انہوں نے ، اُن ریل سیکشنوں کو ملک کے نام وقف کیا، جن کی حال ہی میں بجلی کاری کی گئی ہے، انہوں نے اترا کھنڈ کو ایسی ریاست قرار دیا، جہاں 100 فیصد ریل راستوں پر بجلی کاری کردی گئی ہے
دہلی – دہرہ دون وندے بھارت ایکسپریس سے عوام کے لئے سفر میں آسانی اور مزید آرام کی یقینی دہانی ہوگی
معیشت کو مستحکم بنانے اور غریبی سے نمٹنے میں بھارت ،دنیا کے لئے امید کی ایک کرن بن گیا ہے
یہ دہائی ، اترا کھنڈ کی دہائی ہوگی
دیو بھومی دنیا کے روحانی بیداری کا مرکزبنے گی
حکومت کی توجہ اترا کھنڈ کے لئے ترقی کے نورتنوں پر ہے
ڈبل انجن کی سرکار ، دہری طاقت اور دہری رفتار کے ساتھ کام کر ر ہی ہے
اکیسویں صدی کا بھارت بنیادی ڈھانچے کی زیادہ سے زیادہ گنجائش کو استعمال کر کے ترقی کی مزید اونچائیوں پر پہنچ سکتا ہے
پروت میلہ پروجیکٹ، سے آئندہ دنوں میں ریاست کی قسمت بدلنے والی ہے
صحیح ارادہ ،پالیسی اور خود کو وقف کردینا ، ترقی کا ضامن ہے
ملک اب رکنے والا نہیں ہے، ملک نے اب رفتار پکڑ لی ہے۔ پورا ملک وندے بھارت کی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے اور آگے بڑھتا رہے گا

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے  دہرہ دون سے دہلی تک  آج ویڈیو کانفرنسنگ کے  ذریعہ وندے بھارت ایکسپریس کو  جھنڈی  دکھا کر روانہ کیا۔ انہوں نے  اُن ریل سیکشنوں کو بھی  ملک کے نام وقف  کیا، جن کی حال ہی میں  بجلی کاری کی گئی۔ انہوں نے  اترا کھنڈ  کو  ایسی ریاست  قرار دیا، جہاں   100  فیصد  ریل ریاستوں کی بجلی کاری کی جاچکی ہے۔ 

 اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے  وزیراعظم نے  دہرہ دون سے دہلی کے درمیان  وندے بھارت ایکسپریس کے آغاز پر اترا کھنڈ کے ہر ایک شخص کو مبارک باد دی  اور کہا کہ  اس ریل گاڑی سے  ملک کی راجدھانی  سے  اترا کھنڈ کی دیو بھومی  مربوط ہو جائے گی۔ انہوں  نے بتایا کہ  ان دونوں شہروں کے درمیان  سفر کے وقف میں  مزید کمی آئے گی اور  ریل گاڑی کی سہولیات سے  لوگوں کا سفر  مزید خوشگوار ہو جائے گا۔

جاپان  ،پپوا نیو گنی اور آسٹریلیا تین ملکوں کے اپنے سفر  پر  روشنی ڈالتے ہوئے وزیراعظم  نے  خاص طور پر  کہا کہ  دنیا  بھارت کی طرف  بہت زیادہ امیدوں  کے ساتھ دیکھ  رہی ہے،۔ وزیراعظم نے کہا کہ ‘‘جب معیشت  کو مستحکم بنانے اور  غریبی سے نمٹنے کی بات ہوتی ہے تو  بھارت دنیا کے لئے امید کی  ایک کرن بن جاتا ہے۔ انہوں نے  کورونا وائرس وبا سے  بھارت کے نمٹنے  اور  ملک میں  دنیا  کی سب سے بڑی   ٹیکہ کاری مہم چلائے جانے کا بھی ذکر کیا۔ وزیراعظم نے زور دے کر کہا کہ جب  لوگ پوری دنیا سے ،  بھارت آنا چاہتے ہیں، تو  اترا کھنڈ جیسی خوبصورت ریاستوں کو  آج کی سب سے زیادہ  خوبصورت ریاستیں بنایا جا نا چاہئے۔ جناب مودی نے اجاگر کیا کہ وندے بھارت ٹرین اترا کھنڈ کو ، اس موقع  سے پورا فائدہ اٹھانے میں مدد  کرے گی۔ 

وزیراعظم نے کیدار ناتھ کے اپنے دورے  کا ذکر کیا، انہوں نے  اپنے بے ساختہ  بیان کو  یاد کرتے ہوئے کہا کہ  ‘‘یہ دہائی  اترا کھنڈ کی دہائی ہوگی’’۔ انہوں نے  امن وقانون کی صورت  حال کو  مضبوط  بناتے ہوئے ریاست کی ترقی  کو سراہا۔ وزیراعظم نے امید  ظاہر کی کہ ‘‘دیو بھومی ، دنیا کی  روحانی بیداری  کا مرکز بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ  ہمیں  اس امکان کو  حقیقت  کی شکل دینے کے لئے  کام کرنا ہو گا۔  انہوں نے کہا کہ   چار دھام یاترا  کے یاتریوں کی بڑی  تعداد ،  پہلے کے ریکارڈس  توڑ رہی ہے۔ انہوں نے  ہری دوار  اور  کانوڑ یاترا  میں بابا کیدار ، کمبھ   /  اردھ کمبھ کے درشن کے لئے آنے والے عقیدت مندوں کے بارے میں بھی  بات کی۔ انہوں نے کہا کہ  کسی  ریاست میں  اتنے عقیدت مند نہیں آتے، لہذا یہ  ایک  نعمت  ہے اور  بڑا کام ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ‘‘ڈبل انجن کی سرکار  اس عظیم کام کو  آسان بنانے کے لئے  دہری  طاقت  اور دہری  رفتار سے کام کر رہی ہے۔

 وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی توجہ  نو رتنوں یعنی  ترقی کے نو  نگینوں پر  ہے۔ انہوں نے کہا کہ  پہلا رتن  کیدار ناتھ -  بدری ناتھ  دھام میں  1300 کروڑ روپے  کی  جدید  کاری کا کام ، دوسرا  رتن  گوری کنڈھ -  کیدار ناتھ   اور  گوبند  گھاٹ-  ہیم کنٹ  صاحب  میں  2500  کروڑ روپے  کا  روپ  وے  پروجیکٹ ہے۔ تیسرا  رتن  مانس کھنڈ مندر  مالا  پروگرام  کے تحت  کماؤ  کے  قدیم مندروں کی  جدید کاری  ہے۔ چوتھا  رتن   ریاست میں  قیام  کی سہولیات  کا فروغ ہے،  جہاں 4 ہزار  سے زیادہ  قیام گاہیں  درج  ہیں۔ پانچواں رتن  ماحولیات سیاحت  کے 16  مقامات  کا فروغ ہے، چھٹا  رتن  اترا کھنڈ میں  صحت خدمات کی توسیع ہے، ادھم سنگھ نگر میں ایمس  سٹیلائٹ مرکز  تعمیر کیا جا رہا ہے، ساتواں رتن  2000 کروڑ روپے کی لاگت والا  ٹہری جھیل ترقیاتی پروجیکٹ  ہے، آٹھواں رتن  ہری دوار  رشی کیش  کو  یوگ  ایڈونچر  سیاحت کی راجدھانی  کے طور پر  فروغ  دینا  اور  نواں رتن  ٹنک پور  باگیشور ریل لائن ہے۔ 

 انہوں نے کہا کہ   ان نو رتنوں کو  ریاست میں  بنیادی ڈھانچے  کے فروغ  کے لئے  جامع شکل دی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں 1200 کروڑ روپے کی   چار دھام  مہا پری یوجنا  پر تیزی سے کام  جاری ہے۔ دہلی -  دہرہ دون ایکسپریس  وے  سے  یہ سفر  مزید  تیز رفتار اور  آسان ہو جائے گا۔ انہوں نے اترا کھنڈ میں  روپ  وے  رابطے  کا بھی ذکر  کیا۔ انہوں نے کہا کہ ‘‘پروت  مالا پروجیکٹ سے  آئندہ دنوں میں ریاست  کا مستقبل بدل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ  16000 کروڑ روپے کا رشی کیش  - کرن پریاگ  ریل پروجیکٹ ، دو  سے تین سال میں مکمل ہو جائے گا۔  اس پروجیکٹ  سے اترا کھنڈ  کا ایک بڑا علاقہ قابل رسائی ہو جائے گا  اور اس  سے سرمایہ کاری  ، صنعت  اور  روز  گار کو بڑھا وا ملے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ مرکزی حکومت کی مدد سے اترا کھنڈ، سیاحت، ایڈونچر سیاحت ، فلم شوٹنگ اور  شادی بیاہ کی تقریبات کے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ  ریاست  کے سیاحتی مقامات  کی طرف پوری دنیا کے  لوگ  راغب ہو رہے ہیں اور وندے بھارت ایکسپریس ان کے لئے فائدہ مند ہوگی۔ وزیراعظم نے کہا کہ  ریل گاڑی  کا سفر  اُن لوگوں کے  لئے پہلی  پسند ہوتا ہے ، جن کے ہمرا ہ  ان کے کنبے کے   افراد ہوتے ہیں اور وندے ،بھارت  ٹرانسپورٹیشن کا ایک آسان وسیلہ بن رہی ہے۔

وزیراعظم  نے  کہا کہ ‘‘اکیسویں صدی کا بھارت  بنیادی ڈھانچے  کی زیادہ سے زیادہ  گنجائش  کا استعمال کر کے  ترقی  کی مزید  اونچائیوں پر پہنچ  رہا ہے۔’’ انہوں   نے  اشارہ دیا کہ ماضی کی  حکومتیں بنیادی  ڈھانچے کی اہمیت نہیں سمجھ  سکیں، کیو نکہ  ان کے  ذہنوں  پر   بدعنوانی اور  خاندانی سیاست  طاری تھی۔ اگرچہ  پچھلی حکومتوں نے  بھارت میں  تیز رفتار  ریل گاڑیوں کے بڑے بڑے وعدے کئے تھے لیکن  وزیراعظم نے کہا کہ  وہ  ریل نیٹ ورک کو ، بغیر چوکیدار  والے پھاٹکوں سے نجات نہیں دلاسکیں اور  ریاست میں ریل لائنوں  کی  بجلی کاری  کی حالت  بھی  بد تر تھی۔ وزیراعظم نے بتایا کہ  2014  تک ملک کے  ریل نیٹ ورک کے   محض  ایک تہائی حصے  کی  بجلی کاری  کی گئی تھی، جس  کی وجہ سے  تیز رفتار  ریل گاڑیوں کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ  ‘‘ریلویز  کو  یکسر تبدیل کرنے کا  ہمہ جہت  کام  2014  کے بعد  شروع ہوا۔  انہوں نے زور دے کر کہا کہ  ملک کی  پہلی تیز  رفتار ٹرین  کے خواب پر  عمل کرنے  کا کام  پوری  شد ومد کے ساتھ  شروع کیا گیا اور  پورے  نیٹ ورک کو  نیم  تیز رفتار  ریل گاڑیوں کے لئے  تیار کیا گیا۔  وزیراعظم نے بتایا کہ 2014  سے   پہلے   ہر سال محض 600  کلو میٹر  کی ریل  لائنوں  کی بجلی کاری کی جاتی تھی، جب کہ  آج ہر سال  6000  کلو میٹر ریل لائنوں کی بجلی کاری کی جارہی ہے۔ آج ‘‘ملک کے 90  فیصد  سے  زیادہ ریلوے نیٹ ورک کی  بجلی کاری  کردی گئی ہے۔ اترا کھنڈ میں پورے ریل نیٹ ورک کی 100  فیصد  بجلی کاری کا مقصد  حاصل کیا جا چکا ہے۔’’

  وزیراعظم نے ان ترقیاتی کاموں کا سہرہ  صحیح ارادے، پالیسی اور خود کو وقف کردینے کے سر دیا۔ اس بات  کو اجاگر کرتے ہوئے  کہ 2014  کے مقابلے ریلوے بجٹ میں اضافے  سے  اترا کھنڈ کو براہ راست فائدہ ہوا  ہے، وزیراعظم نے  بتایا کہ  2014  سے  پانچ   سال پہلے  ریاست  کا  اوسط  بجٹ  200 کروڑ روپے سے بھی کم تھا، جب کہ  آج ریل بجٹ  پانچ  ہزار کروڑ روپے ہے، جو  25  گنا  زیادہ ہے۔ وزیراعظم نے  اس پہاڑی ریاست میں  رابطوں کی اہمیت  پر زور دیا، جہاں  گاؤں کے لوگوں نے  رابطوں میں کمی کے سبب ترک وطن کیا۔ انہوں نے یہ بات اجاگر کیا کہ حکومت  آنے والی نسلوں کو اس پریشانی   سے نجات دلانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جدید رابطہ  ہماری سرحدوں تک  آسان رسائی  کے لئے  بڑا فائدہ مند ہوگا  اور  ملک کی حفاظت کرنے والے فوجیوں کو  کسی بھی طرح راستے میں پریشانی نہیں ہوگی۔

اپنے  تقریر کا اختتام کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ  ڈبل انجن  کی سرکار  اترا کھنڈ کی ترقی  کی پابند ہے، جہاں اترا کھنڈ کی  تیز  رفتار ترقی  سے  بھارت  کی تیز  رفتار ترقی  میں بھی مدد ملے گی۔ وزیراعظم نے اپنی  بات  ختم کرت ہوئے کہا کہ  ‘‘ملک  اب رکنے والا نہیں ہے  اور ملک  نے اب  رفتار پکڑ لی ہے۔ پورا ملک  وندے بھارت  کی رفتار سے آگے بڑ ھ رہا ہے اور   آگے بڑھتا رہے گا۔

پس منظر

اترا کھنڈ میں یہ  شروع کی جانے والی پہلی  وندے بھارت  ہوگی ، جس میں  عالمی درجے کی سہولیات مہیا ہیں۔ اس سے  ایک آرام دہ  سفر ، خاص طور پر  ریاست آنے والے سیاحوں کے لئے  سفر  کے  ایک نئے دور  کا  آغاز  ہوگا۔ یہ ٹرین ملک  میں ہی تیار کی گئی ہے اور  یہ  کووَچ  ٹیکنا لوجی  سمیت  جدید  ترین حفاظتی سہولیات سے لیس ہے۔ نئی  وندے بھارت ایکسپریس  دہرہ دون سے دہلی تک  کا فاصلہ  ساڑھے  چار گھنٹے میں طے کرے گی۔

عوامی ٹرانسپورٹ کا ایک صاف ستھرا وسیلہ  فراہم کرنے کے وزیراعظم کے  ویژن  کی رہنمائی  میں  بھارتی  ریلویز  ملک میں  ریل راستوں کی مکمل طور پر  بجلی کاری  کر رہا ہے۔ اس سمت  پیش رفت کرتے ہوئے  وزیراعظم نے  اترا کھنڈ میں  ا ن ریل لائن سیکشنوں کو ملک کے نام وقف  کیا ، جن کی حال ہی میں بجلی کاری کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی  ریاست میں  100  فیصد  ریل راستوں کی  بجلی کاری  کا کام مکمل  ہو جائے گا۔ بجلی کاری  والے سیکشنوں پر  ریل گاڑیاں چلائے جانے سے  تیز رفتار ریل گاڑیوں میں اضافہ ہوگا  اور  مسافروں کو لانے  لے جانے کی گنجائش  میں بھی اضافہ ہوگا۔ 

 

 

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
GST collection rises 12.5% YoY to ₹1.68 lakh crore in February, gross FY24 sum at ₹18.4 lakh crore

Media Coverage

GST collection rises 12.5% YoY to ₹1.68 lakh crore in February, gross FY24 sum at ₹18.4 lakh crore
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
If Bihar becomes Viksit, India will also become Viksit: PM Modi
March 02, 2024
Dedicates to nation and lays foundation stone for multiple oil and gas projects worth about Rs 1.48 lakh crore
Dedicates to nation and lays foundation stone for several development projects in Bihar worth more than Rs 13,400 crores
Inaugurates Hindustan Urvarak & Rasayan Ltd (HURL) fertilizer plant in Barauni
Inaugurates and lays foundation stone for several railway projects worth about Rs 3917 crores
Dedicates to nation ‘Bharat Pashudhan’ - a digital database for livestock animals in the country
Launches ‘1962 Farmers App’
“Bihar is full of enthusiasm and confidence due to power of double engine government”
“If Bihar becomes Viksit, India will also become Viksit”
“History is proof that India has remained empowered when Bihar and Eastern India have been prosperous”
“True social justice is achieved by ‘santushtikaran’, not ‘tushtikaran’. True social justice is achieved by saturation”
“Bihar is bound to be Viksit with the double efforts of the double-engine government”

बिहार के राज्यपाल श्रीमान राजेंद्र अर्लेकर जी, मुख्यमंत्री श्रीमान नीतीश कुमार जी, मंत्रिमंडल के मेरे सहयोगी गिरिराज सिंह जी, हरदीप सिंह पुरी जी, उपमुख्यमंत्री विजय सिन्हा जी, सम्राट चौधरी जी, मंच पर विराजमान अन्य सभी महानुभाव और बेगुसराय से पधारे हुए उत्साही मेरे प्यारे भाइयों और बहनों।

जयमंगला गढ़ मंदिर और नौलखा मंदिर में विराजमान देवी-देवताओं को मैं प्रणाम करता हूं। मैं आज विकसित भारत के लिए विकसित बिहार के निर्माण के संकल्प के साथ बेगुसराय आया हूं। ये मेरा सौभाग्य है कि इतनी विशाल संख्या में आप जनता-जनार्दन, आपके दर्शन करने का मुझे सौभाग्य मिला है।

साथियों,

बेगूसराय की ये धरती प्रतिभावान युवाओं की धरती है। इस धरती ने हमेशा देश के किसान और देश के मज़दूर, दोनों को मजबूत किया है। आज इस धरती का पुराना गौरव फिर लौट रहा है। आज यहां से बिहार सहित, पूरे देश के लिए 1 लाख 60 हज़ार करोड़ रुपए उससे भी अधिक के प्रोजेक्ट्स का शिलान्यास और लोकार्पण हुआ है, डेढ़ लाख करोड़ से भी ज्यादा। पहले ऐसे कार्यक्रम दिल्ली के विज्ञान भवन में होते थे, लेकिन आज मोदी दिल्ली को बेगुसराय ले आया है। और इन योजनाओं में करीब-करीब 30 हज़ार करोड़ रुपए के प्रोजेक्ट्स सिर्फ और सिर्फ ये मेरे बिहार के हैं। एक ही कार्यक्रम में सरकार का इतना बड़ा निवेश ये दिखाता है कि भारत का सामर्थ्य कितना बढ़ रहा है। इससे बिहार के नौजवानों को यहीं पर नौकरी के, रोजगार के अनेकों नए अवसर बनेंगे। आज के ये प्रोजेक्ट, भारत को दुनिया की तीसरी बड़ी आर्थिक महाशक्ति बनाने का माध्यम बनेंगे। आप रूकिए भैया बहुत हो गया आपका प्यार मुझे मंजूर है, आप रूकिए, आप बैठिए, आप चेयर पर से नीचे आ जाइए, प्लीज, मेरी आपसे प्रार्थना है, आप बैठिए...हां। आप बैठ जाइए, वो कुर्सी पर बैठ जाइए आराम से, थक जाएंगे। आज की ये परियोजनाएं, बिहार में सुविधा और समृद्धि का रास्ता बनाएंगी। आज बिहार को नई ट्रेन सेवाएं मिली हैं। ऐसे ही काम है, जिसके कारण आज देश पूरे विश्वास से कह रहा है, बच्चा-बच्चा कह रहा है, गांव भी कह रहा है, शहर भी कह रहा है- अबकी बार...400 पार!, अबकी बार...400 पार!, अबकी बार...400 पार! NDA सरकार...400 पार!

साथियों,

2014 में जब आपने NDA को सेवा का अवसर दिया, तब मैं कहता था कि पूर्वी भारत का तेज़ विकास ये हमारी प्राथमिकता है। इतिहास गवाह रहा है, जब-जब बिहार और ये पूर्वी भारत, समृद्ध रहा है, तब-तब भारत भी सशक्त रहा है। जब बिहार में स्थितियां खराब हुईं, तो देश पर भी इसका बहुत बुरा असर बड़ा। इसलिए मैं बेगुसराय से पूरे बिहार की जनता को कहता हूं- बिहार विकसित होगा, तो देश भी विकसित होगा। बिहार के मेरे भाई-बहन, आप मुझे बहुत अच्छी तरह जानते हैं, और जब आपके बीच आया हूं तो मैं दोहराना चाहता हूं- ये वादा नहीं है- ये संकल्प है, ये मिशन है। आज जो ये प्रोजेक्ट बिहार को मिले हैं, देश को मिले हैं, वो इसी दिशा में बहुत बड़ा कदम हैं। इनमें से अधिकतर पेट्रोलियम से जुड़े हैं, फर्टिलाइज़र से जुड़े हैं, रेलवे से जुड़े हैं। ऊर्जा, उर्वरक और कनेक्टिविटी, यही तो विकास का आधार हैं। खेती हो या फिर उद्योग, सब कुछ इन्हीं पर निर्भर करता है। और जब इन पर तेजी से काम चलता है, तब स्वाभाविक है रोजगार के अवसर भी बढ़ते हैं, रोजगार भी मिलता है। आप याद कीजिए, बरौनी का जो खाद कारखाना बंद पड़ चुका था, मैंने उसे फिर से चालू करने की गारंटी दी थी। आपके आशीर्वाद से मोदी ने वो गारंटी पूरी कर दी। ये बिहार सहित पूरे देश के किसानों के लिए बहुत बड़ा काम हुआ है। पुरानी सरकारों की बेरुखी के कारण, बरौनी, सिंदरी, गोरखपुर, रामागुंडम, वहां जो कारखाने थे, वो बंद पड़े थे, मशीन सड़ रहे थे। आज ये सारे कारखाने, यूरिया में भारत की आत्मनिर्भरता की शान बन रहे हैं। इसलिए तो देश कहता है- मोदी की गारंटी यानि गारंटी पूरा होने की गारंटी। मोदी की गारंटी यानि गारंटी जे पूरा होय छय !

साथियों,

आज बरौनी रिफाइनरी की क्षमता के विस्तार का काम शुरु हो रहा है। इसके निर्माण के दौरान ही, हजारों श्रमिकों को महीनों तक लगातार रोजगार मिला। ये रिफाइनरी, बिहार में औद्योगिक विकास को नई ऊर्जा देगी और भारत को आत्मनिर्भर बनाने में मदद करेगी। मुझे आपको ये बताते हुए खुशी है कि बीते 10 साल में पेट्रोलियम और प्राकृतिक गैस से जुड़े 65 हज़ार करोड़ रुपए से अधिक के प्रोजेक्ट्स बिहार को मिले हैं, जिनमें से अनेक पूरे भी हो चुके हैं। बिहार के कोने-कोने में जो गैस पाइपलाइन का नेटवर्क पहुंच रहा है, इससे बहनों को सस्ती गैस देने में मदद मिल रही है। इससे यहां उद्योग लगाना आसान हो रहा है।

साथियों,

आज हम यहां आत्मनिर्भर भारत से जुड़े एक और ऐतिहासिक पल के साक्षी बने हैं। कर्नाटक में केजी बेसिन के तेल कुओं से तेल का उत्पादन शुरु हो चुका है। इससे विदेशों से कच्चे तेल के आयात पर हमारी निर्भरता कम होगी।

साथियों,

राष्ट्रहित और जनहित के लिए समर्पित मजबूत सरकार ऐसे ही फैसले लेती है। जब परिवारहित और वोटबैंक से बंधी सरकारें होती हैं, तो वो क्या करती हैं, ये बिहार ने बहुत भुगता है। अगर 2005 से पहले के हालात होते तो बिहार में हज़ारों करोड़ की ऐसी परियोजनाओं के बारे में घोषणा करने से पहले सौ बार सोचना पड़ता। सड़क, बिजली, पानी, रेलवे की क्या स्थिति थी, ये मुझसे ज्यादा आप जानते हैं। 2014 से पहले के 10 वर्षों में रेलवे के नाम पर, रेल के संसाधनों को कैसे लूटा गया, ये पूरा बिहार जानता है। लेकिन आज देखिए, पूरी दुनिया में भारतीय रेल के आधुनिकीकरण की चर्चा हो रही है। भारतीय रेल का तेज़ी से बिजलीकरण हो रहा है। हमारे रेलवे स्टेशन भी एयरपोर्ट की तरह सुविधाओँ वाले बन रहे हैं।

साथियों,

बिहार ने दशकों तक परिवारवाद का नुकसान देखा है, परिवारवाद का दंश सहा है। परिवारवाद और सामाजिक न्याय, ये एक दूसरे के घोर विरोधी हैं। परिवारवाद, विशेष रूप से नौजवानों का, प्रतिभा का, सबसे बड़ा दुश्मन है। यही बिहार है, जिसके पास भारत रत्न कर्पूरी ठाकुर जी की एक समृद्ध विरासत है। नीतीश जी के नेतृत्व में NDA सरकार, यहां इसी विरासत को आगे बढ़ा रही है। वहीं दूसरी तरफ RJD-कांग्रेस की घोर परिवारवादी कुरीति है। RJD-कांग्रेस के लोग, अपने परिवारवाद और भ्रष्टाचार को उचित ठहराने के लिए, दलित, वंचित, पिछड़ों को ढाल बनाते हैं। ये सामाजिक न्याय नहीं, बल्कि समाज के साथ विश्वासघात है। ये सामाजिक न्याय नय, समाज क साथ विश्वासघात छय। वरना क्या कारण है कि सिर्फ एक ही परिवार का सशक्तिकरण हुआ। और समाज के बाकी परिवार पीछे रह गए? किस तरह यहां एक परिवार के लिए, युवाओं को नौकरी के नाम पर उनकी जमीनों पर कब्जा किया गया, ये भी देश ने देखा है।

साथियों,

सच्चा सामाजिक न्याय सैचुरेशन से आता है। सच्चा सामाजिक न्याय, तुष्टिकरण से नहीं संतुष्टिकरण से आता है। मोदी ऐसे ही सामाजिक न्याय, ऐसे ही सेकुलरिज्म को मानता है। जब मुफ्त राशन हर लाभार्थी तक पहुंचता है, जब हर गरीब लाभार्थी को पक्का घर मिलता है, जब हर बहन को गैस, पानी का नल, घर में टॉयलेट मिलता है, जब गरीब से गरीब को भी अच्छा और मुफ्त इलाज मिलता है, जब हर किसान लाभार्थी के बैंक खाते में सम्मान निधि आती है, तब सैचुरेशन होता है। और यही सच्चा, सामाजिक न्याय है। बीते 10 वर्षों में मोदी की ये गारंटी, जिन-जिन परिवारों तक पहुंची हैं, उनमें से सबसे अधिक दलित, पिछड़े, अतिपिछड़े वही मेरे परिवार ही हैं।

साथियों,

हमारे लिए सामाजिक न्याय, नारीशक्ति को ताकत देने का है। बीते 10 सालों में 1 करोड़ बहनों को, मेरी माताएं-बहनें इतनी बड़ी तादाद में आशीर्वाद देने आई हैं, उसका कारण है। 1 करोड़ बहनों को हम लखपति दीदी बना चुके हैं। मुझे खुशी है इसमें बिहार की भी लाखों बहनें हैं, जो अब लखपति दीदी बन चुकी हैं। और अब मोदी ने 3 करोड़ बहनों को, आंकड़ा सुनिए जरा याद रखना 3 करोड़ बहनों को लखपति दीदी बनाने की गारंटी दी है। हाल में हमने बिजली का बिल जीरो करने और बिजली से कमाई करने की भी योजना शुरु की है। पीएम सूर्यघर- मुफ्त बिजली योजना। इससे बिहार के भी अनेक परिवारों को फायदा होने वाला है। बिहार की NDA सरकार भी बिहार के युवा, किसान, कामगार, महिला, सबके लिए निरंतर काम कर रही है। डबल इंजन के डबल प्रयासों से बिहार, विकसित होकर रहेगा। आज इतना बड़ा विकास का उत्सव हम मना रहे हैं, और आप इतनी बड़ी तादाद में विकास के रास्ते को मजबूत कर रहे हैं, मैं आपका आभारी हूं। एक बार फिर आप सभी को विकास की, हजारों करोड़ की इन परियोजनाओं के लिए मैं बहुत-बहुत बधाई देता हूं। इतनी बड़ी तादाद में माताएं-बहनें आई हैं, उनको विशेष रूप से प्रणाम करता हूं। मेरे साथ बोलिए-

भारत माता की जय !

दोनों हाथ ऊपर करके पूरी ताकत से बोलिए-

भारत माता की जय !

भारत माता की जय !

भारत माता की जय !

बहुत-बहुत धन्यवाद।