ماں کاماکھیا دیویہ لوک پری یوجنا کا سنگ بنیا رکھا
3400 کروڑ روپئے سے زائد کے بقدر کے مختلف النوع سڑک تجدیدکاری پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا
کھیل کود اور طبی بنیادی ڈھانچے کو تقویت بہم پہنچانے کے لیے مختلف پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد کھا
’’آسام شمال مشرق میں سیاحت کا داخلی دروازہ بنے گا کیونکہ ماں کاماکھیا کے درشن کرنے والے عقیدت مندوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا‘‘
’’ہماری زیارت گاہیں، منادر اور مذہبی مقامات ہمارے ہزاروں برسوں کے تہذیبی سفر کی انمٹ نشانی ہیں‘‘
’’موجودہ حکومت کی ترجیح زندگی بسر کرنے کو سہل بنانا ہے‘‘
’’مرکزی حکومت تاریخی اہمیت کے حامل مقامات کی ترقی کے لیے نئی اسکیمیں شروع کرے گی‘‘
’’مودی کی گارنٹی کا مطلب تکمیل کی ضمانت ہے‘‘
’’حکومت نے اس سال بنیادی ڈھانچے پر 11 لاکھ کروڑ روپئے خرچ کرنے کا عہد کیا ہے‘‘
’’ مودی دن رات کام کرنے اور اپنی گارنٹیوں کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے ‘‘
’’مقصد بھارت اور بھارتیوں کے لئے ایک پرمسرت اور خوشحال زندگی فراہم کرنا، بھارت کو دنیا کی تیسری سب سے بڑی اقتصادی قوت بنانا، اور بھارت کو 2047 تک وکست بھارت میں تبدیل کرنا ہے۔

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج آسام کے گوہاٹی میں 11,000 کروڑ روپے کے بقدر کے پروجیکٹوں کا افتتاح کیا اور سنگ بنیاد رکھا۔ ان میں گوہاٹی کے اہم توجہ والے علاقوں میں کھیلوں اور طبی بنیادی ڈھانچے اور رابطے کو فروغ دینے کے منصوبے شامل ہیں۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے 11,000 کروڑ روپے کے بقدر کے پروجیکٹوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھنے کے لیے ماں کاماکھیا کے آشیرواد کے ساتھ آج آسام میں موجود ہونے پر اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے ترقیاتی منصوبے شمال مشرقی ریاستوں کے ساتھ ساتھ جنوب مشرقی ایشیا کے پڑوسی ممالک کے ساتھ آسام کے رابطے کو فروغ دیں گے جبکہ سیاحت کے شعبے میں روزگار کو بھی فروغ حاصل ہوگا ، ساتھ ہی ریاست میں کھیلوں کی صلاحیتوں کے لیے نئے مواقع بھی پیدا کریں گے۔ انہوں نے آج کے ترقیاتی پروجیکٹوں کی وجہ سے ریاست میں طبی تعلیم اور حفظانِ صحت کے شعبے میں توسیع کا بھی ذکر کیا۔ وزیر اعظم مودی نے آج کے ترقیاتی پروجیکٹ کے لیے آسام اور شمال مشرقی علاقے کے لوگوں کو مبارکباد دی اور کل شام یہاں پہنچنے پر گوہاٹی کے شہریوں کی جانب سے پرتپاک استقبال کے لیے شکریہ ادا کیا۔

 

متعدد مذہبی مقامات کے اپنے حالیہ دوروں کو یاد کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے آج ماں کاماکھیا کے روبرو ہونے اور ما ں کاماکھیا دیویا لوک پریوجنا کا سنگ بنیاد رکھنے کے لیے اظہار تشکر کیا۔ پروجیکٹ کے تصور اور دائرہ کار پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم مودی نے بتایا کہ مکمل ہونے پر، اس سے عقیدت مندوں کے لیے رسائی اور راحت میں مزید اضافہ ہوگا اور ساتھ ہی ساتھ لوگوں کی آمدورفت کو بھی فروغ ملے گا۔ وزیر اعظم نے ریاستی حکومت اور وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ہیمنت بسوا سرما کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا، "ماں کاماکھیا کے درشن کے لئے عقیدت مندوں کی آمد میں اضافے کے ساتھ آسام شمال مشرق میں سیاحت کا داخلی دروازہ بن جائے گا"۔

بھارتی مذہبی مقامات اور مندروں کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم نے زور دیا کہ یہ مقامات ہزاروں برسوں سے ہماری تہذیب کے انمٹ نشان کی علامت ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح بھارت نے ہر بحران کا مقابلہ کیا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ جو تہذیبیں ماضی میں خوشحال سمجھی جاتی تھیں، اب کس طرح تباہی کا شکار ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے آزادی کے بعد کی حکومتوں پر افسوس کا اظہار کیا کہ انہوں نے سیاسی فائدے کے لیے اپنی ثقافت اور شناخت پر شرمندہ ہونے کا رجحان شروع کیا اور بھارت کے مقدس مقامات کی اہمیت کو سمجھنے میں ناکام رہیں ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 برسوں میں اسے 'وکاس' (ترقی) اور 'وراثت' (ورثے) دونوں پر مرتکز پالیسیوں کی مدد سے درست کیا گیا ہے۔ آسام کے لوگوں کے لیے ان پالیسیوں کے فوائد کی وضاحت کرتے ہوئے، وزیر اعظم مودی نے ریاست میں تاریخی اور روحانی مقامات کو جدید سہولیات سے جوڑنے کی اہمیت پر زور دیا، اس قدم کا مقصد ان مقامات کو محفوظ رکھنا اور ترقی کو تیز کرنا ہے۔ آئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم جیسے ممتاز تعلیمی اداروں کی توسیع کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے یہ صرف بڑے شہروں میں قائم ہوتے تھے۔تاہم، اب آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم اور ایمس جیسے ادارے ملک بھر میں پھیل چکے ہیں اور آسام میں میڈیکل کالجوں کی مجموعی تعداد جو پہلے 6 تھی ، اب بڑھ کر 12 ہوگئی ہے۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ یہ ریاست جلد ہی شمال مشرق میں کینسر کے علاج کا مرکز بن جائے گی۔

 

وزیر اعظم مودی نے غریبوں کے لیے 4 کروڑ پکے مکانات کی تعمیر، نل  کے ذریعہ پانی کے کنکشن، بجلی، اُجووَلا یوجنا کے تحت کھانا پکانے کے گیس کے کنکشن اور سوَچھ بھارت کے تحت بیت الخلاء کی تعمیر کا ذکر کیا اور بتایا کہ "زندگی میں آسانی موجودہ حکومت کی ترجیح ہے"۔

وزیر اعظم مودی نے اس بات پر زور دیا کہ وراثت کے ساتھ ساتھ ترقی پر حکومت کی توجہ نے ہندوستان کے نوجوانوں کو بڑے پیمانے پر فائدہ پہنچایا ہے۔ ملک میں سیاحت اور دھارمِک یاترا کے لیے بڑھتے ہوئے جوش و خروش کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کاشی گلیارے کی تکمیل کے بعد وارانسی میں عقیدت مندوں کی ریکارڈ آمد کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے بتایا کہ "گزشتہ برس ، 8.50 کروڑ لوگوں نے کاشی کے درشن کیے، 5 کروڑ سے زیادہ لوگوں نے اجین میں مہاکال لوک کے درشن کیے، اور 19 لاکھ سے زیادہ عقیدت مندوں نے کیداردھام کے درشن کیے"۔ وزیر اعظم مودی نے یہ بھی بتایا کہ ایودھیا میں رام مندر کی پران پرتشٹھا کے بعد گزشتہ 12 دنوں میں 24 لاکھ سے زیادہ لوگ ایودھیا کا دورہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ماں کاماکھیا دیویا لوک پریوجنا کی تکمیل کے بعد یہاں بھی ایسا ہی نظارہ دیکھنے کو ملے گا۔

 

وزیر اعظم نے کہا کہ خواہ وہ رکشہ چلانے والا ہو، ٹیکسی ڈرائیور ہو، ہوٹل کا مالک ہو یا سڑک پر کوئی دُکاندار ہو، یاتریوں اور عقیدت مندوں کی آمد سے غریب ترین افراد کی روزی روٹی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے اس سال کے بجٹ میں سیاحت پر حکومت کی توجہ کے بارے میں بھی بات کی۔ وزیر اعظم مودی نے اس سلسلے میں شمال مشرقی ریاستوں کے سامنے موجود بے شمار مواقع پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ "مرکزی حکومت تاریخی اہمیت کے حامل مقامات کی ترقی کے لیے نئی اسکیمیں شروع کرنے والی ہے"۔ لہٰذا، وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت شمال مشرقی ریاستوں کی ترقی پر خصوصی زور دے رہی ہے۔

گذشتہ 10 برسوں میں شمال مشرق میں سیاحوں کی آمد کی ریکارڈ تعداد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ اگرچہ اس خطے کی خوبصورتی اس سے پہلے بھی موجود تھی، تاہم سابقہ حکومتوں کے ذریعہ نظرانداز کیے جانے کے سبب تشدد اور وسائل کی قلت کی وجہ سے سیاحوں کی تعداد انتہائی کم رہتی تھی۔ وزیر اعظم نے خطے میں ناقص ہوا، ریل اور سڑک کنکٹیویٹی کا ذکر کیا جہاں ایک ضلع سے دوسرے ضلع تک کے سفر میں گھنٹوں صرف ہوتے ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے ریاست میں ہمہ جہت ترقی کا سہرا مرکز اور ریاستی سطح پر ڈبل انجن والی حکومت کے سرباندھا۔

وزیر اعظم مودی نے بتایا کہ حکومت نے خطے کے ترقیاتی اخراجات میں 4 گنا اضافہ کیا ہے۔ 2014 سے قبل اور اس کے بعد کا موازنہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ بچھائی گئی ریلوے ٹریکس کی طوالت میں 1900 کلومیٹر سے زائد کا اضافہ کیا گیا، ریلوے بجٹ میں تقریباً 400 فیصد اضافہ کیا گیا اور 2014 تک 10,000 کلومیٹر کے مقابلے میں گزشتہ 10 برسوں میں 6 ہزار کلومیٹر طویل نئی قومی شاہراہیں تعمیر کی گئیں۔ آج کے پروجیکٹوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس سے ایٹا نگر سے رابطہ مضبوط ہوگا۔

 

"مودی کی گارنٹی کا مطلب تکمیل کی ضمانت ہے"، وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے غریبوں، خواتین، نوجوانوں اور کسانوں کو بنیادی سہولیات کی ضمانت دینے کا ذکر کیا۔ انہوں نے وکشت بھارت سنکلپ یاترا اور ’’مودی کی گارنٹی وہیکل‘‘ کا ذکر کیا جس کا کام سرکاری اسکیموں سے محروم لوگوں تک پہنچانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ملک بھر میں تقریباً 20 کروڑ لوگوں نے وکاس بھارت سنکلپ یاترا میں براہ راست حصہ لیا ہے۔ آسام کے لوگوں کی بڑی تعداد نے بھی اس کے فوائد حاصل کیے ہیں‘‘۔

مرکز کی تصوریت ساجھا کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے ہر شہری کی زندگی کو آسان بنانے کا اعادہ کیا، انہوں نے کہ اس سال کے بجٹ کے اعلانات میں بھی اس عزم کا اظہار ہوتا ہے۔ اس سال حکومت نے بنیادی ڈھانچے پر 11 لاکھ کروڑ روپے خرچ کرنے کا عزم کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انفراسٹرکچر پر اس طرح کے اخراجات سے زیادہ روزگار پیدا ہوتا ہے اور ترقی کو رفتار ملتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 2014 سے قبل گذشتہ 10 برسوں میں آسام کے لئے مجموعی طور پر بنیادی ڈھانچے کا بجٹ 12 لاکھ کروڑ روپئے کے بقدر تھا۔

وزیراعظم نے گزشتہ 10 برسوں میں ہر گھر کو بجلی کی فراہمی پر حکومت کے زور کو دہرایا۔ انہوں نے اس سال کے بجٹ میں روف ٹاپ سولر اسکیم کے آغاز کے ساتھ بجلی کے بلوں کو صفر کرنے کے سلسلے میں لیے گئے فیصلے کے بارے میں بتایا جس کے تحت حکومت ایک کروڑ کنبوں کو سولر روف ٹاپس لگانے میں مدد فراہم کرے گی۔ اس سے ان کا بجلی کا بل بھی صفر ہو جائے گا اور عام کنبے اپنے گھر پر بجلی پیدا کر کے پیسہ کما سکیں گے۔

ملک میں 2 کروڑ لکھ پتی دیدی بنانے کی گارنٹی کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے بتایا کہ گذشتہ برس یہ تعداد ایک کروڑ تک پہنچ گئی اور اب اس سال کے بجٹ میں 3 کروڑ لکھ پتی دیدی بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسام کی لاکھوں خواتین بھی اس سے مستفید ہوں گی۔ انہوں نے سیلف ہیلپ گروپوں سے وابستہ تمام خواتین کے لیے نئے مواقع اور آیوشمان اسکیم میں آنگن واڑی اور آشا ورکروں کی شمولیت پر بھی بات کی۔

 

وزیر اعظم نے کہا، "مودی دن رات کام کرنے اور فراہم کردہ گارنٹیوں کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے"۔انہوں نے مزید کہا کہ شمال مشرق کو مودی کی گارنٹی پر بھروسہ ہے۔ انہوں نے آسام کے ان علاقوں ، جو کبھی مسائل سے دوچار اور تشدد کا شکار تھے ،میں مستقل امن کے قیام اور ریاستوں کے درمیان سرحدی تنازعات کے حل کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ "یہاں 10 سے زیادہ بڑے امن معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ شمال مشرق میں ہزاروں نوجوانوں نے تشدد کا راستہ ترک کیا ہے اور گزشتہ چند برسوں میں ترقی کا انتخاب کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان میں سے آسام کے 7000 سے زیادہ نوجوانوں نے بھی ہتھیار ڈال دیئے ہیں اور انہوں نے ملک کی ترقی میں کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونے کا عہد کیا ہے۔ بہت سے اضلاع میں افسپا کو ہٹانے کے موضوع پر بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ جو علاقے تشدد سے متاثر ہوئے ہیں، وہاں آج حکومت کے تعاون سے عوام کی امنگوں کے مطابق ترقی کی جا رہی ہے۔

وزیر اعظم نے اہداف کے طے کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ سابقہ حکومتوں کے پاس مقاصد کی کمی تھی اور وہ محنت کرنے میں ناکام رہی تھیں۔ انہوں نے شمال مشرق کے مشرقی ایشیا کی طرح ترقی کرنےکا خیال پیش کیا، جس سے شمالی اور مشرقی ایشیاء میں توسیعی رابطے کی سہولت حاصل ہوگی۔ ریاست میں متعدد سڑکوں کو جنوبی ایشیا کے ذیلی علاقائی اقتصادی تعاون کے تحت اپ گریڈ کیا جائے گا، جس سے شمال مشرق کو تجارتی مرکز میں تبدیل کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے اس خواب کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے، مشرقی ایشیا کی طرح اپنے خطے کی ترقی کا مشاہدہ کرنے کے لیے شمال مشرق کے نوجوانوں کی خواہشات کا اعتراف کیا۔

 

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت اور اس کے شہریوں کے لئے ایک پرمسرت اور خوشحال زندگی کا ہدف آج کئے گئے تمام ترقیاتی کاموں کی بنیادی وجہ ہے۔ وزیر اعظم مودی نے آسام اور شمال مشرق کے ذریعہ ادا کیے جانے والے بڑے کردار کی توثیق کرتے ہوئے اپنی تقریر کے آخر میں کہا "مقصد بھارت کو دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بنانا ہے۔ مقصد 2047 تک وکست بھارت کا قیام ہے”۔

آسام کے گورنر جناب گلاب چند کٹاریا، آسام کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ہیمنت بسوا شرما اور بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں اور آیوش کے مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال ، وغیرہ اس موقع پر موجود تھے۔

پس منظر

مذہبی مقامات کا دورہ کرنے والے افراد کو عالمی معیار کی سہولیات فراہم کرانے پر وزیر اعظم کی کلیدی توجہ رہی ہے۔ اس کوشش کے سلسلے میں ایک اور قدم کے تحت، جن کلیدی پروجیکٹوں کا وزیر اعظم نے سنگ بنیاد رکھا تھا، ان میں سے ایک ماں کاماکھیا دیویا پریوجنا (ماں کاماکھیا ایکسیس کوریڈور) بھی شامل ہے، جسے شمال مشرقی علاقے کے لیے وزیر اعظم کے ترقیاتی اقدام (پی ایم - ڈیوائن)کے تحت منظور کیا گیا ہے۔ یہ کاماکھیا مندر جانے والے عقیدت مندوں کو عالمی معیار کی سہولیات فراہم کرے گا۔

وزیراعظم نے 3400 کروڑ روپے کے بقدر کے سڑکوں کی تجدید کاری کے متعدد پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا، جس کے تحت 38 پلوں سمیت 43 سڑکوں کو جنوبی ایشیائی ذیلی علاقائی اقتصادی تعاون (ایس اے ایس ای سی) گلیارہ کنیکٹیویٹی کے جزو کے طور پر اپ گریڈ کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے دو 4 لین والے پروجیکٹوں - ڈولاباری سے جموگوری اور بسوناتھ چاریالی سے گوہپور -کا افتتاح کیا۔ یہ پروجیکٹ ایٹا نگر سے رابطے کو بہتر بنانے اور خطے کی مجموعی اقتصادی ترقی کو فروغ دینے میں مدد کریں گے۔

اس خطے کی کھیلوں کی زبردست صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے وزیر اعظم نے ریاست میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینے کے لیے پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا۔ ان منصوبوں میں چندر پور میں ایک بین الاقوامی معیار کا اسپورٹس اسٹیڈیم اور نہرو اسٹیڈیم کو فیفا کے معیاری فٹ بال اسٹیڈیم کے طور پر اپ گریڈ کرنا شامل ہے۔

وزیر اعظم نے گوہاٹی میڈیکل کالج اور اسپتال کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے سنگ بنیاد بھی رکھا۔ اس کے علاوہ کریم گنج میں میڈیکل کالج کی ترقی کا سنگ بنیاد بھی ان کے ذریعے رکھا گیا۔

 

Click here to read full text speech

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
BJP manifesto 2024: Super app, bullet train and other key promises that formed party's vision for Indian Railways

Media Coverage

BJP manifesto 2024: Super app, bullet train and other key promises that formed party's vision for Indian Railways
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Today, Congress party is roaming around like the ‘Sultan’ of a ‘Tukde-Tukde’ gang: PM Modi in Mysuru
April 14, 2024
BJP's manifesto is a picture of the future and bigger changes: PM Modi in Mysuru
Today, Congress party is roaming around like the ‘Sultan’ of a ‘Tukde-Tukde’ gang: PM Modi in Mysuru
India will be world's biggest Innovation hub, creating affordable medicines, technology, and vehicles: PM Modi in Mysuru

नीमागेल्ला नन्ना नमस्कारागलु।

आज चैत्र नवरात्र के पावन अवसर पर मुझे ताई चामुंडेश्वरी के आशीर्वाद लेने का अवसर मिल रहा है। मैं ताई चामुंडेश्वरी, ताई भुवनेश्वरी और ताई कावेरी के चरणों में प्रणाम करता हूँ। मैं सबसे पहले आदरणीय देवगौड़ा जी का हृदय से आभार व्यक्त करता हूं। आज भारत के राजनीति पटल पर सबसे सीनियर मोस्ट राजनेता हैं। और उनके आशीर्वाद प्राप्त करना ये भी एक बहुत बड़ा सौभाग्य है। उन्होंने आज जो बातें बताईं, काफी कुछ मैं समझ पाता था, लेकिन हृदय में उनका बहुत आभारी हूं। 

साथियों

मैसुरु और कर्नाटका की धरती पर शक्ति का आशीर्वाद मिलना यानि पूरे कर्नाटका का आशीर्वाद मिलना। इतनी बड़ी संख्या में आपकी उपस्थिति, कर्नाटका की मेरी माताओं-बहनों की उपस्थिति ये साफ बता रही है कि कर्नाटका के मन में क्या है! पूरा कर्नाटका कह रहा है- फिर एक बार, मोदी सरकार! फिर एक बार, मोदी सरकार! फिर एक बार, मोदी सरकार!

साथियों,

आज का दिन इस लोकसभा चुनाव और अगले five years के लिए एक बहुत अहम दिन है। आज ही बीजेपी ने अपना ‘संकल्प-पत्र’ जारी किया है। ये संकल्प-पत्र, मोदी की गारंटी है। और देवगौड़ा जी ने अभी उल्लेख किया है। ये मोदी की गारंटी है कि हर गरीब को अपना घर देने के लिए Three crore नए घर बनाएंगे। ये मोदी की गारंटी है कि हर गरीब को अगले Five year तक फ्री राशन मिलता रहेगा। ये मोदी की गारंटी है कि- Seventy Year की आयु के ऊपर के हर senior citizen को आयुष्मान योजना के तहत फ्री चिकित्सा मिलेगी। ये मोदी की गारंटी है कि हम Three crore महिलाओं को लखपति दीदी बनाएँगे। ये गारंटी कर्नाटका के हर व्यक्ति का, हर गरीब का जीवन बेहतर बनाएँगी।

साथियों,

आज जब हम Ten Year पहले के समय को याद करते हैं, तो हमें लगता है कि हम कितना आगे आ गए। डिजिटल इंडिया ने हमारे जीवन को तेजी से बदला है। बीजेपी का संकल्प-पत्र, अब भविष्य के और बड़े परिवर्तनों की तस्वीर है। ये नए भारत की तस्वीर है। पहले भारत खस्ताहाल सड़कों के लिए जाना जाता था। अब एक्सप्रेसवेज़ भारत की पहचान हैं। आने वाले समय में भारत एक्सप्रेसवेज, वॉटरवेज और एयरवेज के वर्ल्ड क्लास नेटवर्क के निर्माण से विश्व को हैरान करेगा। 10 साल पहले भारत टेक्नालजी के लिए दूसरे देशों की ओर देखता था। आज भारत चंद्रयान भी भेज रहा है, और सेमीकंडक्टर भी बनाने जा रहा है। अब भारत विश्व का बड़ा Innovation Hub बनकर उभरेगा। यानी हम पूरे विश्व के लिए सस्ती मेडिसिन्स, सस्ती टेक्नोलॉजी और सस्ती गाडियां बनाएंगे। भारत वर्ल्ड का research and development, R&D हब बनेगा। और इसमें वैज्ञानिक रिसर्च के लिए एक लाख करोड़ रुपये के फंड की भी बड़ी भूमिका होगी। कर्नाटका देश का IT और technology hub है। यहाँ के युवाओं को इसका बहुत बड़ा लाभ मिलेगा।

साथियों,

हमने संकल्प-पत्र में स्थानीय भाषाओं को प्रमोट करने की बात कही है। हमारी कन्नड़ा देश की इतनी समृद्ध भाषा है। बीजेपी के इस मिशन से कन्नड़ा का विस्तार होगा और उसे बड़ी पहचान मिलेगी। साथ ही हमने विरासत के विकास की गारंटी भी दी है। हमारे कर्नाटका के मैसुरु, हम्पी और बादामी जैसी जो हेरिटेज साइट्स हैं, हम उनको वर्ल्ड टूरिज़्म मैप पर प्रमोट करेंगे। इससे कर्नाटका में टूरिज्म और रोजगार के नए अवसर सृजित होंगे।

साथियों,

इन सारे लक्ष्यों की प्राप्ति के लिए भाजपा जरूरी है, NDA जरूरी है। NDA जो कहता है वो करके दिखाता है। आर्टिकल-370 हो, तीन तलाक के खिलाफ कानून हो, महिलाओं के लिए आरक्षण हो या राम मंदिर का भव्य निर्माण, भाजपा का संकल्प, मोदी की गारंटी होता है। और मोदी की गारंटी को सबसे बड़ी ताकत कहां से मिलती है? सबसे बड़ी ताकत आपके एक वोट से मिलती है। आपका हर वोट मोदी की ताकत बढ़ाता है। आपका हर एक वोट मोदी की ऊर्जा बढ़ाता है।

साथियों,

कर्नाटका में तो NDA के पास एचडी देवेगौड़ा जी जैसे वरिष्ठ नेता का मार्गदर्शन है। हमारे पास येदुरप्पा जी जैसे समर्पित और अनुभवी नेता हैं। हमारे HD कुमारास्वामी जी का सक्रिय सहयोग है। इनका ये अनुभव कर्नाटका के विकास के लिए बहुत काम आएगा।

साथियों,

कर्नाटका उस महान परंपरा का वाहक है, जो देश की एकता और अखंडता के लिए अपना सब कुछ बलिदान करना सिखाता है। यहाँ सुत्तुरू मठ के संतों की परंपरा है। राष्ट्रकवि कुवेम्पु के एकता के स्वर हैं। फील्ड मार्शल करियप्पा का गौरव है। और मैसुरु के राजा कृष्णराज वोडेयर के द्वारा किए गए विकास कार्य आज भी देश के लिए एक प्रेरणा हैं। ये वो धरती है जहां कोडगु की माताएं अपने बच्चों को राष्ट्रसेवा के लिए सेना में भेजने के सपना देखती है। लेकिन दूसरी तरफ कांग्रेस पार्टी भी है। कांग्रेस पार्टी आज टुकड़े-टुकड़े गैंग की सुल्तान बनकर घूम रही है। देश को बांटने, तोड़ने और कमजोर करने के काँग्रेस पार्टी के खतरनाक इरादे आज भी वैसे ही हैं। आर्टिकल 370 के सवाल पर काँग्रेस के राष्ट्रीय अध्यक्ष ने कहा कि कश्मीर का दूसरे राज्यों से क्या संबंध? और, अब तो काँग्रेस देश से घृणा की सारी सीमाएं पार कर चुकी है। कर्नाटका की जनता साक्षी है कि जो भारत के खिलाफ बोलता है, कांग्रेस उसे पुरस्कार में चुनाव का टिकट दे देती है। और आपने हाल में एक और दृश्य देखा होगा, काँग्रेस की चुनावी रैली में एक व्यक्ति ने ‘भारत माता की जय’ के नारे लगवाए। इसके लिए उसे मंच पर बैठे नेताओं से परमीशन लेनी पड़ी। क्या भारत माता की जय बोलने के लिए परमीशन लेनी पड़े। क्या ऐसी कांग्रेस को देश माफ करेगा। ऐसी कांग्रेस को कर्नाटका माफ करेगा। ऐसी कांग्रेस को मैसुरू माफ करेगा। पहले वंदेमातरम् का विरोध, और अब ‘भारत माता की जय’ कहने तक से चिढ़!  ये काँग्रेस के पतन की पराकाष्ठा है।

साथियों,

आज काँग्रेस पार्टी सत्ता के लिए आग का खेल खेल रही है। आज आप देश की दिशा देखिए, और काँग्रेस की भाषा देखिए! आज विश्व में भारत का कद और सम्मान बढ़ रहा है। बढ़ रहा है कि नहीं बढ़ रहा है। दुनिया में भारत का नाम हो रहा है कि नहीं हो रहा है। भारत का गौरव बढ़ रहा है कि नहीं बढ़ रहा है। हर भारतीय को दुनिया गर्व से देखती है कि नहीं देखती है। तो काँग्रेस के नेता विदेशों में जाकर देश को नीचा दिखाने के कोई मौके छोड़ते नहीं हैं। देश अपने दुश्मनों को अब मुंहतोड़ जवाब देता है, तो काँग्रेस सेना से सर्जिकल स्ट्राइक के सबूत मांगती है। आतंकी गतिविधियों में शामिल जिस संगठन पर बैन लगता है। काँग्रेस उसी के पॉलिटिकल विंग के साथ काम कर रहा है। कर्नाटका में तुष्टीकरण का खुला खेल चल रहा है। पर्व-त्योहारों पर रोक लगाने की कोशिश हो रही है। धार्मिक झंडे उतरवाए जा रहे हैं। आप मुझे बताइये, क्या वोटबैंक का यही खेल खेलने वालों के हाथ में देश की बागडोर दी जा सकती है। दी जा सकती है।

साथियों, 

हमारा मैसुरु तो कर्नाटका की कल्चरल कैपिटल है। मैसुरु का दशहरा तो पूरे विश्व में प्रसिद्ध है। 22 जनवरी को अयोध्या में 500 का सपना पूरा हुआ। पूरा देश इस अवसर पर एक हो गया। लेकिन, काँग्रेस के लोगों ने, उनके साथी दलों ने राममंदिर की प्राण-प्रतिष्ठा जैसे पवित्र समारोह तक पर विषवमन किया! निमंत्रण को ठुकरा दिया। जितना हो सका, इन्होंने हमारी आस्था का अपमान किया। कांग्रेस और इंडी अलायंस ने राममंदिर प्राण-प्रतिष्ठा का बॉयकॉट कर दिया। इंडी अलांयस के लोग सनातन को समाप्त करना चाहते हैं। हिन्दू धर्म की शक्ति का विनाश करना चाहते हैं। लेकिन, जब तक मोदी है, जब तक मोदी के साथ आपके आशीर्वाद हैं, ये नफरती ताक़तें कभी भी सफल नहीं होंगी, ये मोदी की गारंटी है।

साथियों,

Twenty twenty-four का लोकसभा चुनाव अगले five years नहीं, बल्कि twenty forty-seven के विकसित भारत का भविष्य तय करेगा। इसीलिए, मोदी देश के विकास के लिए अपना हर पल लगा रहा है। पल-पल आपके नाम। पल-पल देख के नाम। twenty-four बाय seven, twenty-four बाय seven for Twenty Forty-Seven.  मेरा ten years का रिपोर्ट कार्ड भी आपके सामने है। मैं कर्नाटका की बात करूं तो कर्नाटका के चार करोड़ से ज्यादा लोगों को मुफ्त राशन मिल रहा है। Four lakh fifty thousand गरीब परिवारों को कर्नाटका में पीएम आवास मिले हैं। One crore fifty lakh से ज्यादा गरीबों को मुफ्त इलाज की गारंटी मिली है। नेशनल हाइवे के नेटवर्क का भी यहाँ बड़ा विस्तार किया गया है। मैसुरु से बेंगलुरु के बीच एक्सप्रेसवे ने इस क्षेत्र को नई गति दी है। आज देश के साथ-साथ कर्नाटका में भी वंदेभारत ट्रेनें दौड़ रही हैं। जल जीवन मिशन के तहत Eight Thousand से अधिक गांवों में लोगों को नल से जल मिलने लगा है। ये नतीजे बताते हैं कि अगर नीयत सही, तो नतीजे भी सही! आने वाले Five Years में विकास के काम, गरीब कल्याण की ये योजनाएँ शत प्रतिशत लोगों तक पहुंचेगी, ये मोदी की गारंटी है।

साथियों,

मोदी ने अपने Ten year साल का हिसाब देना अपना कर्तव्य माना है। क्या आपने कभी काँग्रेस को उसके sixty years का हिसाब देते देखा है? नहीं न? क्योंकि, काँग्रेस केवल समस्याएँ पैदा करना जानती है, धोखा देना जानती है। कर्नाटका के लोग इसी पीड़ा में फंसे हुये हैं। कर्नाटका काँग्रेस पार्टी की लूट का ATM स्टेट बन चुका है। खाली लूट के कारण सरकारी खजाना खाली हो चुका है। विकास और गरीब कल्याण की योजनाओं को बंद किया जा रहा है। वादा किसानों को मुफ्त बिजली का था, लेकिन किसानों को पंपसेट चलाने तक की बिजली नहीं मिल रही। युवाओं की, छात्रों की स्कॉलर्शिप तक में कटौती हो रही है। किसानों को किसान सम्मान निधि में राज्य सरकार की ओर से मिल रहे four thousands रुपए बंद कर दिये गए हैं। देश का IT hub बेंगलुरु पानी के घनघोर संकट से जूझ रहा है। पानी के टैंकर की कालाबाजारी हो रही है। इन सबके बीच, काँग्रेस पार्टी को चुनाव लड़वाने के लिए hundreds of crores रुपये ब्लैक मनी कर्नाटका से देशभर में भेजा जा रहा है। ये काँग्रेस के शासन का मॉडल है। जो अपराध इन्होंने कर्नाटका के साथ किया है, इसकी सजा उन्हें Twenty Six  अप्रैल को देनी है। 26 अप्रैल को देनी है।

साथियों,

मैसूरु से NDA के उम्मीदवार श्री यदुवीर कृष्णदत्त चामराज वोडेयर, चामराजनागर से श्री एस बालाराज, हासन लोकसभा से एनडीए के श्री प्रज्जवल रेवन्ना और मंड्या से मेरे मित्र श्री एच डी कुमार स्वामी,  आने वाली 26 अप्रैल को इनके लिए आपका हर वोट मोदी को मजबूती देगा। देश का भविष्य तय करेगा। मैसुरु की धरती से मेरी आप सभी से एक और अपील है। मेरा एक काम करोगे। जरा हाथ ऊपर बताकर के बताइये, करोगे। कर्नाटका के घर-घर जाना, हर किसी को मिलना और मोदी जी का प्रणाम जरूर पहुंचा देना। पहुंचा देंगे। पहुंचा देंगे।

मेरे साथ बोलिए

भारत माता की जय

भारत माता की जय

भारत माता की जय

बहुत बहुत धन्यवाद।