے کہ ان میں سے 56 ریکارڈ توڑنے کا کام ہماری بیٹیوں نے کیا ہے۔ یہ حصولیابی بیٹیوں کے نام رہی ہے۔ میں سبھی فاتحین کے ساتھ، اس میں حصہ لینے والے سبھی شرکا کو مبارکباد دیتاہوں۔ ساتھ ہی کھیلو انڈیا گیمز کے کامیاب انعقاد کےلئے اس سے وابستہ سبھی لوگوں تربیت دینے والوں او ر تکنیکی افسروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ یہ ہم سب کے لئے بہت ہی خوش آئند ہے کہ سال در سال ‘ کھیلو انڈیا گیمز’ میں کھلاڑیوں کی حصہ داری بڑھ رہی ہے۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ 2018 میں جب  کھیلو انڈیا گیمز کی شروعات ہوئی تھی، جب اس میں 3500 کھلاڑیوں نے حصہ لیاتھا، لیکن محض 3 برسوں میں کھلاڑیوں کی تعداد 6000سے زیادہ ہو گئی ہے۔ یعنی تقریباً دو گنی۔ اتنا ہی نہیں، صرف 3برسوں میں کھیلو انڈیا گیمز کے ذریعے 3200ہونہار بچے ابھرکرسامنے آئے ہیں۔ ان میں سے کئی بچے ایسے ہیں، جو محرومی اور غریبی کے درمیان پلے بڑھے ہیں۔ کھیلو انڈیا گیمز میں شامل ہونےوالے بچے ا ور ان کے والدین کے تحمل اور عزم مصمم کی کہانیاں ایسی ہیں، جو ہر ہندوستانی کو ترغیب دیں گی۔ اب گوہاٹی کی پورنیما منڈل کو ہی لے لیجئے۔ وہ خود گوہاٹی میونسپل کارپوریشن میں ایک صفائی ملازمہ ہیں، لیکن ان کی بیٹی مالویکا نے جہاں فُٹ بال میں دَم دکھایا، وہیں ان کے ایک بیٹے سُجیت نے کھوکھو میں ، تو دوسرے بیٹے پردیپ نے ہاکی میں آسام کی نمائندگی کی۔

کچھ ایسی ہی فخر سے بھردینے والی کہانی تملناڈو کے یوگا ننتھن کی ہے۔ وہ خود تو تمل ناڈو میں  بیڑی بنانے کا کام کرتے ہیں، لیکن ان کی بیٹی پورنا شری نے ویٹ لفٹنگ کا گولڈمیڈل حاصل کر کے ہر کسی کا دل جیت لیا۔ جب میں ڈیوڈ بیکھم کا نام لوں گا، تو آپ کہیں گے، مشہور بین الاقوامی فُٹ بالر، لیکن اب اپنے پاس بھی ایک ڈیوڈ بیکھم ہیں اور اس نے گوہاٹی کے یوتھ گیمز میں سونے کا تمغہ جیتا ہے، وہ بھی سائکلنگ مقابلے کے 200 میڑ کے اسپرنٹ ایونٹ میں ۔ میں  جب انڈمان –نکوبار گیاتھا، کار-نکوبار جزیرے کے رہنے والے ڈیوڈ کے سرسے بچپن میں ہی والدین کا سایہ اٹھ گیا تھا۔ چچا انہی فُٹ بالر بنانا چاہتے تھے، تو مشہور فٹبالر کے نام پر ان کا نام رکھ دیا، لیکن ان کا من تو سائیکلنگ میں بسا ہوا تھا۔ کھیلو انڈیا اسکیم کے تحت ان کا انتخاب بھی ہو گیا اور آج دیکھئے انہوں نے سائیکلنگ میں ایک نیا ریکارڈ بنا ڈالا۔

بھوانی کے پرشانت سنگھ کنہیا نے پول وال ایونٹ میں خود اپنا ہی نیشنل ریکارڈ بریک کیا ہے۔ 19 سال کے پرشانت ایک کسان کنبے سے ہیں۔ آپ کو یہ جان کر تعجب ہوگا کہ پرشانت مٹی میں پول والٹ کی پریکٹس کرتے تھے۔ یہ جاننے کے بعد محکمہ کھیل نے ان کے کوچ کو دلی کے جواہر لال نہرو اسٹیڈیم میں اکیڈمی چلانے میں مدد کی اور آج پرشانت وہاں پر تربیت حاصل کر رہے ہیں۔

ممبئی کی کرینہ شانکتا کی کہانی میں کسی بھی حالت میں ہار نہیں ماننے کا ایک جذبہ ہر کسی کو تحریک دلاتا ہے۔ کرینہ نے تیراکی میں  100 میٹر بریسٹ –اسٹروک مقابلے کی انڈر-17زمرے میں گولڈ میڈل جیتا اور  نیا نیشنل ریکارڈ بنایا۔ 10ویں زیر تعلیم کرینہ کے لئے ایک وقت ایسا بھی آیا، جب گھٹنے کے زخم کے سبب ٹریننگ چھوڑنی پڑی تھی، لیکن کرینہ اور ان کی ماں نے ہمت نہیں ہاری اورآج نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے۔ میں سبھی کھلاڑیوں کے روشن مستقبل کے لئے نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ اس کے ساتھ ہی میں سبھی ہم وطنو کی طرف سے ان سب کے والدین کو بھی سلام کرتا ہوں، جنہوں نے غریبی کو بچوں کے مستقبل کا روڑا نہیں بننے  دیا۔ ہم سبھی جانتے ہیں کہ قومی کھیل مقابلوں کے ذریعہ جہاں کھلاڑیوں کو اپنا پیشن دکھانے کا موقع ملتا ہے، وہیں وہ دوسری ریاستوں کی ثقافت سے بھی روبرو ہوتے ہیں۔ اس لئے ہم نے کھیلو انڈیا یوتھ گیمز کی طرز پر ہی ہر سال کھیلو انڈیا یونیورسٹی گیمز بھی منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ساتھیو !آئندہ ماہ 22؍ فروری سے یکم مارچ تک اڈیشہ کے کٹک اور بھونیشور میں پہلے کھیلو انڈیا یونیورسٹی گیمز منعقد ہو رہے ہیں۔ اس میں حصہ لینے کے لئے 3000سے زیادہ کھلاڑی کوالیفائی کر چکے ہیں۔

میرے پیارے ہم وطنو! امتحان کا موسم آ چکا ہے، تو ظاہر ہے ، سبھی طلبا اپنی اپنی تیاریوں کو آخری شکل دینے میں جٹے ہوں گے۔ ملک کے کروڑوں طلبہ ساتھیوں کے ساتھ ‘ پریکشا پے چرچا’ کے تجربے کے بعد میں یقین کے ساتھ کہہ سکتاہوں کہ ملک کا نوجوان خود اعتمادی سے لبریز ہے اور ہر چیلنج کے لئے تیار ہے۔

ساتھیو! ایک طرف امتحانات اور دوسری طرف سردی کا موسم۔ ان دونوں کے درمیان میری گزارش ہے کہ خود کوفِٹ ضرور رکھیں۔ تھوڑی بہت کسرت ضرور کریں، تھوڑا کھیلیں کودیں، کھیل کود فٹ رہنے کا بنیادی اصول ہے۔ ویسے میں ان دنوں دیکھتا ہوں کہ فٹ انڈیا کے تعلق سے کئی سارے ایونٹ  ہوتے ہیں۔ 18؍جنوری کو نوجوانوں نے ملک بھر میں سائیکلوتھن کا انعقاد کیا، جس میں شامل لاکھوں ہم وطنوں نے فٹنس کا پیغام دیا۔   ہمارا نیو انڈیا پوری طرح سے فٹ رہے، اس کے لئے ہر سطح پر جو کوشش دیکھنے کو مل رہی ہیں، وہ جوش و جذبے سے بھر دینے والی ہیں۔ گزشتہ برس نومبر میں شروع ہوئی ‘فٹ انڈیا اسکول’ کی مہم بھی اب رنگ لا رہی ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ اب تک 65000 سے زیادہ اسکولوں نے آن لائن رجسٹریشن کر کے ‘ فٹ انڈیا اسکول’ سرٹیفکیٹ حاصل کیا ہے۔ ملک کے باقی   سبھی اسکولوں سے بھی میری درخواست ہے کہ وہ فزیکل ایکٹیویٹی اور کھیلوں کو پڑھائی کے ساتھ جوڑ کر ‘ فٹ اسکول’ ضروربنیں۔ اس کے ساتھ ہی میں سبھی ہم وطنوں سے یہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنی معمولات زندگی میں فزیکل ایکٹیویٹی کو زیادہ سے زیادہ بڑھاوادیں۔ روز اپنے آپ کو یاد دلائیں کہ ہم فٹ، تو انڈیا فٹ۔

میرے پیارے ہم وطنو! 2 ہفتہ پہلے ہندوستان کے الگ الگ حصوں میں، الگ الگ تہواروں کی دھوم تھی۔ جب پنجاب میں لوہڑی، جوش و جذبے کی گرماہٹ پھیلا رہی تھی،  تمل ناڈو کی بہنیں اور بھائی  پونگل کا تہوار منا رہے تھے، ترو ولور کی جینتی منا رہے تھے،  آسام میں بیہو کا دلفریب نظارہ دیکھنے کو مل رہا تھا،  گجرات میں ہر طرف اُتّرائن کی دھوم اور پتنگوں سے بھرا آسمان تھا۔ ایسے وقت میں دلی ایک تاریخی واقعے کی گواہ بن رہی تھی۔ دلی میں ایک اہم معاہدے پر دستخط کئے گئے۔ اس کے ساتھ ہی تقریباً 25 سال  پرانے بُرورِیانگ پناہ گزیں  بحران کے ایک دردناک باب کا خاتمہ ہوا۔ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے۔ اپنے مصروف اوقات اور تہواروں کے موسم کے سبب آپ شائد اس تاریخی معاہدے کے بارے میں تفصیل سے نہیں جان پائے ہوں۔ اس لئے مجھے لگا کہ اس کے بارے میں من کی بات میں آپ سے اس کا ذکر ضرور کروں۔  یہ مسئلہ 90 کی دہائی کا ہے۔ 1997 میں نسلی کشیدگی کے سبب بُروریانگ درج فہرست قبائل کے لوگوں کو میزورم سے نکل تریپورہ  میں پناہ  لینی پڑی تھی.۔ ان پناہ گزینوں کو شمالی تریپورہ کے کنچن پور واقع عارضی کیمپوں میں رکھا گیا۔ یہ انتۃائی تکلیف دہ  ہے کہ گروریانگ برادری کے لوگوں نے پناہ گزینوں کی شکل میں اپنی زندگی کا ایک اہم حصہ گنوا دیا۔ ان کے لئے کیمپوں میں زندگی گزارنے کا مطلب تھا، ہر بنیادی سہولت سے محروم  ہونا۔ 23 سال تک نہ گھر، نہ زمین، نہ خاندان کے  لوگوں کی بیماریوں کے لئے علاج کا انتظام اور نا ہی بچوں کی تعلیم کی فکر یا ان کے لئے سہولت۔ ذرا سوچئے کہ 23 سال تک کیمپوں میں مشکل حالات میں زندگی گزارنا ان کے لئے کتنا تکلیف دہ رہا ہوگا۔ زندگی کے ہر پل ، ہر دن کا ایک غیرمعینہ مستقبل کے ساتھ بڑھنا، کتنا تکلیف دہ رہا ہوگا۔ حکومتیں آئیں اور چلی گئیں، لیکن اتنی بڑی تکلیف کا حل نہیں نکل پایا۔ تاہم اتنی تکلیف کے باوجود ہندوستانی آئین اور ثقافت کے تئیں ان کا بھروسہ غیر متزلزل رہا اور اسی بھروسے کا نتیجہ ہے کہ ان کی زندگی میں آج ایک نیا سویرا آیا ہے۔ معاہدے کے تحت  اب ان کے لئے با وقار زندگی جینے کی راہ کھل گئی ہے۔ آخر کا ر2020 کی نئی دہائی بروریانگ برادری کی زندگی میں ایک نئی امیداورامنگوں کی کرن لے کر آئی ہے۔ تقریباً 34 ہزار برو پناہ گزینوں کو تریپورہ میں بسایا جائے گا۔ اتنا ہی نہیں  ان کی بازآبادکاری اور جامع ترقی کے لئے مرکزی حکومت تقریباً 600کروڑروپے کی مدد بھی دے گی۔ ہر ایک بے گھر ہوئے کنبےکو زمین دی جائے گی۔ گھر بنانے میں ان کی مدد کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی ان کے راشن کا انتظام بھی  کیا جائے گا۔ وہ اب مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی فلاح و بہبود سے  متعلق اسکیموں کا فائدہ اٹھا سکیں گے۔ یہ معاہدہ دونوں ریاستوں کے عوام کی رضا مندی اور نیک خواہشات سے ہی ممکن ہوا ہے۔ اس کے لئے میں دونوں ریاستوں کی عوام کا ، وہاں کے وزرائے اعلیٰ کا خاص طور پر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ یہ معاہدہ ہندوستانی ثقافت میں شامل رحم اور فیاضی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ سبھی کو اپنا مان کر چلنا اور اتحاد کے ساتھ رہنا اس مقدس سرزمین کے سنسکاروں میں رچا بسا ہے۔ ایک بار پھر ان ریاستوں کے باشندوں اور بروریانگ برادری کے لوگوں کو میں خاص طو رپر مبارکباد دیتا ہوں۔

میرے ہم وطنو! اتنے بڑے کھیلو انڈیا گیمز کا کامیاب انعقاد کرنے والے آسام میں ایک اور بڑا کا م ہو اہے۔ آپ نے بھی نیوز میں دیکھا ہوگا کہ ابھی کچھ دنوں پہلے آسام میں 8 الگ-الگ ملیٹینٹ گروپوں کے 644 لوگوں نے اپنے ہتھیاروں کے ساتھ خودسپردگی کی، جو پہلے تشدد کی راہ پر چلے گئے تھے، انہوں نے اپنا یقین امن میں جتایا اور ملک کی ترقی میں شراکت دار بننے کا فیصلہ کیا ہے۔ قومی دھارے میں واپس آئے ہیں۔ گزشتہ برس تریپور ہ میں بھی 80 سے زیادہ لوگ تشدد کا راستہ چھوڑ کر قومی دھارے میں شام ہوئے۔ جنہوں نے یہ سوچ کر ہتھیار اٹھا لئے تھے کہ تشدد سے مسائل  کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ ان کا یہ یقین پختہ ہوا ہے کہ امن اور اتحاد ہی کسی بھی تنازعے کو حل کرنے کا واحد راستہ ہے۔ ہم وطنو کو یہ جان کر بہت خوشی ہوگی کہ شمال-مشرق میں شورش بہت حد تک کم ہوئی ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ  یہ ہے کہ اس علاقےسے متعلق ہر ایک معاملے کو امن کے ساتھ ، ایمانداری سے، بات چیت کے ذریعے حل کیا جا رہا ہے۔ ملک کے کسی بھی کونے میں اب بھی تشدد اور ہتھیار کے زور پر مسائل کا حل تلاش کرنے والے لوگوں سےآج اس یوم جمہوریہ کے مبارک موقع پر اپیل کرتا ہوں کہ وہ واپس لوٹ آئیں۔ مسائل کو پُرامن طریقے سے حل کرنے میں اپنی اور اس ملک کی صلاحیتوں پر بھروسہ رکھیں۔ ہم 21ویں صدی میں ہیں، جو علم و سائنس او ر جمہوریت  کا دور ہے۔ کیا آپ نے کسی ایسی جگہ کے بارے میں سنا ہے، جہاں تشدد سے زندگی بہتر ہوئی ہو۔ کیا آپ نےکسی ایسی جگہ کےبارے میں سنا ہے، جہاں امن و ہم آہنگی زندگی کے لئے مصیبت بنے ہوں۔ تشدد کسی  مسئلے کا حل نہیں کرتا۔ دنیا کے کسی مسئلے کا حل کوئی دوسرا مسئلہ پیدا کرنے سے نہیں ، بلکہ زیادہ سے زیادہ حل ڈھونڈ کر ہی ہو سکتا ہے۔ آئیے ہم سب مل کر ایک ایسے نئے بھارت کی تعمیر میں جُٹ جائیں، جہاں امن، ہر سوال کے جواب کی بنیاد ہو۔اتحاد ہر مسئلے کے حل کی کوشش میں ہو اور بھائی چارہ ہر تقسیم اور  بٹوارے کی کوشش کو نا کام کرے۔

میرے پیارے ہم وطنو، آج یوم جمہوریہ کے مبارک موقع پر مجھے ‘گگن یان’ کے بارے میں بتاتے ہوئےانتہائی خوشی ہورہی ہے۔ ملک ، اس سمت میں ایک قدم اور آگے کی طرف گامزن ہے۔ 2022 میں، ہماری آزادی کے 75 سال پورے ہونے والے ہیں اور اس موقع پر ہمیں‘ گگن یان مشن’ کے ساتھ ایک بھارتی  شہری کو خلاء میں لے جانے کے اپنے عہد کو پورا کرنا ہے۔ ‘ گگن یان مشن’ 21ویں صدی میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھارت کی ایک تاریخی حصولیابی ہوگا۔ نئے بھارت کیلئے، یہ ایک ‘میل کا پتھر’ ثابت ہوگا۔

ساتھیو، آپ ک وپتہ ہی ہوگا کہ اس مشن میں ایسٹرناٹ یعنی خلانوردی کیلئے 4 امیدواروں کو منتخب کر لیا گیا ہے۔ یہ چاروں نوجوان بھارتی فضائیہ کے پائلٹ ہیں۔ یہ ہونہار نوجوان، بھارت کی ہنرمندی، صلاحیت، اہلیت، ہمت اور سپنوں  کی علامت ہیں۔ ہمارے چاروں دوست، اگلے کچھ ہی دنوں میں تربیت کیلئے روس جانے والے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ بھارت اور روس کے درمیان دوستی اور تعاون کا ایک اور سنہرا باب بنے گا۔ انہیں ایک سال سے زیادہ وقت تک تربیت دی جائے گی۔ اس کے بعد ملک کی امیدوں اور توقعات کی پرواز کو خلاء تک لے جانے کا دارومدار، انہیں میں سے کسی ایک پر ہوگا۔ آج یوم جمہوریہ کے مبارک موقع پر ان چاروں نوجوانوں اور اس مشن سے مربوط بھارت اور روس کے سائنسدانوں اور انجینئروں کو میں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

میرے عزیز ہم وطنو،

گزشتہ مارچ میں ایک ویڈیو، میڈیا، سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنا ہوا تھا۔ موضوع یہ تھا کہ کیسے 107 سال کی بزرگ ماں، راشٹر پتی بھون کی تقریب میں  پروٹوکول توڑ کر صدر جمہوریہ ہند کو دعائیں دیتی ہے۔ یہ خاتون تھیں، سالو مردا تھمکّا، جو کرناٹک میں ورِکش ماتا کے نام سے معروف ہیں اور وہ تقریب تھی پدم انعامات کی۔ بہت ہی عام قسم کے پس منظر سے آنے والی تھمکا کے غیر معمولی تعاون کو ملک نے جانا، سمجھا اور احترام دیا۔ انہیں پدم شری کا اعزاز مل رہا تھا۔

ساتھیو! آج بھارت ان عزیم شخصیات کو لے کر فخر کا احساس کرتا ہے۔ زمین سے وابستہ لوگوں کو اعزاز سے نواز کر فخر کا احساس کرتا ہے۔ ہر سال کی طرح کل شام کو پدم انعامات کا اعلان کیا گیا۔ میرا اصرار ہے کہ آپ سب ان لوگوں کےبارے میں ضرور پڑھیں۔ ان کے تعاون کے بارے میں ذکر کریں۔ 2020 کے پدم انعامات کے لئے اس سال 46 ہزار سے زیادہ نامزدگیاں حاصل ہوئی ہیں۔ یہ تعداد 2014 کے مقابلے 20گنا سے بھی زائد ہے۔ یہ اعداد و شمار عوام الناس کے اس اعتماد کا مظہر ہے کہ پدم انعامات اب عوامی انعامات بن چکے ہیں۔ آج پدم اعزاز سے متعلق سبھی عمل آن لائن ہیں۔ پہلے جو فیصلے محدود لوگوں کے درمیان ہوتے تھے، وہ آج پوری طرح سےعوا م پر منحصر ہے۔ ایک طرح سے کہیں، تو پدم اعزازات کے تئیں ملک میں ایک نیا بھروسہ اور احترام پیدا ہوا ہے۔ اب اعزاز پانےوالوں میں سے کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں، جوسخت جدو جہدکے بعد زمین سے اٹھے ہیں۔ محدود وسائل کی رکاوٹوں اور اپنے آس پاس کی سخت ترین مایوسی کو توڑ کر آگے بڑھے ہیں۔ در حقیقت ، اس کی خدمت کے بے غرض اور بے لوث جذبے، ہم سب کو متاثرکرتے ہیں۔ میں ایک بار پھر تمام پدم ایوارڈ جیتنے والوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوںاور آپ سبھی سے ان کے بارے میں پڑھنے کیلئے اور مزید معلومات کیلئے خاص طور سے اپیل کرتا ہوں۔  ان کی زندگی کی غیر معمولی کہانیاں، معاشرے کو حقیقی معنوں میں متاثر کریں گی۔

میرے پیارے ہم وطنو! ایک بار پھر یوم جمہوریہ کی بہت بہت مبارکباد۔ یہ پوری دہائی ، آپ کی زندگی میں ، ہندوستان کیلئے ، نئے عہد والا بنےاور دنیا کو ہندوستان سے جو توقعات ہیں،  ان توقعات کو پورا کرنے کی اہلیت، ہندوستان حاصل کر کے رہے۔ یقین  کے ساتھ آئیے  ہم نئی دہائی کا آغاز کرتے ہیں۔ نئے عزائم  کے ساتھ ، ماں  بھارتی کیلئے جُٹ جاتے ہیں۔

 بہت بہت شکریہ! نمسکار

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
‘Highly Focused’: Canada PM Mark Carney Calls PM Modi A ‘Unique Leader’ After India Visit

Media Coverage

‘Highly Focused’: Canada PM Mark Carney Calls PM Modi A ‘Unique Leader’ After India Visit
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
India – Finland Joint Statement on the State Visit of President of the Republic of Finland
March 05, 2026

At the invitation of the Hon'ble Prime Minister of India, Shri Narendra Modi, President of the Republic of Finland, H.E. Dr. Alexander Stubb, is on a State Visit to India from 4-7 March 2026. President Stubb, who is on his first visit to India in his present capacity, is visiting New Delhi and Mumbai and is accompanied by Ms. Sari Multala, Minister of Climate and the Environment of Finland, Mr. Matias Marttinen, Minister of Employment of Finland, and a high-level delegation comprising of officials and business leaders. Prime Minister Modi inaugurated the 11th edition of the Raisina Dialogue on 5 March 2026 in New Delhi with President Stubb as the Chief Guest delivering the Inaugural Keynote Address. President Stubb’s visit follows the visit of H.E. Mr. Petteri Orpo, Prime Minister of the Republic of Finland for the AI Impact Summit in February 2026.

On 5 March 2026, President Stubb was warmly welcomed by Hon’ble President of India Smt. Droupadi Murmu at Rashtrapati Bhavan. Prime Minister Modi and President Stubb held wide-ranging discussions during a bilateral meeting, and jointly addressed the media. Prime Minister Modi also hosted a luncheon in honour of the visiting dignitary.

The President of Finland congratulated India for successfully hosting the AI Impact Summit 2026. Both Leaders shared the view that working towards safe, trustworthy, and inclusive development of AI is of paramount importance.

The Leaders affirmed the deep and enduring friendship between India and Finland, built on a foundation of mutual respect and the values of democracy and rule of law, as well as commitment to global peace, security, and international law.

The Prime Minister of India and the President of Finland reiterated their commitment to the rules-based international order and multilateral cooperation, with the UN at its core.

The Leaders underlined the importance of redoubling efforts to reach the Sustainable Development Goals, and the importance of global cooperation against the challenges of climate change and loss of biodiversity.

Welcoming the landmark Free Trade Agreement between India and the European Union concluded in the India-EU Summit on 27 January 2026, the Leaders acknowledged the immense and mutually beneficial opportunities for both parties of increased trade and investments, including for the India-Finland bilateral relationship.

Building on the momentum provided by the India-Finland Virtual Summit on 16 March 2021 and the meetings of the Prime Ministers of both countries in the margins of two editions of India-Nordic Summit in 2018 and 2022 in Stockholm and Copenhagen respectively, as well as during the AI Impact Summit in February 2026, the Leaders emphasized their shared commitment to continue expanding and deepening the cooperation between the two nations. In this spirit, the leaders agreed to elevate the India-Finland relations to a Strategic Partnership in Digitalization and Sustainability, based on converging interests and mutual benefits.

Trade and Investment

The Prime Minister of India and the President of Finland called upon the business community to make use of the vast opportunities unleashed by the landmark India-EU FTA. In this context, The Leaders agreed that the aim should be to double the value of current trade between India and Finland by 2030.

The Leaders took note of the lively interactions between the respective business communities, reflected by the large business delegation visiting India together with the Finnish President, as well as the companies that joined the Finnish Prime Minister in February in connection with the AI Impact Summit in New Delhi. Both leaders expressed confidence that the India-Finland Business Summit and CEOs interaction scheduled to take place in Mumbai on 7 March would help pave the way for enhancing trade, technology collaboration and investments ties.

The Leaders welcomed the growing startup collaboration, manifested by the active participation of innovative Indian startups in Slush in Helsinki and Finnish startups in Startup Mahakumbh in New Delhi, as well as initiatives such as the Indo-Finland Startup Corridor.

Digitalization

Recognizing the transformative power of digitalization as a key driver of inclusive social and economic development, the Leaders identified digital transformation, including new and emerging technologies such as 5G, 6G, high-performance and quantum computing and Artificial Intelligence, as priority areas where collaboration based on mutual trust and benefit can be strengthened. The Leaders noted India’s experience in Digital Public Infrastructure, including digital payments such as the Unified Payments Interface (UPI), and discussed possibilities for cooperation in this area.

Against this backdrop, the Leaders asked the relevant ministries to establish a cross-sectoral Joint Working Group on Digitalization to define priorities and foster work on concrete and substantial actions driving the digital transition.

The Finnish President emphasized the positive impact of the considerable number of Indian professionals in the Finnish R&D and tech innovation ecosystems, contributing to social and economic development by means of digital transition and sustainability for the benefit of all.

The Leaders noted with satisfaction the Joint Calls by the Indian Department of Science and Technology and Business Finland to provide RDI funding for joint initiatives of Indian and Finnish companies and research organizations with focus on semiconductors, 6G, and energy systems. They also took note of the cooperation framework between Bharat 6G Alliance and the University of Oulu, Finland, welcoming all efforts to further strengthen bilateral collaboration on 6G.

Furthermore, the Leaders welcomed the work between the Indian Ministry of Electronics and Information Technology and Business Finland to further explore avenues of RDI collaboration with special focus on AI, noting also the discussions between the Indian Centre for Development of Advanced Computing and the Finnish IT Centre for Science with respect to High-Performance Computing.

In the field of advanced technology, the Leaders also highlighted Space tech as an emerging area of collaboration with considerable future potential and active private sector engagement between Indian and Finnish players.

Sustainability

On sustainability, both Leaders underlined the great potential in advancing clean energy solutions, notably in areas such as low carbon transition, energy efficiency, biofuels, smart grids, and green hydrogen. In addition, they highlighted the importance of cooperation in circular economy, sustainable water management and meteorology.

To this end, the Leaders welcomed the establishment of a Joint Working Group on Sustainability, bringing together relevant actors from both countries to enhance collaboration on sustainability-related issues.

Moreover, the Leaders underscored the importance of implementing the Memorandum of Understanding on Cooperation in the field of Renewable Energy, encompassing many key areas of collaboration that contribute to sustainability, including bioenergy and waste-to-energy solutions, power storage and flexible RE systems, green hydrogen, as well as wind, solar and small hydro power.

They acknowledged the renewal of the Memorandum of Understanding on Environmental Cooperation, and collaboration under the Leadership Group for Industry Transition (LeadIT) and encouraged the parties to advance the deeper collaboration in circular economy, climate action, and sustainability.

Both sides acknowledged that the rapid deployment of Smart Energy solutions, including Advanced Metering Infrastructure (AMI) and other digital grid technologies, has enhanced efficiency while increasing cybersecurity risks to critical power infrastructure. They agreed to explore future areas of cooperation in promoting resilient, reliable and sustainable smart grid systems.

The Finnish President extended his appreciation to India for hosting the next World Circular Economy Forum in the later part of 2026, a Finnish initiative providing a platform to enhance circular economy solutions and bring together leading expertise in the search for new collaborative initiatives.

The Prime Minister of India acknowledged Finland’s active role in bringing together Indian, Finnish and other Nordic stakeholders in the framework of the Indo-Nordic Water Forum, promoting new collaborations and best practices in water resources management and wastewater management for circular economy solutions.

With respect to meteorological collaboration, the Leaders underscored the ongoing cooperation in aerosol monitoring and air quality forecasting between the Finnish Meteorological Institute (FMI) and the Indian Meteorological Department (IMD). They welcomed the work to establish a Virtual Research Center between FMI and the Indian Institute of Technology Madras (IITM), also taking note of the already ongoing FMI-IITM research collaboration with multilateral projects exceeding a total value of Euros 11 million.

The Leaders also took note of the exchange of experiences between the Indian Ministry of Rural Development and the National Land Survey of Finland and the Finnish Environment Institute, cities, and companies about Land Stack, an integrated GIS based digital platform of land and property information.

The Leaders welcomed the signing of Memorandum of Understanding on fostering cooperation in the field of Official Statistics which provides a framework for exchange of best practices, methodologies, and technical expertise in the area of official statistics.

Mobility, education, and people-to-people contacts

The Prime Minister of India and the President of Finland recognized the importance of people-to-people contacts in all fields, including skilled workers, specialists and young professionals, researchers and students, businesspersons, and academics, thereby nurturing economic prosperity, contributing to a rich social fabric, and enhancing mutual understanding.

In this context, the Leaders hailed the signing of a Memorandum of Understanding on Migration and Mobility Partnership, laying the frameworks for smooth, orderly, and mutually beneficial mobility for the years to come. Both sides agreed to take the steps required for the implementation of the MoU in a comprehensive and coordinated manner, that serves both India’s and Finland’s prosperity and economic growth. The Leaders also acknowledged the contacts between the respective Foreign Ministries, looking into possibilities of establishing bilateral dialogue on consular matters.

The Leaders took note of the Joint Statement endorsed by the High-Level Dialogue on Cooperation in Education (31 January 2024) and encouraged the relevant parties to accelerate their joint efforts to advance the common agenda, focusing on the agreed areas of secondary education, higher education, skill development, and student mobility.

In this context, they noted the growing interest in India towards the Finnish education system, the increasing cooperation in teacher training, as well as early childhood education institutions and schools that are being set up according to the Finnish model, as concrete expressions of the stakeholders’ shared will and commitment to continue developing the collaboration on education.

Furthermore, the Leaders highlighted the discussions on a bilateral audiovisual co-production agreement that will provide a solid frame to enhance cooperation in the film and gaming industries.

India-EU-relations

Both Leaders welcomed the new Joint India-EU Comprehensive Strategic Agenda, endorsed in the India-EU Summit on 27 January 2026, based on shared values and principles, mutual trust, converging interests, and shared political will. They agreed that India and the EU can be stable, predictable, and trusted partners, building a multifaceted and deepening long-term relationship with many positive outcomes for both sides.

The Leaders underlined that the conclusion of Free Trade Agreement takes the India-EU relations to a new level. In addition to clear economic benefits by enhancing market access and removing trade barriers, both Leaders noted that the FTA could support economic security and resilience through diversifying critical value chains and opening new markets.

As a platform to address key trade, technology, and economic security issues, the Leaders reaffirmed their support to further enhance the work of the India-EU Trade and Technology Council as the cornerstone of the India-EU technology partnership.

The Prime Minister of India and the President of Finland underscored that the signing of India-EU Security and Defense Partnership added another meaningful dimension to the India-EU Strategic Partnership that will deepen co-operation in areas of shared interests, including maritime security, defense industry, cyber and hybrid threats, space, as well as counter-terrorism.

The leaders lauded the signing of the MoU on Comprehensive Framework of Cooperation on Mobility and the launch of pilot European Union Legal Gateway Office in India.

Multilateral cooperation

The Leaders recognized the need to reform the UN system. In this context, they emphasized the importance of a comprehensive reform of the UN Security Council to make it more efficient, representative, inclusive, and reflective of contemporary geopolitical realities. The President of Finland reiterated Finland’s support for the permanent membership of India in a reformed UNSC.

The leaders underscored the vital role of cooperation within the United Nations and other international bodies to safeguard multilateralism and uphold a rules-based international order, including supporting mutual candidacies and nominations.

Both sides agreed to continue their constructive cooperation in multilateral fora, including on peace and security, human rights, sustainable development as well as climate change and biodiversity.

The Leaders reiterated their shared commitment to promoting a free, open, peaceful and prosperous Indo‑Pacific, in accordance with international law, including the UNCLOS. In this context, India welcomed Finland to join the Indo-Pacific Oceans Initiative.

Both leaders reaffirmed their commitment to further strengthening cooperation and dialogue on Arctic matters, including through joint research initiatives, academic exchanges, and capacity-building programmes. They took note of the first India–Finland Arctic Dialogue titled "The Himalayan and Arctic Ecosystems: India–Finland Partnership for a Sustainable Future” held in January 2026 in Rovaniemi, Finland, which brought together parliamentarians, government officials, academics and experts to deliberate on strategies and pathways for deepening collaboration on Arctic matters. Both leaders also underscored the importance of advancing cooperation in the structures of the Arctic Council, and within the broader framework of the India-Nordic Summit.

Both leaders unequivocally and strongly condemned terrorism and violent extremism in all its forms and manifestations, including cross-border terrorism. They called for decisive and concerted international efforts to combat terrorism in a comprehensive and sustained manner and in accordance with international law. They agreed to enhance cooperation to counter violent radicalization and extremism, combat financing of terrorism, promote internationally agreed anti‑money laundering standards, prevent exploitation of new and emerging technologies for terrorist purposes, and tackle terrorist recruitment. The leaders reaffirmed strong commitment to continue taking active measures to disrupt the terror financing channels including at the UN and FATF. They condemned in the strongest terms the terrorist attack in Pahalgam, Jammu and Kashmir on 22 April 2025 and the terror incident near Red Fort, New Delhi on 10 November 2025.

Both Leaders agreed to continue to support efforts towards the achievement of a comprehensive, just, and lasting peace in Ukraine through dialogue and diplomacy, based on the principles of the UN Charter and international law, including independence, sovereignty, and territorial integrity.

Conclusion

To take forward the cooperation under the India-Finland Strategic Partnership in Digitalization and Sustainability, the Leaders asked the respective Working Groups on Digitalization and Sustainability to develop a future-oriented and concrete Action Plan, including definition of priority areas and related actions, and report back to the Ministry for Foreign Affairs of the Republic of Finland and the Ministry of External Affairs of the Republic of India on the progress achieved.

The President of Finland thanked the Prime Minister of India for the excellent arrangements during his state visit, and both Leaders expressed their appreciation of the open and constructive dialogue, and the forward-reaching and evolving cooperation. They agreed to continue their interaction with a solid foundation in a shared spirit of mutual respect and collaboration. President Stubb invited Prime Minister Modi to pay a visit to Finland, and Prime Minister Modi accepted the invitation.