عالی جناب، میرے عزیز دوست، صدر میکرون

دونوں ممالک کے مندوبین

میڈیا کے ساتھیو،

نمسکار!

بونژور،

میرے عزیز دوست، صدر میکرون کا ممبئی میں استقبال کرتے ہوئے مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔ گزشتہ برس انہوں نے مجھے فرانس میں منعقد ہونے والے اے آئی ایکشن سمٹ میں شرکت کی دعوت دی تھی۔

اس موقع پر ہم نے مارسلے کا دورہ کیا تھا، جو فرانس کی سب سے بڑی بندرگاہ ہے اور فرانس ہی نہیں بلکہ پورے یورپ کے لیے ایک اہم گیٹ وے بھی ہے۔ مارسلے وہی شہر ہے جہاں سے پہلی عالمی جنگ کے دوران ہمارے بھارتی فوجیوں نے یورپ کی سرزمین پر قدم رکھا تھا۔ ان کی بہادری کی داستان آج بھی یورپ کے کئی حصوں میں یاد کی جاتی ہے۔

اور یہ وہی شہر ہے جہاں مجاہد آزادی ویر ساورکر نے انگریزوں کی گرفت سے نکلنے کے لیے سمندر میں چھلانگ لگائی تھی۔ ان کا یہ اقدام بھارت کی آزادی کے لیے ان کے اٹل عزم کی علامت تھا۔ گزشتہ برس مجھے مارسلے میں انہیں یاد کرنے اور خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع ملا تھا۔

 

اس بار جب صدر میکرون بھارت میں اے آئی امپیکٹ سمٹ کے لیے آئے ہیں تو ہمارے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ ہم ان کا استقبال بھارت کے گیٹ وے، یعنی ممبئی میں کر رہے ہیں۔

دوستو،

بھارت اور فرانس کے تعلقات نہایت خصوصی نوعیت کے حامل ہیں۔ فرانس، بھارت کے قدیم ترین اسٹریٹجک شراکت داروں میں سے ایک ہے۔ اور صدر میکرون کے ساتھ مل کر ہم نے اس اسٹریٹجک شراکت داری کو بے مثال گہرائی اور توانائی بخشی ہے۔ اسی اعتماد اور مشترکہ وژن کی بنیاد پر آج ہم اپنے تعلقات کو ”اسپیشل گلوبل اسٹریٹجک پارٹنرشپ“ کے طور پر مستحکم کر رہے ہیں۔

یہ شراکت داری صرف اسٹریٹجک نوعیت کی نہیں ہے۔ آج کے ہنگامہ خیز دور میں یہ عالمی استحکام اور عالمی ترقی کی شراکت داری بھی ہے۔

دوستو،

آج بھارت میں ہیلی کاپٹر اسمبلی لائن کا افتتاح اسی گہرے اعتماد کی ایک اور روشن مثال ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ بھارت اور فرانس مل کر دنیا کا واحد ایسا ہیلی کاپٹر بھارت میں تیار کریں گے جو ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندیوں تک پرواز بھرنے کی صلاحیت رکھتا ہوگا۔ اور اسے پوری دنیا کو برآمد بھی کیا جائے گا۔

 

یعنی بھارت-فرانس شراکت داری کی کوئی حد نہیں؛ یہ گہرے سمندروں سے لے کر بلند ترین پہاڑ تک رسائی کی صلاحیت رکھتی ہے۔

دوستو،

سال 2026 بھارت اور یورپ کے تعلقات میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ کچھ ہی دن پہلے ہم نے یورپی یونین کے ساتھ بھارت کی تاریخ کا سب سے بڑا اور پرعزم فری ٹریڈ معاہدہ کیا ہے۔ یہ آزاد تجارتی معاہدہ بھارت اور فرانس کے تعلقات میں بھی بے مثال رفتار پیدا کرے گا۔

باہمی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے آج ہم ایک ایسے معاہدے پر اتفاق کر رہے ہیں جس کے تحت ہمارے لوگوں اور کمپنیوں کو دوہرا ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑے گا۔ ان تمام اقدامات سے باہمی تجارت، سرمایہ کاری اور نقل و حرکت کو نئی توانائی ملے گی۔ اور یہی مشترکہ خوشحالی کا روڈ میپ ہے۔

دوستو،

انڈیا-فرانس ”ایئر آف انوویشن“ کے آغاز کے ساتھ اب ہم اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو عوامی شراکت داری میں تبدیل کرنے جا رہے ہیں، کیونکہ جدت تنہائی میں نہیں بلکہ تعاون سے جنم لیتی ہے۔

اسی لیے انڈیا-فرانس ایئر آف انوویشن میں ہمارا ہدف عوام کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ چاہے دفاع کا شعبہ ہو یا صاف توانائی، خلا ہو یا ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز— ہر میدان میں ہم اپنی صنعتوں اور موجدین کو آپس میں جوڑیں گے۔

ہم اسٹارٹ اپ اور ایم ایس ایم ای کے درمیان مضبوط نیٹ ورک قائم کریں گے۔ اپنے طلبا اور محققین کے تبادلے کو مزید آسان بنائیں گے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ مشترکہ جدت کے نئے مراکز بھی قائم کریں گے۔

 

دوستو،

آج ہم کریٹیکل منرلز، بایو ٹیکنالوجی اور ایڈوانسڈ میٹیریلز کے شعبوں میں اپنے تعاون کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔ ہم انڈو-فرینچ سینٹر فار اے آئی اِن ہیلتھ، انڈو-فرینچ سینٹر فار ڈیجیٹل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور ایروناٹکس میں اسکلنگ کے لیے نیشنل سینٹر آف ایکسیلنس کا آغاز کرنے جا رہے ہیں۔ اور یہ محض ادارے نہیں ہیں بلکہ مستقبل کی تعمیر کے پلیٹ فارم ہیں۔

دوستو،

آج دنیا غیر یقینی کی صورتحال سے گزر رہی ہے۔ ایسے ماحول میں انڈیا–فرانس شراکت داری عالمی استحکام کی ایک مضبوط قوت ہے۔ ہم فرانس کی مہارت اور بھارت کے وسیع پیمانے کو یکجا کر رہے ہیں۔ ہم قابل اعتماد ٹیکنالوجیز تیار کر رہے ہیں۔ ہم انٹرنیشنل سولر الائنس، انڈیا مڈل ایسٹ یورپ اکنامک کوریڈور (آئی میک) اور مشترکہ ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے انسانی ترقی کو یقینی بنائیں گے۔ اور کثیرالجہتی نظام، مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے استحکام اور خوشحالی کی کوششوں کو مزید تقویت دیتے رہیں گے۔

دوستو،

بھارت اور فرانس دونوں جمہوری اقدار، قانون کی حکمرانی اور ملٹی پولر دنیا پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم اس بات پر متفق ہیں کہ عالمی اداروں میں اصلاحات ہی کے ذریعے عالمی چیلنجوں کا مؤثر حل ممکن ہے۔

چاہے یوکرین ہو، مغربی ایشیا یا پھر انڈو پیسیفک خطہ، ہم ہر علاقے میں امن کی تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔ دہشت گردی کی ہر شکل اور صورت کا جڑ سے خاتمہ ہماری مشترکہ وابستگی ہے۔

دوستو،

بھارت اور فرانس دونوں ہی قدیم اور مالا مال تہذیبوں کے حامل ممالک ہیں۔ ہم اپنی ثقافتی اور عوامی روابط کو نہایت اہمیت دیتے ہیں۔ ہمیں خوشی ہے کہ یوگے یوگین بھارت میوزیم میں ہمارا تعاون رہا ہے اور اب لوتھل میں قائم کیے جا رہے نیشنل میری ٹائم ہیریٹیج کمپلیکس میں بھی ہم فرانس کے ساتھ اشتراک کرنے جا رہے ہیں۔

بھارتی ثقافت کو فرانس کے عوام تک مزید قریب لانے کے لیے ہم جلد ہی فرانس میں سوامی وویکانند کلچرل سینٹر قائم کرنے جا رہے ہیں۔

جناب عالی،

بھارت–فرانس شراکت داری کے لیے آپ کی گہری وابستگی قابل ستائش رہی ہے۔ مجھے بے حد خوشی ہے کہ آج ہم مل کر اپنے تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز کر رہے ہیں۔

آئیے، ہم سب مل کر عالمی استحکام اور خوشحالی کے لیے کام کریں۔

بہت بہت شکریہ۔

میسی بکو۔

 

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Indian public relations industry pegged to reach ₹4,500 cr by 2030: Report

Media Coverage

Indian public relations industry pegged to reach ₹4,500 cr by 2030: Report
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister’s visit to Indonesia, Australia and New Zealand
July 03, 2026

At the invitation of the President of the Republic of Indonesia, H.E. Mr. Prabowo Subianto, Prime Minister Shri Narendra Modi will pay a visit to Indonesia from 6-8 July, 2026. This will be Prime Minister’s fourth visit to Indonesia and his first bilateral visit since the elevation of India-Indonesia ties to the level of Comprehensive Strategic Partnership in May 2018. During the visit, Prime Minister will hold bilateral discussions with President Prabowo and review the progress made in the partnership. In Jakarta, Prime Minister will address a large gathering of the Indian Diaspora. India and Indonesia share historical and warm people-to-people ties. In keeping with these special bonds, Prime Minister will visit the Prambanan Temple complex at Yogyakarta, a prominent UNESCO world heritage site in Indonesia.

From Indonesia, at the invitation of the Prime Minister of Australia, the Honourable Anthony Albanese MP, Prime Minister will travel to Melbourne from 8-10 July, 2026. In Melbourne, Prime Minister will hold bilateral discussions with Prime Minister Albanese. He will also call on the Governor General of Australia, the Honourable Ms Sam Mostyn AC. During his visit, Prime Minister will also participate in the India-Australia CEOs Forum, where he will address a gathering of top business leaders from both countries. Prime Minister will also address a large gathering of the Indian Diaspora, who constitute a strong pillar of the India-Australia relationship.

From Melbourne, at the invitation of the Prime Minister of New Zealand, Rt Honourable Christopher Luxon, Prime Minister will travel to Auckland for a state visit from 10-11 July, 2026. This will be the first state visit of an Indian Prime Minister to New Zealand in four decades. In Auckland, Prime Minister will hold bilateral discussions with Prime Minister Luxon and review the entire gamut of the bilateral relationship, which has seen significant progress in the last two years, especially in the areas of trade and commerce and defence. While in Auckland, Prime Minister will also interact with prominent business and sports personalities. In a reflection of the strong people-to-people ties that exist between India and New Zealand, Prime Minister will address a large gathering of the Indian Diaspora during the visit.