برہم پتر ندی پر پلاش باڑی اور سوال کوچی کو جوڑنے والے پل اور رنگ گھر، شیو ساگر کی تزئین کاری کے پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا
نامروپ میں 500 ٹی پی ڈی مینتھال پلانٹ کا افتتاح کیا
پانچ ریل پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقف کیا
دس ہزار سے زیادہ فنکاروں کے ذریعے پیش کیے گئے میگا بیہو رقص پروگرام کو دیکھا
’’یہ ناقابل تصور ہے، یہ شاندار ہے، یہ آسام ہے‘‘
’’آخرکار آسام اے-وَن ریاست بنتی جا رہی ہے‘‘
’’ہر ایک ہندوستانی کا شعور ملک کی مٹی اور روایات سے بنا ہے اور یہ ترقی یافتہ ہندوستان کی بنیاد بھی ہے‘‘
’’رونگالی بیہو آسام کے باشندوں کے لیے دل اور روح کا تہوار ہے‘‘
’’ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر، ہم سبھی کا سب سے بڑا خواب ہے‘‘
’’آج ہمارے لیے کنیکٹیوٹی، چار سمتوں میں ایک ساتھ کام کرنے والا مہا یگیہ ہے، فزیکل کنیکٹیوٹی، ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی، سوشل کنیکٹیوٹی اور کلچرل کنیکٹیوٹی اس کے گوشے ہیں‘‘
’’نارتھ ایسٹ میں عدم اعتماد کا ماحول دور ہو رہا ہے‘‘

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج آسام کے گوہاٹی سروسجئی اسٹیڈیم میں 10900 کروڑ روپے سے زیادہ کے مختلف پروجیکٹوں کا  سنگ بنیاد رکھا اور افتتاح کیا۔ پروجیکٹوں میں برہم پتر ندی پر پلاش باڑی اور سوال کوچی کو جوڑنے والے پل کا  سنگ بنیاد رکھنا، شیو ساگر میں رنگ گھر کی تزئین کاری کے لیے ایک پروجیکٹ، نامروپ میں 500 ٹی پی ڈی مینتھال پلانٹ کا افتتاح اور پانچ ریلوے پروجیکٹوں کو قوم کو وقف کرنا شامل ہے۔ وزیر اعظم نے دس ہزار سے زیادہ بیہو فنکاروں کے ذریعے پیش کیا گیا رنگا رنگ بیہو پروگرام بھی دیکھا۔

مجمع سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ آج کے شاندار نظارہ کو دیکھنے والا کوئی بھی آدمی اپنی پوری زندگی میں اسے کبھی نہیں بھولے گا۔ ’’یہ ناقابل تصور ہے، یہ شاندار ہے، یہ آسام ہے۔‘‘ وزیر اعظم نے کہا، ’’پھول، پوپا اور گوگون کی آواز آج پورے بھارت میں سنی جا سکتی ہے۔ آسام کے ہزاروں فنکاروں کی کوشش اور تال میل کو ملک کے ساتھ ساتھ دنیا بھی بڑے فخر کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔‘‘ اس موقع کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم نے فنکاروں کے جوش اور حوصلہ کی ستائش کی۔ وزیر اعظم نے اسمبلی انتخابات کے دوران ریاست کے اپنے سفر کو یاد کیا جب انہوں نے اس دن کے بارے میں کہا تھا کہ جب لوگ ’اے فار آسام‘ کی آواز اٹھائیں گے، اور کہا کہ ریاست آخر کار اے- وَن ریاست بن رہی ہے۔ وزیر اعظم نے بیہو کے موقع پر آسام اور ملک کے لوگوں کو مبارکباد دی۔

 

وزیر اعظم نے کہا کہ بیساکھی پنجاب سمیت  شمالی ہندوستانی ریاستوں میں منائی جا رہی ہے۔ بنگالی لوگ پوئیلا بیساکھ منا رہے ہیں، وہیں کیرالہ میں ویشو منایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تہوار جو منایا جا رہا ہے، ایک بھارت شریشٹھ بھارت کے جذبے کو نمایاں کرتا ہے، اور  سب کی کوشش کے ساتھ ترقی یافتہ ہندوستان کے عزم کو پورا کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ انہوں نے ایمس، تین میڈیکل کالج، ریلوے پروجیکٹوں، برہم پتر پر پل اور میتھنال پلانٹ سمیت آج کے کئی پروجیکٹوں اور رنگ گھر کی باز تعمیر اور تزئین کاری کے بارے میں خوشی کا اظہار کیا۔

وزیر اعظم نے اپنی ثقافت کے تحفظ کے لیے آسام کے لوگوں کی ستائش کی اور ان کے ذریعے آج منعقد شاندار پروگرام کی تعریف کی۔ وزیر اعظم نے کہا، ’’ہمارے تہوار صرف ثقافتی جشن نہیں ہیں، بلکہ سبھی کو متحد کرنے اور ایک ساتھ آگے بڑھنے کا حوصلہ  دینے کا ایک ذریعہ ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’رونگالی بیہو آسام کے لوگوں کے لیے دل اور روح کا تہوار ہے۔ یہ اختلافات کو دور کرتا ہے اور انسانوں اور قدرت کے درمیان مکمل تال میل کی علامت ہے۔‘‘

 

وزیر اعظم نے  کہا کہ ہندوستان کی خصوصیت اس کی روایات ہیں جو ہزاروں برسوں سے ہر ایک ہندوستانی کو ایک ساتھ جوڑتی رہی ہیں۔ ان کا ماننا تھا کہ  قوم غلامی کے برے اور  خوفناک دور میں ایک ساتھ کھڑی رہی اور ہندوستان کی ثقافت اور وراثت نے  متعدد حملے جھیلے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت امر رہا، بھلے ہی اس نے طاقتوں اور حکمرانوں میں کئی تبدیلیاں دیکھیں جو آئے اور چلے گئے۔ وزیر اعظم نے  کہا، ’’ہر ایک ہندوستانی کا شعور ملک کی مٹی اور روایات سے بنا ہے اور یہ ترقی یافتہ ہندوستان کی بنیاد بھی ہے۔‘‘

مشہور  قلم کار اور سنیمائی دنیا کی ہستی جیوتی پرساد اگروال کے ایک گیت بسوا بیجائے نوجوان کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ گیت آسام اور پورے بھارت کے نوجوانوں کے لیے حوصلہ کا ذریعہ بن گیا ہے۔ جناب مودی نے گیت سنایا اور وہاں موجود لوگوں نے زوردار تالیاں بجائیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ گیت  ہندوستان کے نوجوانوں کو بھارت ماتا کی پکار سننے اور تبدیلی کا ایجنٹ بننے کے لیے آمادہ کرتا ہے۔ وزیر اعظم نے بھارت اور آسام کے نوجوانوں سے آگے بڑھنے اور ترقی یافتہ ہندوستان کے دروازے کھولنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا، ’’یہ گیت تب لکھا گیا تھا جب آزاد بھارت لوگوں کا سب سے بڑا خواب تھا، آج جب ہم آزاد ہیں، ترقی یافتہ ہندوستان سب سے بڑا خواب ہے۔‘‘

لوگوں کے ساتھ اپنی بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے کہ وہ اتنے بڑے اہداف کو کیسے حاصل کرتے ہیں اور ترقی یافتہ ہندوستان کے لیے کون ذمہ دار ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ملک کے لوگوں، اور 140 کروڑ ہندوستانی شہریوں کا اعتماد ہے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ  سرکار شہریوں کے راستے میں آنے والی کسی بھی رکاوٹ کو پوری ایمانداری سے دور کرنے  کی کوشش کرتی ہے اور آج کے پروجیکٹ اس کی ایک زندہ مثال ہیں۔

 

وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ کنیکٹیوٹی کو ایک پوائنٹ سے دوسرے پوائنٹ تک لے جانے کو کافی لمبے عرصے تک بہت ہی تنگ سوچ کے ساتھ دیکھا جاتا تھا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آج کینکٹیوٹی کے تئیں  مکمل نظریہ بدل گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج، کنیکٹیوٹی ایک چار  رخی انٹر پرائز (مہا یگیہ) ہے۔ انہوں نے کہا کہ چار  سمت طبعی رابطہ، ڈیجیٹل رابطہ، سماجی رابطہ اور ثقافتی رابطہ ہیں۔

ثقافتی رابطہ کی بات کرتے ہوئے جناب مودی نے  عظیم اسمیا جانباز لچت بورفکن کے 400ویں سال کے موقع پر دہلی میں منعقد شاندار تقریب کی مثال دی۔ انہوں نے رانی گائیدنلیو، کاشی تمل سنگمم، سوراشٹر تمل سنگمم اور کیندارناتھ کاماکھیا کا ذکر کرتے ہوئے ثقافتی رابطے کی بات کی۔ انہوں نے کہا، ’’آج ہر نظریہ اور ثقافت کے درمیان رشتہ مضبوط ہو رہا ہے۔‘‘ انہوں نے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کے حال کے مادھو پور میلے کے دورہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کرشن رکمنی کا یہ رشتہ شمالی مشرقی خطہ کو مغربی ہندوستان سے جوڑتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ  مُگا سلک کے بعد تیج پور لیسو، جوہا رائس، بوکا چول، کاجی نیمو؛ اب گموسا کو بھی جی آئی ٹیگ مل گیا ہے۔ یہ  ہماری بہنوں کے اسمیا فن اور محنت پر مبنی صنعت کاری کو ملک کے باقی حصوں میں لے جانے کی ایک کوشش ہے۔

سیاحت کے ذریعے ہندوستان کی مختلف ثقافتوں کے بارے میں دنیا بھر میں ہو رہی گفتگو کی حقیقت کو نمایاں کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ جو سیاح ان مقامات پر جاتے ہیں وہ نہ صرف تجربہ لینے کے لیے پیسہ خرچ کرتے ہیں، بلکہ ثقافت کا ایک حصہ یادوں  کی شکل میں اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ شمال مشرقی خطہ میں حالانکہ کنیکٹیوٹی کی کمی ہمیشہ ایک مسئلہ رہی، جسے موجودہ حکومت کے ذریعے اس علاقے میں سڑک، ریل اور ہوائی کنیکٹیوٹی پر زور دے کر دور کیا جا رہا ہے۔ پچھلے 9 برسوں کے دوران کنیکٹیوٹی کی توسیع سے جڑی حصولیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم نے شمال مشرقی خطہ کے زیادہ تر گاؤوں کے لیے مجموعی سڑک کنیکٹیوٹی، نئے ہوائی اڈوں پر پہلی بار کام کاج شروع ہونے اور کمرشیل پروازیں  آپریٹ کیے جانے، منی پور اور تریپورہ میں براڈ گیج ٹرینوں کے پہنچنے، شمال مشرق میں پہلے کے مقابلے تین گنا تیزی سے نئی ریل لائنیں بچھائے جانے اور ریل لائنوں  کو ڈبل کرنے کا کام پہلے کے مقابلے تقریباً 10 گنا تیزی سے ہونے کا ذکر کیا۔ وزیر اعظم نے اس حقیقت پر روشنی ڈالی کہ آج 6000 کروڑ روپے سے زیادہ لاگت کے پانچ ریلوے پروجیکٹوں کا افتتاح کیا گیا ہے، جو آسام سمیت شمال مشرقی خطہ کے ایک بڑے حصے کی ترقی کو رفتار عطا کریں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ریل پہلی بار آسام کے ایک بڑے حصے میں پہنچی ہے اور ریل لائنوں کو ڈبل کرنے سے آسام کے ساتھ ساتھ منی پور، میزورم، تریپورہ اور ناگالینڈ کو آسانی سے جوڑا جا سکے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہ  مذہبی اور سیاحتی مقامات کا سفر اب آسان ہو جائے گا۔

 

وزیر اعظم نے اس دور کو یاد کیا جب وہ بوگی بیل پل اور ڈھولا سدیا بھوپین ہزاریکا پل کو قوم  کو وقف کرنے کے لیے آسام آئے تھے۔ انہوں نے گزشتہ 9 برسوں کے دوران نئے پروجیکٹوں کی رفتار اور پیمانے کو نشان زد کیا۔ انہوں نے کہا کہ برہم پتر ندی پر پلوں کا نیٹ ورک گزشتہ 9 برسوں میں کیے گئے کاموں کا نتیجہ ہے اور ان پلوں کے ساتھ ساتھ آج کے اس پل پروجیکٹ سے  کھوال کوسی ریشم صنعت کو فائدہ ہوگا۔

گزشتہ 9 برسوں میں ڈبل انجن سرکار کے ذریعے سماجی رابطہ بڑھانے کی سمت میں کیے گئے کاموں پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم نے سووچھ بھارت مشن، جس کے  نتیجہ میں لاکھوں گاؤوں کھلے میں رفع حاجت  سے پاک ہو گئے، پی ایم آواس یوجنا جس نے کروڑوں لوگوں کو گھر مہیا کرانے میں مدد کی، بجلی کے لیے سوبھاگیہ یوجنا، گیس سلینڈر کے لیے اجولا یوجنا، اور نل سے پانی کی سپلائی کے لیے جل جیون مشن کی مثال دی۔ وزیر اعظم نے ڈیجیٹل انڈیا مشن اور سستے ڈیٹا کا بھی ذکر کیا جس نے شہریوں کی زندگی کو آسان بنا دیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا، ’’یہ سبھی گھر، یہ سبھی کنبے  آرزومند ہندوستان کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہی بھارت کی طاقت ہیں جو ترقی یافتہ ہندوستان کے خواب کو پورا کریں گے۔‘‘

وزیر اعظم نے کہا کہ ترقی کے لیے اعتماد کا دھاگہ یکسانیت کے ساتھ مضبوط ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری سرکار کی بے پناہ کوششوں کے نتیجہ میں آج شمال مشرق میں ہر جگہ پائیدار امن ہے۔ کئی نوجوان تشدد کا راستہ چھوڑ کر ترقی کی راہ پر چلنے لگے ہیں۔ جناب مودی نے کہا کہ شمال مشرق میں عدم اعتماد کا احساس دور ہو رہا ہے اور دلوں کے درمیان کے فاصلے بھی مٹ رہے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ آزادی کے امرت کال میں ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے لیے ہمیں اس ماحول کو مزید آگے لے جانا ہوگا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس اور سب کا پریاس کے جذبے سے آگے بڑھنا ہے۔

 

اس موقع پر، آسام کے گورنر جناب گلاب چند کٹاریہ، وزیر اعلیٰ جناب ہیمنٹ بسوا سرما،  مرکزی وزیر ریل جناب اشونی ویشنو،  بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال، پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے مرکزی وزیر جناب رامیشور تیلی اور حکومت آسام کے وزراء بھی دیگر  اہم شخصیات کے ساتھ موجود تھے۔

پس منظر

وزیر اعظم نے برہم پتر ندی پر پلاش باڑی اور سوال کوچی کو جوڑنے والے پل  کا سنگ بنیاد رکھا۔ یہ پل اس علاقے میں  طویل عرصے سے منتظر اور انتہائی ضروری  سڑک رابطہ کی سہولیات فراہم کرے گا۔ انہوں نے ڈبروگڑھ کے نامروپ میں 500 ٹی پی ڈی میتھنال پلانٹ کا افتتاح کیا۔ جناب مودی کے ذریعے ریاست کے مختلف  ریل سیکشن کو ڈبل  کرنے اور بجلی کاری سمیت پانچ ریل پروجیکٹوں کا افتتاح بھی کیا گیا۔

جن ریل پروجیکٹوں کا افتتاح کیا جا رہا ہے، ان میں دیگارو – لومڈنگ سیکشن؛ گوری پور – ابھے پوری سیکشن؛ نیو بونگائی گاؤں – دھوپ دھارا سیکشن  کو ڈبل کرنا؛ رانی نگر جلپائی گڑی – گوہاٹی سیکشن  کی بجلی کاری؛ سینچوا – سلگھاٹ ٹاؤن اور سنچوا – میرا باڑی سیکشن کی بجلی کاری شامل ہیں۔

وزیر اعظم نے شیو ساگر میں رنگ گھر کی تزئین کاری کے لیے بھی ایک پروجیکٹ  کا سنگ بنیاد رکھا، جو مکمل ہونے کے بعد اس مقام پر سیاحوں کو کئی اہم سہولیات کا احساس کرائے گا۔ رنگ گھر کی تزئین کاری  پروگرام کے تحت ایک وسیع آبی ذخائر کے چاروں طرف فاؤنٹین شو کی تعمیر اور اہوم شاہی خاندان کی تاریخ کی نمائش کرنے والی سہولیات، ایڈونچرس کشتی کی سواری کے لیے جیٹی کے ساتھ ایک بوٹ ہاؤس، مقامی دستکاری کو فروغ دینے کے لیے ایک شلپ گرام،  کھانے کے شائقین کے لیے مختلف قسم کے پکوانوں وغیرہ کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ شیو ساگر میں واقع رنگ گھر اہوم ثقافتوں اور روایات کی تصویر کشی کرنے والے سب سے  مشہور ڈھانچوں میں سے ایک ہے۔ اس کی تعمیر 18ویں صدی میں اہوم راجہ سورگ دیو پرمت سنہا کے ذریعے کیا گیا تھا۔

وزیر اعظم نے آج منعقد ایک شاندار بیہو رقص پروگرام بھی دیکھا، جس کا انعقاد آسام کے بیہو رقص کو اسمیا لوگوں کی ثقافتی شناخت اور زندگی کی مخصوص نشانی کے طور پر عالمی سطح پر پیش کرنے کے لیے کیا گیا۔ اس پروگرام میں ایک ہی جگہ پر 10 ہزار سے زیادہ بیہو فنکار شامل ہوئے اور ایک ہی جگہ پر دنیا میں سب سے بڑے بیہو رقص کو پیش کرنے کے زمرہ میں ایک نیا گنیز ورلڈ ریکارڈ بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس میں ریاست کے 31 ضلعوں کے فنکار شامل ہوئے۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Net FDI inflows rise to $7.7 billion in FY26 from $1 billion in FY25

Media Coverage

Net FDI inflows rise to $7.7 billion in FY26 from $1 billion in FY25
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Rozgar Mela reflects our Government’s commitment to empowering the Yuva Shakti with new opportunities: PM Modi
May 23, 2026
India’s youth are playing a vital role in accelerating the journey towards a Viksit Bharat: PM
Rozgar Mela reflects our Government’s commitment to empowering the Yuva Shakti with new opportunities: PM
The world is excited by India’s youth and technological progress and today the global community wants to partner in India’s development journey: PM
Sectors like clean energy, critical minerals, green hydrogen, and sustainable manufacturing are advancing rapidly and partnerships in these areas are creating new opportunities: PM Modi
Every Indian is moving forward with the resolve of building a Viksit Bharat by 2047: PM Modi at Rozgar Mela
Today, Rapid transformation is clearly visible even in rural areas; Enhanced connectivity has opened new avenues for farmers, small traders, and students: PM
Viksit Bharat will be built by the efforts of such youth who view their work as a means of national service: PM Modi

साथियों,

आज देशभर के हजारों युवाओं के लिए बहुत ही महत्वपूर्ण दिवस है। आज 51 हजार से ज्यादा युवाओं को सरकारी नौकरी का नियुक्ति पत्र मिला है। आज आप सभी देश की विकास यात्रा में अहम भागीदार बन रहे हैं, जिम्मेदार भागीदार बन रहे हैं। रेलवे, बैंकिंग, डिफेंस, हेल्थ, एजूकेशन और दूसरे कई क्षेत्रों में आप सभी नई जिम्मेदारियां संभालने जा रहे हैं। आने वाले वर्षों में विकसित भारत के संकल्प को सिद्ध करने में आप सभी महत्वपूर्ण भूमिका निभाने वाले हैं।

साथियों,

यहां तक पहुंचने के लिए आप सभी ने लंबी तैयारी और कड़ा परिश्रम जरूर किया होगा। इस उपलब्धि के लिए मैं आपको भी और आपके परिवारजनों को भी बहुत-बहुत बधाई देता हूं। आपको यहां तक पहुंचाने में आपके माता-पिता और परिवार का योगदान कम नहीं होता है। लेकिन इतना भी नहीं है, कि जैसे परिवार का योगदान होता है, समाज का भी बहुत बड़ा योगदान होता है, हमें यहां पहुंचाने के लिए। हम सिर्फ अपने कारण नहीं पहुंचते, सिर्फ अपने परिवार के कारण नहीं पहुंचते। इस विशाल देश के 140 करोड़ के नागरिकों के योगदान का भी बहुत बड़ा महत्व होता है। और इसलिए हमारा दायित्व खुद के प्रति, खुद के परिवार के प्रति, वैसे ही संपूर्ण समाज के प्रति भी रहता है। और मुझे विश्वास है कि इन सभी कामों के लिए आप अपने आप को और अधिक योग्य बनाएंगे। मैं आपको बहुत शुभकामनाएं देता हूं।

साथियों,

आप सबको पता है अभी दो दिन पहले ही मैं 5 देशों की यात्रा करके लौटा हूं। कहने को तो ये सिर्फ पांच देशों की यात्रा थी, लेकिन इस दौरान मेरी दर्जनों देशों की बड़ी-बड़ी कंपनियों के लीडर्स से बातें हुईं, विस्तार से चर्चा हुई, मुलाकात हुई, और हर जगह मैंने एक बात समान रूप से महसूस की है। दुनिया, भारत के युवाओं और भारत की टेक्नोलोजिक्ल प्रोग्रेस को लेकर बहुत उत्साहित है। आज दुनिया भारत की विकास यात्रा का हिस्सा बनना चाहती है। भारत भी दुनिया के अलग-अलग देशों के साथ पार्टनरशिप कर रहा है। इसका उद्देश्य यही है कि भारत के युवाओं को अवसर मिले, रोजगार मिले, उनका सामर्थ्य खिल उठे। साक्षात मैं चाहता हूं मेरे देश के नौजवानों को ग्लोबल एक्सपोजर भी मिले। इस यात्रा के दौरान, अब जैसे नीदरलैंड्स की मैं बात करूं, तो नीदरलैंड्स के साथ सेमीकंडक्टर्स, वॉटर, एग्रीकल्चर और एडवांस्ड मैन्युफैक्चरिंग पर चर्चा हुई - स्वीडन के साथ आर्टिफ़िशियल (एआई) और डिजिटल इनोवेशन, उस पर सहयोग की बहुत सारी बातें हुई, - नॉर्वे के साथ ग्रीन टेक्नॉलॉजी और मेरिटाइम कोऑपरेशन की बात आगे बढ़ी है, UAE के साथ स्ट्रैटेजिक एनर्जी और टेक्नॉलॉजी पार्टनरशिप्स पर महत्वपूर्ण समझौते हुए, इटली के साथ डिफेंस, क्रिटिकल मिनरल्स, science & technology ऐसे अत्यंत महत्वपूर्ण क्षेत्रों में पार्टनरशिप्स पर एग्रीमेंट हुए।

साथियों,

इन सारे एग्रीमेंट्स का सीधा लाभ भारत के युवाओं को मिलने वाला है। और आपने देखा होगा, ये सारे विषय एक उज्जवल समर्थ भारत के भविष्य की गारंटी लेकर के आते हैं। क्योंकि हर नया निवेश, हर टेक्नॉलॉजी पार्टनरशिप, हर इंडस्ट्रियल कोलैबोरेशन, भारत के युवाओं के लिए नई अपॉरचुनिटीज तो लेकर के आता ही है, लेकिन अनगिनत नए अवसर तैयार करता है।

मेरे नौजवान साथियों,

हमें याद रखना है, ये वो सेक्टर्स हैं जिनमें आने वाला इंवेस्टमेंट और पार्टनरशिप, आने वाले 3-4 दशक की ग्लोबल ग्रोथ को ये शेप करने वाली इंडस्ट्रीज तैयार करेंगी। और निश्चित तौर पर भारत के युवाओँ की इसमें बहुत बड़ी भूमिका होगी।

साथियों,

भारत किस तरह दुनिया का एक भरोसेमंद सप्लाई चेन पार्टनर बन रहा है, इसका मैं आपको एक उदाहरण देता हूं। जैसे नीदरलैंड्स की सेमीकंडक्टर कंपनी, आपमें से बहुत लोग इस नाम से परिचित होंगे ASML, ASMLके साथ भारत की टाटा कंपनी का एग्रीमेंट है। भारत, दुनिया के कुछ ही देशों में से एक है जिसके साथ इस कंपनी ने समझौता किया है। ASML-टाटा इलेक्ट्रॉनिक्स के बीच ये अकेला समझौता ही भारत में रोजगार के अनगिनत नए मौके बनाएगा, और भारत को एक नेक्स्ट जनरेशन टेक्नोलॉजी में प्रवेश द्वार खोल देगा। ऐसे ही स्वीडन के साथ टेक्नॉलॉजी और AI पार्टनरशिप्स, UAE के साथ सुपरकंप्यूटिंग कोऑपरेशन, भारत की टेक्नॉलॉजी क्षमता को बहुत मजबूत करने वाले हैं। इन एग्रीमेंट्स से युवाओं के लिए नए अवसर तो होंगे ही होंगे।

साथियों,

आज क्लीन एनर्जी, क्रिटिकल मिनरल्स, ग्रीन हाइड्रोजन और सस्टेनेबल मैन्युफैक्चरिंग से जुड़े सेक्टर्स भी बहुत तेजी से ग्रो कर रहे हैं, आगे बढ़ रहे हैं। इनसे जुड़ी पार्टनरशिप एक नई इकोनॉमी के, new opportunities के दरवाजे खोल रही हैं। स्वीडन, नॉर्वे और इटली जैसे देशों के साथ, ग्रीन ट्रांजिशन और सस्टेनेबल टेक्नॉलॉजी में भी सहयोग बढ़ रहा है। ये भारत को क्लीन मैन्युफैक्चरिंग से जुड़ी फ्यूचर इंडस्ट्रीज में मजबूत करेगा। इसके अलावा भारत ने पोर्ट्स, शिपिंग और मेरिटाइम इंफ्रास्ट्रक्चर से जुड़े एग्रीमेंट्स पर तेजी से काम किया है। UAE और नॉर्वे के साथ पार्टनरशिप से भारत का शिपबिल्डिंग इकोसिस्टम मजबूत होगा। और आप तो जानते हैं शिपबिल्डिंग यानी, स्किल मेनपावर की बहुत जरूरत पड़ती है। यानी भारत के इंजीनियर्स, टेक्नीशियन्स और स्किल्ड वर्कर्स के लिए इतनी मांग बढ़ने वाली है, जिसकी आप कल्पना नहीं कर सकते हैं, इतने अवसर तैयार होंगे।

साथियों,

हर नई पार्टनरशिप के साथ हम भारतीय स्टार्टअप्स, रिसर्चर्स और यंग प्रोफेशनल्स के लिए दुनिया से जुड़ने के नए रास्ते बना रहे हैं। इससे भारतीय युवाओं को एडवांस्ड एक्सपर्टीज, ग्लोबल मार्केट्स और ग्रोथ के नए मौके भी मिलेंगे। आज दुनिया उन देशों का सम्मान करती है, जो इनोवेट करते हैं, जो बिल्ड करते हैं, और जो बड़े स्तर पर डिलीवरी कर सकते हैं। भारत आज इन तीनों दिशाओं में तेजी से आगे बढ़ रहा है, और इस परिवर्तन की सबसे बड़ी ताकत आप सब मेरे नौजवान साथी हैं, भारत का युवा है, और मैं दुनिया में जहां भी जाता हूं, मैं काफी समय चर्चा में भारत की युवाशक्ति की चर्चा करता हूं।

साथियों,

आज हर भारतीय, एक बड़े संकल्प के साथ आगे बढ़ रहा है। ये संकल्प, 2047 तक विकसित भारत के निर्माण का संकल्प है। इस लक्ष्य की प्राप्ति के लिए आज देश अलग-अलग सेक्टर्स में निवेश कर रहा है। और इस निवेश से देश के युवाओं के लिए रोजगार के लाखों नए अवसर बन रहे हैं। जैसे, आज भारत में सेमीकंडक्टर मैन्यूफैक्चरिंग की पूरी सप्लाई चेन तैयार की जा रही है। आने वाले समय में भारत की 10 बड़ी सेमीकंडक्टर यूनिट्स, दुनिया में अपना परचम लहराएंगी। इनमें बड़ी संख्या में भारत के नौजवानों का सामर्थ्य होगा, भारत के नौजवानों की बुद्धि प्रतिभा होगी, भारत के नौजवानों का कमिटमेंट होगा और स्वाभाविक है रोजगार तो है ही है। भारत आज शिप-बिल्डिंग से लेकर शिप रिपेयरिंग और ओवरहॉलिंग का भी इकोसिस्टम विकसित कर रहा है। इसके लिए करीब 75 हजार करोड़ रुपए, Seventy Five Thousand Crore Rupees का निवेश किया जा रहा है। इसी तरह भारत में ही हम पूरा MRO इकोसिस्टम, यानी मेंटेनेंस, ओवरहॉल और रिपेयर फेसिलिटीज तैयार कर रहे हैं। इससे देश के एविएशन सेक्टर को बहुत मदद मिलने वाली है, और भारत के युवाओं के लिए रोजगार का नया सेक्टर तो खुलना ही खुलना है।

साथियों,

भारत आज एक बड़ा इलेक्ट्रॉनिक्स मैन्युफेक्चरर है। और हम इलेक्ट्रॉनिक्स से जुड़ी कंप्लीट वैल्यू चेन, भारत में ही बना रहे हैं। इसके लिए जो PLI स्कीम चल रही है, उससे देश में रिकॉर्ड इलेक्ट्रॉनिक्स प्रॉडक्शन हो रहा है, और युवाओं को लाखों की संख्या में Jobs भी मिल रही हैं।

साथियों,

ऐसे अनेकों अभियानों पर भारत का पब्लिक और प्राइवेट सेक्टर मिलकर बहुत बड़ा निवेश कर रहा है। ये निवेश देश के युवाओं को देश में ही- Jobs दे रहा है, उनके सपने पूरे कर रहा है। एक सरकारी कर्मचारी होने के नाते, जोकि आज नियुक्ति पत्र के भरने के बाद आपकी पहचान बनने वाली है, कि आप एक सरकारी कर्मचारी हैं। तो उस नाते आपको भी हमेशा ये ध्यान रखना है कि Ease of Doing Business देश की कितनी बड़ी प्राथमिकता है।

साथियों,

भारत की ग्रोथ स्टोरी और इंप्लॉयमेंट जनरेशन, इसमें ये मानी हुई बात है, आप भी जानते हैं। इंफ्रास्ट्रक्चर, इसकी बहुत बड़ी भूमिका होती है। जब गांव, छोटे शहर और दूर-दराज के इलाके विकास से जुड़ते हैं, तभी देश की प्रगति का लाभ ज्यादा लोगों तक पहुंचता है। पिछले 12 वर्षों में रेलवे, हाईवे, एयरपोर्ट, लॉजिस्टिक्स, पोर्ट्स, डिजिटल इंफ्रास्ट्रक्चर पर कल्पनाभर का तेज गति से विस्तार हुआ है, विकास हुआ है, हर स्तर पर काम हुआ है। आज आप अपने क्षेत्र में, किसी की भी दिशा में 100 किलोमीटर अगर जाएंगे, तो भारत सरकार द्वारा कोई न कोई काम चलता हुआ नजर आएगा आपको। आज गांवों में भी बदलाव तेजी से दिखाई दे रहा है। कनेक्टिविटी बढ़ने से किसानों, छोटे व्यापारियों, विद्यार्थियों के लिए नए रास्ते खुले हैं। आज करोड़ों परिवारों को पक्का घर मिला है। यानी दुनिया के कई देश हैं, जिनके पास टोटल घर होते हैं, उससे अनेक गुणा घर हम नए बनाते हैं। इतना ही नहीं, जो मेरा स्वच्छता का अभियान है, उसको तो मैं कभी भी भूलने नहीं देता हूं लोगों को, और न ही मैं भी भूलता हूं, उसमें शौचालय की बहुत बड़ी महत्वपूर्ण भूमिका है, हम उस पर भी बल दे रहे हैं। करोड़ों घरों तक आज बिजली पहुंची है। रूफटॉप सोलर एनर्जी, कितने नए-नए वेंडर्स मैदान में आए हैं। अब देखिए जल जीवन मिशन से, नल से जल पहुंचाना, मैं अभी देख रहा था, कि मैं चाहता था कि शहरों में पीएनजी के कनेक्शन बढ़ें, तो मुझे पलम्बर नहीं मिल रहे थे, कमी पड़ रही थी, क्योंकि जल जीवन के मिशन में कई सारी बड़ी संख्या में पलम्बर वहां लगे हुए थे। अब इधर मुझे एनर्जी के लिए बड़े शहरों में पीएनजी के कनेक्शन तेजी से बढ़ाने थे, तो आप कल्पना कर सकते हैं कि कभी-कभी लोगों की जरूरत पड़े तो लोग कम पड़ जाते हैं।

साथियों,

इन बदलावों का असर सिर्फ सामान्य नागरिकों की सुविधाओं तक सीमित नहीं रहता। गांव तक सड़क पहुंची, तो मार्केट तक आना-जाना आसान हुआ। बिजली की सुविधा बेहतर हुई, तो छोटे उद्योग-धंधे आगे बढ़ने लगे। गांव में भी एग्रीकल्चर में वेल्यु एडिशन होने लगा। पहले अगर वो लाल मिर्ची बेचते थे, अब बिजली आई तो लाल मिर्ची का पाउडर बनाते हैं, पाउडर बनाकर के पैकेट बनाते हैं, पैकेट बनाकर के बेचते हैं। तो गांव में भी छोटे -छोटे-छोटे-छोटे उद्योग इसके कारण बढ़ते जाते हैं। डिजिटल कनेक्टिविटी बढ़ी, तो गांव के लोग भी पूरे विश्व के साथ जुड़ रहे हैं, आधुनिकता से जुड़ रहे हैं। शहर और गांव का फर्क मिटता चला जा रहा है। और इससे अर्थव्यवस्था की गति तेज हुई है। और इन सबका पॉजिटिव प्रभाव देश के नौजवानों के उज्जवल भविष्य की गारंटी बन जाता है। रोजगार तो निर्माण होते ही होते हैं, लेकिन राष्ट्र भी एक नए स्वाभिमान के साथ आगे बढ़ जाता है, लाखों लोगों को नए मौके भी मिल जाते हैं।

साथियों,

आज भारत के युवा के पास जिस तरह से आगे बढ़ने के, अपने सपने पूरा करने के मौके हैं, ऐसा अवसर पहले नहीं मिला है, मैं किसी का दोष नहीं कर रहा हूं, लेकिन ये हकीकत है कि आज बहुत तेज गति से सब हो रहा है, विशाल फलक पर हो रहा है, विविधताओं से भरा हो रहा है। आज मैन्युफैक्चरिंग, टेक्नॉलॉजी, स्टार्टअप, डिजिटल सर्विसेज, रेलवे, डिफेंस, इतना ही नहीं स्पेस, ऐसे अनेक क्षेत्रों में अनगिनत अवसर हमारा इंतजार कर रहे हैं। हमारा प्रयास है कि ज्यादा से ज्यादा युवा नए अवसरों का लाभ उठा सकें, और देश के युवाओं को अपनी प्रतिभा दिखाने का पूरा मौका मिले। इसलिए, स्किल डेवलपमेंट, industry-linked education और फ्यूचर टेक्नॉलजी पर लगातार जोर दिया जा रहा है। ITIs को modern बनाया जा रहा है। National Skill Training Institutes को मजबूत किया जा रहा है। PM SETU जैसे अभियान इसी दिशा में काम कर रहे हैं।

साथियों,

पिछले कुछ वर्षों में देश में self-employment और entreprenurship की एक नई संस्कृति विकसित हुई है। भारत दुनिया का तीसरा सबसे बड़ा स्टार्टअप इकोसिस्टम है। देश में 2 लाख 30 हजार से ज्यादा , ये आंकड़ा याद रखिये, 2 लाख 30 हजार से ज्यादा recognised startups हैं। और उसमें भी दो चार-दो चार नौजवान भी जुड़े हुए होते हैं। अहम बात ये है कि ये बदलाव सिर्फ बड़े शहरों तक सीमित नहीं है और मुझे इसका सबसे ज्यादा आनंद है। आजकल तो टियर-2 और टियर-3 शहरों के युवा भी, बहुत बड़ी संख्या में स्टार्टअप और इनोवेशन की दुनिया में अपनी ताकत दिखा रहे हैं, उनके सामर्थ्य की note लेनी पड़ रही है। ये परिवर्तन अब देश की अर्थव्यवस्था का महत्वपूर्ण हिस्सा है। इस बदलाव में हमारी नारीशक्ति की भूमिका भी लगातार बढ़ रही है। आज बड़ी संख्या में women-led start-ups, ये जब सुनते हैं ना मन गर्व से भर जाता है, मैं तो दुनिया के लोगों को बताता हूं कि हमारे यहां स्टार्टअप में महिलाओं की बहुत बड़ी भूमिका बढ़ रही है, बहुत बड़ी मात्रा में महिलाएं आगे आ रही हैं। मुद्रा योजना के तहत करोड़ों महिलाओं को फाइनेंशियल सपोर्ट मिला है। पीएम स्वनिधि जैसी योजनाओं ने भी लाखों महिलाओं को आत्मनिर्भर बनने का अवसर दिया है। आज गांवों में, छोटे शहरों में, पहले से ज्यादा महिलाएं अपने दम पर नए काम शुरू कर रही हैं।

साथियों,

नीतियों और निर्णयों के इस अभियान के बीच, आपको एक और बात याद रखनी है। किसी भी व्यवस्था की असली ताकत उसके लोग होते हैं। जनता जनार्दन की शक्ति होती है, जन शक्ति होती है और जनशक्ति ही तो राष्ट्रशक्ति बनती है। आप सभी जिस व्यवस्था का हिस्सा बनने जा रहे हैं, उसका सीधा संबंध करोड़ों-करोड़ों देशवासियों के जीवन से है, करोड़ों-करोड़ों देशवासियों की आशा-आकांक्षाओं से है। सरकारी नौकरी लोगों के जीवन को आसान बनाने का माध्यम ही होती है। आप जिस भी विभाग में काम करेंगे, वहां आपके व्यवहार, संवेदनशीलता और काम करने के तरीके का बहुत महत्व होगा। देश ने आप पर भरोसा किया है। अब ये जिम्मेदारी आपकी है कि आप अपने काम से, अपने आचरण से, अपनी वाणी से, अपने व्यवहार से, उस भरोसे को और मजबूती देंगे। देशवासियों के हृदय में एक नया विश्वास भर जाएगा, आपको मिलते ही वो नई आशा के साथ आगे बढ़ेगा, इसलिए हर युवा कर्मयोगी अपने काम को जिम्मेदारी की तरह देखे। और मेरे लिए तो आप बहुत कुछ हैं। पहले जमाने में जब हम सुनते थे ना – सहस्त्रबाहु बाले फलाने, सहस्त्रबाहु बाले ढिकने। आज सरकार के बाहु आप ही हैं, सरकार का सामर्थ्य आप ही हैं, जो पहले से सरकार में हैं वो भी हैं, जो नए आ रहे हैं वो भी हैं। आज भारत के लोगों की आकांक्षाएं बहुत बढ़ रही हैं, और मैं इसे विकास की पोजिटिव साइन मानता हूं। हमें अपने देश के लोगों की Aspirations को समझना भी है और उसके हिसाब से उतनी ही तेज गति से काम भी करना है। ऐसे में पब्लिक सर्विस में आने वाले युवाओं की भूमिका बहुत महत्वपूर्ण हो गई है। आपको लगातार सीखते रहना होगा। खुद को नई टेक्नॉलजी, नए सिस्टम और नई जरूरतों के हिसाब से तैयार करना होगा। इसमें आपको iGOT कर्मयोगी प्लेटफॉर्म से बहुत मदद मिलेगी। कर्मयोगी प्रारंभ जैसे मॉड्यूल से आपको अपनी जिम्मेदारियां समझने में बहुत सहूलियत होगी। मेरा आपसे आग्रह है कि इसका ज्यादा से ज्यादा लाभ उठाएं।

साथियों,

आज भारत का युवा दुनिया के हर क्षेत्र में अपनी पहचान बना रहा है। यही स्पिरिट, यही ऊर्जा public service में भी दिखाई देनी चाहिए। विकसित भारत ऐसे ही युवाओं के प्रयास से बनेगा, जो अपने काम को देशसेवा का माध्यम मानते हैं, जनसेवा का माध्यम मानते हैं, और हमारे यहां तो कहा गया है – जनसेवा ही प्रभुसेवा। मुझे पूरा विश्वास है, आज नियुक्ति पत्र पाने वाले हमारे युवा साथी, भारत की विकास यात्रा को नई गति देंगे। आपके काम, आपके फैसलों से विकसित भारत के संकल्प की सिद्धि होगी, और आपको वो मंत्र कभी भूलना नहीं है, हमारा मंत्र है – नागरिक देवो भव। नागरिक देवो भव। नागरिक का कल्याण ही हमारा कर्तव्य है। मैं एक बार फिर आज नियुक्ति पत्र पाने वाले सभी युवाओं को आगे के जीवन के लिए, देशसेवा के इस अवसर को निभाने के लिए, अनेक-अनेक शुभकामनाएं देता हूं। आप सबको बहुत-बहुत धन्यवाद।