عزت مآب۔صدر بائیڈن

سپلائی چین کے لچیلے پن کے اس اہم موضوع پر اس کانفرنس کی پہل کرنے کے لئے میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔آپ نے عہدہ سنبھالتے ہی کہا تھا :‘امریکہ از بیک’ اور اتنے کم وقت میں ہم سب ،یہ  ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں اور اس لئے میں کہوں گا :‘ویلکم بیک’۔

معززین ،

عالمی وبا کے شروعاتی مہینوں میں ہم سبھی ملکوں میں ضروری دواؤں،صحت سے متعلق  آلات اور ویکسین بنانے کیلئے خام مال کی کمی محسوس کی گئی ۔اب جب دنیا معاشی بحالی کی کوششوں میں مصروف ہے تو سیمی کنڈکٹرس اور دیگر اشیا ءکی سپلائی میں مشکلات ، صحت مند ترقی کے آگے آڑے آرہی ہیں۔دنیا میں کس نے سوچا تھا کہ کبھی شیپنگ کنٹینرس کی قلت ہوجائے گی ؟

معززین،

ویکسین کی عالمی سپلائی سدھارنے کیلئے ہندوستان نے ویکسین کے درآمد میں تیزی بڑھائی ہے ۔ہم اپنے کوویڈ پارٹنرس کے ساتھ بھی انڈو ۔پیسفک علاقہ میں بہتر اور کفایتی کووڈ-19 ویکسین کی فراہمی کرنے کے لئے کام کررہے ہیں۔اگلے سال ہندوستان کی تیاری،دنیا کے لئے پانچ بلین کووڈویکسین ڈوز بنانے کی ہے۔اس کے لئے بھی بہت ضروری ہے کہ خام مال (را میٹریل) کی سپلائی میں کوئی اڑچن نہ آئے ۔

معززین،

میرا یہ ماننا ہے کہ گلوبل سپلائی چینز  کو بہتر بنانے کے لئے تین پہلو سب سے اہم ہیں:معتبر ذرائع ،شفافیت اور ٹائم فریم ۔یہ ضروری ہے کہ ہماری سپلائی معتبر ذرائع سے ہو۔یہ ہماری مشترک سیکیورٹی کے لئے بھی اہم ہے۔معتبر ذرائع بھی ایسے ہونے چاہئے جو فوری رد عمل کی ذہنیت سے متاثر نہ ہوں تاکہ سپلائی چین کو جیسے کو تیسا طریقۂ کار سے محفوظ رکھا جائے۔سپلائی چین کی معتبر یت کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس میں شفافیت ہو ۔شفافیت نہ ہونے کی وجہ سے ہی آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا کی بہت ساری کمپنیوں کو چھوٹی چھوٹی چیزوں کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لازمی اشیا ءکی سپلائی اگر وقت پر نہ ہو،تو بڑا نقصان کرتی ہے۔یہ ہم نے کورونا کے اس دور میں فارما اور میڈیکل سپلائی میں واضح طور پر دیکھا اور محسوس کیا ہے ۔اس لئے ٹائم ۔فریم میں سپلائی کو یقینی بنانے کیلئے ہمیں ہماری سپلائی چینز کو ڈائیورسی فائی کرنا ہوگااور اس کے لئے ترقی پذیر ممالک میں متبادل مینوفیکچرنگ صلاحیت کو فروغ دینا ہوگا۔

ہندوستان نے فارما سیوٹکلس ،آئی ٹی اور دوسری اشیا ءکے معتبر ذرائع کے طور پر اپنی ساکھ بنائی ہے۔ہم تین ٹیکنالوجی سپلائی چینز میں بھی اپنا کردار نبھانے کیلئے تیار ہیں ۔میرا مشورہ ہے کہ ہم اپنی ٹیم کو ہدایت دیں کہ وہ مقررہ وقت کی حد میں ،ہماری مشترک جمہوری اقدار کی بنیاد پر آگے کا عملی منصوبہ بنانے کیلئے فوراً ملیں۔

شکریہ!

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Third India-Nordic Summit: Nordic nations to invest $100 bn in 15 years

Media Coverage

Third India-Nordic Summit: Nordic nations to invest $100 bn in 15 years
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister shares a Sanskrit Subhashitam emphasising that well-ordered standards must guide human conduct
May 20, 2026

Prime Minister Shri Narendra Modi today shared a Sanskrit Subhashitam, noting that righteous conduct is like a lamp that illuminates not only an individual but the entire society. Shri Modi highlighted that adopting this very ideal, the people of our country are engaged in nation-building today with complete restraint, capability, and devotion to duty.

The Prime Minister posted on X:

"श्रेष्ठ आचरण वह दीपक है, जिससे व्यक्ति के साथ-साथ समाज भी आलोकित होता है। इसी आदर्श को अपनाते हुए हमारे देशवासी आज पूरे संयम, सामर्थ्य और कर्तव्यनिष्ठा से राष्ट्र निर्माण में जुटे हुए हैं।

तस्माच्छास्त्रं प्रमाणं ते कार्याकार्यव्यवस्थितौ।
ज्ञात्वा शास्त्रविधानोक्तं कर्म कर्तुमिहार्हसि।।"

The determination of what ought to be done and what ought not to be done should not rest upon subjective opinion or momentary impulse but upon a well-ordered standard grounded in the Śāstra, which imparts direction and discipline to conduct. Therefore, a person ought to act in accordance with that established system of standards, so that one's conduct becomes balanced, validated and meaningful.