وفد نے وقف ترمیمی قانون لانے کے لیے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا جو ان کا طویل عرصے سے زیر التوا مطالبہ تھا
وفد نے وقف کے دعووں کے بارے میں اس سے قبل کے برادری کو درپیش چیلنجوں کا ذکر کیا، کہا کہ وزیر اعظم یہ قانون نہ صرف اقلیتوں کے لیے بلکہ اقلیتوں کے اندر اقلیتوں کے لیے بھی لائے ہیں
وزیر اعظم کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے جس کے تحت وہ شمولیت کا جذبہ محسوس کرتے ہیں، کمیونٹی کے ممبران نے وزیر اعظم کے سب کا ساتھ ، سب کا وکاس کے وژن پر اعتماد کا اظہار کیا
ایکٹ لانے کے پیچھے ایک اہم محرک یہ تھا کہ مروجہ نظام کی زیادہ تر شکار خواتین تھیں، خاص طور پر بیوائیں: وزیر اعظم
وزیر اعظم نے داؤدی بوہرہ برادری کے ساتھ اپنے رشتے پر تبادلہ خیال کیا اور وقف ایکٹ لانے میں سیدنا مفضل سیف الدین کے تعاون کی ستائش کی

 وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج لوک کلیان مارگ پر واقع اپنی رہائش گاہ پر داؤدی بوہرہ برادری کے ارکان کے ایک وفد سے گفت و شنید کی۔

 

وفد میں تاجر رہنما، پیشہ ور افراد، ڈاکٹر، اساتذہ اور داؤدی بوہرہ برادری کے مختلف نمایاں نمائندے شامل تھے۔ انھوں نے اپنی جدوجہد کو بیان کیا اور کہانیاں شیئر کیں کہ کس طرح وقف کے ذریعہ ان کی برادری کے ممبروں کی جائیدادوں پر غلط طور پر دعوی کیا گیا تھا۔ انھوں نے وقف ترمیمی قانون لانے کے لیے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ ایک طویل عرصے سے زیر التوا مطالبہ ہے۔

 

انھوں نے داؤدی بوہرہ برادری کے ساتھ وزیر اعظم کے دیرینہ خصوصی تعلق اور ان کے ذریعہ کیے گئے مثبت کاموں کے بارے میں بات کی۔ اپنی کمیونٹی کے لیے اس ایکٹ کے فوائد کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم یہ قانون نہ صرف اقلیتوں کے لیے بلکہ اقلیتوں کے اندر اقلیتوں کے لیے لائے ہیں۔ یہ کہتے ہوئے کہ بھارت نے ہمیشہ ان کی شناخت کو پھلنے پھولنے دیا ہے ، انھوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کی قیادت میں ، وہ شمولیت کے جذبے کو محسوس کرتے ہیں۔

2047 تک وکست بھارت کے وزیر اعظم کے وژن پر بات کرتے ہوئے انھوں نے بھارت کو ترقی یافتہ بنانے کے سفر میں عزم اور ہر ممکن مدد کا اظہار کیا۔ انھوں نے ان کی قیادت کی بھی تعریف کی جو اس پہلو پر توجہ مرکوز کرتی ہے کہ حقیقی ترقی عوام پر مرکوز ہونی چاہیے۔ انھوں نے آتم نربھر بھارت، ایم ایس ایم ایز کی حمایت وغیرہ جیسے کئی اہم اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ خاص طور پر چھوٹے کاروباروں کے لیے بہت مددگار ثابت ہوئے ہیں۔ انھوں نے بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ جیسے اقدامات اور ناری شکتی کو بااختیار بنانے کے لیے دیگر اقدامات کی بھی تعریف کی۔

 

وزیر اعظم نے وقف ترمیمی قانون لانے کے پیچھے برسوں کے کام کے بارے میں بات کی۔ انھوں نے وقف کی وجہ سے لوگوں کو درپیش مشکلات کے بارے میں بات کی اور کہا کہ اس قانون کو لانے کے پیچھے ایک اہم محرک یہ ہے کہ موجودہ نظام کا زیادہ تر شکار خواتین ہیں ، خاص طور پر بیوائیں۔

 

وزیر اعظم نے داؤدی بوہرہ برادری کے ممبروں کے ساتھ اپنے مضبوط تعلقات کو یاد کیا۔ انھوں نے سماجی بہبود کے لیے کام کرنے والی کمیونٹی کی روایت کی تعریف کی ، جو انھوں نے سالوں سے دیکھی ہے۔ انھوں نے اس ایکٹ کو لانے کے لیے کمیونٹی کے خصوصی تعاون کو بھی اجاگر کیا۔ انھوں نے کہا کہ جب وقف ترمیمی قانون لانے کی سمت میں کام شروع ہوا تو انھوں نے سب سے پہلے جن لوگوں کے ساتھ اس پر تبادلہ خیال کیا ان میں سے ایک سیدنا مفضل سیف الدین تھے جنہوں نے اس قانون کی مختلف خامیوں کے بارے میں تفصیلی آرا  دینے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s data centre boom: Mumbai cracks global top 15, Hyderabad pipeline set to surge 15x

Media Coverage

India’s data centre boom: Mumbai cracks global top 15, Hyderabad pipeline set to surge 15x
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
وزیرِ اعظم 27 اگست کو کھیلو انڈیا مکالمے میں نوجوانوں سے خطاب کریں گے
August 26, 2026
کھیلو انڈیا مکالمہ: کھیل، نوجوانوں کی قیادت، شہری ذمہ داری، رضاکارانہ خدمت، جسمانی تندرستی اور قوم کی تعمیر کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر یکجا کرے گا
کھیلو انڈیا مکالمے کے تحت یوا سموا د پانچ اہم موضوعات پر توجہ مرکوز کرے گا: کھیل، اولمپکس میں کامیابی کی امنگیں، نوجوانوں کی قیادت، ترقی یافتہ بھارت اور منشیات سے پاک نوجوان

وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی 27 اگست کو صبح 11 بجے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے کھیلو انڈیا مکالمے سے خطاب کریں گے۔ اس پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو بھارت کے کھیلوں کے سفر سے وابستہ ہونے، اپنی امنگوں کا اظہار کرنے اور نوجوانوں کی قیادت میں ایک مضبوط ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے اپنی تجاویز پیش کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

میرا یوا بھارت (ایم وائی بھارت) کی جانب سے قومی یومِ کھیل 2026 کی تقریبات کے ایک حصے کے طور پر منعقد ہونے والا یہ پروگرام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے ہر ضلع کے دو کالجوں میں نوجوانوں کی شرکت کے ساتھ ملک بھر میں منعقد کیا جائے گا۔ یہ پروگرام وزیرِ اعظم کے اس تصور کے مطابق منعقد کیا جا رہا ہے جس کا مقصد ایک صحت مند، نظم و ضبط کا پابند اور کھیلوں سے وابستہ ملک کی تعمیر کرنا ہے، جبکہ قومی ترقی کے ایجنڈے کے مرکز میں نوجوانوں کی امنگوں کو جگہ دینا ہے۔

ملک گیر کھیلو انڈیا مکالمہ کھیل، نوجوانوں کی قیادت، شہری ذمہ داری، رضاکارانہ خدمت، جسمانی تندرستی اور قوم کی تعمیر کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر یکجا کرے گا۔ یہ نوجوانوں کو ملک کے کھیلوں سے متعلق عزائم کے ساتھ براہِ راست جڑنے کا موقع فراہم کرے گا، جبکہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ان کی تجاویز اور نقطۂ نظر بھارت کے نوجوانوں اور کھیلوں کے نظام سے متعلق جاری گفتگو کا حصہ بنیں۔

قومی پروگرام کے بعد مقامی سطح پر ایسے پروگرام منعقد کیے جائیں گے جن میں نوجوان شرکاء، میرا یوا بھارت کے رضاکار، مقامی کھلاڑی اور عوامی نمائندے حصہ لیں گے۔ اس پہل کی ایک اہم خصوصیت کھیلوں میں دلچسپی رکھنے والے نوجوانوں اور بھارت کے سرکردہ کھلاڑیوں اور تمغہ جیتنے والوں کے درمیان براہِ راست تبادلۂ خیال ہوگا۔ پروگرام کا ایک مرکزی حصہ یوا سمواد ہوگا، جس میں نوجوان شرکاء کو اپنے خیالات، نقطۂ نظر اور امنگوں کا اظہار کرنے کی دعوت دی جائے گی۔ یہ مکالمہ پانچ موضوعات کے گرد ترتیب دیا جائے گا:

بہتر سہولیات، کوچنگ، کھیلوں کی سائنس اور سب کی شمولیت کے ذریعے بھارت کے کھیلوں کے نظام کو بہتر بنانا؛
سائنسی بنیادوں پر صلاحیتوں کی شناخت، شفاف انتخاب اور کھلاڑیوں کی طویل مدتی ترقی کے ذریعے 2036 کے اولمپکس کے لیے صلاحیتوں کو پروان چڑھانا؛
حکمرانی کے پلیٹ فارموں اور میرا یوا بھارت کی قیادت میں رضاکارانہ خدمات کے ذریعے نوجوانوں میں قائدانہ صلاحیتیں پیدا کرنا؛
شہری شعور، مستقبل کے لیے درکار مہارتوں اور منظم رضاکارانہ خدمات کو فروغ دے کر نوجوانوں کو ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے بااختیار بنانا؛
کھیلوں اور ہم عمر افراد کے باہمی رابطوں کے ذریعے منشیات کے استعمال کے خلاف جدوجہد کے لیے منشیات سے پاک نوجوان تحریک کو فروغ دینا، جسے وزیرِ اعظم کی جانب سے 2 اگست 2026 کو شروع کی گئی ملک گیر 100 ہفتوں کی مہم کے تحت ہر ہفتے کی جن بھاگیداری سرگرمیوں کے ذریعے مزید تقویت دی جائے گی۔