وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج جنوبی افریقہ کے جوہانسبرگ میں منعقدہ آئی بی ایس اے قائدین کی میٹنگ میں شرکت کی۔ اس اجلاس کی میزبانی جنوبی افریقہ کے صدر عزت مآب سیرل رامافوسا نے کی اور اس میٹنگ میں برازیل کے صدر عزت مآب لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے شرکت کی۔

 

اسے صحیح وقت پر منعقد کی جانے والی میٹنگ قرار دیتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ یہ افریقہ کی سرزمین پر پہلی جی20 سربراہ ملاقات کے ساتھ ہوئی اور گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے ذریعہ مسلسل چار جی20 صدارت اختتام پذیر ہوئیں، جن میں سے آخری تین آئی بی ایس اے اراکین کے ذریعہ منعقدکی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں انسانیت پر مرتکز ترقی، کثیرالجہتی اصلاح اور پائیدار نمو پر مرتکز متعدد اہم پہل قدمیاں متعارف کرائی گئی ہیں۔

وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ آئی بی ایس اے صرف تین ممالک کا گروپ نہیں ہے بلکہ تین براعظموں، تین بڑی جمہوری قوموں اور تین بڑی معیشتوں کو جوڑنے والا ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔

وزیراعظم نے زور دے کر کہا کہ حکمرانی کے عالمی ادارے 21ویں صدی کی حقیقتوں سے بہت دور ہیں۔ انہوں نے آئی بی ایس اے سے اپیل کی کہ وہ ایک مضبوط پیغام دے کہ عالمی نظم و نسق کے اداروں خصوصاً اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات اب کوئی متبادل نہیں بلکہ ایک لازمی امر ہے۔

انسداد دہشت گردی کے بارے میں وزیر اعظم نے قریبی تال میل کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دوہرے معیار کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ انسانی مرکوز ترقی کو یقینی بنانے میں ٹکنالوجی کے اہم کردار کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے تینوں ممالک کے درمیان ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر جیسے یو پی آئی، صحت کے پلیٹ فارمز جیسے کووِن، سائبر سلامتی فریم ورک اور خواتین کی زیر قیادت تکنالوجی اقدامات کے اشتراک کو آسان بنانے کے لیے 'آئی بی ایس اےڈیجیٹل اختراع کے اتحاد' کے قیام کی تجویز پیش کی۔

 

وزیر اعظم نے محفوظ، قابل بھروسہ اور انسان پر مبنی اے آئی اصولوں کی ترقی میں تعاون کرنے کے لیے آئی بی ایس اے کی صلاحیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے آئی بی ایس اے کے رہنماؤں کو آئندہ برس ہندوستان میں منعقد ہونے والی اے آئی امپیکٹ سمٹ کے لیے مدعو کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آئی بی ایس اے ایک دوسرے کی ترقی کی تکمیل کر سکتا ہے اور پائیدار ترقی کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔ انہوں نے موٹے اناج، فطری طریقہ کاشت ، آفات سے نمٹنے، سبز توانائی، روایتی ادویات اور صحت کی حفاظت جیسے شعبوں میں تعاون کے مواقع پر روشنی ڈالی۔

تعلیم، صحت، خواتین کو بااختیار بنانے اور شمسی توانائی جیسے شعبوں میں 40 ممالک میں منصوبوں کی حمایت کرنے میں آئی بی ایس اے فنڈ کے کام کو سراہتے ہوئے، وزیر اعظم نے جنوب-جنوب تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے لیے آئی بی ایس اے فنڈ برائے موسمیاتی لچکدار زراعت کی تجویز پیش کی۔ وزیر اعظم کی مکمل تقریر [یہاں] دیکھی جاسکتی ہے۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India's electronics exports cross $47 billion in 2025 on iPhone push

Media Coverage

India's electronics exports cross $47 billion in 2025 on iPhone push
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM pays homage to Parbati Giri Ji on her birth centenary
January 19, 2026

Prime Minister Shri Narendra Modi paid homage to Parbati Giri Ji on her birth centenary today. Shri Modi commended her role in the movement to end colonial rule, her passion for community service and work in sectors like healthcare, women empowerment and culture.

In separate posts on X, the PM said:

“Paying homage to Parbati Giri Ji on her birth centenary. She played a commendable role in the movement to end colonial rule. Her passion for community service and work in sectors like healthcare, women empowerment and culture are noteworthy. Here is what I had said in last month’s #MannKiBaat.”

 Paying homage to Parbati Giri Ji on her birth centenary. She played a commendable role in the movement to end colonial rule. Her passion for community service and work in sectors like healthcare, women empowerment and culture is noteworthy. Here is what I had said in last month’s… https://t.co/KrFSFELNNA

“ପାର୍ବତୀ ଗିରି ଜୀଙ୍କୁ ତାଙ୍କର ଜନ୍ମ ଶତବାର୍ଷିକୀ ଅବସରରେ ଶ୍ରଦ୍ଧାଞ୍ଜଳି ଅର୍ପଣ କରୁଛି। ଔପନିବେଶିକ ଶାସନର ଅନ୍ତ ଘଟାଇବା ଲାଗି ଆନ୍ଦୋଳନରେ ସେ ପ୍ରଶଂସନୀୟ ଭୂମିକା ଗ୍ରହଣ କରିଥିଲେ । ଜନ ସେବା ପ୍ରତି ତାଙ୍କର ଆଗ୍ରହ ଏବଂ ସ୍ୱାସ୍ଥ୍ୟସେବା, ମହିଳା ସଶକ୍ତିକରଣ ଓ ସଂସ୍କୃତି କ୍ଷେତ୍ରରେ ତାଙ୍କର କାର୍ଯ୍ୟ ଉଲ୍ଲେଖନୀୟ ଥିଲା। ଗତ ମାସର #MannKiBaat କାର୍ଯ୍ୟକ୍ରମରେ ମଧ୍ୟ ମୁଁ ଏହା କହିଥିଲି ।”