عزت مآب محترم صدر ولیم روٹو،

دونوں ممالک کے مندوبین

میڈیا  کےدوستو،

نمسکار!

مجھے صدر روٹو اور ان کے وفد کا ہندوستان میں خیرمقدم کرتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے۔

مجھے خوشی ہے کہ ان کا دورہ، افریقی یونین کے جی20 میں شامل ہونے کےکچھ وقت بعدہی ہو رہا ہے۔

ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں افریقہ کو ہمیشہ اعلیٰ ترجیحی مقام دیا گیا ہے۔

پچھلی دہائی کے دوران، ہم نے مشن موڈ میں افریقہ کے ساتھ اپنے تعاون میں اضافہ کیا ہے۔

مجھے یقین ہے کہ صدر روٹو کا دورہ، ہمارے دو طرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ، پورے افریقی براعظم کے ساتھ ہماری مصروفیت کو نئی تحریک دے گا۔

 

دوستو

اس سال ہم ہندوستان اور کینیا کے درمیان سفارتی تعلقات کی ساٹھویں سالگرہ منا رہے ہیں، لیکن ہمارے تعلقات کی تاریخ ہزاروں سال قدیم ہے۔

ممبئی اور ممباسا کو منسلک کرنے والا وسیع بحر ہند ،ہمارے قدیم تعلقات کا گواہ رہا ہے۔

اسی مضبوط بنیاد پر ہم صدیوں سے مل کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ پچھلی صدی میں ہم نے مل کر استعمار یت کی مخالفت کی تھی۔

ہندوستان اور کینیا ایسے ممالک ہیں جن کا ماضی اور مستقبل بھی مشترکہ ہے۔

دوستو

آج ہم نے ترقی پسند مستقبل کی بنیاد رکھتے ہوئے، تمام شعبوں میں اپنے تعاون کو مستحکم کرنے کا فیصلہ کیا اور کئی نئے اقدامات کی نشاندہی بھی کی ہے۔

ہندوستان اور کینیا کے درمیان باہمی تجارت اور سرمایہ کاری میں مسلسل پیش رفت ہو رہی ہے۔

ہم اپنے اقتصادی تعاون کی مکمل صلاحیتوں کا ادراک کرنے کے لیے، نئے مواقع کی جستجوکرتے رہیں گے۔

ہندوستان، کینیا کے لیے ایک قابل اعتماد اور پرعزم ترقیاتی شراکت دار رہا ہے۔

ہندوستان نے، آئی ٹی ای سی اور آئی سی سی آر اسکالرشپ کے ذریعہ، کینیا کے لوگوں کی مہارت کی نشوونما اور صلاحیتوں میں اضافہ کرنے میں اہم تعاون کیا ہے۔

دو زرعی معیشتوں کے طور پر، ہم نے اپنے تجربات شراکت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

ہم نے کینیا کے زرعی شعبے کو جدید بنانے کے لیے، دو سو پچاس ملین ڈالر کی لائن آف کریڈٹ فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

جدید دور کی ضروریات کے مطابق ،ہم ٹیکنالوجی اور اختراع  کے شعبوںمیں تعاون بڑھا رہے ہیں۔

ہم ڈیجیٹل  سرکاری بنیادی ڈھانچہ میں ہندوستان کی کامیابیوں کو، کینیا کے ساتھ شراکت کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

اس اہم موضوع پر آج ہونے والا معاہدہ ہماری کوششوں کو تقویت دے گا۔

صاف توانائی، دونوں ممالک کی اولین ترجیح ہے۔

 

کینیا کی طرف سے اٹھایا گیا افریقہ ماحولیاتی سربراہ کانفرنس اقدام، ایک انتہائی قابل تعریف قدم ہے۔

یہ صدر روٹو کے تمام عالمی چیلنجوں سے متحد ہو کر نمٹنے کے عزم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

مجھے خوشی ہے کہ کینیا نے، حیاتیاتی ایندھن کے عالمی اتحاد اور بین الاقوامی شمسی اتحادمیں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

مزید برآں، کینیا کا بین الاقوامی بِگ کیٹ الائنس میں شمولیت کا فیصلہ، بِگ کیٹس کے تحفظ کے لیے عالمی کوششوں کو تقویت دینے میں ہماری مدد کرے گا۔

دفاع کے شعبے میں ہمارا بڑھتا ہوا تعاون ،ہمارے گہرے باہمی اعتماد اور مشترکہ مفادات کی علامت ہے۔

آج کی بحث میں، ہم نے فوجی مشقوں، صلاحیت سازی کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کو منسلک کرنےپر زور دیا ہے۔

ہم نے عوامی بہبود کے لیے خلائی ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی بات کی۔

ہم نے اس اہم علاقے میں، کینیا کے ساتھ ہندوستان کے کامیاب تجربے کو شراکت کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

اس عزم اور دوستی کے جذبے کے ساتھ، ہم تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔

دوستو

آج کی ملاقات میں ہم نے کئی عالمی اور علاقائی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔

بحر ہند سے منسلک ممالک کے طور پر، سمندری تحفظ، بحری قزاقی اور منشیات کی ا سمگلنگ ہماری مشترکہ ترجیحات کے معاملات ہیں۔

اس اہم شعبے میں باہمی تعاون کومستحکم کرنےکے لیے، ہم سمندری تعاون پر ایک مشترکہ وژن بیان جاری کر رہے ہیں۔

کینیا اور ہندوستان کے درمیان قریبی تعاون، ہند بحرالکاہل میں ہماری تمام کوششوں کو تقویت دے گا۔

ہندوستان اور کینیا اس بات پر متفق ہیں کہ دہشت گردی انسانیت کے لیے سب سے سنگین چیلنج ہے۔

اس سلسلے میں ہم نے انسداد دہشت گردی کے شعبے میں باہمی تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

 

دوستو

ہندوستانی نژاد تقریباً اسی ہزار لوگ ،جو کینیا کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں، ہمارے تعلقات کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔

ان کی دیکھ بھال کے لیے انہیں کینیا سے جو تعاون حاصل   ہو رہاہے ،میں اسکے لئے ذاتی طور پر صدر روٹو کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔

ثقافتی تبادلے کے معاہدے پر آج دستخط ہونے سے، ہماری باہمی قربتیں مزید بڑھیں گی۔

کینیا کے طویل فاصلہ اور میراتھن رنرز عالمی شہرت یافتہ ہیں۔ اسی طرح کرکٹ بھی دونوں ممالک میں  یکساں طور پرمقبول ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان کھیلوں کے شعبے میں باہمی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے، ایک اہم معاہدے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

بالی ووڈ کے ساتھ ساتھ یوگا اور آیوروید کی مقبولیت کینیا میں بھی بڑھ رہی ہے۔

ہم دونوں ممالک کے درمیان عوام سے عوام کے تعلقات کو گہرا کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔

محترم المقام،

ایک بار پھر آپ کا اور آپ کے وفد کا ہندوستان میں خیرمقدم ہے۔

بہت بہت شکریہ!

 

 

 

 

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India's pace of economic growth shows that its Viksit Bharat dream is not out of reach

Media Coverage

India's pace of economic growth shows that its Viksit Bharat dream is not out of reach
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs valedictory session of National Departmental Summit on Water
September 02, 2026
This marks the first in a series of Summits envisioned by PM to strengthen spirit of Team India and deepen cooperative federalism
PM stresses adoption of a continuous process of review and follow up to act on actionable and time-bound outcomes
Emphasising Jan Bhagidari, PM calls for promoting Jal Utsav to deepen public awareness on water conservation
PM calls for greater adoption of water-saving technologies and learning from global best practices
PM calls for robust water data governance through effective use of AI
PM suggests structured inter-State Study-visits involving public representatives, officials and farmers on water related issues

Prime Minister Shri Narendra Modi today chaired the valedictory session of the two-day National Departmental Summit on Water, organised by the Ministry of Jal Shakti. The Summit is the first in a series of Departmental Summits envisioned by Prime Minister to strengthen the spirit of Team India, deepen cooperative federalism and foster collective ownership of national priorities through closer collaboration between the Centre and the States. It brought together Ministers and senior officials from States and Union Territories for focused deliberations on various dimensions of India’s water security.

Prime Minister appreciated the intensive two-day deliberations and emphasised that the actionable and time-bound action points emerging from the Summit should be pursued through a continuous process of review and learning. He suggested that the Summit should not remain a one-time exercise and called for a continuous process of review and follow-up.

Prime Minister called for sensitising Urban Local Bodies to the challenges arising from urbanisation, including population growth and future water requirements, and suggested organising similar Chintan Shivirs for Urban Local Bodies. He called for greater adoption of water-saving technologies. He also suggested dedicated exhibitions and workshops, including exposure to global best practices, to enable Indian manufacturers and stakeholders to develop and scale efficient solutions.

Emphasising Jan Bhagidari, Prime Minister suggested promoting “Jal Utsav” to create greater awareness among people. Prime Minister called for making de-silting a regular programme and developing clear criteria and SOPs for de-silting. On dam safety, he stressed rigorous preparedness before every monsoon, adherence to prescribed precautions and creating awareness among school students, including through suitable incorporation in educational curricula.

Prime Minister further called for strengthening knowledge and capacity on water management and governance in universities and higher educational institutions. He suggested structured inter-State study-visits involving public representatives, officials and farmers to facilitate practical learning and replication of successful interventions.

Prime Minister called for robust water data governance, with water-sector data brought together, systematically managed, analysed and effectively utilised. He recommended the use of AI for data collection and analysis through a uniform format. He also stressed anticipatory and integrated planning to address water scarcity through suitable utilisation of treated water for agriculture and industrial purposes.

Drawing upon his experience as Chief Minister of Gujarat, Prime Minister noted that instances of water scarcity could be transformed into opportunities through systematic planning, commitment and deployment of adequate resources and capable officers.

Union Minister for Jal Shakti Shri C. R. Patil highlighted four key outcomes of the summit: accelerated completion of water infrastructure projects; strengthening water conservation as a sustained people’s movement; ensuring long-term sustainability of drinking-water sources; and institutionalising effective operation and maintenance of rural drinking-water schemes.