It is a very special day for entire India: PM Modi at Bodo Peace Accord ceremony in Kokrajhar
Bodo Peace Accord done by bringing on all stakeholders together with a sincere effort to resolve the decades old crisis: PM Modi
After we came to power, most regions of Tripura, Mizoram, Meghalaya, and Arunachal Pradesh are free from AFSPA: PM

نئی دہلی،  7 فروری 2020،   وزیراعظم جناب نریندر مودی نے پرخلوص اپیل کرتے ہوئے ان تمام لوگوں سے جو تشدد کے  راستے پر چل رہے ہیں، کہا کہ  وہ اپنے ہتھیار ڈال دیں اور بوڈو کاڈر س کی طرح اصل دھارے میں واپس آجائیں۔

وزیراعظم بوڈو سمجھوتے پر دستخط کئے جانے کے سلسلے میں آج آسام کے شہر  کوکرا جھار میں منعقد تقریبات میں شرکت کررہے تھے۔

27جنوری 2020 کو تاریخی بوڈو معاہدے پر دستخط کئے جانے کے بعد وزیراعظم کا شمال مشرق کا یہ پہلا دورہ ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ‘‘جو لوگ شمال مشرق یا نکسل علاقوں یا جموں و کشمیر میں اب ہتھیاروں اور تشدد میں یقین رکھتے ہیں، میری ان سے درخواست ہے کہ وہ بوڈو جوانوں سے سیکھیں اور ان سے فیضان حاصل کریں اور اصل دھارے میں شامل ہوجائیں۔ واپس آیئے اور زندگی میں خوشیاں منانا شروع کیجئے’’۔

وزیراعظم نے اپنی تقریر میں بوڈو لینڈ کے  رہنماؤں اپیندر ناتھ برہما جی، روپ ناتھ برہما جی  کے تعاون کو یاد دلایا۔

بوڈو سمجھوتہ ۔ سب کا ساتھ سب کا وکاس، سب کا وشواس کا عکاس

وزیراعظم نے بوڈو سمجھوتے میں انتہائی مثبت رول ادا کرنے پر آل بوڈو اسٹوڈنٹس یونین (اے بی ایس یو) نیشنل ڈیموکریٹ فرنٹ آف بوڈو لینڈ (این ڈی ایف بی) بی ٹی سی کے سربراہ جناب ہگراما مہیلارے اور حکومت آسام کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ  ‘‘ آج آسام سمیت پورے شمال مشرق کے لئے 21 ویں صدی میں ایک نئی شروعات، ایک نئی صبح اور نئی ایک نئی ترغیب کا خیرمقدم کرنے کا دن ہے۔ آج یہ عہد کرنے کا دن ہے کہ ترقی اور اعتماد ہمارا سہارا ہوگا اور انہیں اور مضبوط بنایا جائے گا۔ ہمیں کبھی بھی تشدد کی تیرگی میں نہیں پھنسنا ہے۔ ہمیں ایک پرامن آسام، ایک نئے مضبوط بھارت کا استقبال کرنا ہے’’۔

انہوں نے بوڈو سمجھوتے پر دستخط کئے جانے کو اور بھی زیادہ اہم قرار دیا کیونکہ بھارت اس سال مہاتما گاندھی کا 150 واں یوم پیدائش منا رہا ہے۔

انہوں نے کہا ‘‘گاندھی جی کہا کرتا تھے کہ عدم تشدد کے جو بھی فائدے ہوں، انہیں سب کو قبول کرنا چاہیے’’۔

بوڈو سمجھوتے کی خصوصیت  بتاتے ہوئے  وزیراعظم نے کہا کہ اس سے علاقے کے سبھی لوگوں کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بوڈو ٹیریٹوریل کونسل (بی ٹی سی) کے اختیارات کو بڑھا دیا گیا ہے اور سمجھوتے کے تحت انہیں مستحکم بنادیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا ‘‘اس سمجھوتے میں ہر ایک فتح یاب ہوا ہے۔ اس سمجھوتے میں امن کی فتح ہوئی ہے اور انسانیت جیتی ہے’’۔

بوڈو ٹیریٹوریل ایریا اضلاع (بی ٹی اے ڈی) کی سرحدیں طے کرنے کے لئے ایک کمیشن قائم کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ‘‘اس سے بوڈو کلچر ، علاقے اور تعلیم کی مجموعی ترقی میں مدد ملے گی’’۔

بی ٹی سی اور حکومت آسام کی اضافہ شدہ ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ترقی کا حصول صرف سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس کے ذریعہ ہوگا۔

وزیراعظم نے مزید کہا  ‘‘آج بوڈو علاقے میں نئی امیدیں ، نئے خواب اور نئے جذبے پیدا ہوئے ہیں۔ آپ سب کی ذمہ دارہ بڑھ گئی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ بوڈو ٹیریٹوریل کونسل یہاں ہر سماج کو اپنے ساتھ لیکر ترقی کا ایک نیا ماڈل تیار کرے گی۔ اس سے آسام مضبوط ہوگا اور بھارت کے جذبے کو مضبوط حاصل ہوگی، ایک بہتر بھارت بنے گا’’۔

وزیراعظم نے کہا کہ ان کی حکومت آسام سجھوتے کی دفعہ 6 پر عمل کرنا چاہتی ہے اور یہ کہ وہ کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار کررہی ہے۔

شمال مشرق کی امنگوں کو پورا کرنے کے لئے نئی حکمت عملی

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے شمال مشرق کو درپیش متعدد مسائل کو حل کرنے کے لئے ایک نئی حکمت عملی اپنائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کی حکمت عملی علاقے کے لوگوں کی امنگوں  اور جذبات مسائل کو  گہرائی کے ساتھ سمجھنے سے  ممکن ہوسکی ہے۔

وزیراعظم نے کہا ‘‘تمام متعلقہ لوگوں کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعہ مذاکرات کرنے اور بات چیت کرنے سے مسائل کا حل تلاش کیا گیا ہے۔ ہم نے ہر ایک سے کسی باہر والے کی طرح نہیں بلکہ اپنے  کنبے کا  فرد سمجھ کر بات چیت کرنے کے بعد یہ حل نکالا ہے۔ ہم نے ان سے بات چیت کی اور انہیں یہ احساس دلایا کہ وہ ہمارے اپنے ہیں۔ اس سے انتہاپسندی کم ہوئی۔ اس سے پہلے شمال مشرق میں انتہاپسندی کی وجہ سے تقریباً ایک ہزار ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ لیکن آج  مجموعی طور پر صورتحال معمول کے مطابق اور پرامن ہے’’۔

شمال مشرق ملک کی ترقی کا انجن ہے

وزیراعظم نے کہا ‘‘ پچھلے تین چار برسوں میں 3 ہزار کلومیٹر سے زیادہ سڑکیں تعمیر کی گئی ہیں۔نئی قومی شاہراہوں کی منظوری دی جاچکی ہے۔شمال مشرق کے پورے ریل نیٹ ورک کو بڑی لائن میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ تعلیم کے نئے اداروں ، ہنرمندی اور کھیل کود کے ساتھ شمال مشرق کے نوجوانوں کو مستحکم بنانے پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ  دہلی اور بنگلور میں شمال مشرق کے طلبا کے لئے نئے ہوسٹل تشکیل دیئے گئے ہیں’’۔

وزیراعظم نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کا مطلب مورٹار اور سیمنٹ کی یکجائی نہیں ہوتی، اس میں انسانی پہلو بھی شامل ہوتا ہے۔ یہ لوگوں کو یہ احساس دلاتا ہے کہ لوگ ان کی فکر کرنے کےلئے موجود ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ‘‘جب لاکھوں لوگوں کو کئی دہائیوں سے التوا میں پڑے بہت سے پروجیکٹوں کے مکمل ہونے پر کنیکٹی وٹی ملتی ہے تو حکومت پر ان کا اعتماد بڑھ جاتا ہے۔ ان پروجیکٹوں میں بوگی بیل پُل بھی شامل ہے۔اس مجموعی ترقی نے علیحدگی کو یکجائی میں بدلنے میں ایک بڑا رول اد  ا کیا ہے۔ جب یکجائی ہوتی ہے ، جب ترقی ہر ایک کے پاس یکساں طور پر پہنچنا شروع ہوتی ہے تو لوگ ایک ساتھ مل کر کام کرنے پر راضی ہوجاتی ہیں۔ جب لوگ ایک ساتھ مل کر کام کرنے پر تیار ہوجاتے ہیں تو بڑے سے بڑے مسئلے بھی حل ہوجاتے ہیں’’۔

Click here to read PM's speech

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets

Media Coverage

PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister hold talks with Myanmar President U Min Aung Hlaing
June 01, 2026

The Prime Minister, Shri Narendra Modi, today held productive talks with the President of Myanmar, U Min Aung Hlaing.

The Prime Minister noted that India is honoured that President U Min Aung Hlaing chose India for his first foreign visit as President. He also expressed happiness that the President began his programme in India from Bodh Gaya with the blessings of Lord Buddha.

During the talks, the two leaders reviewed the full range of India-Myanmar relations and discussed ways to further strengthen bilateral cooperation.

The discussions covered avenues to deepen cooperation in trade, rare earths, healthcare, connectivity, heritage restoration and capacity building. The two sides also agreed to work closely in areas such as maritime security, cyber security and other sectors of mutual interest.

The Prime Minister underlined that Myanmar is vital to India’s ‘Neighbourhood First’, ‘Act East’ and Indo-Pacific policies, reaffirming the importance India attaches to its relations with Myanmar.

The Prime Minister wrote on X;

“Had a productive meeting with President U Min Aung Hlaing of Myanmar. We in India are honoured that he has chosen India for his first foreign visit as President. Equally gladdening is the fact that he began the visit from Bodh Gaya, with the blessings of Lord Buddha. We reviewed the full range of India-Myanmar relations. Myanmar is vital to India’s policies of ‘Neighbourhood First’, ‘Act East’ and Indo-Pacific.”

“Our talks covered ways to deepen cooperation in trade, rare earths, healthcare, connectivity, heritage restoration and capacity building. We also agreed to work closely in areas such as maritime security, cyber security and more.”