تلنگانہ سُپر تھرمل پاور پروجیکٹ کی 800 میگاواٹ والی یونٹ کو قوم کے نام وقف کیا
متعدد بنیادی ساختیاطی ریل پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقف کیا
تلنگانہ میں 20انتہائی نگہداشت والے بلاکوں کا سنگ بنیاد رکھا جنہیں پی ایم –آیوشمان بھارت ہیلتھ انفراسٹرکچر مشن کے تحت بنایا جائے گا
سدی پیٹ – سکندرآباد – سدی پیٹ ٹرین سروس کو جھنڈی دکھائی
’’بجلی کی اچھی سپلائی سے ریاست میں صنعتوں کو فروغ ملا‘‘
’’ان پروجیکٹوں کو مکمل کرنا جن کا میں نے سنگ بنیاد رکھا تھا ہماری حکومت کا ورک کلچر ہے‘‘
’’حسان – چیرلاپلّی کم لاگت میں اور ماحول دوست طریقے سے ایل پی جی ٹرانسفارمیشن، ٹرانسپورٹیشن اور ڈسٹری بیوشن کی بنیاد بن جائے گا‘‘
’’ہندوستانی ریلوے تمام ریل لائنوں کو صد فیصد برقیانے کے رُخ پر ہے‘‘

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج تلنگانہ کے نظام آباد میں بجلی ، ریل اور صحت کے اہم شعبوں میں 8000 کروڑ روپئے سے زیادہ کے کئی  کثیرترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا اور انہیں قوم کے نام وقف کیا۔  ان پروجیکٹوں میں این ٹی پی سی کے تلنگانہ سُپرتھرمل پاور پروجیکٹ کے اوّلین مرحلے کی 800 میگاواٹ والی یونٹ، ریل پروجیکٹ بشمول منوہر آباد اور سدی پیٹ کو جوڑنے والی نئی ریلوے لائن، دھرم آباد – منوہرآباد اور محبو نگر، کرنول کے درمیان برقیانے کے پروجیکٹ شامل ہیں۔ انہوں نے پردھان منتری آیوشمان بھارت ہیلتھ انفراسٹرکچر مشن کے تحت ریاست بھر میں انتہائی نگہداشت کے 20 بلاکوں کا سنگ بنیاد رکھا۔ جناب مودی نے سدی پیٹ – سکندرآباد – سدی پیٹ ٹرین سروس کو روانہ بھی کیا۔

 

مجمع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے آج ان پروجیکٹوں کے لیے تلنگانہ کے عوام کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک یا ریاست کی ترقی بجلی کی پیداوار میں اس کی خودانحصاری پر منحصر ہے  کیوں کہ اس سے زندگی آسان ہوتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ کاروبار کرنے میں بھی آسانی پیدا ہوتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بجلی کی اچھی سپلائی ریاست میں ترقی کو فروغ دیتی ہے ۔ یہ بات انہوں نے پیداپلّی ضلع میں تلنگانہ سُپرتھرمل پاور پروجیکٹ کے اوّلین مرحلے کی 800 میگاواٹ والی یونٹ کو قوم کے نام وقف کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے زور دیکر کہا کہ دوسری یونٹ کو بھی بہت جلد عمل میں لایا جائے گا  اور اس کی تکمیل کے بعد نصب شدہ پلاور پلانٹ کی صلاحیت 4000 میگاواٹ ہوجائے گی۔ انہوں نے اس بات پر خوشی ظاہر کی کہ تلنگانہ سُپر تھرمل پاور پلانٹ  ملک میں این ٹی پی سی کی تمام پاور پلانٹوں میں سب سے جدید پاورپلانٹ ہے۔ اس پاور پلانٹ کی بجلی کا بڑا حصہ تلنگانہ کے عوام کے لیے ہوگا۔ وزیراعظم نے اس موقع پر 2016 میں اس پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کا ذکر کیا اور آج ا س کے افتتاح پر خوشی ظاہر کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ہماری حکومت کا نیا ورک کلچر ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت تلنگانہ کی توانائی کی ضرورتوں کی تکمیل کے رُخ پر سرگرم عمل ہے ۔ انہوں نے حال ہی میں حسان – چیرلاپلّی پائپ لائن کو قوم کے نام وقف کرنے کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ پائپ لائن کم لاگت میں ماحول دوست طریقے سے ایل پی جی ٹرانسفارمیشن، ٹرانسپورٹیشن اور ڈسٹری بیوشن کی بنیاد بنے گی۔

 

دھرم آباد- منوہر آباد اور محبوب نگر-کرنول کے درمیان برق کاری کے پروجیکٹوں سے متعلق اظہا رخیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس سے ریاست میں نہ صرف کنیکٹی ویٹی بڑھے گی  بلکہ دو نوں ٹرینوں کی اوسط رفتار میں بھی اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی ریلوے تمام ریل لائنوں کو 100 فیصد برقیانے کے رخ پر سرگرم عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ منوہر آباد اور سدی پیٹ کے درمیان نئے ریل رابطے سے صنعت اور کاروبار کو فروغ ملے گا۔ وزیراعظم نے 2016 میں اس پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کا ذکر بھی کیا۔

وزیراعظم نے یاد کیا کہ پہلے صحت کی دیکھ بھال کا دائرہ کتنا محدود تھا ۔ جناب مودی نے ایسے کئی اقدامات گنوائے جو صحت کی خدمات کو عام طور پر دستیاب اور ارزاں بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔ انہوں نے میڈیکل کالجوں اور ایمس کی تعداد بڑھانے کا ذکر کیا جن میں سے ایک بی بی نگر میں بھی قائم کیا گیا، ساتھ ہی ساتھ ڈاکٹروں کی تعداد بڑھانے کا قدم بھی اٹھایا گیا۔

 

وزیراعظم نے پی ایم آیوشمان بھارت انفراسٹرکچر مشن کے بارے میں بھی آگاہی دی جس کے تحت ہر ضلع میں معیاری انفراسٹرکچر کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ وزیراعظم نے بتایا کہ آج اسی مشن کے تحت تلنگانہ میں اہم نگہداشت کے 20 بلاکوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ انہوں نےبتایا کہ یہ بلاک اس طرح بنائے جائیں گے کہ وہ آئسولیشن وارڈ، آکسیجن کی سپلائی اور متعدی بیماریوں کی روک تھام کا مکمل نظام رکھتے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں صحت کی دیکھا بھال کی سہولت گاہوں کی تعداد بڑھانے کے لیے 5000 سے زیادہ آیوشمان بھارت ہیلتھ سینٹر کام کررہے ہیں۔ وزیراعظم نے بتایا کہ عالمی وبا کووڈ کے دوران تلنگانہ میں 50 بڑے پی ایس اے آکسیجن پلانٹ لگائے گئے جن کی وجہ سے قیمتی زندگیاں بچانے میں نمایاں مدد ملی۔ انہوں نے بجلی ، ریلوے اور صحت کے اہم شعبوں میں آج کے پروجیکٹوں کے لیے عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے اپنی تقریر ختم کی۔

تلنگانہ کے گورنر تاملیسائی سوندراراجن  اور مرکزی وزیر جناب جی کشن ریڈی اور دیگر اس موقع پر موجود تھے۔

بیک گراؤنڈ

ملک میں توانائی کو مؤثر ترین بنانے کے لیے بجلی کی پیداوار میں اضافے کے وزیراعظم کے وِژن کے مطابق  این ٹی پی سی کے تلنگانہ سُپرتھرمل پاور پروجیکٹ کے اوّلین مرحلے کی 800 میگاواٹ والی پہلی یونٹ کو قوم کے نام وقف کیا گیا۔ اس سے تلنگانہ کو کم لاگت میں بجلی ملے گی اور ریاست میں اقتصادی ترقی کو فروغ حاصل ہوگا ۔ یہ ملک کا سب سے زیادہ ماحول دوست پاور اسٹیشن ہوگا ۔

 

تلنگانہ کے ریل انفراسٹرکچر کو اس وقت فروغ ملا جب وزیراعظم نے منوہر آباد اور سدی پیٹ کو جوڑنے والی نئی ریلوے لائن سمیت کئی ریل پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقف کیا۔ وقف کیے جانے والے پروجیکٹوں میں دھرم آباد-منوہر آباد اور محبوب نگر- کرنول کے درمیان برق کاری کا پروجیکٹ بھی شامل ہے۔ 76 کلو میٹر لمبی منوہر آباد سدی پیٹ ریل لائن سے خطے میں سماجی واقتصادی ترقی کو فروغ ملے گا۔ خاص طور پر میدک اور سدی پیٹ کے اضلاع کو فائدہ پہنچے گا ۔ دھرم آباد- منوہر آباد اور محبوب نگر- کرنول کے درمیان برق کاری سے ریل گاڑیوں کی اوسط رفتار بڑھے گی اور خطے میں ماحول دوست نقل وحمل کا سلسلہ شروع ہوگا۔ وزیراعظم نے سدی پیٹ- سکندرآباد- سدی پیٹ ٹرین سروس کا آغاز بھی کیا جس سے خطے میں مقامی ریل مسافروں کو فائدہ پہنچے گا۔

تلنگانہ میں ہیلتھ انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے وزیرعظم نے پردھان منتری آیوشمان بھارت ہیلتھ انفراسٹرکچر مشن کے تحت ریاست بھر میں انتہائی نگہداشت والے 20 بلاکوں کا سنگ بنیاد رکھا۔ یہ بلاک ضلع عادل آباد، بھدردری  کوٹھاگوڈیم ، جئے شنکر بھوپال پلّی ، جوگولمبا گڑوال، حیدر آباد، کھمم، کومورم بھیم آصف آباد،  منچیریل، محبوب نگر (بڑے پلّی)، مولوگو، نگرکرنول، نلگونڈا، نارائن پیٹ، نرمل، رجنّا سرسیلا، رنگنا ریڈی(مہیشورم)، سوریہ پیٹ، پیڈاپلّی، ویکاراباد اور ورانگل (نرسم پیٹ)  میں بنائے جائیں گے۔ ان بلاکوں سے تلنگانہ بھر میں ضلعی سطح پر انتہائی نگہداشت والے انفراسٹرکچر کو فروغ ملے گا اور ریاست کے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Emerging cities see 42% growth in GCC jobs, outpacing metros: Report

Media Coverage

Emerging cities see 42% growth in GCC jobs, outpacing metros: Report
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi chairs 51st PRAGATI Meeting
May 27, 2026
PM reviews seven critical infrastructure projects across the Railways, Power and Road sectors
Projects reviewed span across 9 States with cumulative investment of around ₹30,000 crore
PM also reviews Ken Betwa Link Project and Swachh Bharat Mission-Urban 2.0
PM says Ken-Betwa River Inter-linking Project should serve as a model for other States to resolve inter-State water issues amicably
PM asks States to expedite the completion of solid waste management-related infrastructure, including waste processing plants and GOBARdhan plants
PM calls for mission-mode rooftop solar coverage in urban areas
Acting upon the advice of PM, system of monthly review of social sector schemes at State level operationalised, starting with review of Swachh Bharat Mission

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 51st meeting of PRAGATI, the ICT-enabled, multi-modal platform aimed at fostering Pro-Active Governance and Timely Implementation, by seamlessly integrating efforts of the Central and State governments, at Seva Teerth, earlier today.

During the meeting, the Prime Minister reviewed seven critical infrastructure projects across the Railways, Power and Road sectors covering nine States worth around ₹30,000 crore. These projects, pivotal to economic growth and public welfare, were reviewed with a focus on timelines, inter-agency coordination, and timely issue resolution. Prime Minister also reviewed Ken Betwa Link Project and Swachh Bharat Mission-Urban 2.0.

While reviewing power sector projects, Prime Minister emphasized the need to accelerate rooftop solar adoption across urban areas, with a special focus on cities, residential clusters and public institutions. He underlined that rooftop solar should be taken up in mission mode to reduce electricity costs, improve energy security and promote clean energy at the household and community level.

While reviewing road and port connectivity projects, it was emphasised that Vadhavan Port should be developed as a model of port-led, multi-modal development, where every major mode of transport is seamlessly integrated to create a future-ready logistics ecosystem. The project should not be seen merely as a port, but as a national gateway connected through coastal shipping, inland waterways, dedicated freight corridors, high-speed rail connectivity, highways and airport linkages.

Prime Minister emphasised the need for effective implementation of Swachh Bharat Mission 2.0 and underlined that the mission should move beyond infrastructure creation and ensure measurable outcomes through regular monitoring, citizen participation and convergence between various stakeholders. He asked States to expedite the completion of solid waste management-related infrastructure, including waste processing plants and GOBARdhan plants.

While reviewing Ken-Betwa River Inter-linking Project, Prime Minister observed that Ken-Betwa project should serve as a model for other States to resolve inter-State water issues through cooperation, timely clearances, technology-based monitoring and mission-mode execution. States were encouraged to identify similar opportunities where river-linking, water conservation, groundwater recharge and efficient irrigation can be taken up in an integrated manner to ensure long-term water security.

Prime Minister also underlined that the delay in the implementation of public projects leads not only to cost escalation but also deprives citizens of timely access to essential facilities and development benefits. He observed that every delay has a direct impact on people’s lives, regional growth and public resources. He stressed that Ministries, Departments and States must adopt a more proactive and time-bound approach to resolve pending issues, remove bottlenecks and ensure faster execution.

Prime Minister also emphasized that innovative use of canal networks should be explored, including installation of solar panels along canals and over canals for clean electricity generation. This would help optimize land use, reduce evaporation losses, generate renewable energy and create additional economic value from water infrastructure.

At the beginning of the meeting, the Cabinet Secretary informed that, in pursuance of the directions of the Prime Minister, a system of monthly review of social sector schemes at the State level has also been operationalised. This mechanism aims to ensure regular monitoring, faster resolution of implementation issues and greater accountability at the State and district levels. As part of this initiative, Swachh Bharat Mission has been taken up for review at the State level in the first instance.