ہندوستان اور برطانیہ نے آزاد تجارتی معاہدے کو کامیابی کے ساتھ حتمی شکل دی ہے: وزیر اعظم
ہندوستان، تجارت اور کامرس کا ایک شاندار مرکز بن رہا ہے:وزیر اعظم
پچھلی دہائی کے دوران، ہندوستان نے مسلسل ملک پہلے کی پالیسی پر عمل کیا ہے: وزیر اعظم
آج، جب کوئی ہندوستان کو دیکھتا ہے، تو انہیں بھروسہ ہوجاتا ہے کہ جمہوریت سے کچھ بھی ممکن ہے: وزیر اعظم
ہندوستان، جی ڈی پی پر مرکوز نقطہ نظر سے لوگوں کو مجموعی طور پر بااختیار بنانے پر مرکوز پیش رفت(جی ای پی) کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے: وزیر اعظم
ہندوستان دنیا کو دکھا رہا ہے کہ روایت اور ٹیکنالوجی ایک ساتھ کیسے پروان چڑھ سکتے ہیں: وزیر اعظم
خود انحصاری ہمیشہ سے ہمارے معاشی ڈی این اے کا حصہ رہی ہے: وزیراعظم

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں  اے بی پی نیٹ ورک انڈیا@2047 سمٹ میں شرکت کی۔ مجمع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت منڈپم میں آج صبح سے ہی پروگرام کی دھوم ہے۔ انہوں نے منتظمہ ٹیم کے ساتھ اپنی بات چیت کا ذکر کیا اور سمٹ کے بھرپور تنوع کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کئی معزز شخصیات کی شرکت پر خوشی کااظہار کیا جنہوں نے تقریب کو کامیاب بنانے میں اپنا تعاون کیا۔ وزیر اعظم نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ تمام شرکاء کا انتہائی مثبت تجربہ ہے۔ سربراہی اجلاس میں نوجوانوں اور خواتین کی نمایاں موجودگی پر زور دیتے ہوئے، انہوں نے خاص طور پر ڈرون دیدیوں اور لکھپتی دیدیوں کے اشتراک کردہ متاثر کن تجربات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کہانیاں ترغیب  کا ذریعہ ہیں۔

سربراہی اجلاس کو ایک بدلتے ہوئے ہندوستان کی عکاسی کے طور پر بیان کرتے ہوئے جو ہر شعبے میں خود کو ثابت کر رہا ہے، جناب مودی نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی سب سے بڑی تمنا 2047 تک ایک ترقی یافتہ ملک بننا ہے۔ ہندوستان کی طاقت، وسائل اور عزم کو اجاگر کرتے ہوئے، انہوں نے سوامی وویکانند کے الفاظ کا ذکر کرتے  ہوئے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اٹھے، بیدار ہو اور اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کی تگ ودو کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ غیر متزلزل جذبہ آج ہر شہری میں نظر آتا ہے۔ جناب مودی نے ترقی یافتہ ہندوستان کی جستجو میں اس طرح کے سربراہی اجلاسوں کے کردار پر زور دیا۔ انہوں نے ایک شاندار سربراہی اجلاس کی میزبانی کے لیے منتظمین کی ستائش کی اور جناب  اتی دیب سرکار،  جناب  رجنیش، اور اے بی پی نیٹ ورک کی پوری ٹیم کو ان کی کوششوں کے لیے مبارکباد دی۔

 

اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ آج ہندوستان کے لئے ایک تاریخی لمحہ ہے، وزیر اعظم نے اشتراک کیا کہ انہوں نے برطانیہ کے وزیر اعظم کے ساتھ بات چیت کی اور ہندوستان-برطانیہ آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اوپن مارکیٹ کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان یہ معاہدہ تجارتی اور اقتصادی تعاون میں ایک نئے باب کا اضافہ کرے گا، جس سے دونوں ممالک کی ترقی کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے انہوں نےذکر کیا کہ یہ ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے بہت اچھی خبر ہے، کیونکہ اس سے اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور ہندوستانی کاروباروں اور  ایم ایس ایم ایزکے لیے نئے مواقع  کی شروعات ہوگی۔ وزیر اعظم نے یہ بھی بتایا کہ ہندوستان نے حال ہی میں متحدہ عرب امارات، آسٹریلیا اور ماریشس کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان نہ صرف اصلاحات نافذ کر رہا ہے بلکہ دنیا کے ساتھ فعال طور پر منسلک ہو کر خود کو تجارت اور کامرس کے ایک شاندار حد کے طور پر کھڑا کر رہا ہے۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ جرات مندانہ فیصلہ سازی اور اہداف کے حصول کے لیے قوم کے مفادات کو اولیت دینے اور اس کی صلاحیت پر بھروسہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، جناب مودی نے کہا کہ بدقسمتی سے، کئی دہائیوں سے، ہندوستان ایک متضاد نقطہ نظر میں پھنسا ہوا ہے جو ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح ماضی میں بڑے فیصلوں میں عالمی رائے عامہ، انتخابی چیلنجوں اور سیاسی بقا کے خدشات کی وجہ سے تاخیر ہوئی تھی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ خود غرضی کو اکثر ضروری اصلاحات پر ترجیح دی گئی، جس سے ملک کو دھچکا لگا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ کوئی بھی ملک اس وقت آگے نہیں بڑھ سکتا جب تک اس کے فیصلے قلیل مدتی سیاسی مفادات کے تحت کیے جائیں۔ انہوں نے تصدیق کی کہ حقیقی ترقی تب ہوتی ہے جب فیصلہ سازی کا واحد معیار ‘‘ملک پہلے ’’  ہو۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران، ہندوستان نے اس اصول پر عمل کیا ہے، اور ملک اب اس نقطہ نظر کے نتائج کا مشاہدہ کر رہا ہے۔

’’گزشتہ 10-11 سالوں کے دوران، ہماری حکومت نے طویل عرصے سے زیر التوا مسائل کو حل کرنے کے لیے کئی فیصلہ کن اقدامات کیے ہیں جن میں سیاسی ارادے کی کمی تھی اور جو کئی دہائیوں سے حل نہیں ہوئے’’، وزیر اعظم نے بینکنگ سیکٹر کو ایک اہم مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا کہ بینکنگ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2014 سے پہلے، ہندوستان کے بینک تباہی کے دہانے پر تھے، اور ہر مالیاتی سربراہی اجلاس میں لازمی طور پر بینکنگ کے نقصانات پر بحث ہوتی تھی۔ تاہم، انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ آج، ہندوستان کا بینکنگ سیکٹر دنیا میں سب سے زیادہ مضبوط ہے، جہاں بینکوں نے ریکارڈ منافع کی جانکاری  دی ہے اور جمع کنندگان ان اصلاحات سے مستفید ہو رہے ہیں۔ وزیراعظم نے ان کامیابیوں کا سہرا بینکنگ سیکٹر میں اپنی حکومت کی مسلسل کوششوں کو دیا، جس میں اہم اصلاحات، قومی مفاد میں چھوٹے بینکوں کے انضمام اور مالیاتی اداروں کو مضبوط کرنے کے اقدامات کو نمایاں کیا گیا۔ انہوں نے ایئر انڈیا کی ماضی کی حالت کا بھی حوالہ دیا، یہ ذکر کرتے ہوئے کہ ایئر لائن ڈوب رہی تھی، جس سے ملک کو ہزاروں کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا تھااور سابقہ ​​حکومتیں اصلاحی اقدامات نافذکرنے سے ہچکچارہی تھیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کی حکومت نے مزید نقصانات کو روکنے کے لیے ضروری فیصلے کیے ہیں۔ ، انہوں نے اس بات کی تصدیق کی‘‘ہماری حکومت کے لیے، قوم کا مفاد سب سے مقدم ہے’’۔

 

حکمرانی کی ایک اہم تبدیلی پر روشنی ڈالتے ہوئے، سابق وزیر اعظم کے اس اعتراف کو یاد کرتے ہوئے کہ غریبوں کے لیے صرف 15فیصد سرکاری فنڈز ہی ان تک پہنچتے ہیں، جناب مودی نے کہا کہ برسوں میں حکومتیں بدلنے کے باوجود، مستفید ہونے والوں کو براہ راست مالی امداد کو یقینی بنانے کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر(ڈی بی ٹی) سسٹم متعارف کرایا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ غریبوں کا ہر روپیہ بغیر بچولئے کے ان تک پہنچ جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس اصلاحات نے سرکاری اسکیموں میں خامیوں کو ختم کیا اور مطلوبہ وصول کنندگان کو براہ راست مالی فوائد حاصل کرنے کے قابل بنایا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حکومت کے ریکارڈ میں پہلے 10 کروڑ دھوکہ دہی سےاسکیموں سے فائدہ اٹھا رہےتھے جو اس کے اہل نہیں تھے، پھر بھی وہ فوائد حاصل کر رہے تھے۔ یہ نام ماضی کی انتظامیہ کے بنائے ہوئے نظام میں شامل تھے۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا کہ ان کی حکومت نے ان 10 کروڑ جھوٹے اندراجات کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹا دیا ہے اور اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ڈی بی ٹی کے ذریعے صحیح مستفید ہونے والوں کے بینک کھاتوں میں براہ راست رقم منتقل کی جائے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس اصلاحات نے 3.5 لاکھ کروڑ روپےسے زیادہ رقم کو غلط ہاتھوں میں جانے سے روک دیا ہے۔

وزیر اعظم نے ون رینک ون پنشن (او آر او پی) اسکیم کو لاگو کرنے میں دہائیوں کی تاخیر پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ  سابقہ  حکومتوں نے مالی بوجھ کا حوالہ دیتے ہوئے اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا، لیکن ان کی حکومت نے قومی سلامتی کے لیے اپنی زندگیاں وقف کرنے والوں کے مفادات کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ او آر او پی سے لاکھوں فوجی خاندانوں کو فائدہ ہوا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی حکومت نے سابق فوجیوں کو اسکیم کے تحت  1.25 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم تقسیم کی ہے، جس سے ان کے جائز حقوق کو یقینی بنایا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے معاشی طور پر پسماندہ خاندانوں کے لیے ریزرویشن کے معاملے کو بھی حل کیا، اس بات کا ذکر  کرتے ہوئے کہ برسوں کی بات چیت کے باوجود کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ ان کی حکومت نے اس پالیسی کو نافذ کرنے کے لیے فیصلہ کن قدم اٹھایا۔ لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33فیصدریزرویشن کے بارے میں، وزیر اعظم نے ماضی کی سیاسی رکاوٹوں کو یاد کیا جو اس کی ترقی میں رکاوٹ تھیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ذاتی مفادات نے اس اہم اصلاحات میں تاخیر کی، لیکن ان کی حکومت نے سیاسی نمائندگی کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے قانون سازی کرکے قومی مفاد کے اصول کو برقرار رکھا۔

اس بات کو اجاگر کرتے ہوئے کہ ماضی میں ووٹ بینکوں پر سیاسی خدشات کی وجہ سے کئی اہم مسائل کو جان بوجھ کر ٹال دیا گیا، جناب مودی نے طلاق ثلاثہ کی مثال پیش کی، جس سے بے شمار مسلم خواتین پریشان تھی، اس کے باوجود پچھلی حکومتیں ان کی حالت زار سے لاتعلق رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے تین طلاق کے خلاف قانون سازی کرکے، انصاف اور بااختیار بنانے کو یقینی بناتے ہوئے خواتین کے حقوق اور مسلم خاندانوں کی بھلائی کو ترجیح دی۔ انہوں نے وقف ایکٹ میں اصلاحات کی دیرینہ ضرورت پر بھی توجہ دی، یہ بتاتے ہوئے کہ ضروری ترامیم سیاسی وجوہات کی وجہ سے دہائیوں سے تاخیر کا شکاررہی  ہیں۔ جناب مودی نے تصدیق کی کہ ان کی حکومت نے اب اہم  تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں جن سے مسلم ماؤں، بہنوں اور کمیونٹی کے معاشی طور پر پسماندہ طبقات کو حقیقی طور پر فائدہ پہنچے گا۔

 

اپنی حکومت کی طرف سے شروع کی گئی ایک اہم پہل یعنی ندیوں کو آپس میں جوڑنے کی نشاندہی کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ کئی دہائیوں تک پانی کے تنازعات پر بات چیت کا غلبہ رہا، لیکن ان کی انتظامیہ نے ریاستی حکومتوں کے ساتھ مل کر دریاؤں کو جوڑنے کی ایک بڑی مہم شروع کی ہے۔ وزیر اعظم نے کین-بیٹوا لنک پروجیکٹ اور پاروتی-کالی سندھ-چمبل لنک پروجیکٹ جیسے اہم پروجیکٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ان اقدامات سے پانی کی رسائی کو یقینی بناتے ہوئے لاکھوں کسانوں کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے ماضی کے منظر نامے پر روشنی ڈالتے ہوئےآبی وسائل پر جاری میڈیا گفتگو کا بھی ذکر کیا جہاں بھارت کا پانی کا حصہ اس کی سرحدوں سے باہر بہہ رہا تھا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی  ‘‘ہندوستان کا پانی ملک کے اندر رہے گا، ملک کی ترقی کے لیے اس کے صحیح مقصد کی خدمت کرے گا’’، ۔

جناب مودی نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ جہاں پارلیمنٹ کی نئی عمارت کی تعمیر کا بڑے پیمانے پر چرچا ہے، ایک اہم کامیابی جسے اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے وہ دہلی میں ڈاکٹر امبیڈکر قومی یادگار کا قیام ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پہل اصل میں اٹل بہاری واجپائی کی حکومت کے دوران شروع کی گئی تھی، لیکن تعمیر ایک دہائی تک تعطل کا شکار رہی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی حکومت نے نہ صرف یادگار کو مکمل کیا بلکہ پنچ تیرتھ میں بابا صاحب امبیڈکر سے وابستہ اہم مقامات کو بھی تیار کیا، جس سے ان کی میراث کی عالمی شناخت کو یقینی بنایا گیا۔

ان حالات کو یاد کرتے ہوئے جن میں ان کی حکومت 2014 میں بنی تھی، ایک ایسے وقت میں جب حکمرانی پر عوام کا اعتماد بری طرح ہل گیاتھا، وزیر اعظم نے کہا کہ کچھ لوگوں نے یہ سوال بھی کرنا شروع کر دیا تھا کہ کیا جمہوریت اور ترقی ایک ساتھ  برقرار رہ سکتی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا، ‘‘آج کا ہندوستان جمہوریت کی طاقت کے ثبوت کے طور پر کھڑا ہے، فخر کے ساتھ یہ ظاہر کر رہا ہے کہ جمہوریت فراہم کر سکتی ہے’’۔ وزیر اعظم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران 25 کروڑ لوگ غربت سے باہر نکلے ہیں، جس سے دنیا کو جمہوری طرز حکمرانی کی تاثیر کے بارے میں ایک مضبوط پیغام بھیجا گیا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ لاکھوں چھوٹے کاروباری جنہوں نے مدرا یوجنا کے تحت قرض حاصل کیا ہے، جمہوریت کے مثبت اثرات کا خود تجربہ کیا ہے۔ مزید برآں، متعدد اضلاع جس پر پسماندہ ہونے کا لیبل لگاہوا تھا، کلیدی ترقیاتی پیرامیٹرز میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے توقعاتی اضلاع میں تبدیل ہو چکے ہیں، جواس بات کو مزید تقویت دے رہے ہیں کہ جمہوریت ٹھوس نتائج فراہم کرسکتی ہے۔ وزیر اعظم نے مزید زور دے کر کہا کہ ہندوستان کی قبائلی برادریاں، جن میں سب سے زیادہ پسماندہ گروپ شامل ہیں، تاریخی طور پر ترقی سے محروم رہ گئے تھے۔ پی ایم  جن من  یوجنا کے نفاذ کے ساتھ، یہ کمیونٹیز اب سرکاری خدمات تک رسائی حاصل کر رہی ہیں، اور جمہوریت کی ترقی کی اہلیت میں ان کا یقین مضبوط ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ حقیقی جمہوریت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ترقی اور قومی وسائل بلا تفریق آخری شہری تک پہنچیں اور ان کی حکومت اس بنیادی مقصد کے لیے پرعزم ہے۔

 

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ہندوستان تیز رفتار ترقی پر مبنی مستقبل کی تعمیر کر رہا ہے، جو ترقی پسند سوچ، مضبوط عزم اور شدید جذبے سے لیس ہے، جناب مودی نے انسانیت پر مرکوز عالمگیریت کی سمت میں تبدیلی کی طرف نشاندہی کی جہاں ترقی صرف بازاروں سے نہیں بلکہ وقار اور لوگوں کی امنگوں کی تکمیل کو یقینی بنا کر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا ‘‘ہماری حکومت معاشرے کی اجتماعی بہتری پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے لوگوں کو مجموعی طور پر  بااختیار بنانے، جی ای پی پر مرکوز ترقی کے لئے جی ڈی پی پر مرکوز  نقطہ نظر سے آگے بڑھ رہی ہے ۔ اس وژن کی مثال دیتے ہوئے اور کلیدی اقدامات کا خاکہ پیش کرتے ہوئےکہا کہ جب ایک غریب خاندان کو مستقل گھر ملتا ہے، تو ان کی بااختیاریت اور عزت نفس بڑھ جاتی ہے۔ جب صفائی کی سہولیات تیار کی جاتی ہیں تو لوگوں کو کھلے میں رفع حاجت  کی پریشانی سے نجات مل جاتی ہے۔ جب آیوشمان بھارت کے استفادہ کنندگان کو 5 لاکھ  روپے تک مفت صحت کی دیکھ بھال ملتی ہے، تو ان کی سب سے بڑی مالی پریشانیاں دور ہوجاتی ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس طرح کے متعدد اقدامات جامع اور حساس ترقی کے راستے کو مضبوط کر رہے ہیں، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ ہر شہری بااختیار ہو۔

عوام کی خدمت کے عزم پر زور دیتے ہوئے، حکومت کے بنیادی فلسفہ ‘‘ناگارک دیو بھا’’ کو دہراتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی انتظامیہ شہریوں کو پرانی ‘‘مائی باپ’’ ثقافت پر عمل کرنے کے بجائے حکمرانی میں مرکزی حیثیت دیتی ہے۔ انہوں نے خدمت پر مبنی نقطہ نظر کی طرف تبدیلی پر روشنی ڈالی، جہاں حکومت فعال طور پر شہریوں کے لیے رسائی کو یقینی بناتی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پہلے لوگوں کو صرف اپنے کاغذات کی تصدیق کے لیے بار بار سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پڑتے تھے، جب کہ اب خود تصدیق نے اس عمل کو مزید آسان بنا دیا ہے۔ انہوں نے تقریب میں متعدد نوجوان افراد کی موجودگی کا ذکر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ کس طرح ڈیجیٹل ترقی نے انتظامی عمل کو آسان بنا دیا ہے، جس سے عوامی خدمات کو زیادہ موثر اور شہری دوست بنایا گیا ہے۔

جناب مودی نے حکومتی عمل میں تبدیلی پر روشنی ڈالی، انہیں زیادہ قابل رسائی اور شہریوں کے لیے دوستانہ بنایا۔ انہوں نے بزرگ شہریوں کو درپیش چیلنجوں کو یاد کیا، جنہیں پہلے اپنے وجود کا ثبوت دینے کے لیے ہر سال دفاتر یا بینک جانا پڑتا تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی حکومت نے ایک ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا، جس سے بزرگ شہریوں کو اپنے لائف سرٹیفکیٹ  آسانی سے  جمع کرانے کی سہولت فراہم کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح معمول کے کام جیسے کہ بجلی کے کنکشن حاصل کرنا، پانی کے نلکے لگانا، بلوں کی ادائیگی، گیس سلنڈر کی بکنگ، اور ڈیلیوری حاصل کرنا، کے لیے بار بار جانا پڑتا تھا اور یہاں تک کہ کام سے چھٹی بھی لینی پڑتی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ آج ان میں سے بہت سی خدمات کو آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ہموار کیا گیا ہے، جس سے شہریوں کی پریشانی میں کمی آئی ہے۔ جناب مودی نے ہر حکومتی شہری کے درمیان تعامل کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا - چاہے وہ پاسپورٹ، ٹیکس ریفنڈ،یا دیگر خدمات کے لیے ہوں - آسان، تیز اور موثربنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نقطہ نظر 2047 تک ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی بنیاد کو مضبوط کرتے ہوئے ‘ناگارک دیو بھا’ کے اصول کے مطابق ہے۔

ایک ساتھ روایت اور ترقی دونوں کو آگے بڑھانے کے ہندوستان کے منفرد انداز کو اجاگر کرتے ہوئے، ‘‘وکاس بھی، وراثت بھی’’ سے قوم کی وابستگی پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے نشاندہی کی کہ ہندوستان اس بات کا مظاہرہ کر رہا ہے کہ روایت اور ٹیکنالوجی کس طرح ایک ساتھ ترقی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا ریکنگ ڈیجیٹل لین دین میں عالمی رہنماؤں میں شامل ہے جبکہ یوگا اور آیوروید کو بھی عالمی سطح پر لے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان گزشتہ ایک دہائی میں ریکارڈ ایف ڈی آئی کی آمد کے ساتھ سرمایہ کاری کے لیے ایک انتہائی پرکشش مقام بن گیا ہے ۔ انہوں نے چوری شدہ نوادرات اور ورثے کی اشیاء کی بے مثال تعداد میں واپسی پر بھی زور دیا، جو ہندوستان کے بڑھتے ہوئے عالمی قد کی عکاسی کرتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان اب دنیا کا دوسرا سب سے بڑا موبائل فون بنانے والا ملک ہے اور جوار جیسی سپر فوڈز کا ایک سرکردہ پروڈیوسر ہے۔ مزید برآں، انہوں نے شمسی توانائی میں ملک کی کامیابی پر روشنی ڈالی، جس نے 100 گیگا واٹ کی پیداواری صلاحیت کو پیچھے چھوڑ دیا اور قابل تجدید توانائی میں ہندوستان کی قیادت کو تقویت بخشی۔

 

جناب مودی نے زور دے کر کہا کہ ترقی کے لیے اپنی ثقافتی جڑوں کو چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان جتنا گہرائی سے اپنے ورثے سے جڑا رہے گا، جدید ترقی کے ساتھ اس کا جڑاؤ اتنا ہی مضبوط ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ہندوستان اپنی قدیم وراثت کو محفوظ کر رہا ہے اور اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ یہ مستقبل کے لیے طاقت کا ذریعہ بنے رہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کی طرف سفر میں ہر قدم بہت اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اکثر لوگ حکومتی فیصلوں کے ضرب اثر کو محسوس کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ انہوں نے میڈیا اور کنٹینٹ کی تخلیق کے شعبے کی مثال دیتے ہوئے یاد کیا کہ ایک دہائی قبل جب انہوں نے ڈیجیٹل انڈیا کے بارے میں بات کی تھی تو بہت سے لوگوں نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ آج ڈیجیٹل انڈیا بغیر کسی رکاوٹ کے روزمرہ کی زندگی میں ضم ہو گیا ہے۔ جناب مودی نے ڈیجیٹل اسپیس میں انقلاب لانے کا سہرا سستی ڈیٹا اور مقامی طور پر تیار کردہ اسمارٹ فونز کو دیا۔ جب کہ ڈیجیٹل انڈیا نے زندگی گزارنے میں آسانی کو بڑھایا ہے، انہوں نے کنٹینٹ اور تخلیقی صلاحیتوں پر اس کے اثرات کو اجاگر کیا، جو اکثر غیر تسلیم شدہ رہتا ہے۔ انہوں نے اس بات کی مثالیں بھی شیئر کیں کہ کس طرح ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے افراد کو بااختیار بنایا ہے۔ انہوں نے ایک دیہی خاتون کی مثالیں پیش کیں جس نے لاکھوں صارفین کے ساتھ کامیابی حاصل کی، ایک قبائلی نوجوان جو عالمی سامعین کے سامنے روایتی فن کی نمائش کر رہا ہے، اور ایک طالب علم جدید طریقوں سے ٹیکنالوجی کے بارے میں بتا رہا ہے۔ ممبئی میں حالیہ ویوز سمٹ کا حوالہ دیتے ہوئے، جہاں میڈیا، تفریح، اور تخلیقی صنعتوں کے عالمی رہنماؤں  کا مجمع تھا، جناب مودی نے کہا کہ صرف  یو ٹیوب نے گزشتہ تین سالوں میں ہندوستانی  کنٹینٹ  تخلیق کاروں کو  21,000 کروڑ  روپے ادا کیے ہیں، مزید یہ ثابت کیا ہے کہ اسمارٹ فونز تخلیقی صلاحیتوں اور آمدنی پیدا کرنے کے لیے مواصلاتی آلات سے آگے بڑھ کر طاقتور آلات میں تبدیل ہوئے ہیں۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ 2047 تک ایک ترقی یافتہ ہندوستان کا وژن آتم نربھر بھارت پہل سے قریب سے جڑا ہوا ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ‘‘خود انحصاری ہمیشہ سے ہندوستان کے معاشی ڈی این اے کا ایک بنیادی حصہ رہا ہے’’۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابھی تک برسوں سے ملک کو صنعت کار کے بجائے صرف ایک مارکیٹ کے طور پر سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ بیانیہ اب بدل رہا ہے اور ہندوستان ایک بڑے دفاعی صنعت کار اور برآمد کنندہ کے طور پر ابھر رہا ہے، جو 100 سے زیادہ ممالک کو دفاعی مصنوعات فراہم کررہاہے۔ انہوں نے دفاعی برآمدات میں مسلسل اضافہ کا ذکر  کیا اور آئی این ایس وکرانت، آئی این ایس سورت، اور آئی این ایس نیلگیری سمیت ہندوستان کے مقامی بحری بیڑے کی طاقت پر زور دیاجو مکمل طور پر گھریلو صلاحیت کے ذریعے بنایا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے نشاندہی کی کہ ہندوستان ان شعبوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے جو پہلے اس کی طاقت سے باہر سمجھے جاتے تھے، جیسے الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں، ملک الیکٹرانک مصنوعات کا ایک اہم برآمد کنندہ بن گیا ہے، جس کے تحت مقامی اختراعات عالمی منڈیوں تک پہنچ رہی ہیں۔ انہوں نے حالیہ برآمدات کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی کل برآمدات گزشتہ سال ریکارڈ 825 ارب  ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ایک دہائی میں تقریباً دوگنی ہو گئیں۔ اس رفتار کو مزید تیز کرنے کے لیے، انہوں نے تازہ ترین بجٹ میں مینوفیکچرنگ مشن کے آغاز کا اعلان کیا، جس کا مقصد ہندوستان کی پیداواری صلاحیتوں کو نئی بلندیوں تک لے جانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ‘‘ہندوستان کی بڑھتی ہوئی مینوفیکچرنگ صلاحیت عالمی سطح پر تخلیق کاروں، اختراع کاروں، اور خلل ڈالنے والے کے طور پر اس کے لوگوں کی شناخت کو تشکیل دے رہی ہے۔’’

 

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ دہائی آنے والی صدیوں کے لیے ہندوستان کی رفتار کو متعین کرے گی، جناب مودی نے اسے ملک کی تقدیر کی تشکیل کے لیے ایک اہم دور قرار دیا۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ملک کے ہر شہری، ادارے اور شعبے میں تبدیلی کا جذبہ واضح ہے۔ یہ ذکر کرتے ہوئے کہ سربراہی اجلاس میں ہونے والی بات چیت نے پیش رفت کے اس مشترکہ وژن کی عکاسی کی، جناب مودی نے کامیابی کے ساتھ سربراہی اجلاس کے انعقاد کے لیے اے بی پی نیٹ ورک کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اپنی بات ختم کی۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Emerging cities see 42% growth in GCC jobs, outpacing metros: Report

Media Coverage

Emerging cities see 42% growth in GCC jobs, outpacing metros: Report
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi chairs 51st PRAGATI Meeting
May 27, 2026
PM reviews seven critical infrastructure projects across the Railways, Power and Road sectors
Projects reviewed span across 9 States with cumulative investment of around ₹30,000 crore
PM also reviews Ken Betwa Link Project and Swachh Bharat Mission-Urban 2.0
PM says Ken-Betwa River Inter-linking Project should serve as a model for other States to resolve inter-State water issues amicably
PM asks States to expedite the completion of solid waste management-related infrastructure, including waste processing plants and GOBARdhan plants
PM calls for mission-mode rooftop solar coverage in urban areas
Acting upon the advice of PM, system of monthly review of social sector schemes at State level operationalised, starting with review of Swachh Bharat Mission

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 51st meeting of PRAGATI, the ICT-enabled, multi-modal platform aimed at fostering Pro-Active Governance and Timely Implementation, by seamlessly integrating efforts of the Central and State governments, at Seva Teerth, earlier today.

During the meeting, the Prime Minister reviewed seven critical infrastructure projects across the Railways, Power and Road sectors covering nine States worth around ₹30,000 crore. These projects, pivotal to economic growth and public welfare, were reviewed with a focus on timelines, inter-agency coordination, and timely issue resolution. Prime Minister also reviewed Ken Betwa Link Project and Swachh Bharat Mission-Urban 2.0.

While reviewing power sector projects, Prime Minister emphasized the need to accelerate rooftop solar adoption across urban areas, with a special focus on cities, residential clusters and public institutions. He underlined that rooftop solar should be taken up in mission mode to reduce electricity costs, improve energy security and promote clean energy at the household and community level.

While reviewing road and port connectivity projects, it was emphasised that Vadhavan Port should be developed as a model of port-led, multi-modal development, where every major mode of transport is seamlessly integrated to create a future-ready logistics ecosystem. The project should not be seen merely as a port, but as a national gateway connected through coastal shipping, inland waterways, dedicated freight corridors, high-speed rail connectivity, highways and airport linkages.

Prime Minister emphasised the need for effective implementation of Swachh Bharat Mission 2.0 and underlined that the mission should move beyond infrastructure creation and ensure measurable outcomes through regular monitoring, citizen participation and convergence between various stakeholders. He asked States to expedite the completion of solid waste management-related infrastructure, including waste processing plants and GOBARdhan plants.

While reviewing Ken-Betwa River Inter-linking Project, Prime Minister observed that Ken-Betwa project should serve as a model for other States to resolve inter-State water issues through cooperation, timely clearances, technology-based monitoring and mission-mode execution. States were encouraged to identify similar opportunities where river-linking, water conservation, groundwater recharge and efficient irrigation can be taken up in an integrated manner to ensure long-term water security.

Prime Minister also underlined that the delay in the implementation of public projects leads not only to cost escalation but also deprives citizens of timely access to essential facilities and development benefits. He observed that every delay has a direct impact on people’s lives, regional growth and public resources. He stressed that Ministries, Departments and States must adopt a more proactive and time-bound approach to resolve pending issues, remove bottlenecks and ensure faster execution.

Prime Minister also emphasized that innovative use of canal networks should be explored, including installation of solar panels along canals and over canals for clean electricity generation. This would help optimize land use, reduce evaporation losses, generate renewable energy and create additional economic value from water infrastructure.

At the beginning of the meeting, the Cabinet Secretary informed that, in pursuance of the directions of the Prime Minister, a system of monthly review of social sector schemes at the State level has also been operationalised. This mechanism aims to ensure regular monitoring, faster resolution of implementation issues and greater accountability at the State and district levels. As part of this initiative, Swachh Bharat Mission has been taken up for review at the State level in the first instance.