نمو ڈرون دیدیوں کے ذریعہ زرعی ڈرونز کے مظاہرے کا مشاہدہ کیا
1,000 نمو ڈرون دیدیوں کو ڈرون سونپے
انہوں نےایس ایچ جیز(خود امدادی گروپس) کو تقریباً 8,000 کروڑ روپے کے بینک قرض اور 2,000 کروڑ روپے کیپٹلائزیشن سپورٹ (سرمایہ کو تقویت دینے والے)فنڈ تقسیم کئے
لکھ پتی دیدیوں کی ستائش کی
’’ڈرون دیدیاں اور لکھپتی دیدیاں کامیابی کے نئے باب رقم کر رہی ہیں‘‘
’’کوئی بھی معاشرہ صرف مواقع پیدا کرنے کے ذریعہ اور ناری شکتی کے وقار کو یقینی بنا کر ہی ترقی کر سکتا ہے‘‘
’’میں پہلا وزیر اعظم ہوں جس نے بیت الخلاء، سینیٹری پیڈ، دھوئیں سے بھرے کچن، نلکے سے آنے والے پانی جیسے مسائل کو لال قلعہ کی فصیل سے اٹھایا‘‘
’’مودی کی حساسیت اور مودی کی اسکیمیں روزمرہ کی زندگی میں جڑیں رکھنے والےتجربات سے اُبھری ہیں‘‘
’’زراعت میں ڈرون ٹیکنالوجی کے انقلاب آمیز نتائج قوم کی خواتین کے ذریعے پیش کئے جا رہا ہے‘‘
’’مجھے پورا یقین ہے کہ ناری شکتی ملک میں ٹیکنالوجی کے انقلاب کی قیادت کرے گی‘‘
’’گزشتہ دہائی کے دوران ہندوستان میں سیلف ہیلپ گروپس کی توسیع قابل ذکر رہی ہے۔ ان گروپوں نے ملک میں خواتین کو بااختیار بنانے کی داستان کو دوبارہ سے رقم کیا ہے‘‘

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج سشکت ناری- وکست بھارت پروگرام میں شرکت کی اور انڈین ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، پوسا، نئی دہلی میں نمو ڈرون دیدیوں  کے ذریعے زرعی ڈرون کے مظاہروں کا مشاہدہ کیا۔ ملک بھر میں 10 مختلف مقامات سے نمو ڈرون دیدیوں  نے بھی بیک وقت ڈرون کے مظاہرے میں حصہ لیا۔ پروگرام کے دوران وزیر اعظم نے 1000 نمو ڈرون دیدیوں کو ڈرون بھی حوالے کئے۔ وزیر اعظم نے ہر ضلع میں بینکوں کے ذریعہ قائم کردہ بینک لنکیج کیمپوں کے ذریعے سبسڈی والی شرح سود پر سیلف ہیلپ گروپس(ایس ایچ جیز) کو تقریباً 8,000 کروڑ روپے کے بینک قرض بھی تقسیم کئے۔ وزیر اعظم نے ایس ایچ جیز(خود امدادی گروپوں) کو تقریباً 2,000 کروڑ روپے کیپٹلائزیشن سپورٹ فنڈ(سرمایہ کوتقویت دینے والا فنڈ) بھی تقسیم کیا۔ وزیر اعظم نے استفادہ کنندگان سے بھی بات چیت کی۔

 

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے آج کے موقع کو تاریخی  لمحہ قرار دیا کیونکہ ڈرون دیدیاں اور لکھپتی دیدیاں کامیابی کے نئے باب رقم کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کامیاب خواتین کاروباریوں کے ساتھ بات چیت کرنے کا عمل انہیں قوم کے مستقبل کے بارے میں اعتماد سے بھر دیتا ہے۔ انہوں نے ناری شکتی کے کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا، ‘‘اس عزم اور استقامت سے مجھے 3 کروڑ خواتین کو لکھ پتی دیدیوں کو حیثیت دینے کا  سفر شروع کرنے  لئےاعتماد ملا’’۔

، وزیر اعظم نے کہا‘‘کوئی بھی معاشرہ صرف مواقع پیدا کرنے اور ناری شکتی کے وقار کو یقینی بنا کر ہی ترقی کر سکتا ہے’’۔ پی ایم مودی نے کہا کہ صرف تھوڑی سی مدد سے ناری شکتی حمایت کی ضرورت سے بڑھ کر دوسروں کے لیے سہارا بن جاتی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ پہلے وزیراعظم ہیں جنہوں نے خواتین کو بااختیار بنانے کے مسائل جیسے خواتین کے لیے بیت الخلا، سینیٹری پیڈ، غیر صحت بخش دھواں دار کچن، خواتین کی روزانہ کی تکلیف کا خاتمہ کرنے کے لیے نلکے کا پانی، ہر خاتون کے لئے جن دھن اکاؤنٹ ، خواتین کے لیے توہین آمیز زبان کے خلاف اور بیٹوں کو ناری شکتی کے ساتھ مناسب رویے کے بارے میں تعلیم دینے کی ضرورت  پر لال قلعہ کی فصیل سے آواز اٹھائی۔

 

پی ایم مودی نے کہا۔ ‘‘مودی کی حساسیت اور مودی کی اسکیمیں روزمرہ کی زندگی میں اپنی جڑیں رکھنے والے تجربات سے اُبھری ہیں’’۔انہوں نے کہا کہ زندگی کی حقیقتوں کے تجربے نے ان حساسیتوں اور اسکیموں کو آگاہی کا  جوہر عطا کیا ہے۔ اس لیےیہ اسکیمیں ملک کی ماؤں اور بیٹیوں کے لیے گزر بسر میں آسانی لاتی ہیں۔

وزیر اعظم نے ان اسکیموں کے بارے میں بات کی جو ان کی زندگی کے ہر مرحلے پر ناری شکتی سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے لیے لائی جارہی ہیں۔  شکم مادر میں جنین  کےقتل کو روکنے کے لیے بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ، حاملہ ماؤں کی غذائیت کے لیے 6000 روپے، تعلیم کے دوران وسائل کو یقینی بنانے کے لیے سوکنیا سمردھی، کاروباری میدان میں منافع بخش مقام حاصل کرنے میں ان کی مدد کے لیے مدرا یوجنا، زچگی کی چھٹی میں توسیع، مفت طبی علاج،سستی ادویات اور خواتین کے نام پر پی ایم آواس ہاؤسز کا اندراج کرکے ملکیت کے دائرے کو بڑھانے سے پرانی طرز فکر  میں تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ زراعت کے میدان میں ڈرون ٹیکنالوجی کے تبدیلی کے ذریعہ انقلاب آمیز نتائج قوم کی خواتین پیش کر رہی ہیں۔ ڈرون دیدی کے ساتھ اپنی بات چیت کو یاد کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے آمدنی، ہنر اور ڈرون دیدی کی پہچان کے ذریعے بااختیار بنانے کے احساس کی وضاحت کی۔، وزیر اعظم نے تمام شعبوں میں خواتین کی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا ‘‘مجھے پورا یقین ہے کہ ناری شکتی ملک میں ٹیکنالوجی کے انقلاب کی قیادت کرے گی’’۔ وزیر اعظم نے دودھ اور سبزیوں کی مصنوعات کو مارکیٹ تک پہنچانے، ادویات کی ترسیل وغیرہ جیسے شعبوں میں ڈرون ٹیکنالوجی کی توسیع کے بارے میں تفصیل سے بتایا جس سے ڈرون دیدیوں کے لیے نئے نئے میدان عمل سامنے آرہے ہیں ۔

 

انہوں نے کہا، ‘‘گزشتہ دہائی کے دوران ہندوستان میں خود امدادی  گروپوں کی توسیع قابل ذکر رہی ہے۔ ان گروپوں نے ملک میں خواتین کو بااختیار بنانے کی داستان کو نئے سرے سے تحریر کیا ہے۔‘‘ سیلف ہیلپ گروپس(خود امدادی گروپس)  میں خواتین کی طرف سے ادا کیے جانے والے اہم کردار کو تسلیم کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا، ‘‘میں آج سیلف ہیلپ گروپس میں شامل ہر بہن کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ان کی محنت نے ان گروپوں کو قوم کی تعمیر  کے عمل میں  قائدانہ  کردار ادا کرنے کے لیے بلند مقام عطا کیا ۔’’ وزیر اعظم مودی نے سیلف ہیلپ گروپس میں خواتین کی شرکت کی متاثر کن ترقی پر زور دیتے ہوئے کہا، ‘‘آج سیلف ہیلپ گروپوں میں خواتین کی تعداد 10 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔’’ سیلف ہیلپ گروپس کی مدد کے لیے حکومت کی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم مودی نے کہا، ‘‘گزشتہ دس  برسوں  میں، ہماری حکومت نے نہ صرف خود  امدادی  گروپوں کو فروغ بخشا ہے بلکہ ان گروپوں میں سے 98فیصد کے لیے بینک اکاؤنٹس کھولنے میں بھی سہولت فراہم کی ہے۔’’ ایسے گروپوں کی امداد کو بڑھا کر 20 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے اور ایسے گروپوں کے کھاتوں میں 8 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم جمع کرائی گئی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جدید انفرااسٹرکچر پر زور دینے کی وجہ سے ان سیلف ہیلپ گروپس کی آمدنی میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔

 

اقتصادی بااختیار بنانے کے علاوہ، وزیر اعظم مودی نے سیلف ہیلپ گروپوں کے سماجی اثرات کی تعریف کرتے ہوئے کہا، ‘‘ان گروپوں نے دیہی بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور دیہی برادریوں کی مجموعی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔’’ وزیر اعظم نے بینک سکھی، کرشی  سکھی ، پشو سکھی  اور متاسیہ  سکھی  کے کردار اور خدمات کا اعتراف کیا۔، وزیر اعظم نے کہا ‘‘یہ دیدیاں  صحت سے لے کر ڈیجیٹل انڈیا تک، ملک کی قومی مہموں کو نئی تحریک دے رہی ہیں۔ پردھان منتری گرامین ڈیجیٹل سکشرتا ابھیان چلانے والوں میں 50 فیصد سے زیادہ خواتین ہیں اور 50 فیصد سے زیادہ استفادہ کنندگان بھی خواتین ہیں۔ کامیابیوں کا یہ سلسلہ صرف ناری شکتی میں میرا یقین مضبوط کرتا ہے۔

 

وزیر اعظم نے سیلف ہیلپ گروپس سے کہا کہ وہ پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا کے نفاذ میں آگے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں بھی سیلف ہیلپ گروپ کے ممبران پہل کریں گے، انہیں اسکیم میں ترجیح دی جائے گی۔

اس موقع پر مرکزی وزراء  جناب  ارجن منڈا، ڈاکٹر منسکھ منڈاویہ اور  جناب گری راج سنگھ بھی موجود تھے۔

نمو ڈرون دیدی اور لکھپتی دیدی کے اقدامات خاص طور پر دیہی علاقوں میں خواتین میں معاشی بااختیار بنانے اور مالی خودمختاری کو فروغ دینے کے وزیر اعظم کے وژن کے لیے جزو  لازمی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس وژن کو آگے بڑھانے کے لیے، وزیر اعظم لکھپتی دیدیوں کو مبارکباد دیں گے، جنہوں نے دین دیال انتیودیا یوجنا - قومی دیہی روزی روٹی مشن کے تعاون سے کامیابی حاصل کی ہے اور ان کی ترقی کے لیے دیگر سیلف ہیلپ گروپ(خود امدادی گروپس) کے اراکین کی حمایت اور حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔

 

 

 

 

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Parliament on verge of history, says PM Modi, as it readies to take up women's bills

Media Coverage

Parliament on verge of history, says PM Modi, as it readies to take up women's bills
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Booth strength, people’s trust and grassroots outreach - PM Modi’s interaction with BJP Karyakartas from West Bengal
April 14, 2026
The citizens across West Bengal have described the BJP’s Sankalp Patra (manifesto) as practical, implementable and focused on holistic development and welfare: PM Modi
PM Modi constantly reiterated to the BJP karyakartas of West Bengal that booth-level strength is the foundation of electoral success
The scale of victory in West Bengal will directly translate into relief and better governance for its people: PM Modi to BJP karyakartas

PM Modi interacted with BJP karyakartas from across West Bengal under the ‘Mera Booth, Sabse Mazboot’ initiative, extending his best wishes for the Bengali New Year to all citizens of the state.


During the interaction, the PM reflected on his recent visits across various parts of West Bengal, highlighting the remarkable enthusiasm, energy and growing support for the BJP among the people. He credited this momentum to the tireless efforts and dedication of booth-level karyakartas.

The PM appreciated the positive response to the BJP’s Sankalp Patra (manifesto), stating that citizens across the state have described it as practical, implementable, and focused on holistic development and welfare.

During the interaction, several karyakartas shared their on-the-ground experiences, highlighting key concerns among the people, including safety, employment, corruption, political violence, and governance challenges. Women karyakartas spoke about concerns over security and dignity, while youth-related issues such as migration due to lack of opportunities were also raised.

PM Modi acknowledged these concerns and emphasised the need for continuous engagement with citizens at the grassroots level. He urged karyakartas to strengthen booth-level organisation through regular outreach and small group meetings, actively connect with women, youth, farmers and first-time voters , clearly communicate the benefits and vision outlined by the BJP, ensure transparency, development and safety, use social media and digital tools effectively to amplify facts and counter misinformation.
He also stressed the importance of documenting and communicating local issues, ensuring that the voices of the people are consistently heard and represented.

The PM constantly reiterated that booth-level strength is the foundation of electoral success, stating that “Booth jeeta, toh chunav jeeta.” He expressed confidence that the growing trust of the people in BJP presents a significant opportunity to bring transformation in West Bengal.

Concluding the interaction, PM Modi said that the scale of victory in West Bengal will directly translate into relief and better governance for its people. He encouraged all karyakartas to work with renewed energy, expand outreach, and ensure that every household becomes a partner in this journey of development.