ابھی کچھ دن پہلے، میں نے کرتویہ پتھ پر کامن سنٹرل سکریٹریٹ یعنی کرتویہ بھون کا افتتاح کیاتھااور آج مجھے پارلیمنٹ میں اپنے ساتھیوں کے لیے اس رہائشی کمپلیکس کا افتتاح کرنے کا موقع ملا ہے: وزیر اعظم
آج اگر ملک اپنے ممبران پارلیمنٹ کے لیے نئے گھروں کی ضرورت کو پورا کرتا ہے، تو یہ پی ایم آواس یوجنا کے ذریعے 4 کروڑ غریبوں کے گھر بنانے میں بھی سہولت فراہم کرتا ہے: وزیر اعظم
آج ملک نہ صرف کرتویہ پتھ اور کرتویہ بھون بنا رہاہے بلکہ لاکھوں شہریوں کو پائپ لائنوں کے ذریعے پانی فراہم کرنے کا اپنا فرض بھی پورا کر رہا ہے: وزیر اعظم
شمسی توانائی سے چلنے والے بنیادی ڈھانچے سے لے کر شمسی توانائی میں ملک کے نئے ریکارڈقائم کرنے تک، ملک اپنے پائیدار ترقی کے وژن کو مسلسل آگے بڑھا رہا ہے: وزیراعظم

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی کے بابا کھڑک سنگھ مارگ پر اراکین پارلیمنٹ کے لیے 184 نو تعمیر شدہ ٹائپ VII کثیر منزلہ فلیٹس کا افتتاح کیا۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں انہوں نے کرتویہ پتھ پر کرتویہ بھون کے نام سے موسوم کامن سنٹرل سکریٹریٹ کا افتتاح کیا تھا اور آج انہیں اراکین پارلیمنٹ کے لیے نئے تعمیر شدہ رہائشی کمپلیکس کا افتتاح کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے ہندوستان کی چار بڑی ندیوں کے نام سے موسوم کئے  گئے چار ٹاور - کرشنا، گوداوری، کوسی اور ہگلی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ دریا، جو لاکھوں لوگوں کو زندگی بخشتے ہیں، اب عوامی نمائندوں کی زندگیوں میں خوشی کی نئی لہر کی تحریک کا باعث بنیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دریاؤں کے نام پرنام رکھنے کی روایت قوم کو اتحاد کے دھاگے میں باندھ دیتی ہے۔ جناب نریندر مودی نے کہا کہ نئے کمپلیکس سے دہلی میں ارکان پارلیمنٹ کے رہنے میں آسانی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں اراکین پارلیمنٹ کے لیے سرکاری رہائش کی دستیابی میں اضافہ ہوگا۔ وزیر اعظم نے تمام ممبران پارلیمنٹ کو مبارکباد پیش کی اور فلیٹس کی تعمیر میں شامل انجینئروں اور مزدوروں کی بھی تعریف کی، پروجیکٹ کو مکمل کرنے میں ان کی لگن اور محنت کی ستائش کی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں اراکین پارلیمنٹ کے لیے نو تعمیر شدہ رہائشی کمپلیکس کے ایک نمونہ فلیٹ کا دورہ کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں پرانے ایم پی کی رہائش گاہوں کی حالت کا مشاہدہ کرنے کے مواقع بھی ملے ہیں۔ جناب نریندر مودی نے تبصرہ کیا کہ پرانی رہائش گاہیں اکثر نظر اندازی اور بدحالی کا شکار رہتی ہیں، جس سے ارکان پارلیمنٹ کو اپنی رہائش گاہوں کی خراب حالت کی وجہ سے بار بار درپیش پریشانیوں کی شکایت کرنی پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی اقامت گاہوں سے ارکان پارلیمنٹ کو اپنے نئے گھروں میں داخل ہونے کے بعد اس طرح کے چیلنجوں سے چھٹکارہ مل جائے  گا۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ جب اراکین پارلیمنٹ رہائش کے ذاتی مسائل سے آزاد ہوں گے تو وہ اپنا وقت اور توانائی زیادہ مؤثر طریقے سے عوامی مسائل کے حل کے لیے وقف کر سکیں گے۔

 

جناب نریندر مودی نے پہلی بار منتخب ہونے والے ممبران پارلیمنٹ کو دہلی میں رہائش گا ہیں حاصل کرنے میں درپیش چیلنجوں کو اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ نئی تعمیر شدہ عمارتوں سے ان مشکلات کاخاتمہ ہوجائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ 180 سے زائد ارکان پارلیمنٹ ان کثیرمنزلہ عمارتوں میں ایک ساتھ رہائش پذیر ہوں گے اورانہوں نے ہاؤسنگ کی اس نئی پہل کی نمایاں اقتصادی جہت کو بھی اجاگر کیا ۔ کرتویہ بھون کے افتتاح کاذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہاکہ کئی وزارتیں کرائے کی عمارتوں سے کام کر رہی ہیں، جن کا سالانہ کرایہ تقریباً 1,500 کروڑ روپے ہے، اور اسے عوامی فنڈ کا براہ راست ضیاع قرار دیا ہے۔ اسی طرح، انہوں نے واضح کیا کہ مناسب ایم پی ہاؤسنگ کافقدان حکومتی اخراجات میں اضافے کا بھی باعث بنا ہے۔ جناب نریندر مودی نے نشاندہی کی کہ ایم پی کی رہائش گاہوں کی کمی کے باوجود 2004 سے 2014 کے درمیان لوک سبھا کے اراکین کے لیے ایک بھی  نئی ہاؤسنگ یونٹ تعمیر نہیں کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ 2014 کے بعد، ہماری حکومت نے اس کام کو ایک مشن کے طور پر شروع کیا اور 2014 سےنئے فلیٹس سمیت تقریباً 350 ایم پی کی رہائش گاہوں کی تعمیرکی گئی ہے۔ ان رہائش گاہوں کی تعمیر ہونے سے اب عوام کا پیسہ بچایا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ‘‘21ویں صدی کا ہندوستان ترقی کے لیے اتنا ہی بے تاب ہے جتنا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کے تئیں حساس ہے’’۔ایک طرف جب ملک کرتویہ پتھ اور کرتویہ بھون بناتا ہے،تو وہ لاکھوں شہریوں کو پائپ سے پانی پہنچانے کا اپنا فرض  بھی پورا کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک اپنے ارکان پارلیمنٹ کے لیے نئی رہائش مکمل کرتا ہے،تو وہ پی ایم آواس یوجنا کے ذریعے 4 کروڑ غریب خاندانوں کے لیے گھر کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔ جناب نریندر مودی نے زور دے کر کہا کہ جہاں ملک پارلیمنٹ کی نئی عمارت تعمیر کر رہاہے، وہیں سینکڑوں نئے میڈیکل کالج بھی قائم کر رہا ہے۔ انہوں نے ز ور دےکرکہا کہ ان اقدامات کے فوائد معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچ رہے ہیں۔

 

اس بات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہ اراکین پارلیمنٹ کےلئے نو تعمیر شدہ رہائش گاہوں میں پائیدار ترقی کے کلیدی عناصر کو شامل کیا گیا ہے، جناب نریندر مودی نے کہا کہ یہ پہل ملک کے حامی ماحولیات اور محفوظ مستقبل کے نقطہ نظر سے ہم آہنگ ہے۔ وزیراعظم نے ہاؤسنگ کمپلیکس کو شمسی توانائی سے چلنے والے بنیادی ڈھانچے سے آراستہ کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان پائیدار ترقی کے اپنے وژن کو مسلسل آگے بڑھا رہا ہے، جو کہ شمسی توانائی میں اس کی کامیابیوں اور نئے ریکارڈز سے ظاہر ہوتا ہے۔

وزیر اعظم نے نئے رہائشی کمپلیکس کے افتتاح کے موقع پر اراکین پارلیمنٹ سے کئی اپیلیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی مختلف ریاستوں اور خطوں کے ممبران پارلیمنٹ اب ایک ساتھ رہیں گے، اور ان کی موجودگی ‘ایک بھارت، شریشٹھ بھارت’ کے جذبے کی علامت ہونی چاہیے۔ جناب نریندر مودی نے کمپلیکس کے احاطہ میں علاقائی تہواروں کی اجتماعی تقریبات کی حوصلہ افزائی کی تاکہ اس کی ثقافتی رونق  میں اضافہ ہو سکے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ ان تقریبات میں شرکت کے لیے  مختلف حلقوں سے نمائندوں کومدعو کیا جائے، تاکہ زیادہ سے زیادہ عوامی شمولیت کو فروغ دیا جائے۔ وزیر اعظم نے اراکین پارلیمنٹ پر زور دیا کہ وہ لسانی ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہوئے ایک دوسرے کی علاقائی زبانوں کے الفاظ سیکھیں ا ور سکھائیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پائیداری اور صفائی کو کمپلیکس کی بنیادی خصوصیات  ہونی چاہیے، اور اس عہد بندی میں سب کو شامل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نہ صرف رہائش گاہیں بلکہ پورے احاطے کو صاف ستھرا اور حفظان صحت کے ساتھ برقرار رکھا جانا چاہیے۔

 

وزیر اعظم نے اس امید کا اظہار کرتے ہوئے اپنی بات ختم کی کہ تمام اراکین پارلیمنٹ ایک ٹیم کے طور پر ساتھ  مل کر کام کریں گے اوران کی اجتماعی کوششیں قوم کے لیے رول ماڈل ثابت ہوں گی۔ انہوں نے وزارت اور ہاؤسنگ کمیٹی سے  اپیل  بھی کی کہ وہ ممبران پارلیمنٹ کے مختلف رہائشی کمپلیکس کے درمیان سوچھتا کےمقابلوں کا انعقاد کریں۔ اس عزم کے ساتھ، انہوں نے پھرسے تمام اراکین پارلیمنٹ کو مبارکباد دی۔

اس تقریب میں لوک سبھا کے اسپیکر جناب اوم برلا، مرکزی وزراء اور اراکین پارلیمنٹ کے علاوہ دیگر معززین بھی موجود تھے۔

پس منظر

 

بابا کھڑک سنگھ مارگ، نئی دہلی میں اراکین پارلیمنٹ کے لیے 184 نو تعمیر شدہ ٹائپ VII کثیرمنزلہ فلیٹوں کے افتتاح کے موقع پر، وزیر اعظم نے رہائشی کمپلیکس کے احاطے میں ایک سندور کا پودا لگایا۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر مزدوروں سے بھی بات چیت کی۔

اس کمپلیکس کو خود کفیل عمارت کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے اور پارلیمنٹ کے اراکین کی عملی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جدید سہولیات کی مکمل رینج سے آراستہ ہے۔ گرین ٹیکنالوجی سے لیس ہوکریہ پروجیکٹ گرہ3-اسٹار درجہ بندی کے معیارات پر عمل پیرا ہے اور نیشنل بلڈنگ کوڈ (این بی سی) 2016 کی تعمیل کرتا ہے۔ ان ماحولیاتی پائیدار خصوصیات سے توقع ہے کہ وہ توانائی کے تحفظ، قابل تجدید توانائی کی پیداوار، اور فضلہ کے موثر نظم میں کردار ادا کریں گی۔ جدید تعمیراتی ٹکنالوجی کا استعمال — خاص طور پر، ایلومینیم شٹرنگ والےمونولیتھک کنکریٹ — ساختی استحکام کو یقینی بناتے ہوئے منصوبے کی بروقت تکمیل کو ممکن بنایا ہے۔ کمپلیکس معذوروں کےلئے موافق سہولیات سے آراستہ بھی ہے، جو جامع ڈیزائن کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔

 

اراکین پارلیمنٹ کے لیے مناسب رہائش گاہوں کی کمی کی وجہ سے اس منصوبے کی ترقی کی ضرورت پڑی تھی۔ زمین کی محدود دستیابی کی وجہ سے، عمودی رہائش  گاہ کی تعمیر پر مسلسل زور دیا گیا ہے جس کا مقصد زمین کے استعمال کو بہتر بنانا اور دیکھ بھال کے اخراجات کو کم کرنا ہے۔

ہر رہائشی یونٹ تقریباً 5,000 مربع فٹ رقبہ پرمشتمل ہے، جس سے رہائشی اور سرکاری دونوں طرح کے کاموں کے لیے کافی جگہ مہیا ہوتی ہے۔ دفاتر، عملے کی رہائش، اور ایک کمیونٹی سینٹر کے لیے مخصوص علاقوں کی شمولیت سے اراکین پارلیمنٹ کو عوامی نمائندوں کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں مدد ملے گی۔

کمپلیکس کے اندرواقع تمام عمارتیں جدید ساختی ڈیزائن کے اصولوں کے مطابق زلزلے سے بچنے کے لحاظ سے تعمیر کی گئی ہیں۔ تمام مکینوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع اور مضبوط حفاظتی نظام نافذ کیا گیا ہے۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Total Urea stocks currently at 61.14 LMT, up from 55.22 LMT in March 2025

Media Coverage

Total Urea stocks currently at 61.14 LMT, up from 55.22 LMT in March 2025
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs CCS Meeting to review the situation and mitigating measures in the context of ongoing West Asia Conflict
March 22, 2026
Short, Medium and Long term measures to ensure continued availability of essential needs discussed in detail
Alternate sources of fertilizers for farmers were also discussed to ensure continued availability in the future
Several measures discussed to diversify sources of imports required by chemicals, pharmaceuticals, petrochemicals and other industrial sectors
New export destinations to promote Indian goods to be developed in near future
PM instructs that all arms of government should work together to ensure least inconvenience to citizens
PM directs that a group of Ministers and Secretaries be created to work dedicatedly in a whole of government approach
PM instructs for sectoral groups to work in consultation with all stakeholders
PM asks for proper coordination with state governments to ensure no black-marketing and hoarding of important commodities

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired a meeting of the Cabinet Committee on Security to review the situation and ongoing and proposed mitigating measures in the context of ongoing West Asia Conflict.

The Cabinet Secretary gave a detailed presentation on the global situation and mitigating measures taken so far and being planned by all concerned Ministries/Departments of Government of India. The expected impact and measures taken to address it across sectors like agriculture, fertilisers, food security, petroleum, power, MSMEs, exporters, shipping, trade, finance, supply chains and all affected sectors were discussed. The overall macro-economic scenario in the country and further measures to be taken were also discussed.

The ongoing conflict in West Asia will have significant short, medium and long term impact on the global economy and its effect on India were assessed and counter-measures, both immediate and long-term, were discussed.

Detailed assessment of availability for critical needs of the common man, including food, energy and fuel security was made. Short term, Medium term and Long term measures to ensure continued availability of essential needs were discussed in detail.

The impact on farmers and their requirement for fertiliser for the Kharif season was assessed. The measures taken in the last few years to maintain adequate stocks of fertilizers will ensure timely availability and food security. Alternate sources of fertilizers were also discussed to ensure continued availability in the future.

It was also determined that adequate supply of coal stocks at all power plants will ensure no shortage of electricity in India.

Several measures were discussed to diversify sources of imports required by chemicals, pharmaceuticals, petrochemicals and other industrial sectors. Similarly new export destinations to promote Indian goods will be developed in the near future.

Several measures proposed by different ministries will be prepared and implemented in the coming days after consultation with all stakeholders.

PM directed that a group of ministers and secretaries be created to work dedicatedly in a whole of government approach. PM also instructed for sectoral groups to work in consultation with all stakeholders.

PM said that the conflict is an evolving situation and the entire world is affected in some form. In such a situation, all efforts must be made to safeguard the citizens from the impact of this conflict. PM instructed that all arms of government should work together to ensure least inconvenience to the citizens. PM also asked for proper coordination with state governments to ensure no black-marketing and hoarding of important commodities.