Share
 
Comments
خطے میں دیہی معیشت کو فروغ دینے اور مقامی کسانوں اور دودھ پیدا کرنے والوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے میں مدد دینے کے منصوبے
’’ایف پی اوز کے ذریعے چھوٹے کسان، ڈبہ بندخوراک، ویلیو لنکڈ ایکسپورٹ اور سپلائی چین سے منسلک ہو رہے ہیں‘‘
’’کسانوں کے لیے متبادل آمدنی کے ذرائع پیدا کرنے کی حکمت عملی نتیجہ خیز ہے‘‘

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج گدھوڈا چوکی، سابر کانٹھا، گجرات میں سابر ڈیری میں 1000 کروڑ روپے سے زیادہ  مالیت کے متعدد منصوبوں کا افتتاح کیااور سنگ بنیاد رکھا ۔ان منصوبوں سے  مقامی کسانوں اور دودھ  پیدا کرنے والوں کو بااختیار بنایا جائے گا اور ان کے آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ اس سے خطے میں دیہی معیشت کو بھی فروغ ملے گا۔وزیر اعظم نے سوکنیا سمردھی اسکیم  اور سرکردہ دودھ پیدا کرنے والی خواتین ڈیری مالکان کو کو مبارکباد دی۔ اس موقع پر گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر بھائی پٹیل بھی موجود تھے۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ’’آج سابر ڈیری وسیع ہوچکی ہے۔ یہاں سینکڑوں کروڑوں روپئے سے نئے منصوبے قائم کئے جارہے ہیں۔ سابر ڈیری کی استعداد میں اور زیادہ اضافہ ہوگا، جس میں  جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ دودھ کا ایک پاور پلانٹ اور ایسپٹک پیکنگ کی ایک اور شاخ شامل ہوگا‘‘۔ وزیر اعظم نے جناب بھورا بھائی پٹیل کو بھی یاد کیا، جو سابر ڈیری کی شخصیات میں سے ایک ہیں۔وزیر اعظم نے علاقے اور مقامی لوگوں کے ساتھ اپنی طویل مدتی  وابستگی کی بھی یاددہانی کرائی۔

وزیر اعظم نے ، دو دہائی قبل کی محرومی اور خشک سالی کی صورتحال کو یاد کیا۔ انھوں نے یاد دہانی کرائی کہ کس طرح انھوں نے بطور  وزیر اعلیٰ، عوام کا تعاون حاصل کیا اور خطے کی صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ مویشی پروری اور ڈیری ان کاوشوں کا کلیدی عنصر ہے۔ انھوں نے چارہ، دوائی فراہم کرکے مویشی پروری کو فروغ دینے کے اقدامات اور مویشیوں کے لیے آیورویدک علاج کو بھی فروغ دینے کے اقدامات کے بارے میں بھی بات کی۔ انھوں نے گجرات جیوتی گرام اسکیم کا ذکر ترقی کے گہوارے کے طور پر کیا۔

وزیر اعظم نے فخر کے ساتھ یہ واضح کیا کہ گذشتہ دو دہائیوں میں کئے گئے اقدامات کی وجہ سے، گجرات میں  ڈیری کی مارکیٹ ایک لاکھ کروڑ روپئے مالیت کی ہوگئی ہے۔ انھوں نے 2007 اور 2011 میں اپنے پہلے کے دوروں اور خواتین کی شرکت بڑھانے کی اپنی درخواست کی یاد دہانی کرائی۔ اس وقت زیادہ تر کمیٹیوں میں خواتین کی  اچھی نمائندگی ہے۔ انھوں نے کہا کہ دودھ کی قیمت کی ادائیگی زیادہ تر خواتین کو کی جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ  ان تجربات کو دیگر شعبوں میں بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ آج، ملک میں 10000 فارمر پرڈیوسر ایسوسی ایشن (ایف پی اوز) کی تشکیل کا کام پورے زور وشور سے جاری ہے۔ ان ایف پی اوز کے ذریعے چھوٹے کسان، ڈبہ بند خوراک، ویلیو لنکڈ ایکسپورٹ اور سپلائی چین سے براہ راست منسلک ہوسکیں گے۔ انھوں نے کہا کہ گجرات کے کسانوں کو بھی اس سے کافی فائدہ ہونے والا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کسانوں کے لیے متبادل آمدنی کے ذرائع پیدا کرنے کی حکمت عملی ، نتیجہ خیز ثابت ہو رہی ہے۔ باغبانی، ماہی گیری، شہد کی پیداوار سے کسانوں کو اچھی ا ٓمدنی ہو رہی ہے۔ کھادی اور گرام ادیوگ کا کاروبار پہلی مرتبہ ایک لاکھ کروڑ روپئے سے زیادہ مالیت کا ہوگیا ہے۔ دیہاتوں میں اس شعبے میں 1.5 کروڑ روپئے سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ پیٹرول میں ایتھانول کی آمیزش میں اضافہ کرنے جیسے اقدامات، کسانوں کے لیے نئی راہیں وضع کر رہے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ ’’2014 تک ملک میں 400 ملین لیٹر سے کم ایتھانول کی آمیزش کی گئی تھی۔ آج یہ تقریباً 400 کروڑ لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ ہماری حکومت نے گذشتہ دو برسوں میں ایک خصوصی مہم چلا کر ، 3 کروڑ سے زیادہ کسانوں کو ، کسان کریڈٹ کارڈ بھی فراہم کئے ہیں‘‘۔

وزیر اعظم نے کہا کہ یوریا کی نیم –کوٹنگ، بند ہوئے ہوئے کھاد کے پلانٹ کھولنے اور نینو کھاد کو فروغ دینے اور عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کے باوجود، مناسب قیمت پر یوریا کی دستیابی کو یقینی بنانے جیسے اقدامات سے ملک اور گجرات کے کسانوں کو فائدہ پہنچا ہے۔ سجلم سفلم اسکیم نے سابر کانٹھا ضلع کے کئی تحصیلوں کو پانی فراہم کیا ہے۔  انھوں نے کہا کہ اسی طرح،ضلع اور قریبی علاقوں میں غیر معمولی پیمانے پر رابطوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ریلوے اور شاہراہوں کے منصوبے سے خطے میں رابطوں میں بہتری آئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ رابطہ ، سیاحت اور نوجوانوں کے لیے ملازمتوں کو یقینی بنانے میں مدد کر رہا ہے۔

آزادی کا امرت مہوتسو کی اہمیت کا اعادہ کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے مقامی قبائلی رہنماؤں کی قربانیوں کو یاد کیا۔وزیر اعظم نے مطلع کیا کہ حکومت نے  15 نومبر کو ، بھگوان برسا منڈا جی  کے یوم پیدائش کو ، جن جاتیہ گورو دیوس کے طور پر قرار دیا ہے۔  انھوں نے مزید کہا کہ’’ہماری حکومت ملک بھر میں قبائلی مجاہدین آزادی کی یاد میں ایک خصوصی میوزیم بھی بنا رہی ہے‘‘۔ انھوں نے کہا کہ ’’پہلی بار قبائلی سماج سے تعلق رکھنے والی ملک کی بیٹی، ہندوستان کے اعلیٰ ترین آئین عہدے پر فائز ہوئی ہے۔ ملک نے محترمہ دروپدی مرمو جی کو  اپنا صدر جمہوریہ بنایا ہے۔ یہ 130 کروڑ سے زیادہ ہندوستانیوں کے لیے انتہائی فخر کا لمحہ ہے‘‘۔

انھوں نے  ملک کے لوگوں سے ’ہر گھر ترنگا مہم‘ میں بڑھ چڑھ کر اور جوش وخروش سے حصہ لینے کی درخواست کی۔

منصوبوں کی تفصیلات:

وزیر اعظم نے ، سابر ڈیری میں تقریباً 120 میٹرک ٹن یومیہ (ایم ٹی پی ڈی) کی صلاحیت کے ساتھ پاؤڈر پلانٹ کا افتتاح کیا۔ اس پورے پروجیکٹ کی کل لاگت 300 کروڑ روپئے سے زیادہ کی ہے۔پلانٹ کی تنصیب وترتیب، خوراک کے تحفظ کے عالمی معیار کے عین مطابق ہے۔ یہ تقریباً صفر اخراج کے ساتھ توانائی کی انتہائی بچت ہے۔ یہ پلانٹ جدید ترین اور مکمل طور پر خودکاربلک پیکنگ لائن سے لیس ہے۔

وزیر اعظم نے سابر ڈیری میں ایسپٹک دودھ پیکیجنگ پلانٹ کا بھی افتتاح کیا۔ یہ ایک جدید ترین پلانٹ ہے جس کی صلاحیت 3 لاکھ لیٹر یومیہ کی ہے۔ اس منصوبے پر تقریباً 125 کروڑ روپئے کی مجموعی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔پلانٹ میں توانائی کی انتہائی بچت اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کے ساتھ،خودکار نظام ہے۔ اس منصوبے سے دودھ پیدا کرنے والوں کو بہتر معاوضہ حاصل کرنے کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

وزیر اعظم نے سابر پنیر اور وہی ڈرائنگ پلانٹ پروجیکٹ کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔ اس پروجیکٹ کے لیے  تخمینی مختص رقم  تقریباً 600 کروڑ روپئے ہے۔یہ پلانٹ چیڈر پنیر (20 ایم ٹی پی ڈی)،موزاریلا پنیر (10 ایم ٹی پی ڈی) اور پروسیسڈ پنیر (16 ایم ٹی پی ڈی) تیار کرے گا۔پنیر کی تیاری کے دوران پیدا ہونے والی وہی کو بھی وہی ڈرائنگ پلانٹ میں خشک کیا جائے گا جس کی گنجائش 40 ایم ٹی پی ڈی ہے۔

سابر ڈیری ، گجرات کوآپریٹیو دودھ مارکیٹنگ فیڈریشن (جی سی ایم ایم ایف)، کا ایک حصہ ہے، جو امول برانڈ کے تحت دودھ اور دودھ کی مصنوعات کی پوری رینج تیار کرتی ہے اور مارکیٹ کرتی ہے۔

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن
Robust activity in services sector holds up 6.3% GDP growth in Q2

Media Coverage

Robust activity in services sector holds up 6.3% GDP growth in Q2
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi addresses public meetings in Kalol, Chhota Udepur and Himmatnagar, Gujarat
December 01, 2022
Share
 
Comments
Taking over the G20 presidency today, PM Narendra Modi says it is a matter of pride for every Indian citizen
There is a competition among Congress leaders as to who will use the most abusive words for Modi: PM Modi in Kalol
Eight years ago, there were less than 100 Eklavya Model Schools in the country, today there are more than 500: PM Modi in Chhota Udepur
In Chhota Udepur, PM Modi slams the Congress party for creating hurdles when a tribal woman was made a candidate for the President’s post
Congress raised 'Garibi Hatao' slogan, but poverty actually increased under its rule as it misguided people: PM Modi

Continuing his campaigning spree for the second phase of assembly elections, PM Modi today addressed public meetings in Kalol, Chhota Udepur and Himmatnagar, Gujarat. Taking over the G20 presidency, PM Narendra Modi said today is a big day for India, a historic day. “With the blessings of Maa Kalika, today is an auspicious day for the presidency of India to begin in the G20. This is a matter of great pride for all of us,” he said.

Addressing the huge rally, PM Modi iterated, “Kalol is the center of economic activities of Panchmahal. Industrial centers like Halol-Kalol and Panchmahal are benefiting a lot due to the increase in manufacturing in India and the growth of the economy. Today, industrial production worth Rs 30,000 crore is done in Panchmahal district. This year, about 9,500 crores has been exported from Panchmahal district. Thousands of people are getting employment due to this.”

PM Modi accused the Congress of hurling abuses at him, he said, “The Congress does not leave any chance to insult the pride of Gujarat. I am a sevak of Gujarat, a sevak of the country, that's why the Congress has once again hurled abuses at me.” PM Modi launched a frontal attack on the Congress for calling him names, including the promise to show him his ‘aukat’. Referring to Congress leader Malikarjun Kharge’s Ravana remark, he said, “Kharge ji was sent to Gujarat and I was called Ravana by him on the land of Gujarat where Lord Rama devotees live. But it is true that when it comes to Lord Rama, the Congress does not accept his existence. It is also true that the Congress was in pain due to the construction of a grand temple of Lord Ram in Ayodhya.”

PM Modi further listed out the number of ‘gaalis’ hurled at him, he said, “The Congress has considered it its right to abuse me. Had there been faith in democracy, Congress would never have done this. But Congress has faith only on one family. Family is democracy for Congress, family is country for Congress. There is a competition in the Congress party that who can abuse Modi how much?”

Highlights from the Chhota Udepur Public Meeting

Heating up the campaign trail in Gujarat where Assembly elections are taking place, PM Modi mocked the Congress party on their ‘Garibi Hatao’ slogan. He said, “Decades ago, the Congress had given the slogan 'Garibi Hatao'. And they kept on saying this slogan as if this work has to be done by someone else. That's why during its rule Congress kept on saying ‘Garibi Hatao, but the party kept removing the poor from its path.”


Addressing his second rally in Chhota Udepur, PM Modi expounded BJP's commitment to welfare of tribal communities and listed numerous efforts being undertaken. He said, “The biggest beneficiary of the all-round development of the BJP government is our tribal society.” He slammed the Congress party for doing nothing for development of the tribals in the country. He said that the party even created hurdles when a tribal woman was made a candidate for the President’s post.

Talking about the ‘One District, One Product’ scheme, PM Modi stated, “There is hardly any district which does not have its own identity. Now like Chhota Udepur's 'Sankheda' is famous for its handicrafts, furniture made of teak. The demand for this furniture is in the world. I myself have gifted wooden articles made in ‘Sankheda’ to dignitaries of many countries of the world. To give importance to such products, such art, the BJP government has formulated ‘One District, One Product’ scheme.”

 

Highlights from the Himmatnagar Public Meeting

Addressing his final rally of the day in Himmatnagar, PM Modi said, “In 20 years, the area covered by groundnut has more than doubled. Now the yield of groundnut is 8 times more in Sabarkantha as compared to earlier. I am told, this time farmers are getting very good money in the purchase of groundnut. The facility of cold storage for potatoes here has also brought a lot of ease to the farmers. The happiness of all of us grows today when french fries made from Sabarkantha potatoes are exported.”

He further added, “To increase the income of the farmers, the BJP government is constantly working to ensure that maximum money goes into the pockets of the farmers. Our government have helped the farmers through PM Kisan Samman Nidhi. Here the farmers of Sabarkantha have also been given Rs 480 crore under the PM Kisan Samman Nidhi scheme.” PM Modi also listed out several development schemes which benefitted the people of the state.

Highlighting about the revamped connectivity, PM Modi said, “Be it poor, middle class, dalit, tribal, backward, everyone benefits from it. That's why an unprecedented investment is being made today on road, rail and airport. Just a month back, the Asarva-Udaipur train has been started. This route between Ahmedabad-Udaipur has become broad gauge. This will greatly benefit the districts of North Gujarat. From agriculture to industries in Himmatnagar, everyone will be benefited by this new rail line.”

Also, PM Modi urged people of Gujarat to vote for BJP in large numbers. Requesting to keep voting for the BJP's double engine government, the Prime Minister said, “I request all people to help spread the word to vote for Lotus and make it win from polling booth.”