’’وکاس بھارت سنکلپ یاترا ،نہ صرف حکومت کا سفر،بلکہ ملک کا سفر بھی بن گیا ہے‘‘
’’جب غریب، کسان، خواتین اور نوجوان بااختیار ہوں گے تو ملک طاقتور بنے گا‘‘
’’وی بی ایس وائی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ سرکاری اسکیموں کے فوائد سے کسی بھی مستحق مستفید کو نہ چھوڑا جائے‘‘
’’ہماری حکومت نے کسانوں کی ہر مشکل کو کم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے‘‘

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ،وکست بھارت سنکلپ یاترا کے استفادہ کنندگان سے بات چیت کی۔ مرکزی وزراء، ارکان پارلیمنٹ، ارکان قانون سازاسمبلی اور مقامی سطح کے نمائندوں کے ساتھ، ملک بھر سے ہزاروں کی تعداد میں وکست بھارت سنکلپ یاترا سے استفادہ کرنے والے، اس پروگرام میں شامل ہوئے۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے  واضح کیا کہ  وی بی ایس وائی نے حال ہی میں 50 دن مکمل کیے ہیں اور اس  مدت میں اس نے تقریباً 11 کروڑ لوگوں سے رابطہ قائم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’وکاس بھارت سنکلپ یاترا نہ صرف حکومت کا سفر، بلکہ ملک کا سفر بھی بن گیا ہے‘‘۔ وزیر اعظم نے کہا ’’مودی کی گارنٹی کی گاڑی ،ملک کے کونے کونے تک پہنچ رہی ہے۔ سرکاری اسکیموں کا فائدہ حاصل کرنے کے انتظار میں اپنی زندگی گزارنے والے غریب لوگ، آج ایک معنی خیز تبدیلی دیکھ رہے ہیں۔ حکومت مستحقین کی دہلیز تک پہنچ رہی ہے اور مستعدی سے فوائد فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا’’مودی کی گارنٹی کی گاڑی کے ساتھ ساتھ، سرکاری دفاتر اور عوامی نمائندے بھی عوام تک پہنچ رہے ہیں‘‘۔

 

’مودی کی گارنٹی‘ کے بارے میں عالمی  باز گشت کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے گارنٹی کی شکلوں اور مشن موڈ میں فائدہ اٹھانے والے تک رسائی کرنے کی دلیل پر توجہ دی اور ساتھ ہی وکست بھارت کے حل اور اسکیم کے احاطے کی مرکوزیت کے درمیان تعلق کو بھی اجاگر کیا۔ وزیر اعظم مودی نے کئی نسلوں سے غریبوں، نوجوانوں، خواتین اور کسانوں کی جدوجہد کو اجاگر کیا۔ وزیر اعظم نے وضاحت کی،ہماری حکومت چاہتی ہے کہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کو وہ زندگی نہ گزارنی پڑے، جو پہلے کی نسل نے گزاری تھی۔ ہم ملک کی ایک بڑی آبادی کو روزمرہ کی چھوٹی ضروریات کی جدوجہد سے نکالنا چاہتے ہیں۔ اس لیے ہم غریبوں، کسانوں، خواتین اور نوجوانوں کے مستقبل پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ ہمارے لیے یہ ملک کی چار سب سےبڑی ذاتیں ہیں۔ جب غریب، کسان، خواتین اور نوجوان بااختیار ہوں گے تو ملک طاقتور ہوگا۔

وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وی بی ایس وائی کا بنیادی مقصد، سرکاری اسکیموں کے فوائد سے کسی بھی مستحق مستفید کومحروم نہیں رکھنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب سے یاترا شروع ہوئی ہے، اجولا کنکشن کے لیے 12 لاکھ نئی درخواستیں موصول ہوئی ہیں اور ساتھ ہی سرکشا بیمہ یوجنا، جیون جیوتی یوجنا، پی ایم سواندھی کے لیے بھی لاکھوں درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔

وی بی ایس وائی کے اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ اب تک 2 کروڑ سے زیادہ لوگوں کی صحت کی جانچ کی جا چکی ہے ،جس میں ایک  کروڑ ٹی بی چیک اپ اور 22 لاکھ سکل سیل چیک اپ شامل ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آج ڈاکٹر غریبوں، دلتوں، محروموں اور قبائلیوں کی دہلیز پر پہنچ رہے ہیں ،جسے پچھلی حکومتوں نے ایک چیلنج سمجھا تھا۔ انہوں نے آیوشمان یوجنا پر بھی روشنی ڈالی ،جو 5 لاکھ روپے کا صحت انشورنس، غریبوں کے لیے مفت ڈائلیسس اور جن اوشدھی کیندروں پر کم قیمت ادویات فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا،’’ملک بھر میں بنائے گئے آیوشمان آروگیہ مندر ،دیہاتوں اور غریبوں کے لیے صحت کے بڑے مراکز بن گئے ہیں۔‘‘

 

وزیر اعظم مودی نے ملک میں خواتین کو بااختیار بنانے پر حکومت کے اثرات پر بھی روشنی ڈالی اور مدرا یوجنا کے ذریعے قرضوں کی دستیابی، بینک متروں، پشو ساکھیوں اور آشا ورکروں کا کردار ادا کرنے والی خواتین کا ذکر کیا۔ جناب مودی نے بتایا کہ پچھلے 10 سالوں میں 10 کروڑ خواتین، خواتین کے ذاتی مدد کے گروپوں میں شامل ہوئی ہیں، جہاں انہیں 7.5 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ فراہم کیے گئے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ اس کی وجہ سے، کئی سالوں میں بہت سی بہنیں لکھپتی دیدی بن گئی ہیں۔ اس کی کامیابی کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے لکھپتی دیدیوں کی تعداد میں مزید 2 کروڑ تک اضافہ کرنے کی حکومت کی مہم، نمو ڈرون دیدی اسکیم کے بارے میں بتایا ،جس میں وی بی ایس وائی کے دوران تقریباً  ایک  لاکھ ڈرون کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار مشن موڈ پر عوام کو نئی ٹیکنالوجیوں سے  منسلک کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے مزید کہا کہ ’’اس وقت صرف زرعی شعبے میں ڈرون کے استعمال کی تربیت دی جا رہی ہے۔ لیکن آنے والے دنوں میں، اس کا دائرہ دوسرے شعبوں  تک پھیلنے والا ہے‘‘۔

وزیر اعظم نے نشاندہی کی کہ سابقہ حکومتوں میں ملک میں زرعی پالیسی کے حوالے سے ہونے والی بات چیت کا دائرہ کار ،صرف پیداوار اور فروخت تک محدود تھا، جس کے باعث کسانوں کو روزانہ درپیش مختلف مسائل کو نظر انداز کیا جاتا تھا۔ ’’ہماری حکومت نے کسانوں کی ہر مشکل کو کم کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی ہے‘‘۔ جناب مودی نے کہا کہ انہوں نے پی ایم کسان سمان ندھی کے ذریعے ہر کسان کو کم از کم 30000 روپے کی منتقلی، پی اے سی ایس جیسی تنظیموں کے ساتھ زراعت میں تعاون کو فروغ دینے کا ذکر کیا۔ ایف پی او، اسٹوریج کی سہولیات میں اضافہ اور ڈبہ بند خوراک کی صنعت کو فروغ دینا شامل ہے۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ تور یا -ارہرکی دال کے کسان ،اب اپنی پیداوار براہ راست حکومت کو آن لائن فروخت کر سکتے ہیں، تاکہ ایم ایس پی پر خریداری اور مارکیٹ میں بہتر قیمتوں کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اسکیم کا دائرہ ،دیگر دالوں تک بھی بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ جو رقم ہم دالوں کی خریداری کے لیے بیرون ملک بھیجتے ہیں ،وہ ملک کے کسانوں کو دستیاب ہوسکے۔

 

خطاب کے اختتام پر، وزیر اعظم نے وی بی ایس وائی شو کو چلانے والی ٹیم کی کوششوں کو سراہا جس میں مقامی انتظامیہ بھی شامل ہے جو پوری لگن کے ساتھ اپنے کام میں مصروف ہیں۔وزیر اعظم مودی نے اختتامی کلمات ادا کرتےہوئے کہا کہ ’’اس جذبے میں، ہمیں ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے لیے اپنے فرائض انجام دینے چاہئیں‘‘۔

پس منظر

مورخہ  15 نومبر 2023 کو اس کے آغاز کے بعد سے، وزیر اعظم نے پورے ملک میں وکست بھارت سنکلپ یاترا کے استفادہ کنندگان کے ساتھ باقاعدگی سے بات چیت کی ہے۔ یہ بات چیت چار بار ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ہوئی ہے (30 نومبر، 9 دسمبر 16 دسمبر اور 27 دسمبر)۔ اس کے علاوہ، وزیر اعظم نے گزشتہ ماہ وارانسی کے اپنے دورہ کے دوران، مسلسل دو دن (17-18 دسمبر) کو وکست بھارت سنکلپ یاترا سے فائدہ اٹھانے والوں سے شخصی  طور پر بات چیت کی۔

حکومت کی سرپرستی والی اسکیموں کی سیر حاصل  رسائی حاصل کرنے کے لیے  ملک بھر میں وکست بھارت سنکلپ یاترا کا آغاز کیا جا رہا ہے، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ان اسکیموں کے فائدے مقررہ وقت میں تمام اہداف حاصل کرنے والوں تک پہنچیں۔

مورخہ  5 جنوری 2024 کو، وکست بھارت سنکلپ یاترا نے ایک اہم سنگ میل عبور کیا، کیونکہ یاترا میں شرکاء کی تعداد 10 کروڑ سے تجاوز کر گئی۔ یہ حیران کن تعداد، جو یاترا کے آغاز کے 50 دنوں کے اندر پہنچ گئی تھی، اس یاترا کے گہرے اثرات اور بے مثال صلاحیت کی نشاندہی کرتی ہے، جس سے ملک بھر کے لوگوں کو وکست بھارت کے مشترکہ وژن کے تئیں متحد کیا جا سکتا ہے۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Rooftop solar, KUSUM account for 40% of Indias solar capacity additions in FY27 till July: Bernstein

Media Coverage

Rooftop solar, KUSUM account for 40% of Indias solar capacity additions in FY27 till July: Bernstein
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to Address Youth at Khelo India Dialogue on 27th August
August 26, 2026
Khelo India Dialogue will bring together sports, youth leadership, civic responsibility, volunteering, fitness and nation-building on a common platform
Yuva Samvaad under Khelo India Dialogue to Focus on Five Key Themes: Sports, Olympic Aspirations, Youth Leadership, Viksit Bharat and Nasha Mukt Yuva

Prime Minister Shri Narendra Modi will address Khelo India Dialogue on 27th August at 11 AM via video conferencing. The programme aims to help the youth engage with India's sporting journey, share their aspirations, and contribute ideas for a stronger youth-led Viksit Bharat.

Organised by Mera Yuva Bharat (MY Bharat), as part of the National Sports Day 2026 celebrations, the programme will be conducted across the country with participation of youth at two colleges in every district across States and Union Territories. The programme is being held in line with the Prime Minister's vision of building a fit, disciplined and sporting nation while placing the aspirations of youth at the centre of the national development agenda.

The nationwide Khelo India Dialogue will bring together sports, youth leadership, civic responsibility, volunteering, fitness and nation-building on a common platform. It will provide a direct channel for young people to engage with the country's sporting ambitions, while ensuring that their ideas and perspectives become part of the continuing conversation on India's youth and sports ecosystem.

The national programme will be followed by local interactions involving young participants, MY Bharat volunteers, local sportspersons and public representatives. A major feature of the initiative will be direct interaction between youth having interest in sports and leading Indian athletes and medal winners. A central feature of the programme will be Yuva Samvaad where Young participants will be invited to articulate their own ideas, perspectives and aspirations. The dialogue will be structured around five themes:

  • improving India's sports ecosystem through better facilities, coaching, sports science and inclusive participation;
  • nurturing talent for the 2036 Olympics via scientific talent identification, transparent selection and long-term athlete development;
  • creating youth leaders through governance platforms and MY Bharat-led volunteering;
  • empowering youth for Viksit Bharat by building civic mindedness, future-ready skills and structured volunteering;
  • promoting a Nasha Mukt Yuva movement that leverages sport and peer networks to fight substance abuse, reinforced by weekly Jan Bhagidari activities under PM's 100-week nationwide campaign launched on 2 August 2026.