وشنو مہایگیہ میں مندر درشن، پریکرما اور پورناہوتی کے عمل کو انجام دیا
ملک کی مسلسل ترقی اور غریبوں کی فلاح و بہبود کے لیے بھگوان شری دیونارائن جی سے آشیرواد مانگا
’’بھارت کو جغرافیائی، ثقافتی، سماجی اور نظریاتی طور پر توڑنے کی کئی کوششوں کے باوجود کوئی طاقت ہندوستان کو ختم نہیں کرسکی‘‘
’’یہ ہندوستانی سماج کی طاقت اور تحریک ہے جو قوم کی لافانیت کو محفوظ رکھتی ہے‘‘
’’بھگوان دیو نارائن کا دکھایا ہوا راستہ سب کا ساتھ کے ذریعے سب کا وکاس کا ہے اور آج ملک اسی راستے پر چل رہا ہے‘‘
’’ملک ہر اس طبقے کو بااختیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے جو محروم اور نظرانداز کیا گیا ہے‘‘
’’قومی دفاع ہو یا ثقافت کا تحفظ، ہر دور میں گوجربرادری نے محافظ کا کردار ادا کیا ہے‘‘
’’نیا ہندوستان پچھلی دہائیوں کی غلطیوں کو سدھار رہا ہے اور اپنے گمنام ہیروز کو عزت دے رہا ہے‘‘

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج راجستھان کے بھلواڑہ میں بھگوان شری دیونارائن جی کے 1111ویں ’اوترن مہوتسو‘ کی یاد میں  منعقدہ تقریب سے خطاب کیا۔ وزیر اعظم نے مندر درشن اور پریکرما کیا اور نیم کا پودا بھی لگایا۔ انہوں نے یگیہ شالا میں جاری وشنو مہایگیہ میں پرناہوتی بھی کی۔ بھگوان شری دیونارائن جی کی پوجا راجستھان کے لوگ کرتے ہیں، اور ان کے پیروکار ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ خاص طور پر عوامی خدمت کے لیے اپنے کام کے لیے قابل احترام ہیں۔

حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس مبارک موقع پر حاضری کا موقع ملنے پر خوشی کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ وہ یہاں وزیر اعظم کے طور پر نہیں بلکہ ایک یاتری کے طور پر آئے ہیں جو بھگوان شری دیونارائن جی کا آشیرواد حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ انہوں نے یگیہ شالا میں جاری وشنو مہایگیہ میں ’پورناہوتی‘ کرنے کے قابل ہونے پر بھی اظہار تشکر کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ میں دیو نارائن جی اور جنتا جناردن دونوں کے ’درشن‘ پا کر خود کو خوش قسمت محسوس کر رہا ہوں۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ’’ہر دوسرے یاتری کی طرح جو یہاں ہے، میں بھگوان شری دیونارائن جی سے ملک کی مسلسل ترقی اور غریبوں کی فلاح و بہبود کے لیے آشیرواد چاہتا ہوں۔‘‘

بھگوان شری دیونارائن کے 1111 ویں اوترن دیوس کے شاندار موقع پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم نے گزشتہ ایک ہفتہ سے یہاں ہونے والے ثقافتی پروگراموں اور گوجر برادری کی فعال شراکت داری کا ذکر کیا ۔ انہوں نے کمیونٹی کے ہر فرد کی کوششوں کی تعریف کی اور انہیں اس موقع پر مبارکباد دی۔

ہندوستانی شعور کے قدیم تسلسل کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان صرف ایک زمینی ٹکڑا نہیں ہے بلکہ ہماری تہذیب، ثقافت، ہم آہنگی اور امکانات کا اظہار ہے۔ انہوں نے ہندوستانی تہذیب کی لچک کے بارے میں بات کی کیونکہ بہت سی دوسری تہذیبیں بدلتے وقت کے مطابق نہیں ڈھل سکیں اور فنا ہو گئیں۔ جناب مودی نے کہا کہ ہندوستان کو جغرافیائی، ثقافتی، سماجی اور نظریاتی طور پر توڑنے کی کئی کوششوں کے باوجود کوئی طاقت ہندوستان کو ختم نہیں کر سکتی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ’’آج کا ہندوستان ایک عظیم مستقبل کی بنیاد رکھ رہا ہے‘‘۔ انہوں نے اس کا سہرا  ہندوستانی سماج کی طاقت اور تحریک کو دیا جو قوم کی لافانی حیثیت کو محفوظ رکھتا ہے۔ ہندوستان کے ہزار سالہ سفر میں سماج کی طاقت کی شراکت پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے اس توانائی کو ذکر کیا جو تاریخ کے ہر دور میں سماج کے اندر سے پیدا ہوتی ہے اور ہر ایک کے لیے رہنما روشنی کا کام کرتی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بھگوان شری دیونارائن نے ہمیشہ خدمت اور عوام کی بھلائی کو ترجیح دی۔ وزیر اعظم نے شری دیونارائن کی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے لگن اور انسانیت کی خدمت کے ان کے انتخاب کا ذکر کیا۔ بھگوان دیو نارائن نے جو راستہ دکھایا ہے وہ ’سب کا ساتھ‘ کے ذریعے ’سب کا وکاس‘ کا ہے اور آج ملک اسی راستے پر چل رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا۔ پچھلے 8-9 سالوں سے ملک ہر اس طبقے کو بااختیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے جو محروم اور نظرانداز کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم ’’محروموں کو ترجیح‘‘ کے منتر کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے اس وقت کو یاد کیا جب غریبوں کے لیے راشن کی دستیابی اور معیار کے بارے میں بڑی غیر یقینی صورتحال تھی۔ ، انہوں نے کہا کہ آج  ہر مستحق کو پورا راشن مل رہا ہے اور مفت مل رہا ہے۔ آیوشمان بھارت اسکیم نے علاج  و معالجے کی فکر مندی  کو دور  کردیا  ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم غریب طبقے کی رہائش، بیت الخلا، گیس کنکشن اور بجلی کے بارے میں تشویش کو بھی دور کر رہے ہیں، حالیہ برسوں میں ہونے والی مالی شمولیت کی نشاندہی کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بینکوں کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پانی کی اتنی قیمت کوئی نہیں جانتا جتنا راجستھان۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ آزادی کی کئی دہائیوں کے بعد بھی صرف 3 کروڑ خاندانوں کو ہی اپنے گھروں میں پانی کے کنکشن ملے ہیں اور 16 کروڑ سے زیادہ خاندانوں کو روزانہ کی بنیاد پر پانی کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ گزشتہ ساڑھے تین سالوں میں مرکزی حکومت کی کوششوں سے اب تک گیارہ کروڑ سے زیادہ خاندانوں کو نلکے کے پانی کے کنکشن مل چکے ہیں۔ انہوں نے اس جامع کام کا بھی ذکر کیا جو ملک میں زرعی کھیتوں کو پانی کی فراہمی کے لیے کیا جا رہا ہے۔ چاہے وہ روایتی طریقوں کی توسیع ہو یا آبپاشی کے لیے نئی ٹیکنالوجی کو اپنانا، کسانوں کی ہر قدم پر مددکی جاتی ہے، وزیر اعظم نے پی ایم کسان سمان ندھی اسکیم کے بارے میں بتایا جس کے ذریعے راجستھان کے کسانوں کے بینک اکاؤنٹس میں 15000  کروڑ روپے براہ راست منتقل کیے گئے ہیں۔ ۔

’گئو سیوا‘ کو سماجی خدمت اور سماجی تفویضاختیارات   کے لیے بھگوان دیو نارائن کی مہم کا حوالہ دیتے ہوئے، وزیر اعظم نے ملک میں گئو سیوا کے بڑھتے ہوئے جذبے کی نشاندہی کی۔ انہوں نے پاؤں اور منہ کی بیماری کے لئے ملک گیر ویکسینیشن مہم، راشٹریہ کامدھینو آیوگ اور راشٹریہ گوکل مشن کے قیام کا ذکر کیا۔ وزیر اعظم نے زور دیکر کہا کہ 'پشو دھن' (مویشی) ہماری دیہی معیشت کے کلیدی جزو  اور ہمارے عقیدے اور روایت کا لازمی حصہ ہیں، یہی وجہ ہے کہ، پہلی بار، کسان کریڈٹ کارڈ کو مویشی پالنے والے طبقے اور چرواہوں تک بڑھایا گیا ہے ۔ اسی طرح گوبردھن اسکیم کچرے کو دولت میں بدل رہی ہے۔

گزشتہ سال یوم آزادی کے موقع پر قوم سے اپنے خطاب کے دوران پنچ پرانوں کو یاد کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اپنی  وراثت پر فخر کرنے، غلامی کی ذہنیت کو توڑنے، قوم کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے، آزادی  کیلئے دی گئی  شہادت کو یاد رکھنے اور مجاہدین آزادی  نیز ہمارے آباؤ اجداد کے دکھائے ہوئے راستے پر چلنے جے مقصد کو دہرایا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ راجستھان وراثت کی سرزمین ہے جہاں تخلیق اور جشن کا جوش پایا جا سکتا ہے، جہاں محنت میں چیریٹی  مل سکتی ہے، جہاں بہادری ایک گھریلو رسم ہے اور زمین رنگوں اور راگوں کا مترادف ہے۔

جناب مودی نے تیجا جی سے پابوجی، گوگاجی سے رام دیو جی، بپا راول سے مہارانا پرتاپ جیسی شخصیات  کے  شاندار تعاون کا ذکر کیا اور کہا کہ اس سرزمین سے عظیم شخصیات، لیڈران اور مقامی دیوتاؤں نے ہمیشہ ملک کی رہنمائی کی ہے۔ وزیر اعظم نے خاص طور پر گرجر برادری کے تعاون  کا ذکر کیا جو ہمیشہ بہادری اور حب الوطنی کا مترادف رہا ہے۔ انہوں نے کہا چاہے وہ قومی دفاع ہو یا ثقافت کا تحفظ، ہر دور میں گو جر برادری نے محافظ کا کردار ادا کیا ہے، انہوں نے  کرانتی ویر بھوپ سنگھ گو جر کی مثالیں دیں جنہیں وجے سنگھ پاتھک کے نام سے جانا جاتا ہے جنہوں نے متاثر کن بیجولیا کسان تحریک کی قیادت کی۔ جناب مودی نے کوتوال دھن سنگھ جی اور جوگراج سنگھ جی کے تعاون کو بھی یاد کیا۔ انہوں نے گوجر  خواتین کی بہادری اور تعاون  پر بھی روشنی ڈالی اور رام پیاری گوجر اور پنا ڈھائی کو خراج تحسین پیش کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ روایت آج بھی پروان چڑھ رہی ہے۔ یہ ملک کی بدقسمتی ہے کہ ایسے لاتعداد جنگجو ہماری تاریخ میں وہ مقام حاصل نہیں کر سکے جس کے وہ حقدار تھے۔ لیکن نیا ہندوستان پچھلی دہائیوں کی ان غلطیوں کو سدھار رہا ہے۔

وزیر اعظم نے بھگوان دیو نارائن جی کے پیغام اور ان کی تعلیمات کو آگے بڑھانے میں گوجر برادری کی نئی نسل کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ گوجر برادری کو بھی بااختیار بنائے گا اور اس سے ملک کو آگے بڑھنے میں مدد ملے گی۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ 21ویں صدی کا دور راجستھان کی ترقی کے لیے اہم ہے، وزیر اعظم نے ملک کی ترقی کے لیے متحد ہونے اور کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر اعظم نے کہا  کہ آج پوری دنیا ہندوستان کی طرف بڑی امید کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگجوؤں کی اس سرزمین کا فخر بھی پوری دنیا میں ہندوستان کی طاقت کے مظاہرہ سے بڑھ گیا ہے۔ وزیر اعظم نےکہا کہ آج، ہندوستان دوسرے ممالک پر اپنا انحصار کم کرتے ہوئے دنیا کے ہر بڑے پلیٹ فارم پر غیر متزلزل اعتماد کے ساتھ بات کرتا ہے۔ ہمیں اپنے عزائم کو ثابت کرتے ہوئے دنیا کی توقعات پر پورا اترنا ہے ۔انہوں نے بھگوان دیو نارائن جی اور سب کا پریاس (ہر ایک کی کوشش) کے آشیرواد سے کامیابی  کے تئیں  یقین کا اظہار  کیا۔

آخر میں، وزیر اعظم نے ایک کمل پر نمودار ہونے والے  بھگوان دیو نارائن جی کے 1111 ویں سال میں اس اتفاق کا ذکر کیا جب ہندوستان نے جی - 20 کی صدارت سنبھالی  ہے اورجس کے لوگو میں بھی کمل کو زمین  لا بوجھ اٹھانے والے کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر سماجی توانائی اور عقیدت کے ماحول کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے  اپنی تقریر کا اختتام کیا۔

اس موقع پر ثقافت کے مرکزی وزیر مملکت جناب ارجن رام میگھوال، ملاسری ڈوگری کے ہیڈ پجاری شری ہیمراج جی گوجر اور ممبر پارلیمنٹ جناب سبھاش چندر بہیریا کے علاوہ دیگر  افراد موجود تھے۔

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
One of the world’s first canal-top solar projects placed a 750-meter solar array above an Indian irrigation canal, generating clean power while saving an estimated 9 million liters of water each year

Media Coverage

One of the world’s first canal-top solar projects placed a 750-meter solar array above an Indian irrigation canal, generating clean power while saving an estimated 9 million liters of water each year
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM addresses an energy-packed public rally in Jalandhar, Punjab
July 17, 2026
The party ruling Punjab neither has honest intent nor clean governance: PM Modi's sharp criticism
Punjab’s farmers, youth and entrepreneurs can make the state one of India's strongest growth engines. For that, Punjab needs a double-engine BJP government: PM’s promise
Punjab's youth have extraordinary talent. From the sports goods capital of Jalandhar, I want to tell every young person that this is the time to seize new opportunities: PM
BJP-governed states are delivering faster development, better welfare and stronger support for farmers and employees: PM notes in Punjab

PM Modi addressed a massive public rally in Jalandhar, Punjab, where he highlighted the transformation of India's railway infrastructure, outlined the BJP's vision for a Viksit Punjab and called for a double-engine government to unlock the state's full potential. He also spoke about the growing opportunities for Punjab's youth through India's emerging sports economy.

The PM said Indian Railways, which serves millions of poor and middle-class families every day, had long suffered neglect under previous governments. He noted that while earlier governments limited themselves to announcing new trains, the BJP government has focused on modernising railway infrastructure across the country. He said the newly inaugurated Jalandhar Cantt station, alongside other stations, reflects the vision of a Viksit Bharat while also celebrating Punjab's cultural heritage. He added that these stations are becoming centres of commerce by creating opportunities for local artisans, Vishwakarma beneficiaries and women SHGs. He also recalled that the BJP government renamed Adampur Airport after Shri Guru Ravidass Maharaj Ji and Chandigarh International Airport after Shaheed Bhagat Singh, honouring India's great icons.

PM Modi strongly criticised the Punjab government over law and order, corruption and misgovernance. He said rising gang wars, extortion, attacks on police stations and the growing drug menace have put Punjab's future at risk. He alleged that corruption and criminal cases involving leaders of the ruling party have eroded public trust, while funds provided by the Centre for roads, irrigation, markets and welfare have not been utilised effectively. He further stated that central schemes were being rebranded instead of being implemented honestly, adding that even the Ayushman Bharat scheme had been subjected to political branding.

Calling for a double-engine government in Punjab, the PM said the state has immense potential through its farmers, youth and entrepreneurs. Drawing comparisons with BJP-governed states, he said double-engine governments have accelerated development, strengthened welfare delivery and ensured better support for farmers and employees. He alleged that promises made to women in Punjab remain unfulfilled, while Congress and other regional parties remain occupied with internal politics instead of serving the people. He said only the BJP can bring lasting development, attract fresh investment, generate employment and make Punjab a stronger and more self-reliant state.

Addressing the youth, he noted Jalandhar's globally recognised sports manufacturing ecosystem and said it is at the heart of India's emerging sports economy. He said initiatives such as ‘Khelo India’ are creating new opportunities across sports manufacturing, coaching, sports science, sports medicine, universities, centres of excellence and sports startups. Referring to his recent visits to Australia and New Zealand, he said several agreements had been signed to strengthen India's sports ecosystem and encouraged Punjab's youth to seize these opportunities and make the country proud on the global stage.