عالی مرتبت، صدر پربووو،

دونوں ممالک کے مندوبین ،

میڈیا کے ساتھیو،

نمسکار!

سلامت سیانگ!

سب سے پہلے، میں اس پُرتپاک اور گرمجوشی سے استقبال کے لیے اپنے دوست صدر پربووو کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

گزشتہ سال بھارت کے یومِ جمہوریہ پر بحیثیت مہمانِ خصوصی ہمیں ان کا استقبال کرنے کا موقع ملا تھا۔ اور آج، ان کی محبت بھری دعوت پر انڈونیشیا کا دورہ کرتے ہوئے مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔

آج صبح مجھے انتہائی محبت اور احترام کے ساتھ انڈونیشیا کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ یہ اعزاز کروڑوں بھارتی باشندوں کا ہے، انڈونیشیا کے عوام کے جذبات کا ہے، اور بھارت و انڈونیشیا کے تاریخی و دلی تعلقات کا آئینہ دار ہے۔ میں صدر پربووو جی، انڈونیشیا کی حکومت اور یہاں کے عوام کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

 

ساتھیو،

گزشتہ برسوں میں بھارت اور انڈونیشیا کے تعلقات میں ایک نئی توانائی، ایک نیا اعتماد اور ایک نئی گہرائی آئی ہے۔

2018 میں قائم ہونے والی ہماری پالیسی پر مبنی جامع شراکت داری آج ایک نئی اڑان بھر رہی ہے۔ ہم ترقی، سیکیورٹی، ٹیکنالوجی، ثقافت اور تعلیم، غرض ہر شعبے میں اہم اقدامات کر رہے ہیں۔

مجھے پورا یقین ہے کہ آج سے بھارت-انڈونیشیا شراکت داری کے ایک سنہرے باب کا آغاز ہوگا۔ اور اس سنہرے باب کے انتہائی مثبت اثرات اکیسویں صدی کی دنیا اور پوری انسانیت پر مرتب ہوں گے۔

ساتھیو،

ہمارے ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا اعتماد ہمارے دفاع، سلامتی اور بحری تعاون کو مضبوط کر رہا ہے۔ آج ہم نے ڈیفنس ایکسچینج، آفات سے نمٹنے کے انتظام اور صنعتی تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

اب دونوں ممالک کے کوسٹ گارڈز بحرِ ہند میں بحری تحفظ اور سیکیورٹی کے لیے مل کر کام کریں گے۔ دو قریبی بحری پڑوسی ممالک ہونے کے ناطے، ہم نے بحری معیشت، بندرگاہوں کی ترقی اور بحری تجارت میں بھی آپسی تعاون کو بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ساتھیو،

بھارت اور انڈونیشیا کے لیے غریبی کو شکست دینا اور اپنے شہریوں تک فلاحی اسکیموں کا فائدہ پہنچانا اولین ترجیح ہے۔ ہم نے انڈونیشیا کے ساتھ اپنی ’مڈ ڈے میل‘اسکیم اور سرکاری نظام تقسیم  کے طریقہ کار شیئر کیے ہیں۔ اب ہم اس تعاون کو اگلے مرحلے  پر لے جا رہے ہیں۔

ہمارا طبی تعاون ، دونوں ممالک میں معیاری صحت کی خدمات کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ آج ہونے والے معاہدے سے بھارت کی اعلیٰ معیار اور سستی دوائیں انڈونیشیا کے شہریوں کو مزید آسانی سے دستیاب ہوں گی۔

ہم انڈونیشیا کے ڈاکٹروں اور ہیلتھ کیئر ورکرز کی استعداد کار بڑھانے  میں بھی اپنا تعاون دیں گے۔ بھارت میں تیار کیے گئے گندم کے بیجوں کی سپلائی سے انڈونیشیا کی غذائی سلامتی مزید مضبوط ہوگی۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ پائیدار کاشتکاری اور زرعی  ٹیکنالوجی میں بہترین طریقوں کا تبادلہ بھی کریں گے۔

ساتھیو،

اکیسویں صدی ٹیکنالوجی سے چلنے والی صدی ہے۔ بھارت اور انڈونیشیا، دونوں ہی نوجوان توانائی سے بھرپور ممالک ہیں۔ ہمارے نوجوانوں میں ٹیکنالوجی کی طرف قدرتی رجحان  پایا جاتا ہے۔

 

ہم نے اپنے نوجوانوں کے درمیان اے آئی ، ٹیلی کام اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر جیسے شعبوں میں ٹیکنالوجی کے تعاون کو بڑھانے کے لیے آج ایک اہم معاہدہ کیا ہے۔ ہم دونوں ممالک کے درمیان اسٹارٹ اپس  کے تعاون کو مزید مضبوط کرنے پر بھی متفق ہوئے ہیں۔

ہم انڈونیشیا میں بھارت کے معتبر مینجمنٹ ادارے، آئی آئی ایم بنگلورو  کا کیمپس کھولنے جا رہے ہیں۔ اس سے پورے آسیان  خطے کے نوجوانوں کو بہت فائدہ ہوگا۔

خلائی شعبے میں بھی ہمارے درمیان دہائیوں پرانا اور قابلِ اعتماد تعاون رہا ہے۔ اسے آگے بڑھاتے ہوئے آج اسپیس سیکٹر میں مشترکہ تحقیق ، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور استعداد کار بڑھانے سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔

ساتھیو،

آج کے دور میں، ٹیکنالوجی کی ’’سپلائی چین کی لچک‘‘بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اہم معدنیات اور اسٹیل کے شعبے میں سپلائی چین کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بھی اہم معاہدہ ہوا ہے۔ ہماری کمپنیوں کے درمیان اسٹین- لیس اسٹیل اور نایاب زمینی مقناطیس  کو لے کر شراکت داری کی ایک نئی شروعات ہو رہی ہے۔

ساتھیو،

عوام کا عوام سے رابطہ ہمارے تعلقات کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ ہمیں بے حد خوشی ہے کہ بھارت کا یو پی آئی انڈونیشیا کے پیمنٹ سسٹم کے ساتھ جڑنے جا رہا ہے۔ اس سے کاروبار کرنے میں آسانی  اور سفر کرنے میں آسانی، دونوں کو ہی تقویت ملے گی۔

ساتھیو،

کل، صدر پربووو کے ساتھ مجھے یوگیاکارتا میں ’پرمبانن مندر‘ کے تحفظ و بحالی کے منصوبے  کا آغاز کرنے کا شرف حاصل ہوگا۔ ایک ہزار سال سے بھی زیادہ پرانا پرمبانن مندر بھارت اور انڈونیشیا کے مشترکہ ثقافتی ورثے کی علامت ہے۔

 

ہم دونوں ممالک گرو دیو رابندر ناتھ ٹیگور کے تاریخی دورہِ انڈونیشیا کی صد سالہ تقریب بھی دھوم دھام سے منائیں گے۔ انڈونیشیا کے ترقیاتی سفر میں یہاں کے عظیم ماہرِ تعلیم اور پہلے وزیرِ تعلیم ’دیوانترا جی‘ کا نمایاں کردار رہا ہے۔ تعلیم کے حوالے سے ان کے نظریات پر گرو دیو ٹیگور کی سوچ کا گہرا اثر تھا۔ اسی لیے بھارت اور انڈونیشیا اس صد سالہ سال کو ’’ٹیگور اور دیوانترا ثقافتی و تعلیمی سفارت کاری کا سال‘‘ کے طور پر منائیں گے۔

ساتھیو،

جمہوری اقدار اور کثرت میں وحدت ، بھارت اور انڈونیشیا کی مشترکہ طاقت رہی ہیں۔ دونوں ممالک کے الیکشن کمیشنز کے درمیان ہونے والے معاہدے (ایم او یو) سے ہم اپنے جمہوری تعاون کو مزید مضبوط کرنے جا رہے ہیں۔

ساتھیو،

عالمی مسائل پر بھی بھارت اور انڈونیشیا کا تعاون مسلسل بڑھ رہا ہے۔ بحرِ ہند و بحرِ الکاہل کے خطے کے حوالے سے ہمارے نقطہِ نظر میں گہرا تال میل  ہے۔ بھارت نے ہمیشہ ’’آسیان کی مرکزیت‘‘کو خاص اہمیت دی ہے۔

عالمی اتھل پتھل کے اس دور میں بھارت کا یہ ماننا ہے کہ مذاکرات اور سفارت کاری  کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ فلسطین کے معاملے پر، ہم دو ملکی حل اور طویل مدتی امن کی حمایت کرتے ہیں۔

ساتھیو،

ایک سنہرا دور ہم دونوں ممالک کے سامنے دستک دے رہا ہے۔

ہماری تاریخ میں مشترکہ ثقافت ہے،

ہمارے حال میں مشترکہ اعتماد ہے،

اور ہمارے مستقبل میں مشترکہ خوشحالی ہے۔

مجھے پورا یقین ہے کہ ہم مل کر انڈونیشیا ’’ایماس‘‘ (انڈونیشیا کا سنہرا وژن) اور  وِکست بھارت کے عزم کو حقیقت کا روپ دیں گے۔

بہت بہت شکریہ۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
New Smart Drug RK-251 Developed as Replacement for Chemotherapy

Media Coverage

New Smart Drug RK-251 Developed as Replacement for Chemotherapy
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM interacts with CEOs and Founders of Space Startups
August 21, 2026
CEOs highlight growing interest shown from across the world in adopting and leveraging technologies developed by India’s space industry
CEOs appreciate decision of Opening Space Sector to Private Participation Created saying it created multiple New Opportunities
PM Calls for Wider Applications of Space Technology to Improve Lives of people
PM says India’s Space Sector Can Become a Magnet for Global Talent, Companies and Investment
PM emphasises greater collaboration Between Space Industry and other social development sectors
PM suggests greater collaboration with Atal Tinkering Labs to Nurture Curiosity and Interest Among Young Minds for Space

Prime Minister Shri Narendra Modi interacted with CEOs and Founders of 20 Space Startups at Seva Teerth, earlier today.

CEOs of leading companies in the space sector working in diverse fields ranging from building rockets and reusable semi-cryogenic launch vehicles, avionics, satellites, advanced propulsion system, space and defence intelligence, removing space debris, AI-powered hyperlocal weather and climate intelligence, among others, participated in the interaction. They highlighted the rapid progress being made by India’s private space industry and shared their vision for the sector’s future. They shared that they have put in significant time and effort in building their capabilities and required technologies indigenously in the country, while expressing gratitude for the support received from the Prime Minister. They also highlighted the strong support from the government and collaboration within the industry, noting that their teams are highly motivated and working with determination to achieve ambitious goals in the space sector.

They recalled that opening the space sector to private participation had generated significant enthusiasm and created new opportunities for industry. They also said that several companies have shown interest in adopting and leveraging technologies developed by India’s emerging private space industry.

Prime Minister congratulated the leaders of the space sector for showing courage and taking the lead in a new area. He said that the confidence shown by the sector has strengthened the vision with which the space sector was opened to private participation. He noted that many countries either cannot invest in the space sector or do not wish to invest in it. This gives India a major opportunity to rapidly strengthen its position in the global space sector.

Prime Minister encouraged space companies to explore new applications of their technologies and focus on how these can make people's lives easier.

Prime Minister suggested greater collaboration between space sector companies with companies working in other sectors. Companies working on space debris could work with environmental organisations to scale up their technologies. Space technology companies working with the agriculture sector could collaborate with agricultural universities and departments to help farmers make better informed decisions and maximise their output.

Prime Minister called for creating an ecosystem and an environment where, when the world thinks of space, it looks towards India. He said that India’s space sector can act as a magnet to attract global talent, companies and investment to the country.

He called for closer collaboration with Atal Tinkering Labs. He said this can create curiosity and interest in the space sector among young children from an early age.

The interaction saw participation from CEOs and Founders of 20 startups working in space sector including Skyroot Aerospace, Agnikul Cosmos, Pixxel, Dhruva Space, GalaxEye, PierSight, Bellatrix Aerospace, Digantara, SatSure, Suhora Technologies, Manastu Space, Astrobase, TakeMe2Space, VyomIC, Cosmoserve Space, OrbitAID Aerospace, SkyServe (Hyspace), Serendipity Space, Vassar Labs and mistEO.