وزیراعظم نے آج جنوبی افریقہ کے صدر سِرِل راما فوساکی میزبانی میں جوہانسبرگ میں منعقدہ جی 20 رہنماؤں کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی۔ یہ جی 20 سربراہی اجلاسوں میں وزیراعظم کی بارہویں شرکت تھی۔ وزیر اعظم نے سربراہ اجلاس کے افتتاحی دن کے دونوں سیشنز سے خطاب کیا۔ انہوں نے صدر رامافوسا کا پرتپاک میزبانی اور اجلاس کی کامیاب میزبانی پر شکریہ ادا کیا۔

افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، جس کا موضوع "سب کو ساتھ لے کر جامع اور پائیدار اقتصادی ترقی تھا "، وزیراعظم نے جنوبی افریقہ کی صدارت میں گروپ کی جانب سے مہارت پر مبنی ہجرت ، سیاحت، غذائی تحفظ، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، اختراعات اور خواتین کے بااختیار بنانے کے شعبوں میں کی گئی کامیاب کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ نئی دہلی سربراہ اجلاس کے دوران کیے گئے بعض تاریخی فیصلوں کو آگے بڑھایا گیا ہے۔
وزیراعظم نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ترقی کے نئے معیارات وضع کرنے کا وقت آ گیا ہے، ایسے معیارات جو ترقی میں عدم توازن اور قدرت کے حد سے زیادہ استحصال جیسے چیلنجوں کا حل پیش کریں، خصوصاً اس موقع پر جب پہلی بار جی-20 سربراہ اجلاس افریقہ میں منعقد ہو رہا ہے۔اس تناظر میں انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ بھارت کی تہذیبی دانائی پر مبنی ’’انٹیگرل ہیومنزم‘‘ کے تصور کو مزید تحقیق اور جستجو کے ذریعے سامنے لایا جانا چاہیے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ انٹیگرل ہیومنزم کا تصور، انسان، معاشرے اور فطرت کو ایک جامع اور مجموعی انداز سے دیکھتا ہے، اور اسی ذریعے ترقی اور کرۂ ارض کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی جا سکتی ہے۔

بھارت کی ترقی، ترقیاتی حکمتِ عملی اور سب کے فلاح و بہبود کے نقطۂ نظر پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیراعظم نے جی-20 کے لیے غور و فکر کی غرض سے چھ تجاویز پیش کیں۔ جو مندرجہ ذیل ہیں:
- جی-20 عالمی روایتی علمی ذخیرہ کا قیام: اس کے ذریعے انسانی تہذیب و تمدن کی اجتماعی دانائی کو محفوظ کر کے آنے والی نسلوں کے فائدے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
- جی-20 افریقہ مہارت میں اضافے کے پروگرام کا قیام: اس پروگرام کا مقصد افریقہ کے نوجوانوں کی مہارت سازی کے لیے دس لاکھ تصدیق شدہ تربیت کاروں کا ذخیرہ تیار کرنا ہے، جس سے مقامی صلاحیتیں بڑھیں گی اور براعظم میں دیرپا ترقی کو فروغ ملے گا۔
- جی-20 عالمی ہیلتھ کیئر ریسپانس ٹیم کا قیام: یہ ٹیم جی-20 ممالک کے ماہرینِ صحت پر مشتمل ہوگی اور دنیا کے کسی بھی حصے میں صحت سے متعلق عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تعینات کی جا سکے گی۔
- جی-20 اوپن سیٹلائٹ ڈیٹا شراکت داری کا قیام: اس پروگرام کے تحت جی-20 ممالک کی خلائی ایجنسیوں کے سیٹلائٹ ڈیٹا کو زرعی شعبے، ماہی گیری، آفات سے نمٹنے اور دیگر سرگرمیوں کے لیے ترقی پذیر ممالک کو فراہم کیا جائے گا۔
- جی-20 اہم معدنیات سرکولیرٹی اقدام کا قیام: یہ اقدام ری سائیکلنگ، شہری کان کنی، پرانے بیٹری منصوبوں اور مختلف نوعیت کی اختراعات کو فروغ دے گا، سپلائی چین سکیورٹی مضبوط کرے گا اور زیادہ صاف ستھری ترقیاتی راہیں فراہم کرے گا۔
- جی-20 منشیات دہشت گردی نیٹورک کے خلاف اقدام کا قیام: اس کے ذریعے منشیات کی اسمگلنگ کا سدباب کیا جائے گا اور منشیات و دہشت گردی کی معیشت کو توڑا جائے گا۔

وزیراعظم نے "لچکدار دنیا – آفات کے خطرات میں کمی، ماحولیاتی تبدیلی، منصفانہ توانائی کی منتقلی اور غذائی نظام میں جی-20 کا کردار" کے عنوان سے منعقدہ سیشن سے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ بھارت کی جانب سے شروع کیے گئے قدرتی آفات کے خطرے کو کم کرنے سے متعلق عاملہ گروپ کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آفات سے نمٹنے کی حکمت عملی "ردعمل پر مبنی" ہونے کے بجائے "ترقی پر مبنی" ہونی چاہیے، جس کی بہترین مثال بھارت کے قائم کردہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے بنیادی ڈھانچے کا گروپ ہے۔ وزیراعظم نے ماحولیاتی ایجنڈے پر مشترکہ عالمی کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے غذائی تحفظ کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

اس سلسلے میں انہوں نے غذائی اور ماحولیاتی تحفظ کے فروغ میں جوار، باجرہ اور دیگر موٹے اناج کی اہمیت کا ذکر کیا۔ انہوں نے بھارت کی صدارت کے دوران منظور کیے گئے دکن اصولوں برائے غذائی تحفظ کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اسی نوعیت کا نقطۂ نظر جی-20 کے غذائی تحفظ کے روڈ میپ کی بنیاد بننا چاہیے۔
وزیراعظم نے ترقی یافتہ ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ ترقی پذیر ممالک کو سستی مالی معاونت اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے لیے اپنی ماحولیاتی ذمہ داریوں کو مقررہ وقت میں پورا کریں۔
وزیراعظم نے عالمی نظامِ حکمرانی میں گلوبل ساؤتھ کے لیے زیادہ نمائندگی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے اس بات کو ایک اہم سنگِ میل قرار دیا کہ نئی دہلی سربراہ اجلاس میں افریقی یونین کو جی-20 کا مستقل رکن بنایا گیا، اور اس شمولیتی جذبے کو جی-20 سے آگے بھی وسعت دی جانی چاہیے۔وزیراعظم کے دونوں سیشنوں کے مکمل بیانات یہاں دیکھے جا سکتے ہیں ۔ [Session 1; Session 2]
Spoke at the first session of the G20 Summit in Johannesburg, South Africa, which focussed on inclusive and sustainable growth. With Africa hosting the G20 Summit for the first time, NOW is the right moment for us to revisit our development parameters and focus on growth that is… pic.twitter.com/AxHki7WegR
— Narendra Modi (@narendramodi) November 22, 2025
I proposed a few actionables to realise our dream of all-round growth. First among them is the creation of a G20 Global Traditional Knowledge Repository. India has a rich history in this regard. This will help us pass on our collective wisdom to further good health and wellbeing.
— Narendra Modi (@narendramodi) November 22, 2025
Africa’s progress is vital for global progress. India has always stood in solidarity with Africa. I am proud of the fact that it was during India’s G20 Presidency that the African Union became a permanent G20 member. Taking forward this spirit, India proposes a G20–Africa Skills…
— Narendra Modi (@narendramodi) November 22, 2025
India proposes the setting up of a G20 Global Healthcare Response Team. We are stronger when we work together in the face of health emergencies and natural disasters. Our effort should be to create teams of trained medical experts from fellow G20 nations who are ready for rapid…
— Narendra Modi (@narendramodi) November 22, 2025
To overcome the challenge of drug trafficking, especially the spread of extremely dangerous substances like fentanyl, India proposes a G20 Initiative on Countering the Drug–Terror Nexus. Let us weaken the wretched drug-terror economy!
— Narendra Modi (@narendramodi) November 22, 2025
The second session at the G20 Summit in Johannesburg focussed on building a resilient world in the face of disasters, climate change and ensuring energy transitions that are just as well as robust food systems. India has been actively working on all these fronts, building a… pic.twitter.com/Iqvh81CxUj
— Narendra Modi (@narendramodi) November 22, 2025
India believes that key global challenges can be solved with strong global cooperation. This is what made India establish the Disaster Risk Reduction Working Group during our G20 Presidency. When it comes to disaster resilience, the approach has to be development centric not only…
— Narendra Modi (@narendramodi) November 22, 2025
Proposed the setting up of a G20 Open Satellite Data Partnership whereby satellite data and analysis from G20 space agencies can be made more accessible for countries of the Global South.
— Narendra Modi (@narendramodi) November 22, 2025
India is fully committed to sustainability and clean energy, which is why we propose a G20 Critical Minerals Circularity Initiative to promote recycling, urban mining, second-life batteries and related innovations.
— Narendra Modi (@narendramodi) November 22, 2025
One of the most adverse effects of climate change is on our agriculture sector, thus impacting food security. In this regard, highlighted how India is addressing these challenges through the world’s largest food security and nutrition support programme, the world’s largest health…
— Narendra Modi (@narendramodi) November 22, 2025


