اگالیگا جزیرے پرچھ کمیونٹی ڈیولپمنٹ پروجیکٹوں کا افتتاح کیا
ماریشس بھارت کا ایک قابل قدر دوست ہے؛ آج جن پروجیکٹوں کاافتتاح کیا جارہا ہے ، وہ دونوں ملکوں کے درمیان شراکت داری میں مزید اضافہ کریں گے
"ماریشس ہماری ‘پڑوس پہلے’ پالیسی کا ایک اہم شراکت دار ہے"
"بھارت، اپنے دوست ماریشس کے لئے سب سے پہلے پہنچنے والا ملک رہا ہے "
"بھارت اور ماریشس سمندری سلامتی کے شعبےمیں قدرتی شراکت دار ہیں"
"ماریشس ، ہماری جن اوشدھی اقدام میں شامل ہونے والا پہلا ملک ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی ماریشس کے عوام بہتر کوالٹی کی میڈ ان انڈیا جنرک ادویات کا فائدہ اٹھاسکیں گے

وزیر اعظم جناب نریندر مودی اور ماریشس کے وزیر اعظم عزت مآب جناب پروِند جگناتھ نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ماریشس کے اگالیگا جزیرے میں کمیونٹی ڈیولپمنٹ کے چھ پروجیکٹوں کے ساتھ ساتھ ایک نئی ہوائی پٹی اور سینٹ جیمز جیٹی کا مشترکہ طور پر افتتاح کیا۔ ان پروجیکٹوں کا افتتاح بھارت اور ماریشس کے درمیان مضبوط اور دہائیوں پرانی ترقیاتی شراکت داری کا منہ بولتا ثبوت ہے اور یہ مین لینڈ ماریشس اور اگالیگا جزیرے کے درمیان بہتر رابطے کی مانگ کو پورا کرے گا، بحری سیکورٹی کو مستحکم کرے گا اور سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ دے گا۔ ان پروجیکٹوں کا افتتاح اہم ہے، کیونکہ یہ 12 فروری 2024 کو دونوں رہنماؤں کے ذریعہ ماریشس میں یو پی آئی  اور  رو-پے کارڈ خدمات کے حالیہ آغاز کے بعد کیا گیا ہے۔

ماریشس کے وزیر اعظم عزت مآب  جناب پروِند جگناتھ نے کہا کہ بھارت اور ماریشس آج ماریشس کے اگالیگا جزیرے میں نئی ائیر ہوائی پٹی اور سینٹ جیمز جیٹی کے ساتھ ساتھ چھ کمیونٹی ڈیولپمنٹ پروجیکٹوں کےمشترکہ افتتاح کے ساتھ تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ اس تقریب کو دونوں ممالک کے درمیان مثالی شراکت داری کی علامت قرار دیتے ہوئے، وزیر اعظم جگناتھ نے ماریشس- بھارت تعلقات کو ایک نئی جہت دینے کے لیے وزیر اعظم مودی کا شکریہ ادا کیا اور آج ان کے موجود  رہنے کے لیے ممونیت کا اظہار کیا۔  وزیراعظم جگناتھ نے کہا کہ"اگالیگا جزیرے میں ایک نئی ہوائی پٹی اور جیٹی کی سہولت کا قیام ماریشس کے عوام کے خواب کو پوا کرنے والاہے"، انہوں نے پورے پروجیکٹ  میں مالی تعاون کے لئے  بھارت کی ستائش کی۔  انہوں نے ماریشس کی حکومت اور عوام کی جانب سے وزیر اعظم مودی کا بھارت میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اس جزیرائی ملک پر خصوصی توجہ دینے کے لیے تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پوری دنیا میں وزیر اعظم مودی کی مضبوط قیادت اور مدبرانہ صلاحیتوں کی تعریف کی اور اس بات پر زور دیا کہ بھارت نژاد افراد نے خود کو  اقدار، علم اور کامیابی کے ایک عالمی پاور ہاؤس کے طور پر قائم کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماریشس 'جن اوشدھی اسکیم' کو اپنانے والا پہلا ملک بن گیا ہے،  جو بھارت کے فارماسیوٹیکلز اینڈ میڈیکل ڈیوائسز بیورو سے تقریباً 250 اعلیٰ معیار کی دوائیاں حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے اور  اس طرح ماریشس کے لوگوں کو بڑے پیمانے پر فائدہ پہنچے گا  اور  دونوں ملکوں  کے درمیان شراکت داری کو مزید رفتار حاصل ہو گی۔  وزیر اعظم جگناتھ نے اپنے خطاب کا اختتام ،وزیر اعظم مودی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کیا کہ ماریشس کو اس طرح کے بڑے تبدیلی کے منصوبوں کو پورا کرنے میں مدد ملے گی، جو کہ ترقی کے مقاصد کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ سمندری نگرانی اور سیکورٹی میں صلاحیتوں اور کارکردگی میں نمایاں اضافہ کریں گے۔

 

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ماریشس کے معزز وزیر اعظم جناب پروند جگناتھ کے ساتھ  پچھلے  6 ماہ کے دوران یہ ان کی پانچویں ملاقات ہے، جو بھارت اور ماریشس کے درمیان ایک متحرک، مضبوط اور منفرد شراکت داری کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماریشس بھارت کی ’’پڑوسی پہلے پالیسی‘‘ کا کلیدی ساجھیدار ہے اور ویژن ساگر کے تحت ایک خصوصی پارٹنر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ "گلوبل ساؤتھ کے ممبران کے طور پر، ہماری ترجیحات یکساں  ہیں اور گزشتہ 10 سالوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بے مثال رفتار دیکھنے میں آئی ہے اور باہمی تعاون کی نئی بلندیاں حاصل کی گئی ہیں"۔  قدیم لسانی اور ثقافتی تعلقات  کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے یو پی آئی اور رو-پے کارڈ  کو یاد کیا، جنہوں نے تعلقات کو جدید ڈیجیٹل کنیکٹی وٹی فراہم کی ہے۔

 

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ترقیاتی شراکت داری دونوں ممالک کے درمیان سیاسی شراکت داری کے بنیادی ستون ہیں اور یہ کہ ہندوستان کی طرف سے ترقیاتی شراکتیں ماریشس کی ترجیحات پر مبنی ہیں، خواہ وہ ای ای زیڈ کی سکیورٹی  ہو یا صحت کی سلامتی۔ وزیر اعظم نے جزیرائی ملک کے لیے  بھارت کی دیرینہ حمایت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ "ہندوستان نے ہمیشہ ماریشس کی ضروریات کا احترام کیا ہے اور ہمیشہ  سب سے پہلے  پہنچنے والا رہا،چاہے وہ کووڈ وبا ہو یا سمندر میں تیل کا پھیلاؤ" ۔  انہوں نے کہا کہ بھارت کا بنیادی مقصد ماریشس کے لوگوں کے لئے ایک مثبت تبدیلی  لاناہے۔ گزشتہ 10 سالوں میں، وزیر اعظم نے بتایا کہ ہندوستان نے ماریشس کے لوگوں کو 400 ملین امریکی ڈالر کی امداد کے ساتھ 1,000 ملین امریکی ڈالر کی کریڈٹ لائن کو بڑھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ  بھارت کی یہ خوش قسمتی ہے کہ وہ ماریشس میں میٹرو ریل لائنوں، کمیونٹی ڈیولپمنٹ پروجیکٹس، سوشل ہاؤسنگ، ای این ٹی اسپتال، سول سروس کالج اور اسپورٹس کمپلیکس کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں تعاون  فراہم کرنے میں شامل رہا۔

وزیر اعظم نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ وہ اگالیگا کے لوگوں سے 2015 میں کئے گئے اپنے وعدے کو پورا کر سکیں ہیں۔  وزیراعظم نے کہا کہ ‘‘ ان دونوں اسے بھارت میں مودی کی گارنٹی  کہا جا رہا ہے،یہ سہولیات، جن کا آج مشترکہ طور پر افتتاح کیا گیا ہے، زندگی میں آسانی پیدا کریں گی”۔ یہ ماریشس کے شمالی اور جنوبی حصوں کے درمیان رابطے کو بہتر بنائے گی اور اصل سرزمین کے ساتھ انتظامیہ کے رابطے کو بہتر بنائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اسکولی بچوں کے لئے طبی خدمات اور نقل و حمل میں بہتری آئے گی۔

 

بحر ہند کے خطے میں روایتی اور غیر روایتی چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے، جو دونوں معیشتوں کو متاثر کرتے ہیں، پی ایم مودی نے کہا کہ بھارت اور ماریشس ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے بحری سلامتی میں قدرتی شراکت دار ہیں۔ "ہم بحر ہند کے علاقے میں سلامتی، خوشحالی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے سرگرمی سے کام کر رہے ہیں۔ بھارت کے وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ‘‘ ہم تمام شعبوں میں، جیسے خصوصی اقتصادی زون کی نگرانی، مشترکہ گشت، ہائیڈروگرافی، اور انسانی امداد اور قدرتی آفات سے ریلیف میں تعاون کر رہے ہیں"۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگالیگا میں فضائی پٹی اور جیٹی کاآج کا افتتاح دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دے گا اور ماریشس کی بحری معیشت کو بھی مستحکم کرے گا۔

ماریشس میں جن آیوشدھی کیندروں کے قیام کے وزیر اعظم جگناتھ کے فیصلے کی ستائش کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس کے ساتھ ماریشس بھارت کے جن اوشدھی پہل میں شامل ہونے والا پہلا ملک بن گیا ہے، جس سے ماریشس کے لوگوں کو بہتر معیار کی میڈ ان انڈیا جینرک ادویات سے فائدہ پہنچے گا۔

خطاب کا اختتام کرتے ہوئے ، وزیر اعظم نے اپنے ماریشین کے ہم منصب کو ان کی دور اندیشی اور فعال قیادت کے لیے مبارکباد دی۔ انہوں نے اس یقین  کا اظہار کیا کہ بھارت اور ماریشس کے تعلقات آنے والے وقت میں نئی بلندیوں کو حاصل کریں گے۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets

Media Coverage

PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister hold talks with Myanmar President U Min Aung Hlaing
June 01, 2026

The Prime Minister, Shri Narendra Modi, today held productive talks with the President of Myanmar, U Min Aung Hlaing.

The Prime Minister noted that India is honoured that President U Min Aung Hlaing chose India for his first foreign visit as President. He also expressed happiness that the President began his programme in India from Bodh Gaya with the blessings of Lord Buddha.

During the talks, the two leaders reviewed the full range of India-Myanmar relations and discussed ways to further strengthen bilateral cooperation.

The discussions covered avenues to deepen cooperation in trade, rare earths, healthcare, connectivity, heritage restoration and capacity building. The two sides also agreed to work closely in areas such as maritime security, cyber security and other sectors of mutual interest.

The Prime Minister underlined that Myanmar is vital to India’s ‘Neighbourhood First’, ‘Act East’ and Indo-Pacific policies, reaffirming the importance India attaches to its relations with Myanmar.

The Prime Minister wrote on X;

“Had a productive meeting with President U Min Aung Hlaing of Myanmar. We in India are honoured that he has chosen India for his first foreign visit as President. Equally gladdening is the fact that he began the visit from Bodh Gaya, with the blessings of Lord Buddha. We reviewed the full range of India-Myanmar relations. Myanmar is vital to India’s policies of ‘Neighbourhood First’, ‘Act East’ and Indo-Pacific.”

“Our talks covered ways to deepen cooperation in trade, rare earths, healthcare, connectivity, heritage restoration and capacity building. We also agreed to work closely in areas such as maritime security, cyber security and more.”