’’وکاس بھارت سنکلپ یاترا ،نہ صرف حکومت کا سفر،بلکہ ملک کا سفر بھی بن گیا ہے‘‘
’’جب غریب، کسان، خواتین اور نوجوان بااختیار ہوں گے تو ملک طاقتور بنے گا‘‘
’’وی بی ایس وائی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ سرکاری اسکیموں کے فوائد سے کسی بھی مستحق مستفید کو نہ چھوڑا جائے‘‘
’’ہماری حکومت نے کسانوں کی ہر مشکل کو کم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے‘‘

تمام اہل وطن کو میرا نمسکار!

صرف 2-3 دن پہلے شروع کی گئی وکست  بھارت سنکلپ یاترا نے اپنے 50 دن مکمل کر لیے ہیں۔ اتنے کم وقت میں 11 کروڑ لوگوں کا اس سفر میں شامل ہونا اپنے آپ میں بے مثال ہے۔ حکومت خود معاشرے کے آخری فرد تک پہنچ کر اسے اپنی اسکیموں سے جوڑ رہی ہے۔ وکست بھارت سنکلپ یاترا نہ صرف حکومت  کی بلکہ ملک کی بھی یاترا بن گئی ہے۔یہ خوابوں کا یاترا بن گئی ہے، یہ قراردادوں کی یاترا بن گئی ہے، یہ اعتماد کی یاترا بن گئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ملک کا ہر علاقہ، ہر اپنے بہتر مستقبل کی امید میں یہ گارنٹی والا گاڑی دیکھ رہا ہے۔ اس یاترا کے تعلق سے گاؤں ہو یا شہر، ہر جگہ امنگ ہے،جوش اور یقین  ہے۔ ممبئی جیسا شہر ہو یا میزورم کے دور دراز دیہات، کارگل کے پہاڑ ہوں یا کنیا کماری کا سمندری ساحل، مودی کی گارنٹی گاڑی ملک کے کونے کونے تک پہنچ رہی ہے۔ سرکاری اسکیموں کا فائدہ حاصل کرنے کے انتظار میں اپنی زندگی گزارنے والے غریب لوگ آج ایک معنی خیز تبدیلی دیکھ رہے ہیں۔ کس نے سوچا تھا کہ کبھی سرکاری ملازم، سرکاری افسر اور یہ لیڈران خود غریب کے دروازے پر پہنچ کر پوچھیں گے کہ آپ کو سرکاری اسکیموں کا فائدہ ملا یا نہیں۔ لیکن اب یہ پوری ایمانداری کے ساتھ ہورہا ہے۔  مودی کی گارنٹی والی گاڑی کے ساتھ، سرکاری دفتر،عوامی نمائندے ، ملک کے باشندوں کے پاس، ان کے گاؤں محلے پہنچ رہے ہیں۔ ابھی جن لوگوں سے میری بات ہوئی ہے، ان کے چہرے پر صاف دلی سکون دکھ رہا ہے۔

میرے پریوار جنو،

آج ملک نہیں بلکہ دنیا میں مودی کی گارنٹی پر بات ہورہی ہے، لیکن مودی کی گارنٹی کا مطلب کیا ہے؟آخر اس طرح  مشن موڈ پر ملک کے ہر استفادہ کنندہ تک حکومت کا پہنچنا یہ اتنی محنت کیوں کرتے ہیں؟ دن رات حکومت اپنی خدمات انجام دینے میں اتنی محنت کیوں کررہی ہے؟ سرکاری اسکیموں کے مکمل نفاذ اور وکست بھارت کے عہد میں کیا تعلق ہے؟ ہمارے ملک میں دیگر نسلوں نے سہولت کی کمی میں زندگی گزاری ہے،  ادھورے خوابوں کے ساتھ زندگی مکمل کی ہے، انہوں نے اس کمی کو اپنی قسمت تسلیم کیا اور  اسی غربت کی زندگی گزارنے کے لئےت  مجبور  رہے۔ چھوٹی چھوٹی ضروریات کے لیے یہ جدوجہد  ملک میں غریبوں، کسانوں، خواتین اور نوجوانوں میں اس  کا سب سے زیادہ  اثر رہا ۔ ہماری حکومت  منصس ہے کہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کو اس طرح کی زندگی نہ گزارنی پڑے، آپ کے آبا و اجادا کو جن پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑا، آپ کے بزرگوں کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، وہ  وہ پریشانی آپ کو نہ پیش آئے ، اسی مقصد کے لیے ہم اتنی محنت کر رہے ہیں۔ ہم ملک کی ایک بہت بڑی آبادی کو روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی ضروریات کی  ہونے والی جدوجہد سے  باہر نکالنا چاہتے ہیں۔ اس لیے ہم غریبوں، کسانوں، خواتین اور نوجوانوں کے مستقبل پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں اور  یہی ہمارے لیے یہ ملک کی  سب سے بڑی چار ذاتیں ہیں۔ جب غریب، کسان، خواتیں اور نوجوان، یہ میری چار ذاتیں، جو میری پسندیدہ چار ذاتیں ہیں،  اگر یہ مضبوط ہو ں گی، تو ہندوستان کا مضبوط ہونا  یقینی ہو گا۔ اس لیے یہ وکست بھارت سنکلپ یاترا شروع ہوئی ہے اور ملک کے کونے کونے میں پہنچ ررہی ہے۔

 

ساتھیو،

وکست بھارت سنکلپ یاترا کا سب سے بڑا مقصد  ہے ،کوئی بھی مستحق شخص، سرکاری اسکیم کے فوائد سے محروم نہیں ہونا چاہیے۔ کئی بار بیداری کی کمی اور  دیگر وجوہات کی وجہ سے کچھ لوگ سرکاری اسکیموں کے فائدے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ہماری حکومت ایسے لوگوں تک پہنچنا اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔ جب سے یہ یاترا شروع ہوئی  تب سے تقریباً 12 لاکھ نئے مستفیدین نے اجولا کے نئے  مفت گیس کنکشن کے لیے درخواست دی ہے۔ کچھ دن پہلے، جب میں ایودھیا میں تھا، میں اجولا کی 10 کروڑ استفادہ کنندگان میں شامل  بہن کے گھر گیا۔ اس کے علاوہ سرکشا بیمہ یوجنا، جیون جیوتی بیمہ یوجنا، پی ایم سواندھی کے لیے بھی اس یاترا کے دوران لاکھوں کی تعداد میں  درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔

ساتھیو،

وکست بھارت سنکلپ یاترا کے دوران 2 کروڑ سے زیادہ غریبوں کی صحت کی جانچ کی گئی ہے۔ اسی عرصے کے دوران، ایک کروڑ لوگوں کی ٹی بی  کی بیماری کی بھی جانچ ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ  22 لاکھ لوگوں کی سکیل سیل انیمیا کی  جانچ ہوئی ہے۔ آخر یہ سارے  استفادہ کنندگان  بھائی بہن کون  لوگ ہیں؟ یہ تمام لوگ  گاؤں، غریب، دلت، پسماندہ، قبائلی  سماج کے لوگ ہیں، جن کے لیے ڈاکٹروں تک رسائی پچھلی حکومتوں میں ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ آج ڈاکٹر موقع پر ہی  ان کی جانچ  کر رہے ہیں۔ اور ایک بار جب ان کی ابتدائی جانچ ہو گئی ہے، تو اس کےبعد آیوشمان اسکیم کے تحت 5 لاکھ روپے تک کا مفت علاج یقینی ہوگا۔ گردے کے مریضوں کے لیے مفت ڈائلیسس کی سہولت اور جن اوشدھی کیندروں میں سستی دوائیں بھی آج ان کے لیے دستیاب ہیں۔ ملک میں بنائے جا رہے  آیوشمان آروگیہ مندر ، گاؤں اور غریبوں کے لیے صحت کے بڑے مراکز بن گئے ہیں۔ یعنی وکست بھارت سنکلپ یاترا غریبوں کی صحت کے لیے بھی ایک نعمت ثابت ہوئی ہے۔

میرے  پریوار جنو،

مجھے خوشی ہے کہ حکومت کی ان کوششوں  کی بدولت  اس اسکیم کا فائدہ  ہماری کروڑوں ماؤں بہنوں کو مل رہا ہے۔ آج خواتین خود آگے آ کر نئے نئے  ریکارڈ قائم کر رہی ہیں۔ اس سے پہلے بہت سی بہنیں ایسی تھیں جن کے پاس سلائی، کڑھائی اور بُنائی جیسی کوئی نہ کوئی مہارت تھی لیکن ان کے پاس اپنا کام شروع کرنے کا کوئی وسائل یا  ذریعہ نہیں تھا۔ مدرا یوجنا نے انہیں اپنے خوابوں کو پورا کرنے کا یقین دلایا ہے،  یہ مودی کی گارنٹی ہے۔ آج گاؤں  گاؤں میں روزگار - خود روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ آج متعدد بینک  متر ہیں،  کوئی پشو سکھی ہیں، کوئی آشا-اے این ایم-آنگن واڑی میں ہیں۔ پچھلے 10 برسوں میں سیلف ہیلپ گروپس  سے  10 کروڑ خواتین  جڑ چکی ہیں۔ ان خواتین کو 7.5 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم فراہم کی جاچکی ہے۔ ان  دیگر بہنوں میں  کئی ایسی ہیں جنہوں نے کچھ برسوں میں  لکھ پتی دیدی بننے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اور اس کامیابی کو دیکھتے ہوئےمیں نے خواب کی تکمیل کی کوشش کی ہے،  اور میں نے  اس خواب کو ایک قرارداد کے طور پر دیکھا ہے اور ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ دو کروڑ کے اعداد و شمار بہت بڑے ہیں۔ مجھے دو کروڑ لکھ پتی دیدی بنانا ہے۔ آپ اس پر غور کیجئے کہ اگر دو کروڑ  لکھ پتی دیدی  بن جائیں گی تو کتنی بڑی انقلابی تبدیلی ہوگی۔ حکومت نے نمو ڈرون دیدی اسکیم کی  بھی شروعات کی ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ وکست سنکلپ یاترا کے دوران تقریباً  ایک لاکھ ڈرون کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار  کسی ٹیکنالوجی سے اس طرح مشن موڈ پر عوام کو جوڑا جا رہا ہے۔ اس وقت زرعی شعبے میں ڈرون کے استعمال کے لئے تربیت دی جا رہی ہے۔  آنے والے دنوں میں اس کا دائرہ دوسرے علاقوں تک بھی بڑھنے والا ہے۔

 

میرے  پریوار جنو،

ہمارے ملک میں کسانوں اور زرعی پالیسی سے متعلق بحث ہوتی ہیں لیکن کی حکومتوں میں اس کا  کا دائرہ بہت محدود تھا۔ کسانوں کو بااختیار بنانے کی بحث صرف پیداوار اور فروخت تک محدود رہی۔ جبکہ کسانوں کو روزمرہ  کی زندگی میں مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے ہماری حکومت نے کسانوں کی ہر مشکل کو آسان کرنے کے لیے  چوطرفہ  کوششیں کی ہیں۔ پی ایم کسان سمان ندھی کے ذریعے ہر کسان کو کم از کم 30 ہزار روپے دیے  جاچکے  ہیں۔ ہم چھوٹے کسانوں کو مشکلات سے نکالنے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ زراعت میں تعاون کو فروغ دینا اسی سوچ کا نتیجہ ہے۔پی اے سی ایس ،  ایف پی او  اور چھوٹے کسانوں کی  تنظیمیں   آج ایک بہت بڑی معاشی طاقت بن رہی ہیں۔ ذخیرہ کرنے کی سہولیات سے لے کر  خوراک کی ڈبہ بندی کی صنعت  تک، ہم کسانوں کی ایسی بہت سی کوآپریٹو تنظیموں کو آگے لا رہے ہیں۔ کچھ دن پہلے حکومت نے دالوں کے کاشتکاروں کے لیے بھی بہت  بڑا فیصلہ لیا ہے۔ اب دال پیدا کرنے والے کاشتکار آن لائن بھی براہ راست حکومت کو دال فروخت کر سکیں گے۔ اس میں دالوں کے کاشتکاروں کو نہ صرف ایم ایس پی پر خریداری کی گارنٹی ملے گی بلکہ مارکیٹ میں بہتر قیمت کی بھی یقین دہانی کرائی جائے گی۔ فی الحال یہ سہولت تور یا ارہر کی دال کے لیے دی گئی ہے۔ لیکن آنے والے وقت میں اس کا دائرہ دیگر دالوں تک بھی بڑھایا جائے گا۔ ہماری کوشش ہے کہ ہم دالیں خریدنے کے لیے جو رقم بیرون ملک بھیجتے ہیں وہ ملک کے کسانوں کو دستیاب ہو۔

 

ساتھیو،

میں ان تمام ملازمین کی ستائش کرتا ہوں جو  وکست بھارت سنکلپ یاترا میں  دوران اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ کئی مقامات پر سردی  میں اضافہ ہورہا ہے، کئی مقامات پر بارش ہو رہی ہے، مشکلات بھی کھڑی ہیں۔ لیکن ان سب کے باوجود مقامی انتظامیہ اور اعلیٰ افسران بھی پوری  ایمانداری سے اس سنکلپ یاترا  کے دوران  کام کر رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو  اس کا فائدہ مل سکے اور لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس طرح اپنے فرائض کو انجام دیتے ہوئے ہمیں آگے بڑھنا ہے اور ملک کو ترقی یافتہ بنانا ہے۔ ایک بار پھر، آپ سبھی  کو بہت ساری نیک خواہشات! اور جن  لوگوں سے  مجھے  بات کرنے کا موقع ملا،  مجھے دیگر پہلوؤوں کو بھی سمجھنےکا موقع ملا ، میں نے ان کے اندر خوداعتمادی دیکھی ہے  اور ان کی باتوں میں ان کا عزم  صاف دکھائی دے رہا ہے۔ ہم واقعی ہندوستان کے عام آدمی کی صلاحیت کو محسوس کر رہے ہیں، وہ صلاحیت جو ملک کو آگے لے جانے والی ہے۔ یہ ہم سب کی خوش قسمتی ہے کہ آج ملک کا ہر فرد 2047 میں ہندوستان کو ترقی یافتہ ملک بنانے  کی نیت سے کام کررہا ہے۔ آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی  اور اگر  وکست  بھارت یاترا سے دوبارہ جڑنے  کا موقع ملا تو ہم ضرور ملیں گے۔ بہت بہت شکریہ!

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
How India has achieved success in national programmes

Media Coverage

How India has achieved success in national programmes
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi addresses a public meeting in Chikkaballapur, Karnataka
April 20, 2024
INDI Alliance currently lacks leadership, and a vision for the future: PM Modi in Chikkaballapur
I not only make plans with true intentions but also guarantee them: PM Modi in Chikkaballapur
Biggest beneficiaries of Modi government schemes are SC/ST/OBC families: PM Modi in Chikkaballapur

Prime Minister Narendra Modi addressed a public meeting today in Chikkaballapur, Karnataka. Speaking to a vibrant crowd, he highlighted the achievements of the NDA government and sought support for Dr. K. Sudhakar from Chikkaballapur and Mallesh Babu Muniswamy from the Kolar constituency.

Addressing the enthusiastic gathering, PM Modi said, "The enthusiasm of the nation has been uplifted by the voting in the first phase, and I can see this enthusiasm here as well. In the first phase, the voting has been in favor of the NDA, in favor of a developed India."

He emphasized the lack of leadership and vision in the opposition coalition and said, "The INDI Alliance currently lacks leadership, vision for the future, and their history is filled with scams. The message from Chikkaballapur and Kolar is clear, Phir Ek Baar, Modi Sarkar!"

Presenting his report card to the people, PM Modi sought their blessings and reiterated his commitment to their welfare. He said, "Today, I am among you with my report card, seeking blessings. I consider you all as my family. I have worked day and night for you. Your dream is Modi's determination. That's why I not only make plans with true intentions but also guarantee them."

Highlighting the government's initiatives for the welfare of the poor, PM Modi mentioned the provision of free rations and healthcare. "The poor of our country never hoped to receive free rations. But this son of the poor, Modi, has shown what no one ever thought of. Modi guarantees that this will continue for the next five years," he said.

He also emphasized the importance of education and financial assistance for SC/ST/OBC communities. "The biggest beneficiaries of Modi government schemes are SC/ST/OBC families. In the past, they were forced to live in filth and slums, without even basic amenities like electricity and water. Modi's guarantee has restored their faith. That's why in the last ten years, twenty-five crore people have been lifted out of poverty," he added.

PM Modi outlined the government's focus on women's empowerment, mentioning the expansion of self-help groups and financial assistance for women. "Serving and securing every mother, sister, and daughter is Modi's priority. In the last ten years, we have connected ten crore sisters through self-help groups. We have made one crore sisters 'Lakhpati Didis'. Now Modi guarantees that three crore sisters will become 'Lakhpati Didis,' earning over one lakh rupees annually," he said.

Speaking about the NAMO Drone Didi Yojana, PM Modi said, "The NDA government is providing drone pilot training to girls. The day is not far when our daughters will assist in farming using drones in the fields of Kolar and Chikkaballapur." PM Modi also highlighted the government's efforts to promote agriculture, improve infrastructure, and develop tourism in the region.