Share
 
Comments
’’وندے بھارت ایکسپریس، ایک طرح سے تلنگانہ اور آندھرا پردیش کی مشترکہ ثقافت اور وراثت کو جوڑنے والی ہے‘‘
’’وندے بھارت ایکسپریس کا مطلب – بھارت ہر چیز میں سب سے اچھا چاہتا ہے‘‘
’’وندے بھارت ٹرین نئے بھارت کے عزائم اور صلاحیتوں کی علامت ہے‘‘
’’کنیکٹویٹی سے جڑا انفراسٹرکچر دو جگہوں کو ہی نہیں جوڑتا، بلکہ یہ خوابوں کو حقیقت سے جوڑتا ہے اور سب کی ترقی کو یقینی بناتا ہے‘‘
’’جہاں رفتار ہے، وہاں ترقی ہے؛ جب بھی ترقی ہوتی ہے خوشحالی یقینی بنتی ہے‘‘
’’گزشتہ 8-7 سالوں میں کیے گئے کام آنے والے 8-7 سالوں میں ہندوستانی ریلوے کو بدل دیں گے‘‘

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو کانفرنس کے ذریعے سکندر آباد کو وشاکھاپٹنم سے جوڑنے والی وندے بھارت ایکسپریس ٹرین کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ یہ ٹرین ہندوستانی ریلوے کے ذریعے شروع کی جانے والی آٹھویں وندے بھارت ایکسپریس ٹرین ہوگی اور تقریباً 700 کلومیٹر کی دوری طے کرتے ہوئے دو تیلگو ریاستوں تلنگانہ اور آندھرا پردیش کو جوڑنے والی پہلی ٹرین ہوگی۔ آندھرا پردیش میں وشاکھاپٹنم، راجمندری اور وجے واڑہ اسٹیشنوں پر اور تلنگانہ میں کھمم، وارنگل اور سکندر آباد اسٹیشنوں پر اس کا ٹھہراؤ ہوگا۔

مجمع سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے  تہواروں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ اس مقدس ماحول میں، تلنگانہ اور آندھرا پردیش کو وندے بھارت ایکسپریس کی شکل میں ایک شاندار تحفہ مل رہا ہے، جو ایک طرح سے تلنگانہ اور آندھرا پردیش کی مشترکہ ثقافت اور وراثت کو جوڑنے والا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر دونوں ریاستوں کے لوگوں کو مبارکباد دی۔ انہوں نے  آرمی ڈے کے موقع پر مسلح افواج کو بھی مبارکباد دی۔ جناب مودی نے کہا کہ ملک کی حفاظت میں، ملک کی سرحدوں کی حفاظت میں ہندوستانی فوج کا تعاون، ہندوستانی فوج کی شجاعت بے مثال ہے۔

وزیر اعظم نے ملک کے سبھی حصوں کو جوڑنے والے تہواروں کے ذکر کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی ریل ملک کے کونے کونے سے جڑتی ہے اور ملک کے مختلف حصوں کو ایک بھارت شریشٹھ بھارت کے جذبہ سے سمجھنے، جاننے اور جوڑنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

وزیر اعظم نے بتایا کہ وندے بھارت ایکسپریس سے عقیدت مندوں اور سیاحوں کو بہت فائدہ ہوگا اور اس ٹرین سے سکندر آباد اور وشاکھاپٹنم کے درمیان لگنے والا وقت بھی اب کم ہو جائے گا۔

وزیر اعظم نے کہا، ’’وندے بھارت ٹرین کی ایک اور خاصیت ہے۔ یہ ٹرین، نئے بھارت کے عزائم اور صلاحیتوں کی علامت ہے۔‘‘ جناب مودی نے زور دے کر کہا، ’’یہ اس بھارت کی علامت ہے، جو تیز رفتار تبدیلی کے راستے پر ہے۔‘‘ وزیر اعظم نے کہا، ’’ایسا بھارت، جو اپنے خوابوں، اپنی آرزوؤں کو لے کر بے صبر ہے۔ ایسا بھارت، جو تیزی سے چل کر اپنی منزل تک پہنچنا چاہتا ہے۔ وندے بھارت ایکسپریس، اس بھارت کی علامت ہے، جو اپنے ہر شہری کو بہتر سہولیات فراہم کرنا چاہتا ہے۔‘‘ وزیر اعظم نے کہا، ’’وندے بھارت ایکسپریس، اس بھارت کی علامت ہے، جو غلامی کی ذہنیت سے باہر نکل کر،  خود کفیل بننے کی جانب بڑھ رہا ہے۔‘‘

وزیر اعظم نے وندے بھارت ٹرینوں کے سلسلے میں ہو رہے کام کی رفتار کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ اس سال 15 دنوں کے اندر دوسری وندے بھارت شروع ہو جائے گی اور یہ زمینی سطح پر تبدیلی کی رفتار  کو ظاہر کر تی ہے۔ انہوں نے وندے بھارت ٹرینوں کی مقامی خاصیت اور لوگوں کے من میں ان کے اثرات اور فخر پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ 7 وندے بھارت ٹرینوں نے کل ملا کر کرۂ ارض کے 58 چکر لگانے کے برابر 23 لاکھ کلومیٹر کی دوری طے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وندے بھارت ٹرینوں میں اب تک 40 لاکھ سے زیادہ مسافر سفر کر چکے ہیں۔

وزیر اعظم نے کنیکٹویٹی اور رفتار کے درمیان سیدھا تعلق اور ’سب کا وکاس‘ کے ساتھ اس کی وابستگی کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے کہا، ’’کنیکٹویٹی سے جڑا انفراسٹرکچر دو جگہوں کو ہی نہیں جوڑتا، بلکہ یہ خوابوں کو حقیقت سے جوڑتا ہے۔ یہ مینوفیکچرنگ کو مارکیٹ سے جوڑتا ہے، ٹیلنٹ کو مناسب پلیٹ فارم سے جوڑتا ہے۔ کنیکٹویٹی اپنے ساتھ ترقی کے امکانات کو وسیع کرتی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’جہاں رفتار ہے، وہاں ترقی ہے۔ جب بھی ترقی ہوتی ہے، خوشحالی یقینی بنتی ہے۔‘‘

وزیر اعظم نے اس وقت کو یاد کیا جب جدید کنیکٹویٹی کا فائدہ کچھ چنندہ لوگوں تک ہی محدود تھا اور آبادی کا بڑا حصہ مہنگے ٹرانسپورٹ سے بہت وقت برباد کر رہا تھا۔ وندے بھارت ٹرین اس سوچ کو پیچھے چھوڑ کر سبھی کو رفتار اور ترقی سے جوڑنے کے نظریہ کی تبدیلی کی مثال ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ بہانے بازی اور ریلوے کی خراب شبیہ اور مایوس کن حالت کے لیے ایک مہلک نظریہ تب بدل گیا جب اچھے اور ایماندار ارادوں کے ساتھ ان مسائل کا حل نکالا گیا اور گزشتہ آٹھ سالوں میں، یہی وہ منتر ہے جس نے ہندوستانی ریلوے کو بدل دیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آج ہندوستانی ریل میں سفر کرنا ایک  خوشگوار تجربہ بن رہا ہے اور ملک کے کئی ریلوے اسٹیشن ایسے ہیں، جہاں اب جدید ہوتے ہندوستان کی تصویر نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’پچھلے 8-7 سالوں میں کیے گئے کام آنے والے 8-7 سالوں میں ہندوستانی ریلوے کو بدل دیں گے۔‘‘ جناب مودی نے سیاحت کے فروغ کے لیے وسٹاڈوم کوچ اور ہیریٹج ٹرین، زرعی پیداوار کو دور دراز کے بازاروں تک لے جانے کے لیے کسان ریل، 2 درجن سے زیادہ شہروں میں میٹرو نیٹ ورک اور مستقبل کے ریپڈ ریل ٹرانزٹ سسٹم تیزی سے ابھر رہے ہیں جیسے طریقوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

وزیر اعظم نے گزشتہ 8 سالوں میں تلنگانہ میں ریلوے کے سلسلے میں کیے گئے غیر معمولی کاموں کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ 2014 سے 8 سال پہلے تلنگانہ میں ریلوے کے لیے 250 کروڑ روپے سے کم کا بجٹ تھا، لیکن آج یہ بڑھ کر 3000 کروڑ روپے ہو گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میڈک جیسے تلنگانہ کے کئی علاقے اب پہلی بار ریل سروس سے جڑے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 2014 سے پہلے 8 سالوں میں تلنگانہ میں 125 کلومیٹر سے کم نئی ریل لائنیں بنائی گئیں، جب کہ پچھلے سالوں میں تلنگانہ میں تقریباً 325 کلومیٹر نئی ریل لائنیں بنائی گئیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ تلنگانہ میں 250 کلومیٹر سے زیادہ کی ’ٹریک ملٹی ٹریکنگ‘ کا کام بھی کیا گیا ہے اور کہا کہ اس  بجلی کاری کی مدت کے دوران ریاست میں ریلوے پٹریوں کی بجلی کاری 3 گنا بڑھ گئی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا، ’’بہت جلد ہم تلنگانہ میں سبھی براڈ گیج راستوں پر بجلی کاری  کا کام مکمل کرنے جا رہے ہیں۔‘‘

وزیر اعظم نے کہا کہ وندے بھارت ایک سرے سے آندھرا پردیش سے بھی جڑا ہوا ہے اور بتایا کہ مرکزی حکومت آندھرا پردیش میں ریل نیٹ ورک کو مضبوط کرنے کے لیے لگاتار کام کر رہی ہے۔ زندگی بسر کرنے میں آسانی کے ساتھ ساتھ کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دینے کے لیے مرکزی حکومت کی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں، آندھرا پردیش میں 350 کلومیٹر نئی ریلوے لائنوں اور تقریباً 800 کلومیٹر ملٹی ٹریکنگ کی تعمیر کی گئی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ 2014 سے پہلے گزشتہ حکومت کے دوران آندھرا پردیش میں سالانہ صرف 60 کلومیٹر ریلوے ٹریک  کی بجلی کاری کی گئی تھی اور یہ رفتار اب بڑھ کر سالانہ 220 کلومیٹر سے زیادہ ہو گئی ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر، وزیر اعظم نے کہا، ’’رفتار اور ترقی کا یہ عمل اسی طرح جاری رہے گا‘‘ اور تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے لیے وندے بھارت ایکسپریس ٹرین کے بارے میں سبھی کو مبارکباد دی۔

اس موقع پر گورنر محترمہ تملی سائی  سندر راجن، مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو، جناب جی کشن ریڈی، ریاست کے وزیر اور رکن پارلیمنٹ موجود تھے۔

پس منظر

یہ ہندوستانی ریلوے کے ذریعے شروع کی جانے والی آٹھویں اور تلنگانہ اور آندھرا پردیش کی دو تیلگو ریاستوں کو جوڑنے والی پہلی وندے بھارت ایکسپریس ہے، جو تقریباً 700 کلومیٹر کی دوری طے کرتی ہے۔ سکندر آباد سے وشاکھاپٹنم کا سفر کرنے کا وقت ساڑھے 12 گھنٹے سے گھٹا کر ساڑھے آٹھ گھنٹے کر دیا جائے گا۔ آندھرا پردیش میں وشاکھاپٹنم، راجمندری اور وجے واڑہ اسٹیشنوں پر اور تلنگانہ میں کھمم، وارنگل اور سکندر آباد اسٹیشنوں پر اس کا ٹھہراؤ ہوگا۔

وندے بھارت ایکسپریس کا دیسی طریقے سے ڈیزائن کیا گیا ٹرین سیٹ جدید ترین مسافر سہولیات سے لیس ہے۔ یہ ریلوے کا استعمال کرنے والوں کو تیز، زیادہ آرامدہ اور زیادہ سہولت آمیز سفر کا تجربہ فراہم کرے گا۔

ٹرین کی شروعات سے اس علاقے میں سیاحت کو فروغ حاصل ہوگا اور سفر کا ایک آرامدہ اور تیز ذریعہ دستیاب ہوگا۔ یہ ملک میں شروع کی جانے والی آٹھویں وندے بھارت ٹرین ہوگی اور پہلے کے مقابلے ایک جدید شکل ہے، جو بہت ہلکی ہے اور کم وقت میں  تیز رفتار تک پہنچے کے قابل ہے۔ وندے بھارت 2.0 زیادہ جدید اور بہتر سہولیات سے لیس ہے، جیسے کہ صرف 52 سیکنڈ میں 0 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار اور 180 کلومیٹر فی گھنٹے کی زیادہ سے زیادہ رفتار تک پہنچنا۔ 430 ٹن کے پچھلے وندے بھارت ٹرین کے مقابلے جدیدوندے بھارت ایکسپریس کا وزن 392 ٹن ہوگا۔ اس میں وائی فائی کنٹینٹ آن ڈیمانڈ سہولت بھی ہوگی۔ ہر کوچ میں 32 انچ اسکرین ہیں جو پچھلی ٹرین میں 24 انچ کے مقابلے میں مسافروں کی جانکاری اور انفوٹینمنٹ فراہم کرتی ہیں۔ وندے بھارت ایکسپریس ماحولیات کے موافق بھی ہوگی، کیوں کہ اے سی میں بجلی کی کھپت میں 15 فیصد کی کمی ہوگی۔ ٹریکشن موٹر کی غبار سے عاری صاف ایئر کولنگ کے ساتھ، سفر زیادہ آرامدہ ہو جائے گا۔ پہلے صرف ایگزیکٹو کلاس کے مسافروں کو دی جانے والی سائڈ ریکلائنر سیٹ کی سہولت اب سبھی درجنوں کے لیے  مہیا کرائی جائے گی۔ ایگزیکٹو کوچ میں 180 ڈگری گھومنے والی سیٹیں اس کی اضافی خاصیت ہیں۔

وندے بھارت ایکسپریس کے نئے ڈیزائن میں ایئر پیوری فکیشن کے لیے روف ماؤنٹیڈ پیکیج یونٹ (آر ایم پی یو) میں فوٹو کیٹلیٹک الٹرا وائلٹ ایپر پیوری فکیشن سسٹم لگایا گیا ہے۔  سینٹرل سائنٹفک انسٹرومینٹس آرگنائزیشن (سی ایس آئی او)، چنڈی گڑھ کے ذریعے پیش کی گئی تجویز کے مطابق، اس سسٹم کو آر ایم پی یو کے دونوں سروں پر ڈیزائن اور نصب کیا گیا ہے تاکہ تازہ ہوا اور واپسی ہوا کے ذریعے آنے والے جراثیم، بیکٹریا، وائرس وغیرہ سے پاک ہوا کو فلٹر اور صاف کیا جا سکے۔

وندے بھارت ایکسپریس 2.0 کئی شکلوں میں بہتر اور ہوائی جہاز  جیسے سفر کا تجربہ فراہم کرتی ہے۔ یہ  مقامی طور پر تیار ٹرین ٹکر بچاؤ سسٹم – کور سمیت جدید ترین حفاظتی سہولیات سے لیس ہے۔

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن
PM Modi's Unforgettable Act! Celebrating 9 Years, 9 Avatars of His Leadership

Media Coverage

PM Modi's Unforgettable Act! Celebrating 9 Years, 9 Avatars of His Leadership
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister Narendra Modi to inaugurate the National Training Conclave
June 10, 2023
Share
 
Comments
Representatives from civil services training institutes across the country will participate in the Conclave
Conclave to foster collaboration among training institutes and help strengthen the training infrastructure for civil servants across the country

Prime Minister Shri Narendra Modi will inaugurate the first-ever National Training Conclave at the International Exhibition and Convention Centre Pragati Maidan, New Delhi on 11th June, 2023 at 10:30 AM. Prime Minister will also address the gathering on the occasion.

Prime Minister has been a proponent of improving the governance process and policy implementation in the country through capacity building of civil service. Guided by this vision, the National Programme for Civil Services Capacity Building (NPCSCB) – ‘Mission Karmayogi’ was launched to prepare a future-ready civil service with the right attitude, skills and knowledge. This Conclave is yet another step in this direction.

The National Training Conclave is being hosted by Capacity Building Commission with an objective to foster collaboration among civil services training institutes and strengthen the training infrastructure for civil servants across the country.

More than 1500 representatives from training institutes, including Central Training Institutes, State Administrative Training Institutes, Regional and Zonal Training Institutes, and Research institutes will participate in the conclave. Civil Servants from central government departments, state governments, local governments, as well as experts from the private sector will take part in the deliberations.

This diverse gathering will foster the exchange of ideas, identify the challenges being faced and opportunities available, and generate actionable solutions and comprehensive strategies for capacity building. The conclave will have eight panel discussions, each focusing on key concerns pertinent to Civil services training institutes such as faculty development, training impact assessment and content digitisation, among others.