مغربی بنگال میں 4500 کروڑ روپے سے زیادہ کے ریل اور سڑک کے شعبے کے متعدد پروجیکٹوں کا افتتاح کیا اور انھیں قوم کے نام وقف کیا
ریل لائنوں کی بجلی کاری اور کئی دیگر اہم ریلوے منصوبوں کو قوم کے نام وقف کیا
سلی گوڑی اور رادھیکاپور کے درمیان نئی مسافر ٹرین سروس کو ہری جھنڈی دکھائی
3,100 کروڑ روپے کے دو قومی شاہراہ پروجیکٹوں کا افتتاح کیا
’’آج کے پروجیکٹ وکست مغربی بنگال کی طرف ایک اور قدم ہیں‘‘
’’ہماری حکومت مشرقی ہندوستان کو ملک کی ترقی کا انجن تصور کرتی ہے‘‘
’’ان 10 سالوں میں، ہم نے ریلوے کی ترقی کو پسنجر رفتار سے ایکسپریس رفتار تک پہنچادیا ہے، ہماری تیسری مدت میں، یہ سپر فاسٹ رفتار سے آگے بڑھے گی‘‘

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج مغربی بنگال کے سلی گوڑی میں ’وکست بھارت وکست مغربی بنگال‘ پروگرام سے خطاب کیا۔ انہوں نے مغربی بنگال میں 4500 کروڑ روپے سے زیادہ کے ریلوے اور سڑک کے شعبے کے متعدد پروجیکٹوں کا افتتاح کیا اور انھیں قوم کے نام وقف کیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے چائے کی خوبصورت سرزمین میں موجود ہونے پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے آج کے پروجیکٹوں کو وکست مغربی بنگال کی طرف ایک اور قدم قرار دیا۔

 

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ مغربی بنگال کا شمالی حصہ شمال مشرق کا گیٹ وے ہے اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارتی راستے بھی فراہم کرتا ہے۔ اس لئے وزیر اعظم نے کہا کہ ریاست کے شمالی حصے کے ساتھ ساتھ مغربی بنگال کی ترقی حکومت کی ترجیح رہی ہے۔ انہوں نے ریلوے اور سڑک کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور ایکلاکھی - بالر گھاٹ، رانی نگر جلپائی گوڑی - ہلدی باڑی اور سلی گوڑی – الواباڑی سیکشنز پر ریلوے لائنوں کی بجلی کاری کے کام کی تکمیل کا ذکر کیا، جس سے شمالی اور جنوبی علاقوں میں ٹرینوں کی رفتار میں اضافہ ہوگا۔ دیناج پور، کوچ بہار اور جلپائی گوڑی، جبکہ سلی گوڑی – سمکتلا راستے سے قریبی جنگلاتی  علاقوں میں آلودگی کم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بارسوئی - رادھیکاپور سیکشن کی بجلی کاری سے بہار اور مغربی بنگال دونوں کو فائدہ ہوگا۔ رادھیکاپور اور سلی گوڑی کے درمیان نئی ٹرین سروس کو جھنڈی دکھائے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ مغربی بنگال میں ریلوے کی مضبوطی سے ترقی کے نئے امکانات کو رفتار ملے گی اور عام لوگوں کی زندگی آسان ہو جائے گی۔

 

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت خطے میں ٹرینوں کی رفتار کو باقی ہندوستان کی طرح برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور جدید تیز رفتار ٹرینیں شروع کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بنگلہ دیش کے ساتھ ریل رابطے کا ذکر کیا، کیونکہ میتالی ایکسپریس نیو جلپائی گوڑی سے ڈھاکہ کینٹ تک چل رہی ہے اور بنگلہ دیش حکومت کے تعاون سے رادھیکاپور اسٹیشن تک رابطہ بڑھایا جا رہا ہے۔

آزادی کے بعد کی دہائیوں میں مشرقی ہندوستان کے مفادات کو نظر انداز کرنے کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت مشرقی ہندوستان کو ملک کی ترقی کا انجن تصور کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خطے میں رابطوں کو بہتر بنانے کے لیے بے مثال سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مغربی بنگال کا سالانہ اوسط ریلوے بجٹ جو صرف 4,000 کروڑ روپے تھا، اب بڑھ کر 14,000 کروڑ روپے ہو گیا ہے۔ وزیر اعظم نے شمالی بنگال سے گوہاٹی اور ہاوڑہ تک سیمی ہائی – اسپیڈ وندے بھارت ٹرین اور 500 امرت بھارت اسٹیشنوں میں سلی گوڑی اسٹیشن کو شامل کرنے کے بارے میں بات کی، جن کو اپ گریڈ کرنے کا کام کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ان 10 سالوں میں، ہم نے ریلوے کی ترقی کو پسنجر کی رفتار سے ایکسپریس کی رفتار تک پہنچایا ہے۔ ہماری تیسری مدت میں یہ سپر فاسٹ رفتار سے آگے بڑھے گی۔

 

وزیر اعظم نے شمالی مغربی بنگال میں 3,000 کروڑ روپے سے زیادہ کے دو سڑکوں کے پروجیکٹوں کے افتتاح کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ہائی وے  27 کے گھوشپوکور – دھوپ گوڑی سیکشن کو چار لین کا بنانے اور اسلام پور بائی پاس کو 4 لین بنانے سے جلپائی گوڑی، سلی گوڑی اور میناگوڑی شہروں میں ٹریفک جام میں کمی آئے گی، جبکہ سلی گوڑی، جلپائی گوڑی اور علی پور دوار کے علاقوں کو بھی بہتر کنیکٹیوٹی بھی ملے گی۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ’’ڈوار، دارجلنگ، گنگٹوک اور میرک جیسے سیاحتی مقامات تک پہنچنا اب آسان ہو جائے گا‘‘۔انھوں نے کہا کہ اس سے خطے کی تجارت، صنعت اور چائے باغان کو بھی بڑھاوا ملے گا۔

خطاب کے اختتام پر وزیر اعظم نے کہا کہ مرکزی حکومت، مغربی بنگال کی ترقی کے لیے تمام تر کوششیں کر رہی ہے اور آج کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے شہریوں کو مبارکباد دی۔

 

اس موقع پر مغربی بنگال کے گورنر جناب سی وی آنند بوس، مرکزی وزیر مملکت جناب نستھ پرمانک اور ممبر پارلیمنٹ جناب راجو بستا کے ساتھ دیگر اراکین پارلیمنٹ اور قانون ساز اسمبلی کے ممبران موجود تھے۔

پس منظر

وزیر اعظم نے شمالی بنگال اور آس پاس کے علاقوں کے لوگوں کو فائدہ پہنچانے والی ریل لائنوں کی بجلی کاری کے متعدد پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقف کیا۔ منصوبوں میں ایکلاکھی - بالورگھاٹ سیکشن؛ بارسوئی - رادھیکاپور سیکشن؛ رانی نگر جلپائی گوڑی - ہلدی باڑی سیکشن؛ باغ ڈوگرا کے راستے سلی گڑی - الواباڑی سیکشن اور سلی گوڑی - سیوک - علی پور دوار جنکشن - سمکتلا (علی پور دوار جنکشن - نیو کوچ بہار سمیت) سیکشن شامل ہیں۔

 

وزیر اعظم نے منی گرام – نمٹیٹا سیکشن میں ریلوے لائن کی دوہری کاری کے پروجیکٹوں سمیت دیگر اہم ریلوے پروجیکٹوں کو بھی قوم کے نام وقف کیا۔ اور نیو جلپائی گوڑی میں الیکٹرانک انٹرلاکنگ سمیت امباڑی فالاکاٹا - الواباڑی میں خودکار بلاک سگنلنگ کو بھی قوم کے نام وقف  کیا۔ وزیر اعظم نے سلی گوڑی اور رادھیکاپور کے درمیان ایک نئی مسافر ٹرین سروس کو بھی ہری جھنڈی دکھائی۔ یہ ریل پروجیکٹ ریل رابطے میں بہتری لائیں گے، مال برداری میں سہولت فراہم کریں گے اور خطے میں روزگار پیدا کریں گے اور اقتصادی ترقی میں تعاون دیں گے۔

وزیراعظم نے مغربی بنگال میں  3100 کروڑ روپے کے دو قومی شاہراہ منصوبوں کا افتتاح کیا۔ ان منصوبوں میں نیشنل ہائی وے 27 کا چار لین گھوشپوکور – دھوپ گڑی سیکشن اور نیشنل ہائی وے 27 پر چار لین اسلام پور بائی پاس شامل ہیں۔ گھوشپوکر – دھوپ گوڑی سیکشن مشرقی ہندوستان کے باقی حصوں سے جوڑنے والے شمال-جنوبی ٹرانسپورٹ گلیارے کا حصہ ہے۔ اس سیکشن کے چار لین بننے سے شمالی بنگال اور شمال مشرقی خطوں کے درمیان بلا راوٹ ربط قائم ہوجائے گا۔ چار لین والا اسلام پور بائی پاس سے اسلام پور شہر میں ٹریفک کی بھیڑ کو کم کرنے میں مدد کرے گا۔ سڑک پروجیکٹ خطے میں صنعتی اور اقتصادی ترقی کو بھی رفتار فراہم کریں  گے۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s 5G traffic surges 70% Y-o-Y: Nokia report

Media Coverage

India’s 5G traffic surges 70% Y-o-Y: Nokia report
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs CCS Meeting to review measures being taken in the context of ongoing West Asia Conflict
April 01, 2026
Interventions across agriculture, fertilizers, shipping, aviation, logistics and MSMEs to mitigate emerging challenges discussed
Supply diversification for LPG and LNG, fuel duty reduction and power sector measures reviewed to ensure stability of essential supplies
Steps being taken to ensure stable prices of essential commodities and strict action against hoarding and black-marketing
Control Rooms set up for constant monitoring and interaction with States/UTs on prices and enforcement of Essential Commodities Act
Various efforts being taken to ensure fertilizer supply such as maintaining Urea Production and coordination with overseas suppliers for DAP/NPKS supplies
PM assesses availability of critical needs for the common man
PM discusses availability of fertilisers in the country and steps being taken to ensure its availability in the Kharif and Rabi seasons
PM directs that all efforts must be made to safeguard the citizens from the impact of this conflict
PM underlines the need for timely & smooth flow of authentic information to the public to prevent misinformation and rumour mongering
Enough coal stock exists which shall serve power needs adequately in coming months

Prime Minister Shri Narendra Modi a special of the Cabinet Committee on Security (CCS) to review measures taken by various Ministries/Departments and also discussed further initiatives to be taken in the context of the ongoing West Asia conflict, at 7 Lok Kalyan Marg today. This was the second special CCS meeting on this issue.

Cabinet Secretary briefed about the action taken to ensure supply of petroleum products, particularly LNG/LPG, and sufficient power availability. Sources are being diversified for procurement of LPG with new inflows from different countries. Similarly, Liquefied Natural Gas (LNG) is being sourced from different countries. He further briefed that LPG prices for domestic consumers have remained the same and Anti-diversion enforcement to curb hoarding and black marketing of LPG is being conducted regularly.

Initiatives have also been taken to expand Piped Natural Gas connections. Measures like exempting the gas-based power plants with a capacity of 7-8 GW from gas pooling mechanism and increasing of rake for positioning more coal at thermal power stations etc. have also been taken to ensure availability of power during the peak summer months.

Further, interventions proposed to be taken for emerging challenges in various other sectors such as agriculture, civil aviation, shipping and logistics were also discussed.

Various efforts like maintaining urea production to meet requirements, coordinating with overseas supplies for DAP/NPKS suppliers are being taken to ensure fertilizer supply. State governments are being requested to curb black marketing, hoarding, and diversion of fertilizers through daily monitoring, raids, and strict action.

The retail prices of food commodities have been stable over the past one month. Control Rooms have been set up for constant monitoring and interaction with States/UTs on prices and enforcement of Essential Commodities Act. The prices of agricultural products , vegetables and fruits are also being monitored.

Efforts to globally diversify our sources for energy, fertilizers and other supply chains, and international initiatives for securing safe passage of vessels through the strait of Hormuz and ongoing diplomatic efforts are being taken.

Enhanced coordination, real-time communication, and proactive measures across central, state, and district levels to drive effective information dissemination and public awareness amid the evolving crisis is being undertaken.

Prime Minister assessed the availability of critical needs for the common man. He discussed availability of fertilisers in the country and steps being taken to ensure its availability in the Kharif and Rabi seasons. He said that all efforts must be made to safeguard the citizens from the impact of this conflict. Prime Minister also emphasised smooth flow of authentic information to the public to prevent misinformation and rumour mongering.

Prime Minister directed all concerned departments to take all possible measures to ameliorate the problems of citizens and sectors affected by the ongoing global situation.