آج ہم ان بہادر صاحبزادوں کو یاد کرتے ہیں، جو ہماری قوم کا فخر ہیں اور بھارت کی ناقابلِ تسخیر جرأت اور شجاعت کے اعلیٰ ترین اصولوں کی علامت ہیں: وزیرِ اعظم
ماتا گجری جی، سری گرو گوبند سنگھ جی اور چاروں صاحبزادوں کی جرأت اور اقدار ہر بھارتی کو ہمیشہ قوت عطا کرتی رہی ہیں: وزیرِ اعظم
بھارت نے نوآبادیاتی ذہنیت سے ہمیشہ کے لیے نجات حاصل کرنے کا عزم کر لیا ہے: وزیرِ اعظم
جیسے جیسے بھارت نوآبادیاتی ذہنیت سے آزاد ہو رہا ہے، اس کا لسانی تنوع ایک طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے: وزیرِ اعظم
جن زی اور جن الفا بھارت کو وِکست بھارت کے ہدف تک لے کر جائیں گے: وزیرِ اعظم

مرکزی  کابینہ میں میرے معاونین انپورنا دیوی، ساوتری ٹھاکر، رونیت سنگھ، ہرش ملہوترا ، دہلی حکومت سے آئے ہوئے معزز وزراء،و دیگر قابل احترام شخصیات، ملک کےگوشے گوشے سے یہاں حاضر مہمانان اور پیارے بچوں!

آج ملک ویر بال دیوس منا رہا ہے۔ ابھی ونده ماترم کی اتنی خوبصورت پیشکش ہوئی ہے، آپ کی محنت واضح طور نظر آ رہی ہے۔

ساتھیو!

آج ہم ان ویر صاحبزادوں کو یاد کر رہے ہیں، جو ہمارے ملک ہندوستان کا فخر ہیں۔ جو ہندوستان کی غیر معمولی ہمت، شہرت اور بہادری کی انتہاکی مثال ہیں۔وہ ویر صاحبزادے، جنہوں نے عمر اور حالت کی حدود کو توڑ دیا اور جو ظالم مغل سلطنت کے سامنے ایسے چٹان کی طرح کھڑے ہوئے کہ مذہبی شدت پسندی اور دہشت گردی کا وجود بھی لرز گیا۔ جس قوم کے پاس ایسا قابل فخر ماضی ہو اور جس کی نوجوان نسل کو ایسی حوصلہ افزا ئی میراث ملی ہو، وہ ملک کیا کچھ نہیں کر سکتا۔

ساتھیو!

جب بھی 26 دسمبر کا یہ دن آتا ہے، تو مجھے یہ اطمینان ہوتا ہے کہ ہماری حکومت نے صاحبزادوں کی بہادری سے متاثر ہو کر ویر بال دیوس منانا شروع کیا۔ گزشتہ چار برسوں میں ویر بال دیوس کی نئی روایت نے صاحبزادوں کی حوصلہ افزا کہانیوں کو نئی نسل تک پہنچایا ہے۔ ویر بال دیوس نے بہادر اور باصلاحیت نوجوانوں کی نشونما کے لیے ایک منصوبہ بند پلیٹ فارم بھی  تیار کیا ہے۔ہر سال وہ بچے جو مختلف شعبوں میں ملک کے لیے کچھ کر دکھاتے ہیں، انہیں’پردھان منتری بال پرسکار‘سے نوازا جاتا ہے۔ اس بار بھی ملک کے مختلف حصوں سے آئے 20 بچوں کو اس اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ یہ سب ہمارے درمیان موجود ہیں اور مجھے ابھی ان کے ساتھ کافی گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ان میں سے کسی نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا ہے، کسی نے سماجی خدمت اور ماحولیات کے شعبے میں گراں قدر خدمات انجام دیے ، کچھ نے سائنس اور ٹیکنالوجی میں کچھ نئےاختراعی  اقدامات کیے ہیں، جبکہ کئی نوجوان کھیل، فن اور ثقافت کے شعبوں میں اپنا تعاون دے رہے ہیں۔میں ان ایوارڈ یافتہ بچوں سے کہوں گا، یہ اعزاز نہ صرف آپ کے لیے ہے ،بلکہ آپ کے والدین، آپ کے اساتذہ اور مینٹروں کی محنت اور لگن کا بھی اعتراف ہے۔ میں ان ایوارڈ یافتہ بچوں اور ان کے خاندانوں کو روشن مستقبل کے لیے دل کی گہرائیوں سےنیک تمنائیں پیش کرتا ہوں۔

 

ساتھیو!

ویر بال دیوس کا یہ دن جذبے اور عقیدت سے بھرپور ہے۔ صاحبزادہ اجیت سنگھ جی، صاحبزادہ جُجھار سنگھ جی، صاحبزادہ جوراور سنگھ جی اور صاحبزادہ فتح سنگھ جی کو چھوٹی سی عمر میں اس وقت کی سب سے بڑی طاقت ٹکرانا پڑا۔یہ لڑائی  ہندوستان کے بنیادی اقدار اور مذہبی شدت پسندی کے درمیان تھی، یہ لڑائی سچائی بمقابلہ جھوٹ کی تھی۔ اس لڑائی کے ایک طرف دشَم گرو سری گرو وند سنگھ جی تھے اور دوسری طرف ظالم اورنگزیب کی حکومت تھی۔ ہمارے صاحبزادے اس وقت عمر میں بہت چھوٹے ہی تھے،لیکن اورنگزیب کو اور اس کے ظالمانہ رویہ کواس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ جانتا تھا، ہندوستان کے لوگوں کو خوفزدہ کر کے ان کا مذہب تبدیل کرانا  ہےا اور اس کے لیے اسے ہندوستانیوں کی حوصلہ شکنیکرنی ہوگی۔ اسی لیے اس نے صاحبزادوں کو نشانہ بنایا۔

لیکن ساتھیو!

اورنگزیب اور اس کے سپہ سالار یہ بھول گئے تھے کہ ہمارے گرو کوئی عام انسان نہیں تھے، وہ تپسیا اور قربانی کے مجسم اوتار تھے۔ وہی وراثت ویر صاحبزادوں کو ان سے ملی تھی۔ اسی لیے، چاہے پوری مغلیہ بادشاہت ان کے پیچھے لگ گئی، لیکن وہ چاروں میں سے ایک بھی صاحبزادے کو متزلزل نہ کر سکے۔صاحبزادہ اجیت سنگھ جی کے الفاظ آج بھی ان کے حوصلے کی داستان سناتے ہیں:’’نام کا اجیت ہوں، جیتا نہ جا جاؤں گا، جیتا بھی گیا ، تو جیتا نہ آؤں گا!( نام کا اجیت ہوں، ہرایا نہیں جا سکتااور اگر مارا بھی گیا تو شکست نہیں مانوں گا!”)-

ساتھیو!

چندروز قبل  ہی ہم نے شری گرو تیغ بہادر جی کو ان کے 350ویں یوم شہادت پر یاد کیا۔ اس دن کروکشیتر میں ایک خصوصی پروگرام بھی منعقد ہوا تھا۔ جن صاحبزادوں کے پاس شری گرو تیغ بہادر جی کی قربانی کی تحریک ہو، وہ مغل مظالم سے خوفزدہ ہو جائیں گے—یہ سوچنا ہی غلط تھا۔

ساتھیو!

ماتاجگری، شری گرو گوبند سنگھ جی اور چاروں صاحبزادوں کی بہادری اور اصول آج بھی ہر ہندوستانی کو قوت فراہم کرتےہیں اور ہمارے لیے باعث تحریک ہیں۔ صاحبزادوں کی قربانی کی داستان ملک میں ہر عام آدمی کی زبان پر ہونی چاہیے تھی، لیکن بدقسمتی سے آزادی کے بعد بھی ملک میں غلامی کی ذہنیت غالب رہی۔ جس غلامی کی ذہنیت کے بیج انگریز سیاستدان میکالی نے 1835 میں بوئے تھے، اس ذہنیت سے ملک کو آزادی کے بعد بھی مکمل آزاد نہیں ہونے دیا ۔ اسی لیے آزادی کے بعد بھی ملک میں دہائیوں تک ایسی سچائیوں کو دبانے کی کوشش کی گئی۔

 

لیکن ساتھیو!

اب ہندوستان نے فیصلہ کیا ہے کہ غلامی کی ذہنیت سے نجات حاصل کرنی ہوگی۔ اب ہم ہندوستانیوں کی قربانیاں، ہمارے شجاعت کی یادوں کو دبنے نہیں دیں گے۔ اب ملک کے ہیروز - ہیروئنز‘کو حاشیے پر نہیں رکھا جائے گا۔ اسی لیے ہم ویر بال دیوس کو پورے جذبے اور عقیدت کے ساتھ منا رہے ہیں اور ہم صرف اتنے پر ہی نہیں رکے ہیں۔ میکالی نے جو سازش رچی تھی، سال 2035 میں اس کے 200 سال مکمل ہونے میں تھوڑے وقت رہ گئے ہیں، یعنی ابھی اس میں صرف 10 سال باقی ہیں۔ انہی 10 سالوں میں ہم ملک کو مکمل طور پر غلامی کی ذہنیت سے آزادکر کے رہیں گے۔ 140 کروڑ ملککے عوام کا یہ عزم ہونا چاہیے، کیونکہ جب ملک اس غلامی کی ذہنیت سے آزاد ہوگا، تب ہی اتنا ہی سودیسی پر فخر کرے گا اور اتنی ہی خود کفالت کی سمت میں آگے بڑھے گا۔

ساتھیو!

غلامی کی ذہنیت سے آزادی کے اس مشن کی ایک جھلک چند دن پہلے ہمارے ملک کی پارلیمنٹ میں بھی دیکھی گئی۔ ابھی پارلیمنٹ کے سردیوں کے اجلاس میں اراکین نے ہندی اور انگریزی کے علاوہ تقریباً 160 تقریریں دوسری ہندوستانی زبانوں میں کیں۔ تقریباً 50 تقریریں تمل میں ہوئیں، 40 سے زیادہ تقریریں مراٹھی میں ہوئیں اور تقریباً 25 تقریریں بنگلہ میں ہوئیں۔ دنیا کی کسی بھی پارلیمنٹ میں ایسا منظر دیکھنا مشکل ہے۔ یہ ہم سب کے لیے فخر کی بات ہے۔ہندوستان کی اس لسانی تنوع کو بھی میکالی نے کچلنے کی کوشش کی تھی۔ اب غلامی کی ذہنیت سے آزاد ہوتے ہمارے ملک میں لسانی تنوع ہماری طاقت بن رہا ہے۔

 

ساتھیو!

میرایوا بھارت تنظیم سےوابستہ  اتنے سارے نوجوان یہاں موجود ہیں۔ ایک طرح سے آپ سب جین جی ہیں-جین الفا بھی ہیں۔  آپ کی نسل ہی ہندوستان کووکست بھارت کے ہدف تک لے جائے گی۔ میں جین  زی(جنریشن زیڈ) کی صلاحیت، آپ کا اعتماد دیکھتا ہوں، سمجھتا ہوں اور اسی لیے آپ پر بہت اعتماد کرتا ہوں۔ہمارے یہاں کہا گیا ہے: ’’ بلادپی گرہتتیہ یوکت مکتم منی شیبھ‘‘ یعنی اگر چھوٹا بچہ بھی کوئی عقل کی بات کرے تو اسے قبول کرنا چاہیے۔ یعنی عمر سے کوئی چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا۔ آپ بڑے بنیں گے اپنے کاموں اور کامیابیوں سے۔ آپ کم عمر میں بھی ایسے کام کر سکتے ہیں کہ باقی لوگ آپ سے متاثر ہوں۔ آپ نے یہ کرکے دکھایا ہے،لیکن ان کامیابیوں کو ابھی صرف ابتداء کے طور پر دیکھنا ہے۔ ابھی آپ کو بہت آگے بڑھنا ہے۔ ابھی خوابوں کو آسمان تک لے جانا ہے۔ اور آپ خوش قسمت ہیں کہ جس نسل میں آپ پیدا ہوئے ہیں، آپ کی صلاحیت کے ساتھ ملک مضبوطی سے کھڑا ہے۔ پہلے نوجوان خواب دیکھنے سے بھی ڈرتے تھے، کیونکہ پرانے نظام میں یہ ماحول بن گیا تھا کہ کچھ اچھا ہو ہی نہیں سکتا۔ ہر طرف مایوسی کا ماحول تھا اور لوگوں کو لگنے لگا کہ محنت کرنے کا کیا فائدہ؟لیکن آج ملک صلاحیت کو تلاش کرتا ہے، انہیں موقع دیتا ہے۔ ان کے خوابوں کے ساتھ 140 کروڑ ملککے عوام  کی طاقت لگ جاتی ہے۔

ڈیجیٹل انڈیا کی کامیابی کی وجہ سے آپ کے پاس انٹرنیٹ کی طاقت ہے، آپ کے پاس سیکھنے کے وسائل موجود ہیں۔ جو سائنس، ٹیکنالوجی اور اسٹارٹ اپ کی دنیا میں جانا چاہتے ہیں، ان کے لیے اسٹارٹ اپ انڈیا جیسے مشنز ہیں۔ جو کھیلوں میں آگے بڑھ رہے ہیں، ان کے لیے کھیلوں انڈیا مشن ہے۔ ابھی دو دن پہلے میں نے سنسد کھیل مہوتسو میں بھی حصہ لیا۔ ایسے تمام پلیٹ فارمز آپ کو آگے بڑھانے کے لیے ہیں۔آپ صرف توجہ مرکوز رکھنی ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ مختصر مدتی شہرت کی چمک دمک میں نہ پھنسیں۔ یہ تب ہوگا، جب آپ کی سوچ واضح ہوگی، جب آپ کے اصول واضح ہوں گے۔ اسی لیے، آپ کو اپنے مشعل راہ  سے سیکھنا ہے، ملک کی عظیم شخصیات سے سیکھنا ہے۔آپ کو اپنی کامیابی کو صرف اپنے تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ آپ کا مقصد ،آپ کی کامیابی ملک کی کامیابی ہونی چاہیے۔

ساتھیو!

آج نوجوانوں کوبااختیار بنانے کوذہن میں رکھتے ہوئے نئی پالیسی بنائی جا رہی ہے۔ نوجوانوں کو قوم کی تعمیر کے مرکز میں رکھا گیا ہے۔ میرا یوا بھارت جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوانوں کو جوڑنے، انہیں مواقع دینے اور ان میںقائدانہ صلاحیت کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔خلائی معیشت کو آگے بڑھانا، کھیلوں کی حوصلہ افزائی کرنا، فِن ٹیک اور مینوفیکچرنگ سیکٹر کو وسعت دینا، اسکل ڈیولپمنٹ اور انٹرنشپ کے مواقع فراہم کرناایسی ہر کوشش کے مرکز میں میرے نوجوان ساتھی ہیں۔ ہر شعبے میں نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

 

ساتھیو!

آج ہندوستان کے سامنے حالات بے مثال ہیں۔ آج  ہندوستان دنیا کے سب سے نوجوان ممالک میں سے ایک ہے۔ آئندہ پچیس برس ہندوستان کی سمت طے کرنے والے ہیں۔ آزادی کے بعد شاید پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ہندوستان کی صلاحیتیں، ہندوستان کی امنگیں اور دنیا کی توقعات ہندوستان سے، تینوں ایک ساتھ مل رہی ہیں۔آج کے نوجوان ایسے وقت میں بڑے ہو رہے ہیں، جب مواقع پہلے سے کہیں زیادہ ہیں۔ ہم ہندوستان کے نوجوانوں کی صلاحیت، اعتماد اور قیادت کی قابلیت کو بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

میرے نوجوان ساتھیو!

وکست بھارت کی مضبوط بنیاد کے لیے ہندوستان کی تعلیمی پالیسی میں بھی اہم اصلاحات کی گئی ہیں۔ نئی قومی تعلیمی پالیسی کا مرکز 21ویں صدی میں تعلیم کے نئےطور طریقوں پرمرکوز ہے۔ آج توجہ عملی تعلیم پر ہے، تاکہ بچوں میں رٹنے کے بجائے سوچنے کی عادت پیدا ہو، انہیں سوال پوچھنے کا حوصلہ اور حل تلاش کرنے کی صلاحیت آئے اور پہلی بار اس سمت میں معنی خیز اقدامات کیے جا رہے ہیں۔کثیر الشعبہ تعلیم، ہنر پر مبنی تعلیم، کھیلوں کی حوصلہ افزائی اور ٹیکنالوجی کا استعمال، ان سب سے طلباء کو بہت مدد مل رہی ہے۔ آج ملک بھر میں اٹل ٹِنکرنگ لیبز میں لاکھوں بچےاختراعات اور تحقیق سے جڑ رہے ہیں، اسکولوں میں ہی بچے روبوٹکس، اے آئی، پائیداری اور ڈیزائن تھنکنگ سے واقف ہو رہے ہیں۔ان تمام اقدامات کے ساتھ ساتھ قومی تعلیمی پالیسی میں مادری زبان میں تعلیم کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ اس سے بچوں کے لیے تعلیم میں آسانی ہو رہی ہے اور مضامین کو سمجھنے میں مدد مل رہی ہے۔

 

ساتھیو!

ویر صاحبزادوں نے یہ نہیں دیکھا تھا کہ راستہ کتنا مشکل ہے۔ انہوں نے یہ دیکھا تھا کہ راستہ صحیح ہے یا نہیں۔ آج بھی اسی جذبے کی ضرورت ہے۔ میں ہندوستان کے نوجوانوں سے یہی توقع رکھتا ہوں کہ وہ بڑے خواب دیکھیں، محنت کریں اور اپنے اعتماد کو کبھی کمزور نہ ہونے دیں۔

ہندوستان کا مستقبل اس کے بچوں اور نوجوانوں کے مستقبل سے ہی روشن ہوگا۔ ان کی بہادری، صلاحیت اور لگن قوم کی ترقی کو سمت دے گی۔ اسی یقین کے ساتھ، اس ذمہ داری کے ساتھ اور اسی مسلسل رفتار کے ساتھ، ہندوستان اپنے مستقبل کی طرف آگے بڑھتا رہے گا۔میں ایک بار پھر ویر صاحبزادوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ تمام ایوارڈ یافتہ بچوں کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26

Media Coverage

India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves two railway projects in Uttar Pradesh and Andhra Pradesh worth Rs 24,815 crore
April 18, 2026

The Cabinet Committee on Economic Affairs, chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi, today has approved 02 (Two) projects of Ministry of Railways with total cost of Rs. 24,815 crore (approx.). These projects include:

Name of Project

Route Length (in km)

Track Length (in km)

Completion Cost (Rs. in Cr.)

Ghaziabad – Sitapur 3rd and 4th Line

403

859

14,926

Rajahmundry (Nidadavolu) – Visakhapatnam (Duvvada) 3rd and 4th Line

 

198

 

458

 

9,889

Total

601

1,317

24,815

The increased line capacity will significantly enhance mobility, resulting in improved operational efficiency and service reliability for Indian Railways. These multi-tracking proposals are poised to streamline operations and alleviate congestion. The projects are in line with the Prime Minister Shri Narendra Modiji’s Vision of a New India which will make people of the region “Atmanirbhar” by way of comprehensive development in the area which will enhance their employment/ self-employment opportunities.

The projects are planned on PM-Gati Shakti National Master Plan with focus on enhancing multi-modal connectivity & logistic efficiency through integrated planning and stakeholder consultations. These projects will provide seamless connectivity for movement of people, goods, and services.

The 02 (Two) projects covering 15 Districts across the states of Uttar Pradesh and Andhra Pradesh will increase the existing network of Indian Railways by about 601 Kms.

The proposed capacity enhancement will improve rail connectivity to several prominent tourist destinations across the country, including Dudheshwarnath Temple, Garhmukteshwar Ganga Ghat, Dargah Shah Wilayat Jama Masjid (Amroha), Naimisharanya (Sitapur), Annavaram, Antarvedi, Draksharamam, etc.

The proposed projects are essential routes for transportation of commodities such as coal, foodgrains, cement, POL, iron and steel, container, fertilizers, sugar, chemical salts, limestone, etc. The Railways being environment friendly and energy efficient mode of transportation, will help both in achieving climate goals and minimizing logistics cost of the country lowering CO2 emissions (180.31Crore Kg) which is equivalent to plantation of 7.33 Crore trees.

Ghaziabad – Sitapur 3rd and 4th Line (403 Km)

  • Ghaziabad – Sitapur is an existing double line section forming a key part of Delhi- Guwahati High Density Network (HDN 4).
  • The project is crucial for improving connectivity between the Northern and Eastern region of the country.
  • The existing line capacity utilization of the section is up to 168% and is projected to be up to 207% in case the project is not taken up.
  • Transverses through Ghaziabad, Hapur, Amroha, Moradabad, Rampur, Bareilly, Sahjahanpur, Lakhimpur Kheri and Sitapur districts of Uttar Pradesh.
  • The project route passes through major industrial centres - Ghaziabad (machinery, electronics, pharmaceuticals), Moradabad (brassware and handicrafts), Bareilly (furniture, textiles, engineering), Shahjahanpur (carpets and cement-related industries), and Roza (thermal power plant).
  • For seamless transportation, the project alignment is planned to bypass congested stations of Hapur, Simbhaoli, Moradabad, Rampur, Bareilly, Shahjahanpur, and Sitapur and accordingly, six new stations are proposed on the bypassing sections.
  • Key tourist/religious places along/near to the project section are Dudheshwarnath Temple, Garhmukteshwar Ganga Ghat, Dargah Shah Wilayat Jama Masjid (Amroha), and Naimisharanya (Sitapur) among others.
  • Anticipated additional freight traffic of 35.72 MTPA consisting of Coal, Foodgrains, Chemical Manures, Finished Steel, etc.
  • Estimated Cost: Rs.14,926 crore (approx.)
  • Employment generation: 274 lakh human-days.
  • CO2 emissions saved: About 128.77 crore Kg CO2 equivalent to 5.15 Cr trees.

  • Logistic cost saving: Rs. 2,877.46 crore every year vis-a vis road transportation.

Ghaziabad – Sitapur 3rd and 4th Line (403 Km)

Rajahmundry (Nidadavolu) – Visakhapatnam (Duvvada) 3rd and 4th Line (198 Km)

  • Rajahmundry (Nidadavolu) – Visakhapatnam (Duvvada) section forms part of the Howrah – Chennai High Density Network (HDN).
  • The proposed project is part of quadrupling initiative of Howrah – Chennai High Density Network (HDN) route.
  • The project traverses through East Godavari, Konaseema, Kakinada, Anakapalle and Vishakapatnam districts of Andhra Pradesh.
  • Visakhapatnam is identified as an Aspirational District in the Aspirational Districts Programme.
  • It provides connectivity to major ports along the East Coast such as Visakhapatnam, Gangavaram, Machilipatnam and Kakinada.
  • The project route runs along the eastern coastline and is among the busiest, predominantly freight-oriented sections of the East Coast Rail Corridor.
  • The line capacity utilization of the section has already reached up to 130%, leading to frequent congestion and operational delays. The line capacity is expected to increase further due to proposed expansion of ports and industries in the region.
  • Project section includes 4.3 km rail bridge over Godavari River, 2.67 km viaduct, 3 bypasses and the new alignment is around 8 km shorter than the existing route, improving connectivity and operational efficiency.
  • The proposed section will also boost tourism by improving access to key destinations such as Annavaram, Antarvedi and Draksharamam etc.
  • Anticipated additional freight traffic of 29.04 MTPA consisting of Coal, Cement, Chemical Manures, Iron and Steel, Foodgrains, Containers, Bauxite, Gypsum, Limestone, etc.
  • Estimated Cost: Rs.9,889 crore (approx.)
  • Employment generation: 135 lakh human-days.
  • CO2 emissions saved: About 51.49 crore Kg CO2 equivalent to 2.06 Cr trees.

  • Logistic cost saving: Rs. 1,150.56 crore every year vis-a vis road transportation.

 

आर्थिक सशक्तिकरण:

Aspirational districts - Visakhapatnam district will get improved connectivity

Additional economic opportunities in the region through tourism & industries.

Better healthcare and education for the citizens due to enhanced rail connectivity.


Rajahmundry (Nidadavolu) – Visakhapatnam (Duvvada) 3rd and 4th Line (198 Km)

Prime Minister’s focus on railways:

  • Record budget allocation of Rs. 2,65,000 crore for FY 26-27.
  • Manufacturing more than 1600 locomotives- surpassed US and Europe in manufacturing of locomotive production
  • In FY 26, Indian Railways is expected to rank among the top three freight carriers globally, moving 1.6 billion tonnes of cargo.

  • India starts exporting metro coaches to Australia and bogie to United Kingdom, Saudi Arabia, France and Australia.