وزیراعظم جناب نریندر مودی نے مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے تناظر میں صورتحال اور جاری و مجوزہ تدارکی اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے کابینہ کمیٹی برائے سلامتی کے اجلاس کی صدارت کی۔
کابینہ سیکریٹری نے عالمی صورتحال اور حکومتِ ہند کی متعلقہ وزارتوں و محکموں کی جانب سے اب تک کیے گئے اور مجوزہ اقدامات پر مفصل پریزنٹیشن دی۔ زراعت، کھاد، غذائی تحفظ، پیٹرولیم، توانائی، ایم ایس ایم ایز، برآمد کنندگان، جہاز رانی، تجارت، مالیات، سپلائی چینز اور دیگر متاثرہ شعبوں پر ممکنہ اثرات اور ان سے نمٹنے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملک کی مجموعی معاشی صورتحال اور آئندہ کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔
مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے عالمی معیشت پر قلیل، درمیانی اور طویل مدتی اثرات اور بھارت پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا، اور فوری و طویل مدتی جوابی اقدامات پر غور کیا گیا۔
عام آدمی کی بنیادی ضروریات، بشمول خوراک، توانائی اور ایندھن کی دستیابی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ضروری اشیاء کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے قلیل، درمیانی اور طویل مدتی اقدامات پر تفصیل سے گفتگو ہوئی۔
کسانوں پر اثرات اور خریف سیزن کے لیے کھاد کی ضرورت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ گزشتہ چند برسوں میں کھاد کے مناسب ذخائر کو برقرار رکھنے کے اقدامات سے بروقت دستیابی اور غذائی تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ مستقبل میں مسلسل فراہمی کے لیے کھاد کے متبادل ذرائع پر بھی غور کیا گیا۔
یہ بھی طے پایا کہ تمام پاور پلانٹس میں کوئلے کے مناسب ذخائر بجلی کی کسی بھی کمی کو روکنے کے لیے کافی ہوں گے۔
کیمیکلز، دواسازی، پیٹروکیمیکلز اور دیگر صنعتی شعبوں کے لیے درکار درآمدات کے ذرائع کو متنوع بنانے کے لیے متعدد اقدامات زیر غور آئے۔ اسی طرح بھارتی مصنوعات کے فروغ کے لیے نئی برآمدی منڈیوں کو مستقبل قریب میں ترقی دی جائے گی۔
مختلف وزارتوں کی جانب سے پیش کردہ اقدامات کو تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت کے بعد آنے والے دنوں میں حتمی شکل دے کر نافذ کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے ہدایت دی کہ وزراء اور سیکریٹریوں پر مشتمل ایک گروپ تشکیل دیا جائے جو مکمل حکومتی حکمتِ عملی کے تحت وقف انداز میں کام کرے۔ انہوں نے شعبہ وار گروپس کو بھی تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت کے ساتھ کام کرنے کی ہدایت دی۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ تنازع مسلسل بدلتی ہوئی صورتحال ہے اور پوری دنیا کسی نہ کسی صورت میں اس سے متاثر ہو رہی ہے۔ ایسی حالت میں شہریوں کو اس کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ حکومت کے تمام ادارے باہمی تعاون سے کام کریں تاکہ عوام کو کم سے کم تکلیف ہو۔ نیز ریاستی حکومتوں کے ساتھ مؤثر ہم آہنگی کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت دی تاکہ اہم اشیاء کی بلیک مارکیٹنگ اور ذخیرہ اندوزی کو روکا جا سکے۔
Chaired a meeting of the CCS to review the mitigating measures in the wake of the ongoing conflict in West Asia.
— Narendra Modi (@narendramodi) March 22, 2026
We had extensive discussions on short, medium and long term measures, including ensuring continued availability of fertilisers for farmers, diversifying import… pic.twitter.com/a0SQoGf39e


