آج ہم ان بہادر صاحبزادوں کو یاد کرتے ہیں، جو ہماری قوم کا فخر ہیں اور بھارت کی ناقابلِ تسخیر جرأت اور شجاعت کے اعلیٰ ترین اصولوں کی علامت ہیں: وزیرِ اعظم
ماتا گجری جی، سری گرو گوبند سنگھ جی اور چاروں صاحبزادوں کی جرأت اور اقدار ہر بھارتی کو ہمیشہ قوت عطا کرتی رہی ہیں: وزیرِ اعظم
بھارت نے نوآبادیاتی ذہنیت سے ہمیشہ کے لیے نجات حاصل کرنے کا عزم کر لیا ہے: وزیرِ اعظم
جیسے جیسے بھارت نوآبادیاتی ذہنیت سے آزاد ہو رہا ہے، اس کا لسانی تنوع ایک طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے: وزیرِ اعظم
جن زی اور جن الفا بھارت کو وِکست بھارت کے ہدف تک لے کر جائیں گے: وزیرِ اعظم

وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں ’ویر بال دیوس‘ کے موقع پر منعقدہ قومی پروگرام سے خطاب کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے ملک بھر سے آئے ہوئے مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور وہاں موجود بچوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ آج پورا ملک ویر بال دیوس منا رہا ہے۔ انہوں نے وندے ماترم کی خوبصورت پیشکش کو سراہتے ہوئے کہا کہ فنکاروں کی محنت اور لگن واضح طور پر ظاہر ہو رہی تھی۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ آج ہی کے دن قوم ان بہادر صاحبزادوں کو یاد کرتی ہے، جو بھارت کیلئے باعث فخر ہیں اور ناقابلِ شکست جرأت اور بہادری کی اعلیٰ ترین مثال ہیں، جناب مودی نے کہا کہ ان صاحبزادوں نے عمر اور حالات کی تمام حدیں عبور کر کے ظالم مغل سلطنت کے سامنے چٹان کی طرح ڈٹ کر مقابلہ کیا اور مذہبی انتہا پسندی اور دہشت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ جس قوم کا ماضی اتنا شاندار ہو اور جس کی نئی نسل کو ایسی تحریک دینے والی وراثت ملے، وہ ہر مقصد حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

جناب مودی نے کہا کہ جب بھی 26 دسمبر کا دن آتا ہے تو انہیں اس بات پر اطمینان ہوتا ہے کہ حکومت نے صاحبزادوں کی بہادری سے متاثر ہو کر ویر بال دیوس منانے کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چار برسوں میں اس نئی روایت نے صاحبزادوں کی تحریک کو نوجوان نسل تک پہنچایا ہے اور باہمت اور باصلاحیت نوجوان نسل تیار کرنے کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ہر سال ملک کے لیے مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے بچوں کو پردھان منتری راشٹریہ بال پرسکار (پی ایم آر بی پی) سے نوازا جاتا ہے اور اس سال بھی ملک بھر سے 20 بچوں کو یہ اعزاز دیا گیا ہے۔ انہوں نے ان بچوں سے اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کچھ بچوں نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا، کچھ نے سماجی خدمت اور ماحولیاتی تحفظ میں قابلِ تعریف خدمات انجام دیں، کچھ نے سائنس اور ٹیکنالوجی میں جدت پیدا کی، جبکہ کئی دیگر نے کھیل، فن اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں رول ادا کیا۔ جناب مودی نے اعزاز حاصل کرنے والے بچوں سے کہا کہ یہ اعزاز صرف ان کے لیے نہیں بلکہ ان کے والدین، اساتذہ اور سرپرستوں کے لیے بھی ہے، جن کی محنت کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے تمام فاتحین اور ان کے اہلِ خانہ کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

 

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ویر بال دیوس جذبے اور عقیدت سے بھرپور دن ہے، جناب مودی نے صاحبزادہ اجیت سنگھ جی، صاحبزادہ ججھر سنگھ جی، صاحبزادہ زوراور سنگھ جی اور صاحبزادہ فتح سنگھ جی کو یاد کیا، جنہیں نہایت کم عمری میں اپنے دور کی سب سے بڑی طاقت کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جدوجہد بھارت کے بنیادی نظریات اور مذہبی انتہا پسندی کے درمیان، نیز سچ اور جھوٹ کے درمیان تھی، جس میں ایک طرف دسویں گرو شری گرو گوبند سنگھ جی کی قیادت تھی اور دوسری طرف اورنگزیب کی ظالمانہ حکومت۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ اگرچہ صاحبزادے بہت کم عمر تھے، لیکن اورنگزیب ہندوستانیوں کا حوصلہ توڑ کر انہیں زبردستی مذہب تبدیل کروانے کے لیے پُرعزم تھا، اسی لیے اس نے انہیں نشانہ بنایا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اورنگزیب اور اس کے سردار یہ بھول گئے تھے کہ گرو گوبند سنگھ جی کوئی عام انسان نہیں بلکہ تپسیا اور قربانی کی مجسم مثال تھے، اور صاحبزادوں کو یہی وراثت ملی تھی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پوری مغل سلطنت کی طاقت کے باوجود چاروں صاحبزادوں میں سے کوئی ایک بھی حوصلہ شکن نہیں ہوا۔ وزیرِ اعظم نے صاحبزادہ اجیت سنگھ جی کے وہ الفاظ بھی یاد کیے جو آج بھی ان کی جرأت کی گونج بن کر سنائی دیتے ہیں۔

یہ یاد دلاتے ہوئے کہ چند ہی دن پہلے قوم نے شری  گرو تیغ بہادر جی کا 350واں یومِ شہادت منایا، جس کے موقع پر کرکشیتر میں ایک خصوصی پروگرام منعقد ہوا، جناب مودی نے کہا کہ یہ سوچنا غلط ہے کہ شری گرو تیغ بہادر جی کی قربانی سے تحریک پانے والے صاحبزادے مغل مظالم سے ڈر سکتے تھے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ماتا گجری جی، شری گرو گوبند سنگھ جی اور چاروں صاحبزادوں کی جرأت اور اقدار آج بھی ہر بھارتی کے حوصلے کو طاقت فراہم کرتی ہیں اور تحریک کا سرچشمہ بنی ہوئی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ صاحبزادوں کی قربانیوں کی داستان ہر شہری کی زبان پر ہونی چاہیے تھی، لیکن بدقسمتی سے آزادی کے بعد بھی نوآبادیاتی ذہنیت غالب رہی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ ذہنیت 1835 میں برطانوی سیاست دان میکالے نے پروان چڑھائی تھی اور آزادی کے بعد بھی اسے ختم نہیں ہونے دیا گیا، جس کے نتیجے میں دہائیوں تک ان سچائیوں کو دبانے کی کوششیں کی گئیں۔ جناب مودی نے کہا کہ اب بھارت نے نوآبادیاتی ذہنیت سے خود کو آزاد کرنے کا پختہ عزم کر لیا ہے اور اعلان کیا کہ بھارتی قربانیوں اور بہادری کی یادوں کو اب مزید دبایا نہیں جائے گا اور قوم کے شجاعت مندوں کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسی لیے ویر بال دیوس پوری عقیدت اور جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت محض یہیں تک نہیں رکے گی ، کیونکہ 2035 میں میکالے کی سازش کو 200 سال مکمل ہوں گے اور اب جبکہ صرف 10 سال باقی ہیں، بھارت نوآبادیاتی ذہنیت سے مکمل آزادی کا عملی مظاہرہ کرے گا۔ وزیرِ اعظم نے زور دیا کہ جب قوم اس ذہنیت سے آزاد ہو جائے گی تو وہ اپنی مقامی روایات پر زیادہ فخر کرے گی اور خود انحصاری کے راستے پر مزید آگے بڑھے گی۔

 

وزیرِ اعظم نے کہا کہ حال ہی میں پارلیمنٹ میں نوآبادیاتی ذہنیت سے آزادی کی مہم کی ایک جھلک دیکھنے کو ملی، جہاں سرمائی اجلاس کے دوران اراکینِ پارلیمنٹ نے ہندی اور انگریزی کے علاوہ بھارتی زبانوں میں تقریباً 160 تقاریر کیں۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 50 تقاریر تمل میں، 40 سے زائد مراٹھی میں اور تقریباً 25 بنگلہ میں کی گئیں، اور کہا کہ دنیا کی کسی بھی پارلیمنٹ میں ایسا منظر کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے اور یہ ہم سب کے لیے فخر کی بات ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ میکالے نے بھارت کے لسانی تنوع کو دبانے کی کوشش کی تھی، لیکن اب جیسے جیسے ملک نوآبادیاتی ذہنیت سے آزاد ہو رہا ہے، لسانی تنوع طاقت بن کر ابھر رہا ہے۔

یووا بھارت تنظیم سے تعلق رکھنے والے وہاں موجود نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ وہ جن زی اور جن الفا کی نمائندگی کرتے ہیں اور یہی نسل بھارت کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے ہدف تک لے کر جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ نوجوانوں کی صلاحیت اور اعتماد کو دیکھتے اور سمجھتے ہیں، اسی لیے وہ ان پر بھرپور بھروسہ کرتے ہیں۔ ایک کہاوت کا حوالہ دیتے ہوئے جناب مودی نے وضاحت کی کہ اگر کوئی بچہ بھی دانائی کی بات کرے تو اسے قبول کرنا چاہیے، یعنی عظمت کا پیمانہ عمر نہیں بلکہ اعمال اور کامیابیاں ہوتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوان وہ کارنامے انجام دے سکتے ہیں جو دوسروں کے لیے تحریک کا باعث بنیں اور بہت سے نوجوان یہ ثابت بھی کر چکے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان کامیابیوں کو صرف آغاز سمجھنا چاہیے، کیونکہ آگے کا سفر ابھی بہت طویل ہے اور خوابوں کو نئی بلندیوں تک لے جانا ہے۔ اس نسل کو خوش نصیب قرار دیتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ آج ملک ان کی صلاحیتوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے، جب کہ پہلے کے زمانے میں مایوسی کے ماحول کے باعث نوجوان خواب دیکھنے سے بھی ڈرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک صلاحیتوں کو تلاش کرتا ہے، انہیں مواقع فراہم کرتا ہے اور 140 کروڑ شہریوں کی طاقت کو نوجوانوں کی امنگوں کے ساتھ جوڑتا ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل انڈیا کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کے پاس اب انٹرنیٹ کی طاقت اور سیکھنے کے وسائل موجود ہیں، سائنس، ٹیکنالوجی اور صنعت کاری کے خواہشمندوں کے لیے اسٹارٹ اپ انڈیا جیسے مشن ہیں، جبکہ کھیلوں میں آگے بڑھنے والوں کے لیے کھیلو انڈیا جیسے پروگرام دستیاب ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صرف دو دن پہلے انہوں نے سنسد کھیل مہوتسو میں شرکت کی، جو نوجوانوں کی ترقی کے لیے دستیاب متعدد پلیٹ فارمز کی مثال ہے۔ وزیرِ اعظم نے نوجوانوں کو متوجہ رہنے کی تلقین کرتے ہوئے خبردار کیا کہ قلیل مدتی شہرت کی چمک دمک میں نہ پھنسیں اور اس بات پر زور دیا کہ واضح سوچ اور اصول نہایت ضروری ہیں۔ انہوں نے انہیں ملک کی عظیم شخصیات اور اعلیٰ اقدار سے سیکھنے کی دعوت دی اور کہا کہ ان کی کامیابی صرف ذاتی حد تک نہ ہو بلکہ ملک کی کامیابی بنے۔

 

وزیرِ اعظم نے کہا کہ نئی پالیسیاں نوجوانوں کو بااختیار بنانے پر مرکوز ہیں اور قوم کی تعمیر میں نوجوانوں کو مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میرا یووا بھارت جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوانوں کو جوڑنے، انہیں مواقع فراہم کرنے اور قیادت کی صلاحیتیں پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ جناب مودی نے زور دیا کہ خواہ خلائی معیشت کو آگے بڑھانا ہو، کھیلوں کو فروغ دینا ہو، فن ٹیک اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں کو وسعت دینا ہو، یا ہنرمندی کی ترقی اور انٹرن شپ کے مواقع پیدا کرنا ہوں، ہر اقدام میں نوجوان مرکزی رول ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر شعبے میں نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

یہ کہتے ہوئے کہ آج بھارت ایک منفرد صورتِ حال کا سامنا کر رہا ہے اور دنیا کے سب سے نوجوان ممالک میں شامل ہے، جناب مودی نے کہا کہ آنے والے 25 سال ملک کی سمت کا تعین کریں گے اور آزادی کے بعد پہلی بار بھارت کی صلاحیتیں، امنگیں اور دنیا کی توقعات ایک ساتھ ہم آہنگ ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے نوجوان پہلے سے کہیں زیادہ مواقع کے دور میں پرورش پا رہے ہیں اور حکومت ان کی صلاحیت، اعتماد اور قیادت کو بروئے کار لانے کے لیے بہتر سے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے زور دیا کہ تعلیم کی پالیسی میں اہم اصلاحات کے ذریعے ایک ترقی یافتہ بھارت کے لیے مضبوط بنیادیں رکھی جا رہی ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی اکیسویں صدی کے جدید تعلیمی طریقوں پر توجہ مرکوز کرتی ہے، جس میں عملی تعلیم پر زور دیا گیا ہے، بچوں کو رَٹنے کے بجائے سوچنے کی ترغیب دی جاتی ہے، سوال پوچھنے کا حوصلہ پیدا کیا جاتا ہے اور مسائل کے حل کی صلاحیتیں مضبوط کی جاتی ہیں۔ جناب مودی نے کہا کہ اس سمت میں پہلی بار بامعنی کوششیں کی جا رہی ہیں، جن میں کثیر الشعبہ تعلیم، مہارت پر مبنی سیکھنےکے عمل، کھیلوں کے فروغ اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے طلبہ کو وسیع پیمانے پر  فائدہ ہو رہا ہے۔ وزیرِ اعظم نے بتایا کہ ملک بھر میں لاکھوں بچے اٹل ٹنکرنگ لیبز کے ذریعے اختراع اور تحقیق میں مصروف ہیں اور اسکول کی سطح پر ہی طلبہ کو روبوٹکس، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، پائیداری اور ڈیزائن تھنکنگ سے روشناس کرایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان تمام کوششوں کے ساتھ ساتھ قومی تعلیمی پالیسی نے مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کا اختیار بھی فراہم کیا ہے، جس سے سیکھنا آسان ہوا ہے اور بچوں کو مضامین بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

 

وزیرِ اعظم نے کہا کہ بہادر صاحبزادوں نے یہ نہیں دیکھا کہ راستہ کتنا مشکل ہے، بلکہ یہ دیکھا کہ راستہ صحیح ہے یا نہیں اور اسی جذبے کی آج بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے بھارت کے نوجوانوں سے توقع ظاہر کی کہ وہ بڑے خواب دیکھیں، سخت محنت کریں اور اپنے اعتماد کو کبھی کمزور نہ پڑنے دیں۔ جناب مودی نے زور دیا کہ بھارت کا مستقبل اس کے بچوں اور نوجوانوں کے مستقبل سے روشن ہوگا، جن کی جرأت، صلاحیت اور لگن قوم کی ترقی کی رہنمائی کرے گی۔ وزیرِ اعظم نے  اس یقین کے ساتھ اپنے خطاب کا اختتام کیا کہ ذمہ داری اور مستقل رفتار کے ساتھ بھارت اپنے مستقبل کی جانب مسلسل آگے بڑھتا رہے گا۔ انہوں نے ایک بار پھر صاحبزادوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور تمام اعزاز یافتہ نوجوانوں کو مبارک باد دی اور سب کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔

 

اس موقع پر دیگر معززین کے ساتھ مرکزی وزراء محترمہ ان پورنا دیوی، محترمہ ساوتری ٹھاکر، جناب رونیت سنگھ اور جناب ہرش ملہوترا بھی موجود تھے۔

پس منظر

ویر بال دیوس کے موقع پر حکومتِ ہند ملک بھر میں عوامی شمولیت پر مبنی پروگراموں کا انعقاد کر رہی ہے، جن کا مقصد شہریوں کو صاحبزادوں کی غیر معمولی جرأت اور عظیم قربانی سے آگاہ کرنا اور بھارت کی تاریخ کے نوجوان شجاعت مندوں کی ناقابلِ شکست بہادری، قربانی اور شجاعت کو خراجِ عقیدت پیش کرنا اور یادگار بنانا ہے۔ ان سرگرمیوں میں داستان گوئی کے اجلاس ، نظمیں اور تقاریر، پوسٹر سازی اور مضمون نویسی کے مقابلے سمیت دیگر سرگرمیاں شامل ہوں گی۔ یہ پروگرام اسکولوں، بچوں کی نگہداشت کے اداروں، آنگن واڑی مراکز اور دیگر تعلیمی پلیٹ فارمز پر منعقد کیے جائیں گے جبکہ مائی گَو اور مائی بھارت پورٹلز کے ذریعے آن لائن سرگرمیاں بھی ہوں گی۔

شری گرو گوبند سنگھ جی کے پرکاش پرب کے موقع پر 9 جنوری 2022 کو وزیرِ اعظم نے اعلان کیا تھا کہ 26 دسمبر کا دن ’ویر بال دیوس‘ کے طور پر منایا جائے گا، تاکہ شری گرو گوبند سنگھ جی کے صاحبزادوں، بابا زوراور سنگھ جی اور بابا فتح سنگھ جی کی شہادت کو یاد کیا جا سکے، جن کی بے مثال قربانی آج بھی نسل در نسل تحریک کا ذریعہ بنی ہوئی ہے۔

پردھان منتری راشٹریہ بال پرسکار (پی ایم ار بی پی) کے اعزاز یافتہ بچے بھی اس پروگرام کے دوران موجود تھے۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Vande Bharat AC chair car fares much lower than those in China, Japan, France: Railway Minister Ashwini Vaishnaw

Media Coverage

Vande Bharat AC chair car fares much lower than those in China, Japan, France: Railway Minister Ashwini Vaishnaw
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
سوشل میڈیا کارن 12فروری 2026
February 12, 2026

Sustainable, Strong, and Global: India's 2026 Surge Under PM Modi's Transformative Leadership