تمام نارڈک ممالک کے قائدین مندوبین،

میڈیا کے ساتھیو،

آپ سب کو میرا نمسکار!

 

آج تیسری بھارت – نارڈک سربراہ ملاقات میں حصہ لینے پر مجھے بہت مسرت ہو رہی ہے۔ سب سے پہلے، میں ناروے کے وزیر اعظم کا اس سربراہ اجلاس کا اہتمام کرنے کے لیے، تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں تمام نارڈک قائدین کا بھی یہاں خیرمقدم کرتا ہوں۔

جمہوریت، قانون کی حکومت اور کثیر الجہتی کے تئیں ہماری ساجھا عہدبستگی، ہمیں فطری شراکت دار بناتی ہیں۔ اور تکنالوجی اور پائیداری میں ہماری ساجھا  ترجیحات، ہمارے تعلقات کو مواقع سے بھر دیتی ہیں۔ اسی لیے، 8 برس قبل، ہم نے نارڈک ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو توانائی اور رفتار دینے کے لیے، اس فارمیٹ کی تشکیل کی۔

 

دوستو،

 

مجھے بہت خوشی ہے کہ گذشتہ چند برسوں میں، ہم نے اپنے تعلقات میں قابل ذکر ترقی کی ہے۔ 10 برسوں میں ہماری باہمی تجارت چار گنا بڑھی ہے۔

نارڈک ممالک کے سرمایہ کاری فنڈ بھی بھارت کی تیز رفتار نمو میں اہم ساجھیدار بن رہے ہیں۔ گذشتہ ایک دہائی میں، نارڈک ممالک سے بھارت میں سرمایہ کاری میں تقریباً 200 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

تیزی سے بڑھتی تجارت اور سرمایہ کاری نے بھارت کی نموکی داستان میں تو تعاون دیا ہی ہے؛ ساتھ ہی، نارڈک ممالک کی معیشتوں میں بھی بہت مثبت کردار ادا کیا ہے، اور ہزاروں نئے روزگار پیدا کیے ہیں۔ اس مضبوط بنیاد پر، اپنے تعلقات کو اگلی سطح پر لے جانے کے  لیے، ہم نے حال ہی میں چند اہم پہل قدمیاں  کی ہیں۔

 

دوستو،

 

اکتوبر 2025 سے، ناروے، آئس لینڈ اور دیگر ایفٹا (ای ایف ٹی اے) ممالک کے ساتھ، ہم نے تجارت اور معیشت شراکت داری معاہدہ نافذ کیا۔ اور چند ہی مہینے قبل، ہم نے بھارت – یوروپی یونین آزاد تجارتی معاہدہ کیا، جس میں ڈنمارک، فن لینڈ اور سویڈن بھی شراکت دار ہیں۔ ان اولوالعزم تجارتی معاہدوں سے، ہم بھارت اور نارڈک ممالک کے ساتھ تعلقات میں، ایک نئے سنہری دور کا آغاز کرنے جا رہے ہیں۔

 

دوستو،

 

آج ہم نے بھارت اور نارڈک تعلقات کو سبز تکنالوجی اور اختراعی کلیدی شراکت داری کی شکل دینے کا فیصلہ لیا ہے۔ اس سبز تکنالوجی شراکت داری سے، ہم آئس لینڈ کی جیو تھرمل اور ماہی پروری، ناروے کی بحری معیشت اور آرکٹک اور تمام نارڈک ممالک کے بحری شعبے اور پائیداری میں مہارت کو، بھارت کی وسعت کے ساتھ جوڑکر، پوری دنیا کے لیے ایک بہتر مستقبل یقینی بنائیں گے۔

اور ہمارے درمیان اس منفرد کلیدی شراکت کے قیام سے، ہم سویڈن کی جدید مینوفیکچرنگ اور دفاع، فن لینڈ کی ٹیلی مواصلات اور ڈیجیٹل تکنالوجی، اور ڈنمارک کی سائبر سلامتی اور صحتی تکنالوجی کو، بھارت کے ٹیلنٹ کے ساتھ جوڑکر، پوری دنیا کے لیے قابل بھروسہ سلوشنز تیار کریں گے۔

 

دوستو،

 

بھارت – نارڈک شراکت داری کا ایک اہم ستون، ہماری جامع تحقیقی اور اختراعی تعلقات بھی ہیں۔ اسے مضبوط بنانے کے  لیے، ہم ساتھ مل کر، یونیورسٹی، تجربہ گاہوں اور اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کے درمیان رابطے بڑھائیں گے۔ ہم آرکٹک اور پولر ریسرچ میں اپنے تعاون کو مضبوط کریں گے۔ اور بھارت نارڈک ممالک کے درمیان، ہنرمندی ترقی اور ٹیلنٹ موبیلٹی کے نئے مواقع پیدا کریں گے۔

 

دوستو،

 

آج ہم نے مل کر عالمی مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ عالمی تناؤ اور جدوجہد کے اس دور میں، بھارت اور نارڈک ممالک ساتھ مل کر، اصولو پر مبنی ایک عالمی نظام کو تقویت دیتے رہیں گے۔ اور یوکرین ہو یا مغربی ایشیا، ہم جدوجہد کے جلد از جلد خاتمے اور امن کی کوششوں کی حمایت کرتے رہیں گے۔

ہم اس بات پر متفق ہیں، کہ  ملٹی لیٹرل اداروں کی اصلاح ضروری بھی ہے، اور فوری بھی۔ اور دہشت گردی پر ہمارا واضح اور متحدہ موقف ہے- کوئی سمجھوتہ نہیں۔ کوئی دوہرا معیار نہیں۔


عالی مرتبت خواتین و حضرات،

 

ویسے تو ہم سبھی الگ الگ زبانیں بولتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھی ایک لفظ بھی ہماری فطری شراکت داری کو اجاگر کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ آج میں نے کئی مرتبہ، ’’سمبندھ‘‘ لفظ کا استعمال کیا۔ متعدد نارڈک زبانوں میں ’’سمبندھ‘‘ لفظ کا مطلب ہے، کنکشن، تعلقات، ایک بانڈ، ہندی میں بھی ’’سمبندھ‘‘ کا مطلب یہی ہے۔

یہ صرف الفاظ کی یکسانیت نہیں ہے۔ یہ ہمارے خیالات کی قربت کو ظاہر کرتا ہے۔ آیئے، ہم اپنے درمیان تعلقات کو، ہر شعبے میں مضبوط کریں، اور بھارت – نارڈک شراکت داری کو ساجھا خوشحالی، اختراع اور پائیدار مستقبل کا ایک ماڈل بنائیں۔

بہت بہت شکریہ۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Indian public relations industry pegged to reach ₹4,500 cr by 2030: Report

Media Coverage

Indian public relations industry pegged to reach ₹4,500 cr by 2030: Report
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister’s visit to Indonesia, Australia and New Zealand
July 03, 2026

At the invitation of the President of the Republic of Indonesia, H.E. Mr. Prabowo Subianto, Prime Minister Shri Narendra Modi will pay a visit to Indonesia from 6-8 July, 2026. This will be Prime Minister’s fourth visit to Indonesia and his first bilateral visit since the elevation of India-Indonesia ties to the level of Comprehensive Strategic Partnership in May 2018. During the visit, Prime Minister will hold bilateral discussions with President Prabowo and review the progress made in the partnership. In Jakarta, Prime Minister will address a large gathering of the Indian Diaspora. India and Indonesia share historical and warm people-to-people ties. In keeping with these special bonds, Prime Minister will visit the Prambanan Temple complex at Yogyakarta, a prominent UNESCO world heritage site in Indonesia.

From Indonesia, at the invitation of the Prime Minister of Australia, the Honourable Anthony Albanese MP, Prime Minister will travel to Melbourne from 8-10 July, 2026. In Melbourne, Prime Minister will hold bilateral discussions with Prime Minister Albanese. He will also call on the Governor General of Australia, the Honourable Ms Sam Mostyn AC. During his visit, Prime Minister will also participate in the India-Australia CEOs Forum, where he will address a gathering of top business leaders from both countries. Prime Minister will also address a large gathering of the Indian Diaspora, who constitute a strong pillar of the India-Australia relationship.

From Melbourne, at the invitation of the Prime Minister of New Zealand, Rt Honourable Christopher Luxon, Prime Minister will travel to Auckland for a state visit from 10-11 July, 2026. This will be the first state visit of an Indian Prime Minister to New Zealand in four decades. In Auckland, Prime Minister will hold bilateral discussions with Prime Minister Luxon and review the entire gamut of the bilateral relationship, which has seen significant progress in the last two years, especially in the areas of trade and commerce and defence. While in Auckland, Prime Minister will also interact with prominent business and sports personalities. In a reflection of the strong people-to-people ties that exist between India and New Zealand, Prime Minister will address a large gathering of the Indian Diaspora during the visit.