ایمرجنسی کے خلاف تحریک سے ہمارے جمہوری ڈھانچے کو محفوظ رکھنے کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے: وزیر اعظم

ملک میں ایمرجنسی نافذ ہونے کے پچاس سال مکمل ہونے کے موقع پر ، وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج اُن بے شمار ہندوستانیوں کو دل سے خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے  ملک کی تاریخ کے ایک سیاہ دور کے دوران جمہوریت کے تحفظ کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہوئے۔

وزیر اعظم نے آئینی اقدار پر ہونے والے سنگین حملے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ 25 جون کو ‘‘سموِدھان ہتیہ دوس’’کے طور پر منایا جائے گا- وہ دن جب بنیادی حقوق معطل کر دیے گئے، صحافت کا گلا گھونٹا گیا، اور بے شمار سیاسی رہنماؤں، سماجی کارکنوں، طلبہ اور عام شہریوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا۔

جناب نریندر مودی نے آئین میں درج اصولوں کو مزید مضبوط کرنے کے تئیں اپنےعزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایک ‘‘وکست بھارت’’کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے مل جل کر کام کرنا ہوگا۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ایمرجنسی کے خلاف تحریک ایک سبق آموز تجربہ تھی، جس سے ہمارے جمہوری نظام کو محفوظ رکھنے کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔

آخر میں جناب نریندرمودی نے اُن تمام لوگوں سے جو ان سیاہ دنوں کے گواہ ہیں یا جن کے خاندانوں کو اس دور میں  اذیتیں پہنچائی گئیں ،ان سے اپیل کی کہ وہ اپنی یادیں سوشل میڈیا پر شیئر کریں تاکہ نوجوان نسل کو 1975 سے 1977 کے اُس شرمناک دور سے آگاہ کیا جا سکے۔

انہوں نے ‘ایکس’ پر سلسلہ وار پوسٹ میں لکھا:

‘‘آج ہندوستان کی جمہوری تاریخ کے تاریک ترین ابواب میں سے ایک ، ایمرجنسی کے نفاذ کے پچاس سال پورے ہو رہے ہیں ۔ ہندوستان کے لوگ اس دن کو ‘سمودھان ہتیہ دیوس’ کے طور پر مناتے ہیں ۔ اس دن دستور ہند میں درج اقدار کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ، بنیادی حقوق معطل کر دیے گئے ، پریس کی آزادی ختم کر دی گئی اور سیکڑوں  سیاسی رہنماؤں ، سماجی کارکنوں ، طلبہ اور عام شہریوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا ۔ یہ ایسی کارروائی تھی جیسے اس وقت برسراقتدار کانگریس حکومت نے جمہوریت کو اپنی گرفت میں لے لی ہو! # Samvidhan Hatya Diwas’’

انہوں نے دوسری پوسٹ میں کہا کہ ‘‘کوئی بھی ہندوستانی شہری اس طریقے کو کبھی نہیں بھولے گا جس طرح  ہمارے دستور کی روح کی پامالی کی گئی ، پارلیمنٹ کی آواز کو دبایا گیا اور عدالتوں کو کنٹرول کرنے کی کوششیں کی گئیں ۔ 42 ویں ترمیم ان کی سنگین کارستانی کی واضح مثال ہے ۔ غریبوں ، پسماندہ اور نچلے طبقے کےلوگوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا ، جس میں ان کے وقار کی توہین بھی شامل تھی ۔# Samvidhan Hatya Diwas’’

‘‘ہم ہر اس شخص کو سلام پیش کرتے ہیں جو ایمرجنسی کے خلاف جنگ میں ثابت قدم رہے! اس میں  پورے ہندوستان کے  لوگ ، زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد، متنوع نظریات سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے جنہوں نے ایک واحد مقصد کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کیا: ہندوستان کے جمہوری تانے بانے کی حفاظت کرنا اور ان نظریات کو محفوظ رکھنا جن کے لیے ہمارے مجاہدین آزادی نے  اپنی زندگیاں وقف کیں۔ یہ ان کی اجتماعی جدوجہد تھی جس نے اس بات کو یقینی بنایا کہ اس وقت کی کانگریس حکومت کو جمہوریت کو بحال کرنا پڑا اور نئے انتخابات کا مطالبہ ماننا پڑا ، جس میں اس کی شکست فاش ہوئی ۔ # Samvidhan Hatya Diwas’’

‘‘ہم اپنے آئین کے اصولوں کو مضبوط بنانے اور وکست بھارت کے اپنے وژن کو پورا کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں ۔ ہم ترقی کی نئی بلندیوں کو سر کرنا ہے اور غریبوں اور پسماندہ لوگوں کے خوابوں کو پورا کرنا ہے۔# Samvidhan Hatya Diwas’’

 

 

‘‘جب ملک میں ایمرجنسی لگائی گئی تھی ، تب میں آر ایس ایس کا نوجوان پرچارک تھا ۔ ایمرجنسی مخالف تحریک میرے لیے سیکھنے کا تجربہ تھا ۔ اس سے ہمارے جمہوری ڈھانچے کے تحفظ کی اہمیت کی توثیق ہوئی ۔ ساتھ ہی ، مجھے سیاسی حلقوں  کے لوگوں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ۔ مجھے خوشی ہے کہ بلیو کرافٹ ڈیجیٹل فاؤنڈیشن نے ان میں سے کچھ تجربات کو ایک کتاب کی شکل میں مرتب کیا ہے ، جس کی تمہید جناب ایچ ڈی دیو گوڑا جی نے لکھی ہے ، جو خود ایمرجنسی مخالف تحریک کے قدآوررہنما ہیں ۔

@BlueKraft

@H_D_Devegowda

 ’’#SamvidhanHatyaDiwas

 

 

‘‘‘دی ایمرجنسی ڈائریز’  میں ایمرجنسی کےبرسوں  کے دوران میرے سفر کا بیان ہے ۔ اس سے اس وقت کی بہت سی یادیں تازہ ہوگئی ہیں۔

میں اُن تمام لوگوں سے جو ان سیاہ دنوں کے گواہ ہیں یا جن کے خاندانوں کو اس دور میں  اذیتیں پہنچائی گئیں ،ان سے اپیل کرتاہوں  کہ وہ اپنی یادیں سوشل میڈیا پر شیئر کریں تاکہ نوجوان نسل کو 1975 سے 1977 کے اُس شرمناک دور سے آگاہ کیا جا سکے۔

’’#SamvidhanHatyaDiwas

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
On Puri’s Grand Road, a devotee’s submission

Media Coverage

On Puri’s Grand Road, a devotee’s submission
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister speaks with the Amir of Qatar
July 16, 2026
PM conveys heartfelt condolences on the passing of the Father Amir of Qatar
PM recalls the Father Amir’s visionary leadership and his contribution to strengthening India-Qatar relations
The two leaders reaffirm their resolve to carry forward the Father Amir’s legacy

Prime Minister Shri Narendra Modi had a telephone conversation today with the Amir of the State of Qatar, H.H. Sheikh Tamim bin Hamad Al Thani.

Prime Minister conveyed his heartfelt condolences on the passing of H.H. Sheikh Hamad bin Khalifa Al Thani, the Father Amir of Qatar.

Recalling the Father Amir’s significant contributions as the chief architect of modern Qatar, Prime Minister paid tribute to his visionary leadership, and recalled his pivotal role in strengthening India-Qatar relations over the years as well as his deep affection for India and the Indian community in Qatar.

The Amir of Qatar thanked Prime Minister for his call and conveyed his appreciation for the words of support in this difficult hour.

The two leaders reaffirmed their resolve to carry forward the Father Amir’s legacy and further strengthen the India-Qatar Strategic Partnership and people-to-people ties.

They agreed to remain in close touch.