‘‘ممبئی سماچار ہندوستان کا فلسفہ اور اظہار ہے’’
‘‘تحریک آزادی سے لے کر ہندوستان کے نو نرمان تک پارسی بہنوں اور بھائیوں کا تعاون بہت بڑا ہے’’
میڈیا کو تنقید کا جتنا حق ہے، مثبت خبروں کو منظر عام پر لانا بھی اس کی اتنی ہی اہم ذمہ داری ہے
‘‘ہندوستان کے میڈیا کے مثبت تعاون نے وبائی امراض سے نمٹنے میں ہندوستان کی بہت مدد کی’’

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ممبئی میں ممبئی سماچار کے دویشتابدی مہوتسو میں شرکت کی۔ انہوں نے اس موقع کی یاد میں ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔

وزیر اعظم نے اس تاریخی اخبار کی 200 ویں سالگرہ پر ممبئی سماچار کے تمام قارئین، صحافیوں اور عملے کے لئے  نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس حقیقت کی ستائش کی کہ ان دو صدیوں  کے دوران کئی نسلوں کی زندگیوں اور ان کے خدشات سے  ممبئی سماچار نے عوام کو روشناس کرایا ہے۔  وزیر اعظم نے ریمارک کیا کہ ممبئی سماچار نے بھی تحریک آزادی کوزبان عطا کی اور پھر آزاد ہندوستان کے 75 سال بھی ہر عمر کے قارئین تک پہنچائے۔ انہوں نے کہا کہ زبان کا ذریعہ اظہار ضرور گجراتی تھا، لیکن تشویش قومی تھی۔ وزیر اعظم نے ذکر کیا کہ مہاتما گاندھی اور سردار پٹیل بھی ممبئی سماچار کا حوالہ دیتے تھے اور  ساتھ ہی انہوں نے ہندوستان کی آزادی کے 75 ویں سال میں آنے والی اس سالگرہ کے خوشگوار اتفاق کا ذکر کرتے ہوئے کہا  ‘‘لہذا، آج کے اس موقع پر، ہم نہ صرف ہندوستان کی صحافت کے اعلیٰ معیارات اور حب الوطنی کی فکر سے  وابستہ  صحافت کا جشن منا رہے ہیں، بلکہ یہ تقریب آزادی کے امرت مہوتسو میں بھی اضافہ کر رہی ہے’’۔ وزیراعظم نے جدوجہد آزادی میں صحافت کی شاندار خدمات  کے ساتھ ساتھ  ایمرجنسی  کےدور کے بعد جمہوریت کی بحالی کا  بھی ذکر کیا۔

وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ غیر ملکیوں کے زیر اثر جب یہ شہر بمبئی  قرار دے دیا گیا تھا ، تب بھی ممبئی سماچار نے ملک کے عوام   اور اس کی جڑوں کے ساتھ   اپنا رابطہ منقطع نہیں ہونے دیا تھا۔ اس وقت بھی  یہ   ممبئی کے عام لوگوں کا  اخبار تھا اور آج بھی اس کی  وہی حیثیت ہے یعنی ممبئی سماچار۔ انہوں نے مزید کہا کہ ممبئی سماچار صرف ایک خبر کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ ایک میراث ہے۔ ممبئی سماچار ہندوستان کا فلسفہ اور اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ممبئی سماچار کے ذریعہ  اس حقیقت کا پتہ چلتا ہے کہ ہر طوفان کے  سامنے   ہندوستان کس طرح مضبوطی کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔

وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ جب ممبئی سماچار کی اشاعت شروع ہوئی  تو غلامی کا اندھیرا گہرا ہوتا جا رہا تھا۔ اس دور میں گجراتی جیسی ہندوستانی زبان میں اخبار نکالنا اتنا آسان نہیں تھا۔ ممبئی سماچار نے ایک ایسے دور میں بھی لسانی صحافت کو وسعت دی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کی ہزاروں سال کی تاریخ ہمیں بہت کچھ سکھاتی ہے۔ اس سرزمین  کے مہمان نواز  مزاج کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا  کیا کہ جو بھی یہاں آیا، بھارت ماتا نے سب کو اپنی گود میں پنپنے کا کافی موقع دیا۔ انہوں نے پوچھا ‘‘اس سلسلے میں  پارسی برادری سے زیادہ   اچھی مثال اور کیا ہو سکتی ہے؟’’ انہوں نے مزید کہا کہ آزادی کی تحریک سے لے کر ہندوستان کے نو نرمان تک پارسی بہنوں اور بھائیوں کا تعاون بہت بڑا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کمیونٹی تعداد کے لحاظ سے ملک کی سب سے چھوٹی، اقلیتوں میں سے ایک ہے، لیکن صلاحیت اور خدمت کے لحاظ سے بہت بڑی ہے۔

وزیراعظم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا  کہ اخبارات اور میڈیا کا کام خبریں پہنچانا اور عوام کو آگاہ کرنا ہے، اگر معاشرے اور حکومت میں کچھ کوتاہیاں پائی جاتی ہیں تو انہیں سامنے لانا ان کی ذمہ داری ہے۔ ساتھ ہی  میڈیا کو تنقید کا جتنا حق حاصل ہے، مثبت خبروں کو منظر عام پر لانے کی بھی اس کی  اتنی ہی اہم ذمہ داری ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ صحافیوں نے گزشتہ دو برسوں کے دوران  خاص طور پر جس طرح کورونا کے دور میں قوم کی فلاح وبہبود کے لئے  کرم یوگیوں کی طرح کام کیا ہے ، اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ہندوستان کے میڈیا کے مثبت تعاون نے ہندوستان کو 100 سال کے اس سب سے بڑے بحران سے نمٹنے میں کافی مدد کی۔ انہوں نے ڈیجیٹل ادائیگی اور سوچھ بھارت ابھیان جیسے اقدامات کو فروغ دینے میں میڈیا کے کردار کی بھی تعریف کی۔

 

وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ملک ایک گراں مایہ  روایت کا حامل  ملک ہے جسے بحث و مباحثے کے ذریعے آگے بڑھایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا ‘‘ہزاروں سالوں سے، ہم نے سماجی نظام کے ایک حصے کے طور پر صحت مند بحث، صحت مند تنقید اور درست استدلال کا انعقاد کیا ہے۔ ہم بہت مشکل سماجی موضوعات پر کھلی اور صحت مندانہ گفتگو کرتے ہیں۔ یہ ہندوستان کا طرز عمل رہا ہے، جسے ہمیں تقویت بخشنا ہے’’، ۔

ممبئی سماچار کی بطور ہفتہ وار اشاعت یکم جولائی 1822 کو شری فردو ن جی مرزبان جی  کے ذریعہ  شروع کی گئی ۔  آگے چل کر  یہ 1832 میں روزنامہ بن گیا۔ یہ اخبار 200 سال سے مسلسل شائع ہوتا رہا ہے۔

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
First multilingual Indian speech recognition model trained on 65 languages and dialects released

Media Coverage

First multilingual Indian speech recognition model trained on 65 languages and dialects released
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
وزیر اعظم نے تقسیم کے ہولناک واقعات کی یاد کے دن تقسیم سے متاثرہ افراد کی بہادری کو خراج تحسین پیش کیا
August 14, 2026
وزیر اعظم نے محنت اور انسانی جدوجہد کی طاقت کو اجاگر کرتے ہوئے سنسکرت سبھاشتم شیئر کیا 

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج کہا کہ تقسیم ہند کی ہولناکیوں کی یاد کے دن کے موقع پر ہم ان تمام لوگوں کی ہمت اور حوصلے کو یاد کرتے ہیں جو تقسیم سے متاثر ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاریخ کا وہ المناک باب تھا جس نے بے شمار زندگیاں اجاڑ دیں، خاندانوں کو اپنے گھر بار سے محروم ہونا پڑا، متعددلوگوں کو اپنوں کو کھونا پڑا اور لوگوں کو بے پناہ مصائب برداشت کرنے پڑے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس کے باوجود لوگوں نے تمام تر مشکلات پر قابو پاتے ہوئے ازسرنو اپنی زندگیاں سنواریں، نامساعد حالات کو کامیابی میں بدلا اور ملک کی ترقی میں گراں قدر تعاون دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کی زندگی کےمشکلوں بھرا سفر ہمیں انسانی عزم و حوصلے کی قوت کا احساس دلاتے ہیں۔ جناب مودی نے امید ظاہر کی کہ یہ دن ہمارے ملک میں ہم آہنگی اور بھائی چارے کے تحفظ کے عزم کو مزید مضبوط کرے گا اور ہمیں ایک ساتھ مل کر ایک وکست بھارت کی تعمیر کی سمت کام کرنے کی ترغیب دے گا۔

وزیر اعظم نے ان تمام ہم وطنوں کو دلی خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے اس ہولناک دور سے نکل کر ملک کی ترقی میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنی ہمت اور صلاحیت کے ذریعے ان لوگوں نے ثابت کیا کہ نامساعد حالات میں بھی عزم و ارادوں کو حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔ جناب نریندر مودی نے سبھی لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ملک میں خیرسگالی اور باہمی یکجہتی کے جذبے کو مزید مضبوط کریں۔

وزیر اعظم نے ایک سنسکرت سبھاشتم شیئر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ محنت، جدوجہد اور لگن کے ذریعے مختلف فنون، علوم، سائنسی و تکنیکی مہارتیں، ہنرمندی اور اختراعات فروغ پاتی ہیں اور کامیابی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس لیے انسان کو قسمت کے سہارے بیٹھے نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ہمت، محنت اور مسلسل کوشش کے ساتھ اپنے مقاصد کی جانب ثابت قدمی سے آگے بڑھنا چاہیے، کیونکہ انسانی جدوجہد ہی تقدیر کی تشکیل کرتی ہے۔

وزیر اعظم نے ایکس پر سلسلہ وار پوسٹس میں لکھا:

آج ہم تقسیم ہند# کی ہولناکیوں کی یادکادن منا رہے ہیں۔ ہم ان تمام لوگوں کی ہمت و حوصلے کو یاد کرتے ہیں جو تقسیم سے متاثر ہوئے تھے۔ یہ تاریخ کا ایک ایسا لمحہ تھا جس نے بے شمار زندگیاں تہس نہس کر دیں… خاندان اجڑ گئے، اپنوں سے بچھڑنا پڑا اور لوگوں کو بے پناہ مصائب اور مشکلات برداشت کرنا پڑے۔

اس کے باوجود لوگوں نے ان حالات پر قابو پاتے ہوئے صفرسطح سے اپنی زندگیاں دوبارہ سنواریں، مشکلات کو کامیابی میں بدلا اور ملک کی ترقی میں بے حد اہم کردار ادا کیا۔ ان کی زندگی کے سفر ہمیں انسانی عزم و حوصلے کی قوت کا احساس دلاتے ہیں۔’’یہ دن ہمارے ملک میں باہمی ہم آہنگی اور بھائی چارے کے تحفظ کے عزم کو مزید مضبوط کرے اور ہم سب کو مل کر ایک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے کام کرنے کی ترغیب دے۔‘‘

’تقسیم ہند کی ہولناکیوں کی یاد کے دن کے موقع پر ان تمام ہم وطنوں کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں، جنہوں نے اس ہولناک دور سے نکل کر ملک کی ترقی میں گراں قدر کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنی ہمت اور صلاحیت سے یہ ثابت کیا کہ نامساعد حالات میں بھی اپنے عزم و ارادوں کو کس طرح پایۂ تکمیل تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ آئیے، خیرسگالی اور قومی یکجہتی کے جذبے کو مزید مضبوط کریں۔‘

उद्यमस्य प्रसादेन दृश्यन्ते विविधाः कलाः।

कातरा एव जल्पन्ति यद् भाव्यं तद् भविष्यति॥”

محنت، جدوجہد اور لگن کے ذریعے ہی مختلف فنون، علوم، سائنسی و تکنیکی مہارتیں، ہنرمندی اور اختراعات فروغ پاتی ہیں اور کامیابی کی راہ ہموار کرتی ہیں۔ اس لیے انسان کو قسمت کے سہارے بیٹھے نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ہمت، محنت اور مسلسل کوشش کے ساتھ اپنے مقاصد کی جانب ثابت قدمی سے آگے بڑھنا چاہیے، کیونکہ انسان کی جدوجہد ہی تقدیر کو تشکیل دیتی ہے۔