Share
 
Comments
‘‘ہمارے قبائلی بھائی بہنوں نے تبدیلی کی ذمہ داری لی اور حکومت نے ہر ممکن مدد کی’’
‘‘گودھرا میں گووند گرو یونیورسٹی اور نرمدا میں برسا منڈا یونیورسٹی اعلیٰ تعلیم کے بہترین ادارے ہیں’’
‘‘ پہلی مرتبہ قبائلی سماج ترقی اور پالیسی سازی میں زیادہ شمولیت کا احساس کر رہا ہے’’
‘‘قبائلیوں کے لئے سرمایہ افتخار اور مقدس مقامات کی ترقی سیاحت کو فروغ دے گی’’

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج گجرات میں جمبو گھوڑا پنچ محل میں 860 کروڑ روپے کی لاگت والےپروجیکٹوں کے سنگ بنیاد رکھے اور انہیں قوم کے لئے وقف کیا۔


حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ گجرات کے آدیواسی اور قبائلی برادریوں کے لئے آج کا دن ایک یادگاردن ہے۔ وزیراعظم نے آج مان گڑھ کے اپنے دورے کا ذکر کیا، جہاں انہوں نےگووند گرو اور ہندوستان کی آزادی کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنےوالے سینکڑوں قبائلی مجاہدین آزادی کو خراج عقیدت پیش کیا تھا۔

‘‘اس علاقے سے اپنے پرانے روابط کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے جمبو گھوڑا میں اپنی موجودگی پر فخر کا اظہار کیا، جو ہندوستان کی قبائلی برادری کی عظیم قربانیوں کی سرزمین ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج ہم اپنے امر مجاہدین شہید جوریا پرمیشور، روپ سنگھ نائک، گلالیا نائک، راؤجیدا نائک اور باباریا گلما نائک کو سلام پیش کرتے ہوئے فخر محسوس کررہے ہیں۔ ’’


وزیراعظم نے کہا کہ آج اس پورے خطے میں صحت، تعلیم اور ہنر مندی کے فروغ کے سسینکڑوں کروڑ روپے کے پروجیکٹوں کو قوم کے لئے وقف کیا جا رہا ہے اور سنگ بنیاد رکھا جا رہا ہے۔ گووند گرو یونیورسٹی اور کیندریہ ودیالیہ کے نئے انتظامی کیمپس کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ان پروجیکٹوں سے ہمارے قبائلی بچوں کو بہت مدد ملے گی۔


جمبو گھوڑا کا ایک مقدس مقام سے موازنہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے قبائلیوں کی بہادری اور آزادی کی لڑائی کی تابناک تاریخ پر روشنی ڈالی اور نائی کڑا تحریک کا ذکر کیا، جس سے 1857کی بغاوت کو رفتار ملی تھی۔ پرمیشور جوریا نے تحریک کو وسعت دی اور روپ سنگھ نائک نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ یہ لوگ مل کر تاتیا ٹوپے کے لئے لڑے، جس کا 1857 کی بغاوت میں اہم کردار ہے۔ وزیراعظم نے اس موقع کو یاد کیا، جب انہیں اس درخت کے آگے سرجھکانے کا موقع ملا تھا، جس پر انگریزوں نے انہیں پھانسی پر لٹکا دیا تھا۔ 2012 میں وہاں ایک کتاب کا اجراء بھی کیا گیا تھا۔


وزیراعظم نے بہت عرصہ قبل گجرات میں شروع ہوئی ایک رسم کا ذکر کیا کہ اسکولوں کے نام شہیدوں کے نام پر رکھے جاتے ہیں۔ ویدک اور ڈانڈیا پورہ کے پرائمری اسکولوں کو سنت جوریا پرمیشور اور روپ سنگھ نائک سے موسوم کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے مطلع کیا کہ آج ان اسکولوں کی شکل ہی بدل گئی ہے۔ دونوں اسکولوں میں دونوں قبائلی سورماؤں کے ایک بڑے مجسمے کا افتتاح کیا گیا، جو آج تعلیم اور جدوجہد آزادی میں قبائلی سماج  کی حصہ داری دونوں کے مراکز بن چکے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ حکومتوں کے ہاتھوں سامنے آئی ترقیاتی خلیج ان کو وراثت میں ملی ، جب دو دہائیوں قبل انہیں گجرات کی خدمت کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں تعلیم، تغذیہ اور پانی جیسی بنیادی سہولتوں کا فقدان تھا۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے انہوں نے سب کا پریاس کے جذبے کے ساتھ کام شروع کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے قبائلی بھائی بہنوں نے تبدیلی کی ذمہ داری سنبھالی اور حکومت نے ایک دوست کی طرح انہیں ہر ممکن مدد پہنچائی۔ انہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کیا کہ تبدیلی راتوں رات نہیں آئی، بلکہ یہ لاکھوں قبائلی علاقوں میں شروع کئے گئے پرائمری سے سکنڈری سطح تک کے دس ہزار اسکولوں اور ایکلویہ ماڈل اسکولوں، بیٹیوں کے لئے رہائشی اسکولوں اور آشرم شالاؤں کے بارے میں بتایا۔ وزیراعظم نے بیٹیوں کے لئے بسوں کے مفت سفر اور اسکولوں میں تغذیہ بخش خوراک کی دستیابی جیسی سہولیات کا ذکر کیا۔


کنیا شکشا رتھ کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے بیٹیوں کو اسکول بھیجنے کے لئے آمادہ کرنے کی جانب حکومت کوششوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اسکولوں میں سائنسی تعلیم کی کمی کا ذکر کیا اور کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں قبائلی اضلاع میں گیارہ سائنس کالج، گیارہ کامرس کالج اور سینکڑوں ہوسٹل کھولے گئے ہیں۔


وزیراعظم نے بیس پچیس سال قبل قبائلی علاقوں میں اسکولوں کی سنگین قلت کو یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ دو قبائلی یونیورسٹیاں، گودھرا میں گرو یونیورسٹی اور نرمدا میں برسا منڈا یونیورسٹی موجود ہیں، جو اعلیٰ تعلیم کے بہترین ادارے ہیں۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ گووند گرویونیورسٹی میں نئے کیمپس کے افتتاح کے بعد سہولیات میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ احمد آباد کی اسکل یونیورسٹی سے پنچ محل سمیت قبائلی برادری کے نوجوانوں کا فائدہ ہوگا۔ جناب مودی نے کہا کہ یہ ملک کی پہلی یونیورسٹی ہے، جسے ڈرون پائلٹ لائسنس کی منظوری حاصل ہوئی ہے۔


گزشتہ دہائیوں میں قبائلی اضلاع کی ہمہ جہت ترقی میں ون بندھو کلیان یوجنا کے اہم رول پر روشی ڈالتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ 14 برسوں میں قبائلی علاقوں میں اس اسکیم کے تحت ایک لاکھ کروڑ روپے سے بھی زیادہ خرچ کئے جا چکے ہیں۔ انہوں نے مطلع کیا کہ گجرات کی حکومت نے آنے والے برسوں میں مزید ایک لاکھ کروڑ روپے خرچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس پورے خطے کی مجموعی ترقی کے بارے میں بتاتے ہوئے وزیراعظم نے پائپ والے پانی کی سہولت مائیکرو آبپاشی اور قبائلی علاقوں میں ڈیری سیکٹر کے فروغ کا ذکر کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ قبائلی بہنوں کو بااختیار بنانے اور ان کی آمدنی میں اضافہ کرنے کے لئے سکھی منڈل قائم کئے گئے۔ گجرات میں تیزی سے ہونے والی صنعت کاری کے فائدے قبائلی نوجوانوں تک پہنچنے چاہئیں۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے کئی جدید تربیتی مراکز مثلاً ووکیشنل سنٹرز، آئی ٹی آئی اور کسان وکاس کیندروں کے کھولے جانے کا ذکر کیا، جن سے تقریباً اٹھارہ لاکھ قبائلی نوجوانوں کو ٹریننگ حاصل کرنے میں مدد ملی ہے اور روزگار حاصل ہوا ہے۔


بیس پچیس سال قبل سکل سیل وباء پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں ڈسپنسریاں بہت کم تھیں، لیکن آج ڈبل انجن حکومت نے گاؤں کی سطح پر سینکڑوں اسپتال کھولے ہیں اور قبائلی علاقوں میں 1400 سے زیادہ صحت اور طبی نگہداشت مراکز قائم کئے ہیں۔

 

ہندوستان میں قبائلی معاشروں کی بہتری میں مرکزی حکومت کی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ یہ بی جے پی کی حکومت ہے جس نے پہلی مرتبہ قبائلی سماج کے لئے ایک الگ وزارت بنائی اور ون دھن جیسی کامیاب اسکیم کو نافذ کیا۔ وزیراعظم نے اپنی بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے حکومت کی طرف سے برطانوی عہد سے جاری بانس کی کاشت اور فروخت پر پابندی کے قانون کو ختم کرنے، جنگلاتی پیداوار کی مسلسل نظر انداز کرنے کا سلسلہ ختم کرنے، 80 سے زیادہ مختلف جنگلاتی پیداوار پر آدیواسیوں کو ایم ایس پیکا فائدہ پہنچانے اور قبائلیوں کی زندگی کو آسان بناتے ہوئے ان کے فخر کو بڑھانے کے لیے کام کرنے کی مثالیں دیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پہلی بار قبائلی معاشرے کو ترقی اور پالیسی سازی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا احساس ہوا ہے۔ انہوں نے بھگوان برسا منڈا کے یوم پیدائش کو جن جاتیہ گورو دیوس کے طور پر منانے کے حکومت کے فیصلے سے آگاہ کیا۔

 

وزیر اعظم نے غریب، پسماندہ، پچھڑی ہوئی اور قبائلی برادریوں کے لئے ڈبل انجن والی حکومت کی مسلسل کوششوں پر بھی زور دیا۔ وزیر اعظم نے مفت راشن اسکیم، مفت کوویڈ ویکسین، غریبوں کے لئے 5 لاکھ روپے تک کا علاج، حاملہ خواتین کی مدد تاکہ انہیں غذائیت سے بھرپور کھانا ملے اور چھوٹے کسانوں کے لئے کھادوں کی خاطر قرض حاصل کرنے کے لئے پی ایم کسان سمان ندھییوجنا، بیج، بجلی کے بل وغیرہ کی مثالیں دیں۔ جناب مودی نے کہا کہ براہ راست مدد ہو یا پھر پکے مکانات، رفع حاجت گاہ، گیس کنکشن اور پانی کے کنکشن جیسی سہولیات، ان کا سب سے زیادہ فائدہ قبائلی، دلت اور پسماندہ خاندانوں کو پہنچا ہے۔

 

قبائلی جانبازوں کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے جنہوں نے ہندوستان کی ثقافت اور عقیدے کو بچانے میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے وزیر اعظم نے چمپانیر، پاوا گڑھ، سوم ناتھ اور ہلدی گھاٹی کی مثالیں دیں۔ انہوں نے کہا کہ اب پاوا گڑھ مندر کی تزئین و آرائش کر دی گئی ہے اور پرچم پوری شان و شوکت سے لہرایا گیا ہے۔ اسی طرح امباجی ماتا کا دھام ہو اور دیوموگرا ماں کا مندر کی ترقی کے لئے بھی مسلسل کوششیں جاری ہیں۔

وزیر اعظم نے روزگار کے فروغ میں سیاحت کے اہم کردار کو تسلیم کیا۔ انہوں نے پنچ محل جیسے مقامات، چمپانیر-پاوا گڑھ جو قدیم فن تعمیر کے لئے مشہور ہے کا ذکر کیا جو سیاحت کے نقطہ نظر سے انتہائی پُرکشش ہیں، اسی طرح جمبوگھوڈا میں جنگلاتی زندگی، ہتھنی ماتا آبشار، دھن پوری میں ماحولیاتی سیاحت کے مقامات، کڑا ڈیم، دھنیشوری ماتا مندر اور جنڈ ہنومان جی کا بھی ذکر کیا جو سیاحت کے نقطہ نظر سے انتہائی پُرکشش ہیں۔ اسی کے ساتھ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آنے والے دنوں میں ان مقامات کو ٹورازم سرکٹ کے طور پر تیار کیا جائے گا جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قبائلیوں کے لئے قابل فخر مقامات اور مذہبی مقامات کی ترقی سے سیاحت کی کافی حوصلہ افزائی ہو گی۔

 

اپنا خطاب مکمل کرتے ہوئے وزیراعظم نے ڈبل انجن والی حکومت کی ترقی کے وسیع دائرہ کار کی تعریف کی اور کہا کہ ترقی کے ثمرات سب تک پہنچتے ہیں۔  انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ محنت اور لگن کے ساتھ بنیادی تبدیلی لانے کیلئے ہماری نیت صاف ہے،

ان الفاظ کے ساتھ خطبہ ختم کیا کہ ہم مل کر ایک ترقییافتہ گجرات اور ایک ترقییافتہ ہندوستان بنائیں گے۔

 

اس موقع پر گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل، پارلیمانی اراکین اور حکومتِ گجرات کے وزراء موجود تھے۔

 

پس منظر

 

وزیر اعظم نے جمبوگھوڈا، پنچمحل میں  تقریباً 860 کروڑ روپے کے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا اور انہیں قوم کے نام  وقف کیا۔ انہوں نے شری گووند گرو یونیورسٹی، گودھرا کے نئے کیمپس، وڈیک گاؤں میں واقع سنت جوریا پرمیشور پرائمری اسکول اور میموریل اور ڈنڈیا پورہ گاؤں میں واقع راجہ روپ سنگھ نائک پرائمری اسکول اور میموریل کو بھی قوم کے نام وقف کیا۔

 

وزیر اعظم نے کیندریہ ودیالیہ، گودھرا کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا۔ انہوں نے گودھرا میڈیکل کالج کی ترقی اور کوشلیا کی توسیع - دی اسکل یونیورسٹی  کا بھی سنگ بنیاد رکھا، جس کی مالیت 680 کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن
Why Amit Shah believes this is Amrit Kaal for co-ops

Media Coverage

Why Amit Shah believes this is Amrit Kaal for co-ops
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to visit Karnataka on 6th February
February 04, 2023
Share
 
Comments
PM to inaugurate India Energy Week 2023 in Bengaluru
Moving ahead on the ethanol blending roadmap, PM to launch E20 fuel
PM to flag off Green Mobility Rally to create public awareness for green fuels
PM to launch the uniforms under ‘Unbottled’ initiative of Indian Oil - each uniform to support recycling of around 28 used PET bottles
PM to dedicate the twin-cooktop model of the IndianOil’s Indoor Solar Cooking System - a revolutionary indoor solar cooking solution that works on both solar and auxiliary energy sources simultaneously
In yet another step towards Aatmanirbharta in defence sector, PM to dedicate to the nation the HAL Helicopter Factory in Tumakuru
PM to lay foundation stones of Tumakuru Industrial Township and of two Jal Jeevan Mission projects in Tumakuru

Prime Minister Shri Narendra Modi will visit Karnataka on 6th February, 2023. At around 11:30 AM, Prime Minister will inaugurate India Energy Week 2023 at Bengaluru. Thereafter, at around 3:30 PM, he will dedicate to the nation the HAL helicopter factory at Tumakuru and also lay the foundation stone of various development initiatives.

India Energy Week 2023

Prime Minister will inaugurate the India Energy Week (IEW) 2023 in Bengaluru. Being held from 6th to 8th February, IEW is aimed to showcase India's rising prowess as an energy transition powerhouse. The event will bring together leaders from the traditional and non-traditional energy industry, governments, and academia to discuss the challenges and opportunities that a responsible energy transition presents. It will see the presence of more than 30 Ministers from across the world. Over 30,000 delegates, 1,000 exhibitors and 500 speakers will gather to discuss the challenges and opportunities of India's energy future. During the programme, Prime Minister will participate in a roundtable interaction with global oil & gas CEOs. He will also launch multiple initiatives in the field of green energy.

The ethanol blending programme has been a key focus areas of the government to achieve Aatmanirbharta in the field of energy. Due to the sustained efforts of the government, ethanol production capacity has seen a six times increase since 2013-14. The achievements in the course of last eight years under under Ethanol Blending Programe & Biofuels Programe have not only augmented India’s energy security but have also resulted in a host of other benefits including reduction of 318 Lakh Metric Tonnes of CO2 emissions and foreign exchange savings of around Rs 54,000 crore. As a result, there has been payment of around Rs 81,800 crore towards ethanol supplies during 2014 to 2022 and transfer of more than Rs 49,000 crore to farmers.

In line with the ethanol blending roadmap, Prime Minister will launch E20 fuel at 84 retail outlets of Oil Marketing Companies in 11 States/UTs. E20 is a blend of 20% ethanol with petrol. The government aims to achieve a complete 20% blending of ethanol by 2025, and oil marketing companies are setting up 2G-3G ethanol plants that will facilitate the progress.

Prime Minister will also flag off the Green Mobility Rally. The rally will witness participation of vehicles running on green energy sources and will help create public awareness for the green fuels.

Prime Minister will launch the uniforms under ‘Unbottled’ initiative of Indian Oil. Guided by the vision of the Prime Minister to phase out single-use plastic, IndianOil has adopted uniforms for retail customer attendants and LPG delivery personnel made from recycled polyester (rPET) & cotton. Each set of uniform of IndianOil’s customer attendant shall support recycling of around 28 used PET bottles. IndianOil is taking this initiative further through ‘Unbottled’ - a brand for sustainable garments, launched for merchandise made from recycled polyester. Under this brand, IndianOil targets to meet the requirement of uniforms for the customer attendants of other Oil Marketing Companies, non-combat uniforms for Army, uniforms/ dresses for Institutions & sales to retail customers.

Prime Minister will also dedicate the twin-cooktop model of the IndianOil’s Indoor Solar Cooking System and flag-off its commercial roll-out. IndianOil had earlier developed an innovative and patented Indoor Solar Cooking System with single cooktop. On the basis of feedback received, twin-cooktop Indoor Solar Cooking system has been designed offering more flexibility and ease to the users. It is a revolutionary indoor solar cooking solution that works on both solar and auxiliary energy sources simultaneously, making it a reliable cooking solution for India.

PM in Tumakuru

In yet another step towards Aatmanirbharta in the defence sector, Prime Minister will dedicate to the nation the HAL Helicopter Factory in Tumakuru. Its foundation stone was also laid by the Prime Minister in 2016. It is a dedicated new greenfield helicopter factory which will enhance capacity and ecosystem to build helicopters.

This helicopter factory is Asia’s largest helicopter manufacturing facility and will initially produce the Light Utility Helicopters (LUH). LUH is an indigenously designed and developed 3-ton class, single engine multipurpose utility helicopter with unique feature of high manoeuvrability.

The factory will be expanded to manufacture other helicopters such as Light Combat Helicopter (LCH) and Indian Multirole Helicopter (IMRH) as well as for repair and overhaul of LCH, LUH, Civil ALH and IMRH in the future. The factory also has the potential for exporting the Civil LUHs in future.

This facility will enable India to meet its entire requirement of helicopters indigenously and will attain the distinction of enabling self-reliance in helicopter design, development and manufacture in India.

The factory will have a manufacturing set up of Industry 4.0 standards. Over the next 20 years, HAL is planning to produce more than 1000 helicopters in the class of 3-15 tonnes from Tumakuru. This will result in providing employment for around 6000 people in the region.

Prime Minister will lay the foundation stone of Tumakuru Industrial Township. Under the National Industrial Corridor Development Programme, development of the Industrial Township spread across 8484 acre in three phases in Tumakuru has been taken up as part of Chennai Bengaluru Industrial Corridor.

Prime Minister will lay the foundation stones of two Jal Jeevan Mission projects at Tiptur and Chikkanayakanahalli in Tumakuru. The Tiptur Multi-Village Drinking Water Supply Project will be built at a cost of over Rs 430 crores. The Multi-village water supply scheme to 147 habitations of Chikkanayakanahlli taluk will be built at a cost of around Rs 115 crores. The projects will facilitate provision of clean drinking water for the people of the region.