Share
 
Comments
ریاستی حکومتوں کو پہلے مرحلے میں 3 کروڑ صحت عملہ اور صف اوّل کے کارکنوں کی ٹیکہ کاری کا خرچ نہیں اٹھانا پڑے گا: وزیر اعظم
کو-ون ڈیجیٹل پلیٹ فارم ٹیکہ کاری مہم میں مدد کرے گا اور ٹیکہ کاری کا ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ جاری کرے گا
بھارت کو آئندہ کچھ مہینوں میں 30 کروڑ لوگوں کی ٹیکہ کاری کا ہدف حاصل کرنا ہے: وزیراعظم
برڈ فلو سے نمٹنے کا منصوبہ تیار، مستقل نگرانی انتہائی اہم: وزیر اعظم

نئی دہلی، 11/جنوری 2021 ۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 11 جنوری 2021 کو کووڈ-19 ٹیکہ کاری کی صورت حال اور تیاریوں کے جائزے کے لئے سبھی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے وزرائے اعلیٰ اور منتظمین کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی۔

وائرس کے خلاف تال میل پر مبنی لڑائی

 

وزیر اعظم نے سابق وزیر اعظم جناب لال بہادر شاستری کو ان کے یوم وفات پر خراج عقیدت پیش کیا۔ انھوں نے مرکز اور ریاستوں کے درمیان مسلسل تال میل اور گفت و شنید نیز وقت پر فیصلے کرنے کی ستائش کی، جس نے وائرس کے خلاف لڑائی میں ایک بڑا رول ادا کیا ہے۔ نتیجتاً متعدد دیگر ملکوں کے مقابلے میں وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وبا کی شروعات میں شہریوں کو خوف اور اندیشہ تھا، وہ اب ختم ہوگیا ہے اور بڑھتی خود اعتمادی کی جھلک مثبت طریقے سے اقتصادی سرگرمیوں پر بھی نظر آنے لگی ہے۔ انھوں نے اس لڑائی میں جوش کے ساتھ کام کرنے کے لئے ریاستی حکومتوں کی بھی ستائش کی۔

دنیا کی سب سے بڑی ٹیکہ کاری مہم

وزیر اعظم نے کہا کہ ملک دنیا کی سب سے بڑی ٹیکہ کاری مہم کی شروعات کے ساتھ، اس لڑائی کے فیصلہ کن مرحلے میں ہے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ یہ فخر کی بات ہے کہ دونوں ٹیکے، جن کے ہنگامی استعمال کا حق دیا گیا ہے، بھارت میں تیار کیے گئے ہیں۔ انھوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ دونوں منظور شدہ ٹیکے دنیا بھر کے دیگر ٹیکوں کے مقابلے انتہائی سستے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بھارت کو بڑی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا اگر وہ غیرملکی ٹیکوں پر منحصر رہتا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ٹیکہ کاری کے ساتھ بھارت کا وسیع تجربہ اس کوشش میں مفید ثابت ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ریاستوں کے ساتھ مشورے کے بعد ماہرین اور سائنس داں برادری کے مشورے کے مطابق ٹیکہ کاری کی ترجیحات طے کی گئی ہیں۔ سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کے صحت کارکنوں کو سب سے پہلے ٹیکہ لگایا جائے گا۔ اس کے علاوہ صفائی ملازمین، صف اوّل کے دیگر کارکنوں، پولیس اور نیم فوجی دستوں، ہوم گارڈ، آفات بندوبست رضاکار اور سول ڈیفنس سے وابستہ دیگر جوان، کانٹینمنٹ اور نگرانی سے جڑے دیگر ریوینیو اہلکار وں کو بھی پہلے مرحلے میں ٹیکہ لگایا جائے گا۔ ایسے عملہ کی کل تعداد تقریباً تین کروڑ ہے۔ وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ ریاستی حکومتوں کو پہلے مرحلے میں ان تین کروڑ لوگوں کو ٹیکہ لگانے کے لئے کوئی خرچ نہیں برداشت کرنا پڑے گا۔ انھوں نے کہا کہ یہ خرچ مرکز برداشت کرے گا۔

 

دوسرے مرحلے میں 50 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں اور 50 سے کم عمر کے ایسے لوگوں کو ٹیکے لگائے جائیں گے جنھیں پہلے سے کوئی بیماری ہے یا انفیکشن کا زیادہ خطرہ ہے۔ سبھی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ بنیادی ڈھانچے اور رسد کی تیاری کرلی گئی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ٹیکہ کاری کے لئے ڈرائی رن بھی ملک بھر میں کیے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کووڈ کے لئے ہماری نئی تیاریوں اور ایس او پی کو ہمہ گیر ٹیکہ کاری پروگرام چلانے اور ملک بھر میں انتخابات کرانے کے ہمارے پرانے تجربات سے جوڑا جانا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ انتخابات کے لئے استعمال کی جانے والی بوتھ سطح کی حکمت عملی کا استعمال یہاں بھی کیا جانا چاہئے۔

کو- وِن

وزیر اعظم نے کہا کہ اس ٹیکہ کاری مہم میں سب سے اہم عنصر ان لوگوں کی پہچان اور نگرانی ہے جنھیں ٹیکہ کاری کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے کو- وِن ڈیجیٹل پلیٹ فارم بنایا گیا ہے۔ آدھار کی مدد سے مستفیدین کی پہچان کی جائے گی اور ساتھ ہی وقت پر دوسری خوراک یقینی بنائی جائے گی۔ وزیر اعظم نے یہ یقینی بنانے کی اہمیت کو اجاگر کیا کہ ٹیکہ کاری سے متعلق ریئل ٹائم ڈیٹا کو- وِن پر اَپلوڈ کیا جائے گا

کسی شخص کو ٹیکے کی پہلی خوراک حاصل ہونے کے بعد کو – وِن فوراً ایک ڈیجیٹل ٹیکہ کاری سرٹیفکیٹ تیار کرے گا۔ یہ سرٹیفکیٹ دوسری خوراک کے لئے ریمائنڈر یعنی یاددہانی کے طور پر کام کرے گا، جس کے بعد ایک حتمی سرٹیفکیٹ دیا جائے گا۔

آئندہ کچھ مہینوں میں 30 کروڑ کا ہدف

 

وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت میں ٹیکہ کاری مہم اہم ہے، کیونکہ کئی دیگر ملک ہماری اتباع کرنے جارہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کووڈ-19 کے لئے ٹیکہ کاری گزشتہ 3 سے 4 ہفتے سے تقریباً 50 ملکوں میں چل رہی ہے اور اب تک تقریباً 2.5 کروڑ لوگوں کو ٹیکہ لگ پایا ہے۔ بھارت کا ہدف آئندہ کچھ مہینوں میں 30 کروڑ لوگوں کو ٹیکہ لگانا ہے۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ٹیکہ کے سبب کسی شخص کو تکلیف ہونے کی صورت میں مناسب بندوبست کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح کا نظم ہمہ گیر ٹیکہ کاری پروگرام کے لئے پہلے سے ہی ہے اور اس ٹیکہ کاری مہم کے لئے اسے اور مضبوط کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم نے اس کوشش میں کووڈ سے متعلق پروٹوکول پر عمل درآمد کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ یہ کہتے ہوئے کہ جو لوگ ٹیکہ حاصل کررہے ہیں انھیں وائرس کے کسی بھی پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ان احتیاطوں پر عمل کرنا جاری رکھنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ سبھی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو جانچ میں ٹیکہ کاری سے متعلق افواہوں پر قدغن لگانے کا نظم کرنا ہوگا۔ اس کے لئے مذہبی اور سماجی تنظیموں، این وائی کے، این ایس ایس، ایس ایچ جی وغیرہ سے مدد لی جانی چاہئے۔

برڈ فلو کے چیلنج سے نمٹنا

وزیر اعظم نے کیرالہ، راجستھان، ہماچل پردیش، گجرات، ہریانہ، اترپردیش، مدھیہ پردیش، دہلی اور مہاراشٹر سمیت 9 ریاستوں میں برڈ فلو پھیلنے پر بھی گفت و شنید کی۔ انھوں نے کہا کہ ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت نے اس مسئلہ سے نمٹنے کے لئے ایک منصوبہ بنایا ہے، جس میں ضلع مجسٹریٹوں کا اہم رول ہوگا۔ انھوں نے متاثرہ ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو اس کوشش میں اپنے ڈی ایم کی رہنمائی کرنے کے لئے کہا۔ انھوں نے کہا کہ دیگر ریاستوں میں جہاں برڈ فلو ابھی نہیں پہنچا ہے، وہاں مسلسل چوکسی برتی جانی چاہئے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ جنگلات، صحت اور مویشی پروری کے محکموں کے درمیان مناسب تال میل سے ہم جلد ہی اس چیلنج پر قابو پاسکیں گے۔

ٹیکہ کاری کی تیاری اور فیڈ بیک

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ کی قیادت میں کووڈ کا سامنا کرنے میں ملک نے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ریاستوں کے ذریعے اب تک اس دکھائے گئے تعاون کو ٹیکہ کاری مہم میں بھی جاری رکھا جانا چاہیے۔

وزرائے اعلیٰ نے ٹیکہ کاری کی شروعات پر خوشی کا اظہار کیا۔ انھوں نے ٹیکوں کے بارے میں کچھ امور اور تشاویش کا ذکر کیا، جنھیں میٹنگ میں واضح کیا گیا۔

مرکزی صحت سکریٹری نے ٹیکہ کاری مہم کی تیاریوں پر ایک پرزنٹیشن دیا۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ ٹیکہ کاری عوامی شراکت پر مبنی ہوگی اور موجودہ صحت خدمات نظام سے سمجھوتہ کئے بغیر مرحلہ طریقے سے بغیر کسی روک ٹوک کے اسے نافذ کیا جائے گا۔ انھوں نے اس مہم کے لئے لاجسٹک تیاریوں کا خاکہ بھی پیش کیا۔

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

20 تصاویر سیوا اور سمرپن کے 20 برسوں کو بیاں کر رہی ہیں۔
Mann KI Baat Quiz
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
India Inc raised $1.34 billion from foreign markets in October: RBI

Media Coverage

India Inc raised $1.34 billion from foreign markets in October: RBI
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs high level meeting to review preparedness to deal with Cyclone Jawad
December 02, 2021
Share
 
Comments
PM directs officials to take all necessary measures to ensure safe evacuation of people
Ensure maintenance of all essential services and their quick restoration in case of disruption: PM
All concerned Ministries and Agencies working in synergy to proactively counter the impact of the cyclone
NDRF has pre-positioned 29 teams equipped with boats, tree-cutters, telecom equipments etc; 33 teams on standby
Indian Coast Guard and Navy have deployed ships and helicopters for relief, search and rescue operations
Air Force and Engineer task force units of Army on standby for deployment
Disaster Relief teams and Medical Teams on standby along the eastern coast

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired a high level meeting today to review the preparedness of States and Central Ministries & concerned agencies to deal with the situation arising out of the likely formation of Cyclone Jawad.

Prime Minister directed officials to take every possible measure to ensure that people are safely evacuated and to ensure maintenance of all essential services such as Power, Telecommunications, health, drinking water etc. and that they are restored immediately in the event of any disruption. He further directed them to ensure adequate storage of essential medicines & supplies and to plan for unhindered movement. He also directed for 24*7 functioning of control rooms.

India Meteorological Department (IMD) informed that low pressure region in the Bay of Bengal is expected to intensify into Cyclone Jawad and is expected to reach coast of North Andhra Pradesh – Odisha around morning of Saturday 4th December 2021, with the wind speed ranging upto 100 kmph. It is likely to cause heavy rainfall in the coastal districts of Andhra Pradesh, Odisha & W.Bengal. IMD has been issuing regular bulletins with the latest forecast to all the concerned States.

Cabinet Secretary has reviewed the situation and preparedness with Chief Secretaries of all the Coastal States and Central Ministries/ Agencies concerned.

Ministry of Home Affairs is reviewing the situation 24*7 and is in touch with the State Governments/ UTs and the Central Agencies concerned. MHA has already released the first instalment of SDRF in advance to all States. NDRF has pre-positioned 29 teams which are equipped with boats, tree-cutters, telecom equipments etc. in the States and has kept 33 teams on standby.

Indian Coast Guard and the Navy have deployed ships and helicopters for relief, search and rescue operations. Air Force and Engineer task force units of Army, with boats and rescue equipment, are on standby for deployment. Surveillance aircraft and helicopters are carrying out serial surveillance along the coast. Disaster Relief teams and Medical Teams are standby at locations along the eastern coast.

Ministry of Power has activated emergency response systems and is keeping in readiness transformers, DG sets and equipments etc. for immediate restoration of electricity. Ministry of Communications is keeping all the telecom towers and exchanges under constant watch and is fully geared to restore telecom network. Ministry of Health & Family Welfare has issued an advisory to the States/ UTs, likely to be affected, for health sector preparedness and response to COVID in affected areas.

Ministry of Port, Shipping and Waterways has taken measures to secure all shipping vessels and has deployed emergency vessels. The states have also been asked to alert the industrial establishments such as Chemical & Petrochemical units near the coast.

NDRF is assisting the State agencies in their preparedness for evacuating people from the vulnerable locations and is also continuously holding community awareness campaigns on how to deal with the cyclonic situation.

The meeting was attended by Principal Secretary to PM, Cabinet Secretary, Home Secretary, DG NDRF and DG IMD.