’’انگریزوں کی ناانصافیوں کے خلاف گاندھی جی کی قیادت میں چلائی گئی تحریک نے برطانوی حکومت کو ہم بھارتیوں کی اجتماعی قوت کا احساس دلایا ‘‘
’’یہ تصور پیدا کیا گیا تھا کہ ہمیں باوردی اہلکاروں سے محتاط رہنا ہوگا۔ تاہم یہ تاثر اب بدل چکا ہے۔ جب لوگ باوردی اہلکاروں کو دیکھتے ہیں ، تو انہیں مدد کی یقین دہانی ہوتی ہے‘‘
’’ملک کے سلامتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے تناؤ سے مبرا تربیتی سرگرمیاں وقت کی اہم ضرورت ہے‘‘

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج احمدآباد میں راشٹریہ رکشا یونیورسٹی کی عمارت  قوم کے نام وقف کی اور اس کے اولین جلسہ تقسیم اسناد سے خطاب کیا۔ مرکزی وزیر داخلہ اور باہمی تعاون کے وزیر، جناب امیت شاہ، گجرات کے گورنر آچاریہ دیورت، گجرات کے وزیر اعلیٰ جناب بھوپیندر بھائی پٹیل اس موقع پر موجود تھے۔

شروعات میں، وزیر اعظم نے مہاتما گاندی اور دانڈی مارچ میں حصہ لینے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس عظیم مارچ کا آغاز اِسی دن ہوا تھا۔ وزیر اعظم نے کہا، ’’انگریزوں کی ناانصافیوں کے خلاف گاندھی جی کی قیادت میں چلائی گئی تحریک نے برطانوی حکومت کو ہم بھارتیوں کی اجتماعی قوت کا احساس دلایا۔‘‘

وزیر اعظم نے کہا کہ نوآبادیاتی دور میں داخلی سلامتی سے متعلق ابتدائی تصور نوآبادیاتی آقاؤں کے لیے امن و امان قائم رکھنے کے لیے عوام کے درمیان خوف پیدا کرنے پر مبنی تھا۔ اسی طرح، پہلے کا منظرنامہ مختلف تھا کیونکہ سلامتی دستوں کے پاس تیاری کے لیے کافی وقت ہوتا تھا، تاہم یہ صورتحال تکنالوجی ، نقل و حمل اور مواصلات کے شعبہ میں زبردست طور پر بہتری رونما ہونے کے ساتھ ہی اب یکسر طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج پولیس فورس کو بات چیت اور دیگر سافٹ اسکلز اپنانے کی ضرورت ہے جو کہ جمہوری منظرنامہ میں کام کاج کے لیے ضروری ہیں۔

انہوں نے پولیس اور سلامتی اہلکاروں کی شبیہ کو تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ عام معاشرے میں پولیس کی جو عکاسی کی گئی ہے، اس نے بھی اس سلسلے میں کوئی مدد نہیں کی ہے۔ انہوں نے وبائی مرض کے دوران پولیس اہلکاروں کے ذریعہ انسانی ہمدردی پر مبنی کیے گئے کاموں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ، ’’مابعد آزادی، ملک کے سلامتی نظام میں اصلاحات متعارف کرانے کی ضرورت تھی۔ یہ تصور پیدا کیا گیا تھا کہ ہمیں باوردی اہلکاروں  سے محتاط رہنا چاہئے۔ لیکن اب یہ تصور بدل چکا ہے۔ اب لوگ جب باوردی اہلکار کی جانب دیکھتے ہیں تو انہیں مدد کی یقین دہانی ہوتی ہے۔‘‘

وزیر اعظم نے نوکری کے تناؤ سے نمٹنے میں پولیس اہلکاروں  کے لیے مشترکہ خاندان کی جانب سے  گھٹتے تعاون کے نیٹ ورک کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے پولیس فورس میں یوگا ماہرین سمیت تناؤ سے نمٹنے اور راحت فراہم کرانے کے لیے  دیگر ماہرین کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے سلامتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے تناؤ سے مبرا سرگرمیاں وقت کی اہم ضرورت ہے۔‘‘

انہوں نے سلامتی اور پولیس کے کام کاج میں تکنالوجی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجرمین تکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں، انہیں پکڑنے کے لیے بھی تکنالوجی کوہی بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تکنالوجی پر زور دینے سے اس میدان میں دیویانگ افراد کو بھی اپنا تعاون دینے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ گاندھی نگر علاقہ میں نیشنل لاء یونیورسٹی، رکشا یونیورسٹی اور فارینسک سائنس یونیورسٹی موجود ہیں۔ انہوں نے ان متعلقہ میدانوں میں ایک جامع علم پیدا کرنے کی غرض سے باقاعدہ طور پر مشترکہ سمپوزیئم کے ذریعہ ان اداروں کے درمیان بہتر تال میل پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ ’’اسے پولیس یونیورسٹی سمجھنے کی غلطی کبھی نہیں کرنا۔ یہ ایک رکشا یونیورسٹی ہے جو پورے ملک کی سلامتی کا خیال رکھتی ہے۔‘‘ انہوں نے مجمع اور بھیڑ کی نفسیات، بات چیت، تغذیہ اور تکنالوجی جیسے موضوعات کی اہمیت کا ازسر نو اعادہ کیا۔

انہوں نے طلبا سے اپیل کی کہ وہ انسانی اقدار کو ہمیشہ اپنی وردی کے اہم جزو کے طو رپر برقرار رکھیں اور اپنی کوششوں میں خدمات کا جذبہ کبھی کم نہ ہونے دیں۔ انہوں نے سلامتی کے شعبہ میں لڑکیوں اور خواتین کی بڑھتی تعداد کے بارے میں اطمیان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ، ’’ہم دفاعی شعبہ میں بڑی تعداد میں خواتین کی شراکت داری ملاحظہ کر رہے ہیں۔ خواہ سائنس ہو، تعلیم ہو یا سلامتی، خواتین آگے آکر قیادت کر رہی ہیں۔‘‘

وزیر اعظم مودی نے ادارے کی تصوریت کو آگے لے جانے میں اس طرح کے کسی بھی ادارے کے پہلے بیچ کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ادویہ کے میدان میں ریاست گجرات کو قائد کے طور پر شناخت دلانے کے لیے گجرات میں واقع پرانے فارما کالج کے تعاون کا ذکر کیا۔ اسی طرح آئی آئی ایم احمد آباد نے ملک میں ایم بی اے کی تعلیم کا بہترین نظام قائم کرنے کے لیے نمایاں طور پر کام کیا۔

راشٹریہ رکشا یونیورسٹی (آر آر یو) پولیس ، فوجداری انصاف اور کریکشنل ایڈمنسٹریشن کے مختلف شعبوں میں اعلیٰ معیاری تربیت یافتہ افرادی قوت کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے قائم کی گئی تھی۔ حکومت نے رکشا شکتی یونیورسٹی ، جسے 2010 میں حکومت گجرات کے ذریعہ قائم کیا گیا تھا، کی جدیدکاری کے ذریعہ راشٹریہ رکشا یونیورسٹی نام کی ایک قومی پولیس یونیورسٹی قائم کی۔ یونیورسٹی، جوکہ قومی اہمیت کا حامل ایک ادارہ ہے، نے یکم اکتوبر 2020 سے اپنے کام کاج کا آغاز کیا۔ یہ یونیورسٹی صنعت کی معلومات اور وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئےنجی شعبہ کے ساتھ تال میل قائم کرے گی اور پولیس و سلامتی سے متعلق مختلف شعبوں میں عمدگی کے مراکز قائم کرے گی۔

راشٹریہ رکشا یونیورسٹی (آر آر یو) پولیس اور داخلی سلامتی جیسے ، پولیس سائنس اور انتظام کاری، فوجداری قانون و انصاف ، سائبر نفسیات، انفارمیشن تکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور سائبر سلامتی، جرم کی تفتیش، حکمت عملی پر مبنی زبانیں، داخلی دفاع اور حکمت عملیاں، فزیکل ایجوکیشن اور کھیل کود، ساحلی اور بحری سلامتی سے متعلق ڈپلومہ سے  لے ڈاکٹریٹ کی سطح کے تعلیمی پروگرام پیش کرتی ہے۔ فی الحال، 18 ریاستوں کے 822 طلبا ان پروگراموں کے تحت درج رجسٹر ہیں۔

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
PMAY-U Nears 1.25 Crore Homes: Top 10 States With The Highest PMAY-U Completion Rates

Media Coverage

PMAY-U Nears 1.25 Crore Homes: Top 10 States With The Highest PMAY-U Completion Rates
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs 52nd PRAGATI Meeting
June 24, 2026
PM reviews four key infrastructure projects worth around ₹30,000 crore spanning four states across Road, Power, Industrial Corridor and Metro Rail sectors
PM emphasises use of PM GatiShakti National Master Plan and timely updation of project, utility and infrastructure data on the portal for efficient planning
PM asks Ministries and State Governments to resolve pending issues in a mission-mode manner and ensure close monitoring
PM reviews TB Mukt Bharat Abhiyan and emphasizes need to leverage latest digital technologies including AI
PM reviews grievances related to Cyber Crime and Digital Arrest and stresses timely action, coordinated response and e-Zero FIR registration mechanism

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 52nd meeting of PRAGATI, the ICT-enabled, multi-modal platform aimed at fostering Pro-Active Governance and Timely Implementation, by seamlessly integrating efforts of the Central and State Governments, earlier today at Seva Teerth.

During the meeting, the Prime Minister reviewed four critical infrastructure projects across the Road, Power, Industrial Corridor and Metro Rail sectors, covering four States and costing around ₹30,000 crore. These projects, important for economic growth, regional connectivity, industrial development and public welfare, were reviewed with focus on timelines, inter-agency coordination, issue resolution and timely completion.

Prime Minister underlined that delays in infrastructure projects not only lead to cost escalation, but also deprive people and industries of timely benefits. He asked the concerned Ministries and State Governments to resolve pending issues in a mission-mode manner and ensure close monitoring at the highest level.

Prime Minister emphasised the use of PM GatiShakti National Master Plan for efficient planning and timely implementation of infrastructure projects. He also underlined the need for regular and timely updation of project details, utilities, infrastructure layers, clearances and other field-level information on the portal. He further emphasised that the platform must reflect the latest ground situation so that bottlenecks can be identified in advance, inter-agency coordination can be improved and decisions can be taken on the basis of reliable, real-time data.

Prime Minister reviewed TB Mukt Bharat Abhiyan and emphasised the need to leverage latest digital technologies including Artificial Intelligence. He suggested a team of NCC cadets and MY Bharat volunteers, for awareness, patient follow-up and community mobilisation.

Prime Minister also reviewed grievances related to Cyber Crime and Digital Arrest. He expressed concern over the rising misuse of digital platforms to defraud citizens and stressed that such matters require coordinated, sensitive and time-bound handling by all concerned agencies. He noted that citizens should not be made to run from one department or agency to another. He also emphasized the need for clear ownership, faster response, better coordination among law enforcement agencies, banks and digital platforms, and stronger public awareness campaigns.

Prime Minister observed that in cases involving cyber fraud, timely action is crucial to prevent financial loss and restore public confidence. He asked all stakeholders to work in close coordination to strengthen prevention, reporting, investigation and grievance redressal mechanisms. He also emphasised that States should work towards enabling e-Zero FIR mechanisms for faster registration and response in cyber fraud cases.